لکھنؤ: (دعوت نیوز نیٹ ورک) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ اسی سلسلے میں اتر پردیش کے لکھنؤ سمیت لگ بھگ نصف درجن مقامات پر خواتین ملک کی سالمیت اور آئین کو بچانے کے لیے موسم کی شدت اور یوگی کی فرقہ پرستانہ جارحیت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں۔ ملک ہی نہیں بلکہ عالمی میڈیا بھی اس بات کا عتراف کر چکا ہے کہ ہندوستان میں سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو تمام مذاہب کے امن اور آئین پسندوں کی مدد حاصل ہے۔ یعنی مسلم خواتین کے شانہ بہ شانہ برادران وطن کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں بھی اس مظاہرے میں شریک ہوگئی ہیں۔ یہ مظاہرہ صد فیصد پر امن طریقے پر ہورہا ہے، مظاہرین نہ راہ گیروں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہے ہیں اور نہ شہر کا ٹریفک نظام ان کے مظاہروں سے متاثر ہو رہا ہے مگر درجنوں مجرمانہ ریکارڈ کے حامل اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اجئے بشٹ(آدتیہ ناتھ) کو یہ برداشت نہیں ہے۔ یا کوئی انجانا خوف ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے مظاہرے کرنے والی خواتین اور بچوں کے ساتھ غنڈہ گردی اور چوری چماڑی کے لیے اپنی پولیس کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتر پردیش پولیس کی کارروائی کی وجہ سے لکھنؤ کے گھنٹا گھر میں ہونے والے احتجاجیوں کے درمیان افراتفری پھیل گئی ہے۔ پولیس نے آناً فاناً مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے بعد وہاں سے مرد مظاہرین کا پیچھا کیا اور ان سے کھانے پینے کی اشیاء اور کمبل ضبط کرلیے۔ یو پی پولیس کی اس کارروائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ مظاہرین کے کمبل ضبط کرنے اور بچوں و عورتوں کے ہاتھ سے کھانے پینے کی اشیاء چھیننےکی ویڈیو کے ساتھ ساتھ متعدد تصاویر بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں، جس میں پولیس اہلکار کمبل اٹھاتے ہوئے صاف نظر آرہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں پولیس کی اس کارروائی کے بعد ، # کمبل چور یو پی پولیس نے ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع کردیا ہے، جس پر ٹویٹر صارفین نے بھی اپنے رد عمل ظاہر کیے ہیں۔ دریں اثنا ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے غنڈہ گردی اور چوری کی پولیس کارروائی پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اور کمبل و کھانے پینے کی اشیاء چھیننے کی واردات کو حکومت نے اپنے حکم کے ذریعہ انجام دلوایا ہے۔