عالم نقوی
ہم نے ٹی وی دیکھنا اور اخبارات پڑھنا تو عرصہ ہوا چھوڑ رکھا ہے۔ پانچ سات اخبارات روزانہ سے صرف ایک اردو اخبار پر آگئے ہیں، وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ ’اردو‘ کا اخبار ہے اور نام نہاد قومی میڈیا سے نسبتاً بہتر ہے۔
ابھی تک موبائل پر یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر این ڈی ٹی وی جیسے کچھ مخصوص چینلوں اور رویش کمار، ونود دوا، ابھیسار شرما اور پونیہ پرسون باجپئی جیسے کچھ گنے چنے بہادر اور حق گو صحافیوں کی رپورٹوں سے کام چلا لیا کرتے تھے لیکن اب 12جنوری سے وہ بھی کم کردیا ہے کیوں کہ حالات میں کوئی مثبت تبدیلی اِس کے سوا نظر نہیں آتی کہ روح تک کو کپکپا دینے والی سردی اور بارش کے اس شدید موسم میں بھی شاہین باغ، جامعہ نگر دہلی، مسلم یونیورسٹی کیمپس علی گڑھ، اور بہار، بنگال اور کرناٹک سمیت ملک کے متعدد مقامات پر ملک و ملت کے جوان اور بیٹیاں، بہوئیں، مائیں اور یہاں تک کہ دادیاں اور نانیاں سبھی نسل پرست، فرقہ پرست ،فاشسٹ، نازی اور انسانیت دشمن پالیسیوں کے خلاف کوہِ استقامت بنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اللہ اُن کے اِس پُر امن ’جہاد بِالاِحتجاج‘ کو قبول کرے، ہمیں عقل سلیم اور توفیقِ نیک عطا فرمائے اور مستضعفین فی الارض سمیت تمام مستضعفین فی الہند کو بھی سرکاری اور غیر سرکاری ہر طرح کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھے۔سید ظفر ہاشمی نے اکتوبر ۲۰۱۹ کے دو ماہی گلبن کے اداریے میں لکھا تھا کہ ’اکثریت مردہ ہو چکی ہے ۔ہر ’نہیں‘۔۔’ہاں‘ سے بڑی ہے کا انقلابی نعرہ ترقی پسند تحریک کے ساتھ کم از کم ادبی دنیا میں دم توڑ چکا ہے۔ حالانکہ کچھ ادیب ہمارے دور میں بھی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے حق گوئی کی خاطر سر قلم کروائے ہیں۔ نریندر دابھولکر، گووند پانسارے ایم ایم کلبرگی اور گوری لنکیش کے علاوہ کچھ نام اور بھی ہیں جن میں کے جی سنگھ، شانتا بھومک اور سندیپ بھومک قابل ذکر ہیں جنہیں محض حق گوئی کی پاداش میں اپنی جانیں گنوانی پڑیں۔کچھ شعراء اور چند صحافیوں اور کالم نگاروں کے استثناء کے ساتھ قلم کے بیشتر سپاہی ضمیر فروشی پر اتر آئے ہیں۔ حکومتِ وقت یا سسٹم کے جبر کے خلاف بآوازِ بلند بولنے کی ہمت خال خال ہی نظر آتی ہے ۔کاش ایسا ہو کہ جامعہ اور علی گڑھ سے شروع ہونے والا یہ احتجاج ایک ایسی مشترکہ ملک گیر تحریک میں ڈھل جائے جس کا کام ہی انسانی ضمیر کو زندہ رکھنا اور ہر سطح پر ہر طرح کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا سوال کرنا اور صاحبان اقتدار کو انصاف پر مجبور کرنا ہو۔
کاش ایسا ہو کہ جامعہ اور علی گڑھ سے شروع ہونے والا یہ احتجاج ایک ایسی مشترکہ ملک گیر تحریک میں ڈھل جائے جس کا کام ہی انسانی ضمیر کو زندہ رکھنا اور ہر سطح پر ہر طرح کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا سوال کرنا اور صاحبان اقتدار کو انصاف پر مجبور کرنا ہو۔
یہ لکھتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ گنتی کے چند با ضمیر لوگوں کو چھوڑ کر موجودہ ملی قیادت کا حال اس وقت خلیفہ مستعصم باللہ اور محمد شاہ رنگیلا جیسا ہے۔ مؤرخ ’الفخری‘ محمد علی ابن طبا طبا نے لکھا ہے کہ ’خلیفہ مستعصم باللہ کے آخری دور میں یہ خبر زور دار طریقے سے گشت کرتی رہی کہ سلطان ہلاکو کی سرکردگی میں منگولوں کی فوج بغداد پر حملہ کرنے والی ہے لیکن خلیفہ کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔ نہ اس نے کوئی ہمت دکھائی، نہ کوئی خاص دفاعی قدم اٹھایا۔ جب بھی ہلاکو کی تیاریوں کے متعلق کچھ سنا تو خلیفہ کی طرف سے غفلت اور لا پرواہی کا مظاہرہ ہوا۔ اور غلام حسین طبا طبائی، سیرالمتاخرین میں لکھتے ہیں کہ ’نادر شاہ اور اس کی فوج کے نزدیک آجانے کے باوجود محمد شاہ رنگیلا اور اس کے لشکر کے کسی فرد کو اطلاع نہ ہوئی۔ ان کی آمد کی خبر سب سے پہلے اُن گھسیاروں کو ملی جو صبح سویرے گھوڑوں کا چارہ حاصل کرنے کے لیے شہر سے تین چار کوس دور چلے گئے تھے اور جن پر نادر شاہی فوج کے کچھ آدمیوں نے حملہ کر دیا تھا مگر وہ کسی طرح بچ بچا کر زخموں سے چور واپس پہنچ گئے تھے۔‘
مذکورہ بالا دونوں واقعات نقل کرنے کے بعد میاں محمد افضل نے اپنے مضمون ’سقوط بغداد‘ میں لکھا ہے مسلمانوں پر ہمیشہ اس وقت خدائی قہر نازل ہوتاہے جب عدل و انصاف کے بجائے فسق و فجور کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔دوسری طرف وطن عزیز کے ’نئے نازی‘ فاشسٹ نسل پرست اور فرقہ پرست حکم راں ملک کو اُسی طرح ’برہمن راشٹر ‘ بنا کر موجودہ دستور ہند کی جگہ ’منو اسمرتی‘ کو ملک کا آئین بنا دینے کے درپے ہیں جس طرح یہودیوں نے فلسطین کو اسرائیل بنا کر فلسطینیوں کو تمام انسانی حقوق سے محروم کر دیا تھا ۔ ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے لفظوں میں ’’بی جے پی معاشرے میں پھوٹ ڈال کر اقلیتوں کو مظالم کے ذریعے خوف زدہ کر کے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ ایک متنوع ملک ہے جو صرف اسی وقت متحد رہ سکتا ہے جب سبھی مذاہب سبھی فرقوں اور تمام طبقات کو یکساں احترام دیا جائے۔۔ لیکن بی جے پی ملک کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ سمیت بھارت کے بیشتر اداروں کا بھگوا کرن ہو چکا ہے۔ یہ اپنے موجودہ سیاسی آقاؤں کے سامنے سر نِگوں ہو چکے ہیں۔ بیشتر میڈیا پوری طرح مودی کے زیر اثر ہے اور نہایت شرمناک طریقے سے نازی جرمنی کے پروپیگنڈہ وزیر ’گوئبلز‘ ‘کی پیروی کر رہا ہے اور حکم راں ٹولے کے سامنے سر بسجود ہو چکا ہے۔ ہر طرف خوف کی حکم رانی ہے جس کے خلاف راہل بجاج تک نے آواز اٹھائی ہے۔ ہمارا ملک ریکارڈ بیروزگاری، مہنگائی اور خوفناک معاشی بحران کا شکار ہے۔جس کی طرف سے عوام کا دھیان بھٹکانے کے لیے طرح طرح کے خرافاتی، نسل پرستانہ اور متعصبانہ ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون ان ہتھکنڈوں میں تازہ ترین ہے۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے حکومت مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہے جو ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ بی جے پی کی یہ دیمک بھسما سُورا کی طرح ملک کو اندر سے چاٹ رہی ہے۔
***


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔