پروفیسر احمد سجاد، رانچی
ان دنوں ملک بھر میں بلا تفریقِ مذہب و ملت جس طرح کا جوش، جذبہ، اُبال اور ابھار پیدا ہوا ہے وہ آزاد ہندوستان میں ایمرجنسی کے بعد دوسری مرتبہ مزید گہرائی و گیرائی کے ساتھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پچھلے چھ برسوں سے فسطائی نقطۂ نظر رکھنے والے گروہ نے اقتدار میں آتے ہی ’’ہندو راشٹر‘‘ کو عملاً قائم کرنے کے لیے جس ہٹلری انداز کو اختیار کیا ہوا ہے اس نے ملک کے دستور، جمہوریت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ لو جہاد، گھر واپسی، ہجومی تشدد، طلاق ثلاثہ، یوگا، سوریہ نمسکار، وندے ماترم، کشمیر سے دفعہ 370 کی برخواستگی اور ایودھیا معاملے کے علاوہ فرقہ پرستی کا زہر اور مذہبی منافرت کی آتش زنی کے بعد ایک نئے قانون NRC اور شہریت ترمیمی قانون CAA اور NPR جیسے غیر جمہوری اور دفعہ ۱۴۔۱۵ کی رُو سے آئین مخالف قوانین بنا کر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی طرح پورے ملک کو عذاب مسلسل میں مبتلا کرنے کی جو کارروائیاں ہو رہی ہیں اس نے پورے ملک کے کان کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے خلاف جلسے، جلوس اور ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔ پولیس نے پُرامن احتجاجیوں پر لاٹھی، گولی چلائی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا۔ انہیں جیلوں میں ڈالا اور کہیں اجتماعی جرمانے کر کے مظلوموں سے لاکھوں روپیے زبردستی وصول کیے۔ ان مظالم کے خلاف JNU ، AMU اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا اور طالبات نے پُرامن احتجاجی جلوس نکالا تو ان پر بھی لاٹھی اور گولی چلائی گئی۔ اب تک ۳۱؍ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ لطف یہ ہے کہ جو مظلوم ہیں پولیس انہی پر مقدمات درج کر رہی ہے اور ظالموں کو پوری چھوٹ دے رکھی ہے۔
مذکورہ بالا قوانین اور انسانیت کش اقدامات کا مقصد کمزور طبقات اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنا ہے۔
آج سے ۱۱۳؍ برس پہلے جنوبی افریقہ میں جب ہندوستانیوں کی کل تعداد ۱۳۰۰۰ تھی، وہاں کی حکومت نے CAA اور NRC سے ملتا جلتا ایک قانون بنانا چاہا اور مہاتما گاندھی سے جو وہیں مقیم تھے مدد اور رہنمائی کی درخواست کی۔ جواب میں گاندھی جی نے آٹھ برس (14- 1906) تک اس کالے قانون کے خلاف ستیہ گرہ کی تحریک چلائی اور حکومت کو اسے واپس لینے پر مجبور کیا۔ اور آج اسی گاندھی کے ملک میں وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جس کے کھیلنے والوں کو گاندھی جی خود انہی کے ملک میں شکست فاش دی تھی۔ فاشسٹ طاقتیں اس وقت بھی ناکام ہوئی تھیں اور آج بھی ناکام ہوں گی۔
ملک کے تمام باشندے آسام میں NRC کے نتائج کو برسوں سے دیکھ رہے تھے کہ کروڑہا روپے کے خرچ اور برسوں کے انتظار کے بعد فسطائیوں کی چال الٹی پڑ گئی۔ انہوں نے سوچا تھا کہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں بنگلہ دیش کے مسلم مہاجرین پکڑ میں آجائیں گے۔ مگر ۱۹۔۲۰ لاکھ میں ۱۲۔۱۴ لاکھ ہندو باشندے ہی اس رجسٹر میں مشکوک اور باہری نامزد ہوگئے۔ تب حکومت نے اپنی فرقہ پرستانہ مکروہ صورت کو چُھپانے کے لیے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ستائے ہوئے ہندو شرنارتھیوں کے نام پر ان کو بلا کسی شرط کے اور مسلمانوں کو چھوڑ کر دیگر اقلیتوں کو شہریت دینے کا قانون بنا دیا۔ مگر اس غیر دستوری قانون کو ملک کے جمہوری نظام، آئین ہند اور اس کی تہذیب و ثقافت پر نو آبادیاتی انداز کا حملہ قرار دیا گیا جس کے خلاف پورا ملک کھڑا ہوگیا ہے۔
مشہور مقولہ ہے کہ خدا شربر انگیزد کہ خیر مادراں باشد۔ یعنی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا شر میں سے خیر کا پہلو نکال دیتا ہے۔ چنانچہ اس وقت ملک بھر میں فسطائیت کے خلاف جو انقلاب انگیز تحریک چل رہی ہے اس کی کئی خصوصیات ہیں۔ اولاً اس میں تمام مذاہب، ہر نقطۂ نظر، سیاسی و سماجی تنظیمیں کندھے سے کندھا ملا کر سراپا احتجاج بن کے سڑکوں پر آگئی ہیں۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ ان احتجاجیوں میں اکثریت نوجوانوں اور طلبا و طالبات کی ہے۔ تیسری بات یہ کہ ہر مذہب و ملت کی خواتین اور طالبات کے ساتھ مسلم خواتین کی اکثریت موسم کی تمام تر سختیوں کے باوجود سڑکوں پر ہفتوں سے دن رات پورے جوش و خروش کے ساتھ سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ اور چوتھی خاص بات یہ ہے کہ موجودہ فسطائی سازش کے بر خلاف آزادی کے بعد پہلی بار پورے ملک میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی کا ماحول بن چکا ہے جو خلافت تحریک کی یاد کو تازہ کر رہا ہے۔ ان خصوصیات کی وجہ سے ہر مذہب و ملت کی لیڈرشپ کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس ماحول سے کس قدر شہد کشید کر سکتی ہے اور مذہبی منافرت کے زہر کو نکال کے قومی یکجہتی اور اخوت و مساوات کی دیرینہ فضا کو واپس لا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں ملک کے ہر فرد کو اور بالخصوص مسلمانوں کو ذیل کے امور پر خصوصی توجہ دینی ہوگی:۔
1۔ ملک کی بیشتر آبادی مذہبی ذہن کی ہے۔ سیکولر اور دانشور طبقے کی اکثریت بھی ملک میں امن و انصاف، جمہوریت، اخوت و مساوات اور خوشگوار ماحول کی متمنی ہے۔ دریں صورت ہر مذہب کے علما، سادھو، سنتوں، پادریوں اور دانشوروں کو آپسی اختلافات کو درکنار کر کے اپنی اپنی آبادیوں کی مثبت انداز سے ذہنی و فکری اور عملی تربیت کرنی ہوگی۔
2۔ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بازیافت کے لیے فرقہ واریت، مسلک و مصلحت پرستی کے خلاف پہلے لوگ اپنے درمیان داخلی اتحاد و اتفاق پیدا کریں اور اس کے ساتھ مختلف الخیال لوگوں کے ساجھا منچوں کے قیام کی ملک گیر تحریک چلائی جائے۔
3۔ مسلم علما اور دانشوروں کو اپنے بھائیوں کو اسلامی زندگی کے نصب العین سے واقف کروانا اور قرآن و سنت سے جوڑنا ہوگا۔ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اسلاموفوبیا کا جو زہر پھیلایا جا رہا ہے اس کا تریاق پیش کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ اس موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے تاکہ سب کے تعاون سے ملک میں باہمی محبت اور ہم آہنگی کی فضا کو فروغ حاصل ہو۔ انہیں خوف اور اندیشوں کے ماحول سے باہر نکال کے عدل و انصاف اور امن و امان کی راہ پر لایا جائے۔ مولانا سید جلال الدین عمری کے لفظوں میں انہیں ’’انصاف کی بھیک مانگنے والے نہیں بلکہ ظلم سے نجات دینے والے بنائیں‘‘ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ’’حلف الفضول‘‘اور ’’میثاق مدینہ‘‘ کی روایت کا پیرو کار بنانا ہوگا۔
4۔ کوشش کی جائے کہ کیرالا اور مغربی بنگال کی حکومتوں کی طرح دیگر ریاستیں بھی NRC نافذ نہ کرنے کا اعلان کریں۔
5۔ امن و قانون کے دائروں میں رہتے ہوئے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ احتجاج کریں۔ اسے ہندو مسلم مسئلہ نہ بننے دیں۔ نہ سرکاری یا عوامی املاک کو نقصان پہنچنے دیں۔ ایسے موقعوں پر سماج دشمن عناصر احتجاج میں شریک ہوکر تخریبی کارروائیوں کے ذریعے فتنہ پیدا کرتے ہیں۔ ان پر نظر رکھنے کا پورا منصوبہ بننا چاہیے۔
6۔ NRC کے لیے شواہد اور معیار کو ممبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کہ ووٹر آئی ڈی اور پاسپورٹ کو ثبوت شہریت کے لیے کافی منوانے کے لیے حکومت سے تبادلہ خیال کیا جانا چاہیے۔
7۔ ان تمام کوششوں کے ساتھ تمام سرکاری دستاویزات کے حصول سے غفلت نہ برتی جائے۔
8۔ اس طرح کے احتجاجی پروگراموں میں غیر مسلم بھائی بہنوں اور مختلف الخیال ہر طرح کے لوگوں کو مدعو کیا جائے اور جن موضوعات پر وہاں تقاریر ہوں وہ عمومی نوعیت کی ہوں، مذہبی یا سیاسی ٹائپ کی نہ ہوں۔ نیز عوام کو تا دیر اس جمہوری لڑائی کے لیے آمادہ و تیار رہنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ اگر اسی جوش و جذبے اور ثابت قدمی کے ساتھ یہ جدوجہد جاری رہی تو موجودہ حالات اور مشکلات پر بخوبی قابو پایا جا سکتا ہے۔



تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔