عبدالباری مومن
قدرت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے ایسے بہت سارے جذبات و احساسات سے نوازا ہے جو اس نے کسی اور مخلوق کو عطا نہیںکیے ہیں۔ یہی نہیں اس نے حضرت انسان کو ان جذبات کے صحیح یا غلط استعمال کا اختیار بھی دیا ہے۔ جذبات کے استعمال کا یہی اختیار ہے جو اس جہان رنگ و بو‘ میں انقلابات کا باعث ہوتا ہے۔ زندگی کے مختلف پہلوئوں پر اثر انداز ہوتا ہے، چاہے وہ انفرادی پہلو‘ ہوںیا اجتماعی، معاشی ہوں یا سیاسی۔ ایک جرمنی نژاد امریکن فلاسفر اور سیاسی تجزیہ نگارخاتون حنّاارینڈت(Hannah Arendt-1906-1975) نے اپنے ایک آرٹیکل میں سیاسی جذبات کے تعلق سے کچھ بہت دلچسپ اور قابلِ غورباتیںبیان کی ہیں۔ سیاسی ہنگامہ آرائیوں کے دوران ابھرنے والے جذبات کے تعلق سے انہوں نے لکھا ہے کہ عام طور پر بلکہ شاید ہمیشہ یہ ہنگامہ آرائیاں بے حدو حساب وَلوَلوں اور بے قابو جوش کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ٍانہوں نے سیاسی جذبات کے تین پہلوئوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک پہلو ہے رِجاء(امید) کا۔ یعنی ان سیاسی جوش و جذبات اور َولوَلوں کا اظہار اس وقت کیا جاتا جب عوام حکومت وقت کی کمزوریوں اور ناکامیوں کے سبب اس کو چھوڑ کر کسی اور سیاسی اکائی سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ نظر کے سامنے صرف موجودہ مسئلہ ہی باقی رہتا ہے ، باقی تمام باتیں پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں بد قسمتی سے ہوتا یہ ہے کہ عموماً اصل حقائق نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ معدودے چند افرادکے علاوہ کوئی اور ان کے بارے میں سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ دوسرا پہلو ہے بیم یعنی خوف کا۔ حنّا کا کہنا ہے کہ حالتِ خوف میں جذبات کی اصل روح سُکڑ کر رہ جاتی ہے اور عوام مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ ہلچل مچانے کی بجائے خاموشی اختیار کرنے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔البتہ تیسرے پہلو کے تعلق سے حنّا نے ایک حیرت انگیز بات کہی ہے، اور وہ یہ ہے جب سیاسی ہنگامہ آرائیوںمیں جذبات کا اظہارکھل کر غم و غصے کے ذریعے کیا جاتا ہے تو اس کاواضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوام سیاسی پارٹیوں کی اصل حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں اور دنیا کے سامنے اس حقیقت کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ سیاسی پارٹیوں کے خفیہ ایجنڈے کو دنیا والوں کے سامنے علی الاعلان بیان کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ ایسی اندرونی سچائیاں بیان کرنے کے درپے ہوتے ہیں جنہیں ان سیاسی پارٹیوں نے اب تک چھپا رکھا تھا اور ان کا انکار کرتی آئی تھیں۔ اس تیسرے پہلو کووہ awareness of reality یعنی ادراکِ حقیقت کہتی ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں اس اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے دوران ملکِ عزیز میں برپا ہونے والی ہنگامہ آرائیوں میں شاید مذکورہ بالا تینوں قسم کے سیاسی جذبات کی تثلیث نظر آئے گی۔
اس وقت حالات کچھ ایسے نظر آرہے ہیں کہ گویا حکومت اس ملک کو ایک خانہ جنگی میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔ ایک لڑائی ہے جو عوام اور حکومت کے درمیان چھڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ ہمارے یہاں ایسے بہت سے قوانین ہیں جن پر بحث و مباحثہ کی گنجائش ہے۔ لیکن ایسا اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا کہ حکومت نے ایک ایسا قانون نافذ کردیا ہو جس میں مذہبی بنیادوں پر تفریق روا رکھی گئی ہے۔ یہ دستور کے سیکولرزم کے نظریے کے سراسر خلاف ہے۔ طرفہ یہ کہ حکومت عوام کی کوئی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیںہے۔ عوامی احتجاج کو کوئی وزن ہی نہیں دے رہی ہے۔ ان کو اَربَن نکسل ، اسلامِسٹ اور نہ جانے کیا کیا نام سے پکارا جارہا ہے۔ بس ان کو کو جڑ سے اکھاڑ پھینکناچاہتی ہے۔ اُتّر پردیش کی حکومت نے پُر تشدد احتجاج کا بہانہ بنا کر تلافی نقصان کے لیے نوٹِسیں ٹھوکنے کا ایک سلسلہ شروع کردیا ہے۔اجتماعی سزا کی باتیںکی گئیں۔ لاقانونیت کے لیے اکسانا، ڈر اور خوف کا ایساماحول پیدا کرنا جن کے بارے میں سوچ کر بھی رو‘ح کانپ جاتی ہے۔ نگرانی اور گرفتاریاں، دوکانوں وغیرہ کو سیل کرنا، غلط سلط اطلاعات فراہم کرنا، دھمکیاں دینا یہ سب روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ہر طرف ایک طوفان برپا کردیا گیا ہے۔عوامی گفتگوئوں کو فرقہ واریت کا رنگ دیا جارہا ہے۔ یہ اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ فضا میں پوری طرح سے کہیں فرقہ واریت نہ پھیل جائے۔ ہم صرف علامتی طور سے ہی نہیں بلکہ حقیقتاً بھی ایک مسموم فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ شکر ہے کہ دفعہ ۱۴۴؍ کو بے تحاشہ استعمال کرنے اور انٹرنیٹ کو بلاک کرنے کے عمل پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے کچھ روک لگادی ہے۔
اگر ہم گزشتہ دس سالوں کا جائزہ لینے کی کوشش کریں تو محسوس ہوگا کہ دس سال قبل کی فضاآج سے کافی مختلف تھی۔ اس وقت مالیاتی بحران تو ابھررہاتھا لیکن عوام اس کے باوجود پر امید نظر آرہے تھے۔ اس وقت کاسب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ حکومتی پالیسی بالکل مفلوج ہو چکی تھی۔وہ کچھ بھی کام نہیں کررہی تھی۔ دوسری بات یہ نظر آرہی تھی کہ اس وقت اصلاًملک پر سرمایہ دار راج کررہے تھے اور حکومت ان کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر پارہی تھی۔ لیکن ایک امید تھی کہ جمہوریت کا خودکار میکانزم ان مسائل کا کوئی نہ کوئی حل نکال لے گا۔ جمہوری تبدیلی کے ذریعے مسائل کے حل ہونے کی امید بھی تھی۔ توقع تھی کہ فراوانی کا دور آئے گا۔بدحال معیشت خوش حالی کی طرف پلٹے گی۔لیکن اس امید اور توقع کی چکا چوند میں فرقہ واریت کی حقیقت نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ عوام نے۲۰۱۴ء اور پھر ۲۰۱۹ء میں بھی میں ایک ایسے شخص کو مسند اقتدار پر بٹھادیا جس کا ریکارڈ۲۰۰۲ء کی گجرات نسل کشی کے تعلق سے صاف نہیں تھا۔ عوام اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ شاید ایک بڑی ذمہ داری سر پر آجانے سے بھارت کی مزیّن تہذیب و تمدن کی اقدارکا کچھ تو لحاظ کیا جائے گا۔اس وقت کے بگڑے ہوئے حالات سے عوام میں غصہ تو تھا کہ موجودہ حکومت حالات کو بہتربنانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہی ہے لیکن اس کے ساتھ نئی آنے والی حکومت کے تعلق سے لوگوں کے دلوں میں تبدیلی کی امید بھی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ ان توقعات کے پردے میں پوشیدہ وہ اصل حقائق عوام کی نظروں سے اوجھل رہ گئے جن کو جان بوجھ کر چھپانے کی کوششیں کی گئی تھیں، حالاںکہ آبادی کا ایک بڑا طبقہ اندیشوں کا اظہار بھی کررہاتھا۔عوام اس بات کا ادراک نہ کرسکے کہ وہ ایک تباہ کن صورت حال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ایک خوش گوار دنیا کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں ۔وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ آگے چل کر یہ دُنیا ایک شبِ تاریک میں بدل جائے گی۔ بی جے پی کو عوام نے اس امید پر ووٹ دیا تھا کہ وہ اس وقت تاریکی میں امید کی ایک کرن نظر آرہی تھی۔ اُس سے قبل کی حکومت اپنی اصلاح کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اور ٹوٹ کر بکھر گئی۔اس نے تنقیدوں کو سُنا تو سہی، لیکن ان پر کان دھرنے اور عمل کرنے سے باز رہی۔اگر وہ واقعی عمل کرتی تو شاید بچ جاتی۔ لیکن دوسری طرف عوام کا یہ سمجھنا بھی بے وقوفی ثابت ہوا کہ بی جے پی جمہوریت میں پختگی کی عمر کو پہنچ گئی ہے۔موجودہ حالات میں یہ سمجھنا کہ اس وقت عوام اور حکومت کے درمیان مقابلہ آرائی کی صورت حال ہے شاید صحیح نہ ہو۔ کہنے کو تو بات صرف یہ ہے کہ بی جے پی کے ذریعہ پیش کی جانے والی شہریت کی تعریف سے عوام کو اختلاف ہے جس نے دونوں کے درمیان مقابلہ آرائی کی سی کیفیت پیدا کردی ہے، لیکن جاننے والے جانتے ہیںکہ اس کے پیچھے اور بھی کئی عوامل ہیں۔ صاف پتہ چل رہا ہے کہ اس عوامی تحریک نے بی جے پی پر ایک قسم کا خوف طاری کردیا ہے۔ اس خوف کو چھپانے کے لیے وہ متعدد طریقے اختیار کررہی ہے۔ وہ بار بار یہ بات دوہرا رہی ہے کہ عوام کا احتجاج بالکل غیر اہم ہے اوروہ حزب مخالف کے بہکاوے میں آگئے ہیں۔ حالانکہ حزب مخالف اس وقت بہت کمزور ہے اور احتجاج میں عملاًاس کی سرگرم شرکت بھی دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے۔ حکومت یہ بھرم پیدا کرنے کے لیے پورا زور لگارہی ہے کہ بس ایک ہی لیڈر ہے جو چٹکی بجاتے تمام مسائل کو حل کرسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے مودی کوکہانیوں کے اس بانسری بجانے والے جادوگر کی طرح سمجھ لیا ہے جس کی بانسری کے سُر سُن کر شہر کے تمام چوہے اس کے پیچھے ندی میں ڈوب کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ مودی جی ایک دھن بجائیں گے اور سارا ملک اس پر رقص کرنے لگے گا۔ حالاں کہ حکومت ملک کے اصل اور سنگین مسائل سے پہلو تہی کررہی ہے۔ وہ ملکی معیشت کے زوال کی انکاری ہے۔ وہ ایک سنگین گھاٹی میں پھنس چکی ہے، اور ایسے اقدامات کررہی ہے جو اس کو مزید گہرائی میں ڈھکیل رہے ہیں۔ زبر دست احتجاجات کے باوجودسی اے اے کا نوٹی فیکیشن جاری کرنا ایسی ہی ایک حرکت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کب تک حقیقت سے منہ چھپاتی رہے گی۔کب تک وہ اس ملک عزیز کی اصل بنیاد ’کثرت میں وحدت ‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہے گی ،حالاںکہ ساری دنیا اسے تسلیم کرچکی ہے۔ کیا وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ اقلیتی طبقے کے کچھ لوگوں کو توڑ کر اور ان سے اپنی حمایت میں بیان جاری کرواکروہ اس مسئلے کو حل کرلے گی؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف اقلیتوں کو ہی ان کا مقام بتانا نہیں چاہتے بلکہ ہندو مذہب کے تقدس کو بھی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں۔شاید حنّا کا یہ بیان صحیح ہے کہ عوامی غیض و غضب ،دنیا کے محدود ہونے کے تصور کو ختم کردیتا ہے اور اسے ایک لامحدود وسعت عطا کردیتا ہے۔ دوسری طرف جب خوف طاری ہوتا ہے تو وہ دنیا کے تصور کو ہی نہیں محدود کرتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی ایک حد کے اندر محصور کرلیتا ہے۔ شاید اسی لیے حکومتیں عوام کے اندر خوف پیدا کرکے ان پر قابض رہنا چاہتی ہیں۔آج یہی خوف بھارت کو سکڑنے ، سمٹ جانے اور اپنے آپ کو محدود کرلینے پر آمادہ کر رہا ہے۔ اسے تنگ نظری کا شکار بنا رہا ہے۔کیا عوامی غیض و غضب کے سامنے یہ ٹِک پائے گا۔ ایک عشرہ قبل عوام کا غصہ اس بات پر تھا کہ ملک میں بہتری لانے کی کوششیں کیوں نہیں کی جارہی ہیں۔ اس وقت ہم کو مقابل میں ایک امید نظر آرہی تھی، جس کے پیچھے چھپی ہوئی تلخ حقیقت کوہم نہیں دیکھ سکے۔ آج وہ حقیقت ہمیں کھلی آنکھوں سے نظر آرہی ہے۔آج ہمیں غصہ اس بات پر ہے کہ ہم کتنی پستی میں دھکیلے جارہے ہیں۔غصہ اس تکذیب پر ہے جس کو گزشتہ پانچ سالوں سے ہم جھیل رہے ہیں۔آج ہم دنیا کویہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔ہم حقیقت کی بازیافت چاہتے ہیں۔ہم اپنے دیش کو صحیح راستے پر لانا چاہتے ہیں۔ ہم اسے پھر سے سونے کی چڑیا بنانا چاہتے ہیں۔ہم بتانا چاہتے ہیں کہ فرقہ واریت کی ایک حد ہے جس سے نیچے ہم اتر نہیںسکتے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اس سے اتنا اونچا اٹھ جائیں کہ نیچے اترنے کا خیال بھی دل میں نہ آئے۔ہم اپنے آپ کواس طرح حکومت کے حوالے کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ وہ جو چاہے کرے اور ہم آواز بھی بلند نہ کرسکیں۔ ہم حقیقت پر اپنی پکڑ کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ ہم حکومت کے ذریعے پھیلائے جانے والے ڈر اورخوف کا شکار ہرگز نہیں ہوں گے۔ ہم اپنی دنیا خود بنائیں گے۔حکومت کا حال یہ ہے کہ وہ سچائی کو تسلیم کرنا تو دو‘ر سچائی پر گفتگوکرنے کے لیے ہی تیار نہیں ہے۔بلکہ وہ تو سچ کو بالکل ایک غیر متعلق بات بتا رہی ہے۔ کیا وہ چاہتی ہے کہ یہ پُر امن دیش پھر سے دنگوں کا اسٹیج بن جائے۔ عوام بلند مسندوں پر بیٹھے ہوئے ارباب اقتدار کو بتانا چاہتے ہیں کہ کوئی بات صرف اس لیے سچ نہیں ہوجاتی کہ آپ اسے بار بار دوہرارہے ہیں۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ جو جھو‘ٹ آپ بار بار بول رہے ہیں وہ صرف دوہرانے سے سچ سمجھ لیا جائے گا۔ حکومت حقیقت کو چھپانے کے لیے بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ اب کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہے۔ اب تو قانون بن چکا ہے۔ اسے نوٹی فائی بھی کردیا گیا ہے۔اب صرف یہ طے کرنا باقی ہے کہ اس کو نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہوگا۔ جبکہ ان سب باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کیا حکومت نے ہم عوام کو اپنا بندھوا مزدور سمجھ لیا ہے کہ وہ جو کہے گی ہمیں اس پر عمل کرنا ہی ہوگا اورہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچے گا؟
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک عزیز کو اس حالِ بد سے باہرنکالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک ایسی قوّت کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت اور تنگ نظری کے اس جال کو تار تار کردے جس میں بھارت اس وقت جکڑا ہوا ہے۔ آمریت، معاشی بدحالی، مالی لو‘ٹ کھسو‘ٹ، اداروں کے تنزُّل اور اس طرح کی دیگرمصیبتوں سے بھی ملک کونجات دلا سکے۔ کیا گاندھی کے دیش کے عوام ان کے دیے گئے عدم تشدد کے اصول کی مدد سے بھارت کو پھر سے صحیح راستے پر واپس لانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا اکیسویں صدی کے اس دوسرے عشرے کے اختتام سے قبل عوام اپنی کوششوں میں کامیاب ہوسکیں گے؟ اس چیلنج کی خطرناکی کے اظہار کا مقصد کسی کو مایوس یا خوف زدہ کرنا ہرگزنہیں ہے۔ ناامیدی اور خوف کے عالَم میں تو لوگ حقیقت سے دامن جھاڑ کر الگ ہوجاتے ہیں۔ ہم ہرگز ایسا نہیں چاہتے۔دراصل ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم کہیں پھر سے کسی ایسے فریب کا شکار نہ ہوجائیںجیسا ہم ایک عرصے سے بھُگت رہے ہیں۔ہم نے اُس وقت ایک طرف تو کچھ بے بنیاد توقعات سے وابستہ کرلی تھیں اوردوسری طرف خدشات اور اندیشوںکے شکار بھی رہے۔ اب ہم تمام باشندگانِ ملک اپنے درمیان ایک ایسا بھائی چارہ اور تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں جو ہم کو کبھی الگ نہ کرسکے۔ہم ایک نئی شروعات کریں گے۔ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک کامیابی ہمارے قدم نہیں چو‘م لیتی۔ ہم قوی امید کرتے ہیں کہ اس عشرے کے اختتام سے قبل ہم اپنی منزل ضرور حاصل کرلیں گے۔ اگر قدرت نے چاہا۔


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔