فیض آباد ضلع کی رُدولی تحصیل میں ایک گاؤں ہے بیجا پور۔ یہ گاؤں فیض آباد اور لکھنؤ کے درمیان واقع ہے۔ لکھنؤ۔فیض آباد شاہراہ سے تقریباً پانچ کلو میٹر اندر گاؤں کی مخلوط آبادی ہے۔ اس میں مسلمانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں دلت اور دیگر پسماندہ برادریاں آباد ہیں۔ ان کا پیشہ زراعت یا مزدوری ہے۔ سرکار کا انتخاب کرنے میں پیش پیش رہنے والے ان سیدھے سادے بھولے بھالے لوگوں کو این آر سی کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم ہے۔ لیکن ان کے منتخب نمائندے ان کے علم میں لائے بغیر انہی کے خلاف اپنی فرقہ پرستانہ سوچ اور پالیسی کے تحت فیصلے کرتے جا رہے ہیں۔
ملک کے تمام حصوں میں جہاں سی اے اے اور این آر سی کو لے کر برہمی پائی جاتی ہے وہیں اس گاؤں کے لوگوں کے مسائل دوسری قسم کے ہیں۔ مثلاً ایک دن پہلے ہوئی ژالہ باری سے ان کی فصلوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ کوٹے والے نے ابھی تک راشن نہیں دیا ہے۔ روزی روٹی کا بندوبست کیسے ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔
بیجا پور کے کئی غریبوں اور دلتوں کو سرکاری مکان نہیں ملا ہے نہ ہی انہیں سوچھ بھارت مہم کے تحت بیت الخلاء کی سہولت ملی ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ سہولیات کیسے حاصل کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر کسان، مزدور ایسے تمام مسائل کے لیے گاؤں پردھان کے بھروسے پر رہتے ہیں۔ ان کی معرفت کچھ مل جائے تو مل جائے ورنہ صبر کرنے کے علاوہ ان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ ان کسانوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ شہریت رجسٹر اور قانون جیسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ یہاں کی بڑی آباد ی کے پاس اپنے کو شہری ثابت کرنے کے لیے کوئی کاغذات نہیں ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے یہاں کے سسٹم کو سمجھنا ضروری ہے۔ انگریزی دور میں تعلقہ داروں، زمین داروں اور سرداروں کے پاس زمینیں ہوتی تھیں۔ غریب اور دلت ان زمینوں پر کھیتی کرتے تھے۔ زمین داری ختم ہونے کے بعد یہ لوگ ان زمینوں کے مالک ہوگئے لیکن زمین کے کاغذات ان کے پاس اب تک نہیں ہیں۔ ایسا ہی حال گھروں کے کاغذات کا بھی ہے۔ گاؤں میں ضرورت اور زمین داروں کی مہربانی سے انہوں نے خالی جگہ پر ’’کڑیا‘‘ ڈال لی یا کچا مکان بناکر رہنے لگے۔ اور بعد میں یہی مکان پختہ بھی ہوگئے لیکن ملکیت کے کاغذات نہیں بن سکے۔ این آر سی میں ایسے لوگوں کا کیا ہوگا؟ ملک میں لاکھوں باشندے اسی طرح بسے ہوئے ہیں۔
بیجا پور کے کنوارے کے پاس ساڑھے تین بیگھا زمین ہے جو تین بھائیوں کے بٹوارے میں انہیں ملی ہے۔ کنوارے سے جب این آر سی کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ پلٹ کر سوال کرتے ہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ بتائے جانے پر وہ بھی فکر مند ہوگئے بولے میرے پاس تو کاغذات نہیں ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی سوکھے کا بھی یہی حال ہے۔ پاپو لال کو نہ تو سرکاری مکان ملا اور نہ بیت الخلاء۔ انہوں نے اپنے خرچ سے ایک کمرے کا چھوٹا سا مکان بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے این آر سی کے بارے میں سن تو رکھا ہے لیکن کاغذات کے معاملے میں وہ بھی کچے ہیں۔ ایسا ہی حال ماجد علی کا ہے۔ وہ پی اے سی سے ریٹائر ہوئے ہیں لیکن کاغذات جمع کرنا ان کے لیے بھی ٹیڑھی کھیر ہے۔ محمد فہیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ این آر سی سے بہت سے دیہی باشندے باہر ہوجائیں گے۔ جن کے مکھیا کے نام تو رجسٹر میں درج ہیں لیکن بچوں کے نام غائب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کوئی سکریٹری کے پاس نام درج کرانے جاتا ہے تو اس سے پیدائش سے متعلق کاغذات مانگے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ردولی تحصیل میں ایسے بے شمار باشندے ہیں جن کے پاس گھر اور زمین کے کاغذات نہیں ہیں یہ اپنے کو بھارت کا شہری کیسے ثابت کر پائیں گے؟ یہ فکر مندی کی بات ہے۔
یہ صرف بیجا پور کی کہانی نہیں ہے۔ ملک کے تمام صوبوں میں گاوؤں کا یہی حال ہے۔ ندی کنارے بسے لاکھوں گاؤں ایسے ہیں جن کے باشندوں کے کاغذا ت سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں یا گھروں میں آگ لگنے سے سب کچھ راکھ ہوچکا ہے۔
جن لوگوں کو لگتا ہے کہ این آر سی سے سبھی مسلمان باہر ہوجائیں گے انہیں آسام جیسی غلط فہمی ہے۔ مسلمان، گاوؤں کے مقابلے شہروں میں زیادہ ہیں اور شہروں میں دیہات کے مقابلے میں بیدار بھی زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر پورے ملک میں این آر سی نافذ ہوا تو مسلمان سے زیادہ غریب، دلت اور دیگر پسماندہ طبقات متاثر ہوں گے۔
ترجمہ عرفان الٰہی، بریلی
این آر سی مسلمانوں سے زیادہ دلتوں اور غریبوں کے خلاف



تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔