معصوم مرادآبادی

معاف کیجیے، یہ سوال ہمارا نہیں ہے بلکہ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کا ہے جو انہوں نے حکم راں جماعت سے پوچھا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک ٹوئٹ کر کے اس سوال کا جواب بھی دیا ہے۔ چودھری نے کہا ہے کہ’’ اگر دیویندر سنگھ کا نام دیویندر خان ہوتا تو آر ایس ایس کی ٹرول آرمی بہت زیادہ سخت اور زہریلے انداز سے کام کرتی۔ ‘‘ انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’’ ملک دشمن چاہے کسی بھی مذہب یا رنگ و نسل کے ہوں ان کی مذمت کرنی چاہیے۔‘‘ ادھیر رنجن چودھری کا یہ بیان دراصل جموں و کشمیر پولیس کے ایک ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کی دہشت گردوں کے ساتھ گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔ دیویندر سنگھ کو حزب المجاہدین کے دو انتہا پسندوں کے ساتھ مشتبہ حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے معاون اور مدد گار کے طور پر بھی سرگرم تھا اور اس نے ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی پولیس اہلِ کار کو وطن سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے بلکہ اس طرح کی گرفتاریاں اس سے پہلے بھی ہوئی ہیں۔ کبھی فوج، کبھی خفیہ پولیس اور کبھی وزارت دفاع میں کام کرنے والے لوگ دشمن ملکوں کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ لیکن ان معاملات میں رد عمل کا ایک فرق ضرور ہے کہ جب کوئی مسلمان اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس ملک کا میڈیا اور سنگھ پریوار کے لوگ آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں اور پوری مسلم قوم کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان قائم کر کے اسے بری طرح مطعون کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جب کوئی غیر مسلم وطن سے غداری کے الزام میں گرفتار ہوتا ہے تو ان عناصر کو ایسے ہی سانپ سونگھ جاتاہے جیسے کہ اس وقت دیویندر سنگھ کی گرفتاری کے بعد سونگھ گیا ہے۔ ادھیر رنجن چودھری نے ہمارے معاشرے کی اسی منافقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔دیویندر سنگھ نے ایک سینئر پولیس افسر کے طور پر اب تک جو بھی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، وہ سب کی سب شک و شبہ کے دائرے میں آگئی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دیویندر سنگھ کی مشتبہ سرگرمیوں پر پہلے بھی انگلیاں اٹھائی گئیں لیکن نامعلوم اسباب کی بناء پر ان الزامات کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کے طور پر اسے ’’بہترین کارکردگی‘‘ کے پولیس میڈل سے بھی نوازا گیا۔ جس سے اپوزیشن پارٹیوں کے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ دیویندر سنگھ کو کچھ بڑے لوگوں کا آشیرواد حاصل تھا اور وہ اسی لیے بے خوف و خطر اپنی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس پر ہاتھ ڈالنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔ جس وقت ڈی آئی جی اتل گوئل نے دیویندر سنگھ کو گرفتار کیا تو اس نے ڈی آئی جی سے کہا کہ ’’سر یہ ایک گیم ہے اور آپ یہ گیم خراب مت کیجیے۔‘‘ افضل گرو کا الزام 2004 میں پارلیمنٹ پرحملے کے ملزم افضل گرو نے اپنے وکیل سشیل کمار کو ایک خط لکھ کر بتایا تھا کہ اسی دیویندر سنگھ کے کہنے پر اس نے ایک پاکستانی دہشت گرد کے رہنے کے لیے دہلی میں مکان اور چلانے کے لیے کار کا بندوبست کیا تھا۔ یہ سچائی آج بھی افضل کیس کا حصہ ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ کشمیری باشندے افضل گرو کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے پاکستانی دہشت گردوں کی مدد کے الزام میں 9 فروری 2013 کو پھانسی پر چڑھایا گیا تھا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے افضل گرو کو پھانسی کی سزا سناتے وقت اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اسے یہ سزا اجتماعی قومی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے دی جا رہی ہے کیونکہ افضل گرو کے خلاف پولیس کے پاس وافر ثبوتوں کا فقدان تھا۔ حکومت کو اس بات کا اندازہ تھا کہ افضل گرو کو پھانسی دیے جانے کا ردعمل ہوسکتا ہے، اس لیے اسے دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر چڑھایا گیا اور جیل میں ہی اس کی تدفین عمل میں آئی۔ اب دیویندر سنگھ کے دہشت گردوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد افضل گرو کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ افضل گرو نے جیل میں رہتے ہوئے 2004 میں دیویندر سنگھ پر جو انتہائی سنگین الزام عائد کیا تھا، اس کی روشنی میں نہ تو دیویندر سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی اس کی کوئی چھان بین ہوئی جبکہ یہ الزام اس قدر سنگین نوعیت کا تھا کہ اس پر زلزلہ آجانا چاہیے تھا۔ واضح رہے کہ جس وقت افضل گرو نے یہ انتہائی سنگین الزام عائد کیا تھا، اس وقت دیویندر سنگھ اسپیشل آپریشن گروپ کا انسپکٹر تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب سے سولہ برس پہلے جب دیویندر سنگھ پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگا تھا تو اس کے خلاف کوئی انکوائری عمل میں کیوں نہیں آئی؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دیویندر سنگھ کو کچھ ایسے انتہائی طاقتور لوگوں کی سرپرستی حاصل تھی جو اپنے خفیہ مقاصد کے تحت دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ دیویندر سنگھ کا پس منظر قابل ذکر بات یہ ہے کہ دیویندر سنگھ اپنی جس کار سے حزب المجاہدین کے دہشت گردوں کو سری نگر سے دہلی لے کر آ رہا تھا، اس کار میں کچھ خطرناک ہتھیار بھی تھے۔ اس کے علاوہ دیویندر سنگھ کے سری نگر میں واقع عالیشان مکان سے بھی خطرناک ہتھیاروں کا ذخیرہ اور ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم برآمد ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کے معاون کے طور پر کام کرنے والے اس ڈی ایس پی کی شناخت دہشت گردوں کو مار گرانے والے ایک بہادر پولیس افسر کے طور پر تھی اور گزشتہ سال ہی اسے صوبائی حکومت نے ’ بہادری‘ کے پولیس میڈل سے سرفراز کیا تھا۔دیویندر سنگھ کا تعلق کشمیر کے ترال علاقے سے تھا اور وہ 1990 میں سب انسپکٹر کے طور پر جموں و کشمیر پولیس میں بھرتی ہوا تھا۔ وہ سری نگر کے ہی امر سنگھ کالج کا گریجویٹ ہے۔اس نے دس سال تک اسپیشل آپریشن گروپ کے ساتھ کام کیا۔ دیویندر سنگھ پر منشیات اسمگلروں کی مدد اور تاوان وصول کرنے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ وہ فی الحال جموں و کشمیر پولیس کی انسداد ہائی جیکنگ یونٹ کے ساتھ کام کر رہا تھا اور اس کی ڈیوٹی سرینگر جیسے سیکورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس ائیر پورٹ پر تھی۔ دیویندر سنگھ کے ساتھ گرفتار دونوں دہشت گردوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سرینگر میں اسی کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ دیویندر سنگھ کو پلوامہ میں 25 اور 26 اگست2017 کو ہوئے فدائین حملے کی انسدادی مہم میں حصہ لینے کے لیے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ اسی لیے کانگریس نے پلوامہ حملے کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے اس قدر مشکوک اور مشتبہ کردار کے پولیس افسر کی حساس مقامات پر تعیناتی کے حوالے سے واجب سوال کھڑے کئے ہیں۔ سورجے والا نے کہا کہ پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے سے لے کر پلوامہ حملے تک دیویندر سنگھ کے کردار کی جانچ ہونی چاہیے۔ کانگریس نے پوچھا ہے کہ دیویندر سنگھ اکیلے ہی کام کر رہا تھا یا وہ صرف ایک مہرہ تھا؟

دیویندر سنگھ کو کچھ بڑے لوگوں کا آشیرواد حاصل تھا اور وہ اسی لیے بے خوف و خطر اپنی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس پر ہاتھ ڈالنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔ جس وقت ڈی آئی جی اتل گوئل نے دیویندر سنگھ کو گرفتار کیا تو اس نے ڈی آئی جی سے کہا کہ ''سر یہ کھیل ہے اور آپ کھیل مت خراب کیجئے۔''

این آئی اے کا چیلنج دیویندر سنگھ کو ملازمت سے برخاست کرکے اس کا معاملہ این آئی اے (قومی تحقیقاتی ایجنسی) کے سپرد کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ این آئی اے کشمیر میں انتہا پسندوں کی مالی مدد کرنے کے کئی معاملوں کی جانچ کر رہی ہے۔ اس معاملے میں این آئی اے کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ آخر انتہا پسندوں سے ساز باز کرنے کے پیچھے دیویندر سنگھ کا کیا مقصد کار فرما تھا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ دیویندر سنگھ کو گرفتار کرنے کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے وزارت داخلہ کے افسروں سے ملاقات کی ہے اور وزارت کو کلگام انکاؤنٹر اور ڈی ایس پی کی دہشت گردوں سے سانٹھ گانٹھ کی جانکاری بھی دے دی گئی ہے۔ خفیہ ایجنسی آئی بی، را اور فوج کے خفیہ محکمے کے افسران اس سے پوچھ تاچھ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ دہشت گردی مخالف مہم میں غیرمعمولی کامیابی کے لیے جس افسر کو راشٹرپتی میڈل دیا جاتا ہے، اس کی گہری چھان بین ہوتی ہے اور ہر زاویہ سے اس کی حب الوطنی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا پولیس افسر تھا جو دہشت گردوں کا کلیدی معاون ہونے کے باوجود خفیہ ایجنسیوں اور حکومت کی انتہائی چاق و چوبند مشینری کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکتا رہا۔ہم آپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ کئی سال قبل ’را‘ کے ایک افسر رابندر سنگھ کے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے کا انکشاف ہوا تھا، لیکن اس سے قبل کہ رابندر سنگھ گرفت میں آتا وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے امریکہ میں پناہ حاصل کرلی۔ 2106 میں’را‘ نے اسے امریکہ میں ڈھونڈ نکالا اور وہ ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوگیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سی آئی اے نے انھیں ہنی ٹریپ میں پھنسایا تھا۔ اسلام آباد میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ہندوستان کی اہم دستاویزات فراہم کرنے والی مادھوری گپتا بھی ہنی ٹریپ کے ذریعہ ہی آئی ایس آئی کے پھندے میں پھنسی تھیں اور انھیں 22 اپریل 2010 کو اسلام آباد سے واپسی پر نئی دہلی میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انھیں 2013 میں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ اس طرح چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں بھی بعض ہندوستانی افسروں کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ یہ زیادہ تر افسران کسی نہ کسی کی زلف میں گرفتار ہوکر جاسوسی کے جال میں پھنسے تھے لیکن دیویندر سنگھ کے بارے میں اب تک جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ دولت کے رسیا تھے۔ اصل کھلاڑی کون؟ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال ہندوستانی فوج کے میجر گوگوئی کو ایک کشمیری دوشیزہ کے ساتھ سرینگر کے ایک ہوٹل میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل میجر گوگوئی کو اس وقت شہرت حاصل ہوئی تھی جب وہ پتھراؤ سے بچنے کے لیے ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ سے باندھ کر سڑک پر نکلے تھے۔ لیکن ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کے معاملے نے تمام معاملات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ وہ براہ راست دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ہندوستان کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہا تھا اور یہ سلسلہ بے خوف و خطر کئی برسوں سے جاری تھا۔ اسے جب گزشتہ11 جنوری کو سرینگر جموں ہائی وے کے ایک چیک پوائنٹ پر گرفتار کیا گیا تو اس کے ساتھ حزب المجاہدین کے کمانڈر سید نوید مشتاق عرف نوید بابو اور ان کا ایک ساتھی موجود تھا۔ پولیس نے دیویندر سنگھ کی گرفتاری کے بعد نصف درجن سے زائد مقامات پر چھاپے مار کر کچھ اور ثبوت اکٹھا کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد دیویندر سنگھ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا خلاصہ ہونے کے آثار ہیں۔ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم دیویندر سنگھ کے ماضی کی مجرمانہ سرگرمیوں کی بھی تحقیقات کر رہی ہے، لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کوئی پولیس افسر سیکورٹی کے اعتبار سے ملک کی سب سے حساس ریاست میں آزادانہ طور پر دہشت گردوں اور ملک دشمن طاقتوں سے ساز باز کر رہا تھا اور اس پر اٹھائی گئی انگلی کے باوجود کسی نے اس کے خلاف کارروائی کرنا تو دور تحقیقات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ دیویندر سنگھ نے اپنی گرفتاری کے وقت ڈی آئی جی سے اس پورے معاملے کو ایک کھیل قرار دینے کی جو کوشش کی تھی اور جس کے جواب میں ڈی آئی جی نے دیویندر سنگھ کو طمانچہ رسید کیا تھا ‘وہ کھیل دراصل کیا تھا ‘اس کی نقاب کشائی شاید ہی کبھی ہوسکے۔ کیونکہ شورش زدہ ریاست کشمیر میں ایسے بہت سے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں جن کے اصل کھلاڑیوں کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے ۔ masoom.moradabadi@gmail.com