نہال صغیر

عدم تشدد کے علم بردار گاندھی جی کے پڑ پوتے تشار گاندھی دو وجوہات سے پہچانے جاتے ہیں۔ اول تو گاندھی جی سے نسبی تعلق دوسرے ہندوستانی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کے درمیان اپنی بے باکانہ رائے۔ ملک میں جاری انتشار اور خلفشار کے درمیان چل رہی عوامی تحریک اور اس کے تعلق سے مختلف قسم کی قیاس آرائیوں پر ہم نے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ چنانچہ قارئینِ دعوت کے لیے گاندھی جی کے پڑ پوتے تشار گاندھی کی رائے پیش خدمت ہے۔ ذیل میں اظہار کیے گئے خیالات انہوں نے ٹیلی فون پر لیے گئے انٹر ویو میں پیش کیے ہیں۔

چونکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ تحریک کے موقع پر کچھ طلبہ کے ذریعے لا الہ الا اللہ یا اللہ اکبر کا نعرہ لگائے جانے پر ششی تھرور سمیت کئی لوگوں نے اعتراض کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس طرح تو مذہبی بنیاد پرستی کو تقویت ملے گی۔ اس لیے ہم نے تشار گاندھی سے پہلا سوال سیکولرزم اور جمہوریت کے تعلق سے ہی کیا کہ سیکولرزم اور جمہوریت کیا ہے

کیا سیکولرزم کے تحت آزادی اور حقوق میں سبھی برابر ہوتے ہیں؟

جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان جیسے ملک میں سیکولرزم ضروری ہے۔ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی مذہبی گروہ کی جانب اپنا جھکاؤ نہ رکھے بلکہ بلا کسی لحاظِ مذہب، سب کی ترقی کے لیے کام کرے۔ سرکاری پالیسی کا سیکولر ہونا انتہائی ضروری ہے۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے ذاتی طور سے کسی کا مذہبی ہونا غلط نہیں ہے مگر حکومت کا کسی مذہبی گروہ کی حمایت کرنا غلط ہے۔

گاندھی جی کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ان کا قول ہے کہ مذہبی وہی ہے جو دوسرے مذاہب کی معلومات رکھے اور اس کا احترام کرے۔ جیسے اڈوانی جی نے کہا تھا کہ ہم لوگ مذہبی ہیں، ہم ذاتی طور سے مذہبی ہو سکتے ہیں مگر بطورِ حاکم ہمیں سبھی مذاہب کے افراد کے ساتھ مساوات پر مبنی سلوک کرنا ہوگا۔

سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جاری موجودہ تحریک کے درمیان مذہبی نعروں یا شناخت کے تعلق سے تشار گاندگی کہتے ہیں ’مذکورہ تحریک میں جو نعرے لگے ہیں وہ ایک جذباتی معاملہ ہے اور جب بھی ردعمل ہوتا ہے تو اس طرح کے نعرے لگتے ہیں کیوں کہ جو لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں وہ ایک خاص شناخت رکھتے ہیں، مگر اس سے یہ سمجھنا کہ ہم مذہبی شدت پسندی یا بنیاد پرستی کی جانب چلے جائیں گے محض ایک وہم ہے۔ یہ خدشہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم نے تحریک کو سمجھا نہیں ہے اور خواہ مخواہ ایک خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ مذہبی بنیاد پرستی کی جانب چلے جائیں گے۔ ضروری نہیں کہ یہ نعرے مستقل رہیں، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ نعرے کن حالات میں لگے اور کیوں لگے ہیں؟ لوگ مشکل دور سے گزر رہے ہیں جس کے ردعمل میں یہ نعرے لگے‘۔

یہ سوال کہ اگر گاندھی جی زندہ ہوتے تو کیا وہ سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین اور سرکاری ضابطوں کی حمایت کرتے؟

تشار گاندھی کا کہنا ہے کہ ’ گاندھی جی کبھی اس کی حمایت میں نہیں ہوتے کیوں کہ وہ کسی بھی پالیسی کے پس پشت مقاصد کو سمجھ جاتے تھے۔ جیسا کہ موجودہ حکومت کے رویے اور اس کی پالیسیوں سے واضح طور سے نظر آرہا ہے کہ وہ کدھر جا رہی ہے۔ گاندھی جی عالم انسانیت اور مساوات کی حمایت میں ہوتے تھے، وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے تھے۔ وہ یہ کبھی نہیں مانتے کہ کسی خاص مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس سے ہمدردی کی جائے۔ گاندھی جی بین الاقوامی طور پر صرف انسانیت کی باتیں کرتے تھے۔ وہ مظلوم کی حمایت کرتے تھے خواہ وہ کسی مذہب اور علاقہ سے تعلق رکھتا ہو۔

موجودہ عوامی تحریک کے تعلق سے تشار گاندھی کی رائے یہ ہے کہ ’یہ لڑائی ایک ایسے نظریے کے خلاف ہے جو ہمارے ملک کی فطرت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ ملک اچانک ان حالات میں آگیا ہے بلکہ یہ برسوں کی سازشوں پر محیط ہے جس نے ملک کو ان راہوں پر لاکر چھوڑا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ فوری طور سے کامیابی مل جائے گی۔ ہمیں ملک کو ان حالات سے باہر لانے کے لیے خود کو طویل اور صبر آزما جدوجہد کے لیے تیار رکھنا ہوگا۔ یہ غدر کا وقت ہے ہمیں ملک کو ان حالات سے نکالنے کے لیے لمبے عرصہ تک کوشش کرنی ہوگی، اس کے لیے ہمیں اپنی قوت کو مجتمع کرنا ہوگا۔ عوامی تحریک صحیح رخ پر ہے۔ بس ہمیں اتنا کرنا ہے کہ اس میں تسلسل رکھا جائے اور یہ تحریک پُر تشدد نہ ہونے پائے ‘۔