پرواز رحمانی
جنرل سلیمانی کا قتل
امریکی فوجی کمانڈروں کے ہاتھوں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کا بہیمانہ قتل ایک بہت بڑا عالمی واقعہ ہے اور آزاد دنیا بجا طور پر اس قتل کی مذمت کر رہی ہے۔ امریکہ نے یہ جرم عراق میں کیا ہے جس کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی پر امریکہ کی نظر بہت دن سے تھی۔ جنرل قاسم سلیمانی ایرانی نظامِ دفاع کے اہم ترین آدمی تھے۔ وہ ایران کی القدس فورس کے سربراہ تھے۔ ان کے قتل پر تقریباً پوری امتِ مسلمہ برہمی کے عالم میں ہے۔ لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سنیوں کے بارے میں سلیمانی کے خیالات درست نہیں تھے۔ عراق میں انہوں نے بڑے پیمانے پر سنیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ داعش کے لوگوں کو قتل کرنے کے نام پر وہ سنیوں کو بھی مارتے تھے۔ اسی لیے بہت سے سنی حلقے جنرل سلیمانی کی موت پر خوش ہیں، کہہ رہے ہیں کہ ایک ظالم اور قاتل اپنے کیفر کردار کو پہنچا۔ سنا ہے کہ سلیمانی کے قتل پر عراق کے سنیوں نے مٹھائی بھی تقسیم کی ہے۔ ۳؍جنوری کے واشنگٹن پوسٹ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں جنرل سلیمانی کی غلط کاریوں، خصوصاً سنیوں پر ان کے مظالم کا ذکر ہے۔ ہاں وہ دولت مند مسلم ممالک جو امریکہ کے بے داغ وفا دار ہیں، اِس امریکی کارروائی پر بہت خوش ہیں۔سبب یہ بھی ہے کہ یہ ممالک ایران کو بوجوہ پسند نہیں کرتے، امریکہ کی پسندو ناپسند کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ تاہم بحیثیت مجموعی سنی دنیا بھی اس قتل کی مذمت کر رہی ہے۔ بعض مبصرین تو اس قتل کے بعد تیسری عالمی جنگ کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
امریکہ کیوں خوف زدہ ہے
ڈونالڈ ٹرمپ آج کل جو حرکتیں کر رہے ہیں، اکثر مبصرین اسے امریکی صدارتی انتخاب کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی کانگریس میں ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک بھی پیش ہونے والی ہے۔ دنیا کے زیادہ تر لیڈر یہی کرتے ہیں۔ اندرونِ ملک جب وہ کچھ سنگین مسائل میں گھر جاتے ہیں یا معاشی و سماجی سطح پر ان کی حکومت ناکام ہو رہی ہوتی ہے تو اس کی طرف سے اپنے شہریوں کی توجہ ہٹانے کے لیے وہ غیر متعلق بلکہ نقصان دہ مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایران کے بارے میں سنی دنیا میں مختلف رائیں پائی جاتی ہیں۔ مثبت بھی منفی بھی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایران کا انقلاب بہر حال اسلام کے نام پر برپا ہوا تھا، جس کے بعد مسلم دنیا کو وہ کشمکش بھی ختم ہوتی نظر آرہی تھی جو شیعہ سنی کے نام پر امت مسلمہ کے اندر صدیوں سے چلی آرہی تھی۔ امام انقلاب آیت اللہ خمینی یہی چاہتے تھے۔ لیکن ان کی وفات کے بعد وہ امید ٹوٹ گئی۔ اس میں کچھ دولت مند مسلم مملکتوں کا بھی کردار تھا۔ لیکن ایران آج بھی عالمی مسلم اداروں میں شامل ہے۔فلسطین اور القدس کی بازیابی اس کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کا وہ آج بھی قائل نہیں ہے۔ اب ترکی کے رجب طیب اردگان اور ملائیشیا کے محاثر محمد سے ایران کی قربت نے امریکہ اور اس کے وفاداروں میں خوف کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ حال ہی میں ملائشیا میں بیس مسلم ملکوں کی کانفرنس نے جس میں ترکی، ایران اور قطر بھی شریک تھے ان کی نیند اڑا رکھی ہے۔
ایک امریکی تکنیک
جنرل قاسم سلیمانی کے سلسلے میں جو منفی تبصرے آئے ہیں، تقریباً وہ سب مغربی ذرائع سے آئے ہیں یا ان کے حوالے دیے گئے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ خصوصاً امریکی میڈیا کی ایک تکنک یہ بھی ہے کہ کسی مسلم ملک یا مسلم تنظیم یا مسلم عالمی شخصیت کے خلاف جب امریکہ یا اسرائیل کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے تعلق سے کچھ منفی کارنامے گھڑ کر امت میں پھیلاتے ہیں، تاکہ اس کے حق میں کوئی ہمدردی پیدا نہ ہونے پائے اور امریکہ کے خلاف غم و غصہ زیادہ بڑھنے نہ پائے۔ ہوسکتا ہے کہ قاسم سلیمانی کے بارے میں بھی یہی ہوا ہو، اگرچہ ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران کے شہری اور دیہی علاقوں میں نہایت غالی قسم کے شیعہ آج بھی رہتے ہیں اور سنیوں سے بغض رکھتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ ایسے مواقع پر اپنا ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ امریکہ نے سلیمانی کا قتل ان کی سنی دشمنی کی وجہ سے نہیں کیا۔ سلیمانی سے متعلق مزید ریسرچ ہونی چاہیے۔ شیعہ سنی اتحاد کا خطرہ اسلام دشمن قوتوں کے سر پر آج بھی منڈ لاتا ہے۔ امت اِس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔کسی ایک ملک کے مسلم شہریوں کی بات نہیں، تقریباً ہر ملک کے مسلم شہری کسی نہ کسی آزمائش سے دوچار ہیں۔ امت کو منتشر رکھنے اور اس کے اندر تفرقہ و عناد پیدا کرنے کا اسلام دشمنوں کا سب سے بڑا حربہ شیعہ سنی اختلاف رہا ہے۔ اللہ تعالٰی امت کو اپنی امان میں رکھے۔


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔