جمہوریت کے چار ستون انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور صحافت جب تک اپنی اپنی جگہ خود مختار اور آزادانہ طور پر اپنے اپنے دائرۂ کار میں ذمے داریاں نبھاتے رہتے ہیں، ملک کا نظام بحسن و خوبی اور توازن کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ جونہی جمہوری روایات سے روگردانی دیکھی جاتی ہے تو ان میں سے کوئی نہ کوئیستون کمزور ہونے اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا ایک خاصہ یہ بھی رہا ہے کہ یہاں فوج اور سیاست ہمیشہ الگ الگ دائروں میںکام کرتے رہے ہیں۔لیکن گزشتہ ہفتے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت کے بیان نے تمام حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ واضح ہوکہ سن 2017میں مرکزی وزارت داخلہ نے ’انسداد دہشت گردی و بنیاد پرستی ‘ (CT-CR) قائم کیا تھا، تب یہ مقصد بتایا گیاتھا کہ نظریات کے جال میں نوجوانوں کوپھنسنے سے بچانے کے لیے ریاستی حکومتوں، سلامتی ایجنسیوں اور معاشروں کو اس سے مدد ملے گی۔حکومت ہند نے اس سلسلے میں سنگاپور ماڈل کو سامنے رکھ کر اس سلسلے میں ایک خاکہ تیار کیا تھا، ساتھ ہی ملائشیا اور چین وغیرہ میں انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیےوہاںجس طرح کے ’ کیمپ‘ بنے ہیں، وہ بھی حکومت کے سامنے رہے ۔سابق فوجی افسر عطا حسنین کی رائے میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDS) کو نہ صرف بنیاد پرستی و انتہا پسندی کے شکار نوجوانوں پر بولنے کا حق ہے ، بلکہ کشمیر اور سلامتی خطرات پر بھی وہ بات کرسکتے ہیں۔ پوری طرح سے انتہاء پسندانہ نظریات کے نرغے میں پھنس چکے نوجوانوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کر کے ملک میں پہلے سے موجود انسداد دہشت گردی و بنیاد پرستی کیمپوں میں رکھا جائے اور رفتہ رفتہ مؤثر اقدامات کے ذریعے ان کی ذہن سازی کی جائےتاکہ مستقبل سنوارنے کیلئے کام کیا جاسکے ۔ سی ڈی ایس بپن راوت اتنے پر نہیں رکے بلکہ اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیر میں دس بارہ سال کے بچے بچیاں انتہا پسند خیالات سے متأثر ہورہے ہیں۔ مزید سخت گیر موقف اپناتے ہوئےیہاں تک کہہ ڈالا کہ 9/11 حملوں کے تناظر میں امریکہ نے دہشت گردی کے مقابلے کے لئے جو طریقے اختیار کئے ان کو ماڈل کے طور پر بھارت بھی اپنا سکتا ہے ۔دراصل رائے سینا ڈائیلاگ 2020 میں جنرل راوت نے اس طرح کی تمام باتیں کی ہیں۔قوم کو یہ سن کر دھچکا سا لگا کہ بھارت میں ڈی ریڈیکلائزیشن کے ایسے کیمپ پہلے سے موجود ہیں۔بچوں اور والدین کو وعظ و نصیحت کے ذریعے جہاں غلط یا منفی بنیادوں پر بہکنے سے بچایا جاتا ہے۔وہ بات تو سمجھ میں آتی ہے ،لیکن متحدہ فوجی کمان کے سربراہ بپن راوت کے ذکر کردہ بیان سے اس طرح کے کیمپوں کا وجود ملک کی اکثریت پر ایک ’انکشاف ‘بن کر سامنے آیا۔خاص طور پر انٹر نیٹ اور آن لائن دنیا میں ایسا مواد موجود ہے جس سے کچے ذہن کے آسانی سے متاثر ہونے کا اندیشہ بنارہتا ہے۔اگرچہ اصلاً کشمیر کے تناظر میں یہ بات کہی گئی تھی ، لیکن متنازعہ شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے اندیشوں میںگرفتا ر ملک کی اکثریت پر ایک طرح کا سیاسی نوعیت کا یہ بیان بجلی بن کر گراہوتو یہ بعید از قیاس نہیں! اسلام کو سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے اچھی طرح سے واقف ہیں کہ اس کی تعلیمات میں ہرطرح کی انتہا پسندی اور غلو سے پرہیز اور فکرو خیال میں اعتدال و توازن کا عنصر غالب ہے، یہ بات کسی پر بھی مخفی نہیں ہے۔البتہ بعض حالات اور خطوں میں سیاسی یا سماجی عوامل کے تحت پیدا شدہ کسی سرگرمی یا کیفیت کو مذہبی رنگ دیا جانا قابل گرفت تو ہوسکتا ہے ،لیکن اس کی آڑ میں مخصوص مذہب یا کمیونٹی کو ذہن میں رکھ کر کوئی بیان دینا یا پالیسی مرتب کرنا اس سے بھی زیا دہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔پھر چاہے وہ تخریبی ، انتہا پسندانہ یا دہشت گردانہ نوعیت کی کارروائیاں کیوں نہ ہوں ۔ خاص طور پر گھر واپسی، لنچنگ، یکساں سول کوڈ کی لٹکتی تلوار، پڑوسی مسلم ممالک کے نام لے کر بھارت میں سماجی و مذہبی منافرت کو ہوادینے والے دھمکی آمیز بیانات اور اس ایسے وقت میں ملک جبکہ سراپا احتجاج بناہوا ہے ، تینوں افواج کے اوپر بڑے اختیارات کے ساتھ مقرر کیے گئے ایک فوجی سربراہ کے ذریعے دیے گئے اس طرح کے بیان کو بجا طور پر حزب اختلاف اور ملک کے عوام نے بہ یک زبان ملک کی شاندار جمہوری روایات کے خلاف قرار دیا ہوتو تعجب کی بات نہیں ہے۔ اس بات سےبھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے کہ جنرل راوت اپنے دائرۂ اختیار سے باہر گئے یا نہیں ، لیکن اس سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ ان کے اس بیان نے ملک میں آگ میں گھی ڈالنے کا کام ضرور کیا ہے۔ ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا ان کے بیان کے پیچھے حکومت کے مخفی اشارے کا کوئی پہلو نہیں ہوسکتا؟ شاید اسی لئے سیتارام یچوری، کپل سبل اور اسد الدین اویسی سے لے کر ششی تھرور اور کمال فاروقی تک مختلف حلقوں نے فوجی سربراہ کے سیاسی بیان کے مختلف مضر اثرات کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ملک کے مختلف اداروں کو کمزور کئے جانے کے حکومت پر عائد الزامات کے تناظر میں فوج کو معاشرے اور سیاست میں کسی نہ کسی طریق سے گھسیٹ لانے کی جو کوششیں پچھلے برسوں میں دیکھی جارہی ہیں ،اس میں ملک کا تشویش میں مبتلا ہونا کیا غیرا واجب ہوگا؟ کیا ہی بہتر ہوتا کہ جب ہمارا ملک 26جنوری کو جمہوریت کاجشن منانے جارہا ہےتو ملک کے تمام ستونوںکو کمزور ہونے سے بچانے کے تئیں اور اس کے دستور کے روح کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قولاً فعلاً ہر ایک فریق اپنی ذمہ داری کو محسوس بھی کرے اور جانے انجانے میں اپنے کسی قول یا عمل سے دستور پر زد نہ پڑے اس کا خیال بھی رکھے۔ تب ہی جاکر 21ویں صدی میں بھارت کو ایک قابل فخر مقام پر کھڑا ہونے کا شرف حاصل ہوسکتا ہے ورنہ اس کے عوام اگر شکستہ قلب اور منتشر افکار نیز مشکوک ذہنیت کے ساتھ رہنے کو مجبور کیے جارہے ہوں تو دنیا کی کونسی طاقت ہے جو مجبور و مقہور عوام کو شیطان کے ذریعے ورغلائے جانے سے محفوظ رکھ سکے گی۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور فوج کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس تعلق سے مکمل بیدار رہ کر امن و امان اور دستور کی روح کو قائم رکھنے کے لیے اس ضمن میں عائد اپنی ذمہ داریوں کو بھی محسوس کریں اور ان پر عائد فرائض کی انجام دہی میں بھی چاق و چوبند رہیں تاکہ ملکی یا بیرونی اشتعال انگیزی ان کو بہکانے میں کامیاب ہی نہ ہوسکے بلکہ ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے مضبوط ہو جس کا ہر فریق اعتماد (وشواس) کے دھاگے سے ایک دوسرے سے بندھا ہو اور ہر طرح کی ریشہ دوانیوں سے بھی پاک و محفوظ ہو وہی ملک اور وہی سماج دنیا کی قیادت کرنے کا اہل ہوسکتا ہے۔ اس بات کو جتنی جلد ہم سمجھ سکیں تو بہتر ہوگا۔


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔