جمہوری ملک میں پارٹی کی حیثیت یا اپنے لیڈروں کی حیثیت دیش کی عوام طے کرتے ہیں۔ یعنی اگر کسی پارٹی نے ایکتیس یا چالس فی صد ووٹ حاصل کر لیا لیکن ملک کی دوسری پارٹیوں میں ساٹھ یا انہتر فی صد ووٹ تقسیم ہو جائیں تو یقیناً اس جمہوری اصول کے تحت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی ہی حکومت بنائے گی لیکن اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنی ایک حیثیت رکھتی ہیں، کیوں کہ ان کو ملک کی ساٹھ ستر فی صد عوام کی حمایت حاصل ھے۔ لہذا ایک اچھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ قانون سازی میں اس بات کا بھی لحاظ رکھے کہ اب حکومت صرف کسی ایک پارٹی کی نہیں ہے بلکہ جمہوریت کی تعریف میں وہ بہر حال عوام کی ہی حکومت کہلائے گی اور عوامی نمائندوں کی بات کو بھی جمہوریت میں اہمیت ملنی چاہیے۔ حکومت کو کبھی بھی اپنے ملک کے دستور کے خلاف کوئی ایسا قانون نہیں وضع کرنا چاہیے کہ جس کی زد میں ملک کی عوام کا کوئی خاص طبقہ آتا ہو۔ جس طرح دستور کی قسم کھا کر ہی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی جاتی ہے تو لازم ہے کہ اس دستور کا پاس و لحاظ بھی رکھا جائے، اور پھر عوام سے اپنے جن نعروں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں اس کا بھی خیال رکھا جائے۔ ملک عزیز میں ان دو میقاتوں کی لیے جو سیاسی انقلاب آیا ہے اس کی، عوام کے 35/40 فی صد ووٹوں کی بنیاد پر حکومت سازی ہونی چاہیے۔
اگر ملک میں متنازع قانون بنتا ہے، اور کسی ایک طبقے پر ہی اس کی ضرب پڑتی ھے، یا کسی کے مذہبی عقائد کے خلاف وہ قانون جاتا ہے تو اس پر عوام میں بے چینی کا مظاہرہ تو ہوگا ہی۔ یہ کہہ دینا کہ ملک کی اپوزیشن پارٹیاں کسی دوسرے ملک کے سربراہ کی زبان میں بات کر رہی ہیں، ان پارٹیوں کا رویہ قوم پرستی کے ایجنڈے کے خلاف ہے، اور پھر عوام سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ان کو سبق سکھائیں درست نہیں ہے۔ اب ذرا اس بات پر بھی تو غور فرمالیں کہ جب یہ تمام اپو زیشن پارٹیاں کسی متنازع قانون پر معترض ہیں تو کیا آپ حکومت سازی میں ان 60 فی صد عوامی حمایت والی نمائندگی کو مطلق بھی خاطر میں نہیں لائیں گے؟ کیا اپوزیشن پارٹیوں کی آواز اس ملک کی یا اس ملک کی عوام کی آواز نہیں ہے جنہوں نے ان پارٹیوں کو ووٹ دیا تھا؟
***


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔