افروز عالم ساحل
ہڈیوں تک کو گلا دینے والی ٹھنڈ اور بارش میں جب نبض تک جمنے لگتی ہے، ایسے میں بھی اگر حوصلے گرم اور زندہ رہتے ہیں تو کہا جاسکتا ہے ابھی ہندوستان میں کافی دم خم باقی ہے۔ ان ہی بلند حوصلوں کی بدولت شاہین باغ اب دارالحکومت دہلی کے جامعہ نگر سے باہر نکل کر ہندوستان سمیت ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ شاہین باغ کی خواتین کی یہ تحریک ایک انقلاب علامت کی طرح بن گئی ہے، جس کی اب پورے ملک میں نقل کی جارہی ہے۔
بہار کے نوادہ ضلع سے شاہین باغ آئے عامر مصطفیٰ کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ شاہین باغ نے پورے ہندوستان کے اندر ایک الگ کہرام مچا دیا ہے۔ ملک کے تمام افراد کو ایک نئی طاقت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگ یہاں آرہے ہیں، سیکھ رہے ہیں اور واپس جاکر اپنے علاقوں میں اسی شاہین باغ کی نقل پیش کر رہے ہیں۔ اس مظاہرے میں جادھوپور یونیورسٹی سے آئے پون شکلا کہتے ہیں، ’’میں اس احتجاج کو ایک آغاز کے طور پر دیکھتا ہوں۔ جس طرح سے ہمارے ملک کے وزیر اعظم اور اقتدار میں بیٹھے سیاسی نمائندوں نے اپنے خاص آڈیئنس بنا لیے ہیں۔ اب وہ جو بھی باتیں کہتے ہیں اپنے خاص آڈیئنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں، ایسے میں شاہین باغ ایک بہت ہی مضبوط آواز ہے‘‘۔ شہریت ترمیمی قانون پر پون شکلا کی رائے یہ ہے کہ ابھی ملک میں جس طرح کا قانون نافذ کیا جارہا ہے، اس کے پسِ پشت جو بھی حکمت عملی ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ میری سمجھ میں یہ ’سٹیزن شپ گھوٹالا‘ ہے۔ سوال پوچھنے پر حکومت ان سوالوں کو ایڈریس بھی نہیں کر رہی ہے۔ پون شکلا بنیادی طورپر فنکار ہیں اور ان دنوں جادھوپور یونیورسٹی سے کمپریٹیو لیٹریچر میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ وہ گزشتہ ۲۵؍ دنوں سے مسلسل شاہین باغ میں ہیں۔ وہ یہاں کچھ فنکاروں کے ذریعے لوہے سے بنائے گئے ۳۵ فٹ بلند ترین بھارت کے ایک نقشے کی تخلیق کی نگرانی کر رہے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان جو ثقافتی خلا پایا جاتا ہے اسے فن کے ذریعے پُر کیا جائے‘‘۔ بتا دیں کہ پوری دنیا میں مشہور ہو چکے شاہین باغ میں گزشتہ ایک مہینے سے زیادہ دنوں سے عورتیں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور دہلی پولیس، نیز بی جے پی لیڈروں کی تمام دھمکیوں اور سردی تو کبھی بارش کے باوجود ڈٹی ہوئی ہیں۔ ان کے اس احتجاج کی وجہ سے ملک کی راجدھانی دہلی، ہریانہ کے شہر فرید آباد اور اترپر دیش کے نوئیڈا شہر کو جوڑنے والی یہ سڑک پوری طرح سے بند ہے۔ شاہین باغ میں رہنے والے عارف ندوی اس احتجاج کو ایک انقلابی قدم بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک عموماً ایک رائے رہی ہے کہ مسلم گھروں کی عورتیں گھروں سے باہر نہیں نکلتیں اور ان کے اندر ایکٹیوزم نہیں ہوتا ہے، لیکن شاہین باغ میں یہ الٹا ثابت ہو رہا ہے۔ جامعہ کے طالب علم عمر اشرف کہتے ہیں کہ عام طور پر میڈیا نے ہندوستانی مسلم خواتین کے بارے میں یہ تصویر بنا رکھی تھی کہ انہیں اپنے گھروں میں آزادی نہیں ہے، انہیں پڑھنے نہیں دیا جاتا، لیکن جس طرح یہاں مسلم خواتین سی اے اے جیسے کالے قانون کے خلاف احتجاج میں سڑکوں پر آئی ہیں اس سے یقیناً اس بے تکے پروپیگنڈے کو مناسب جواب مل گیا ہوگا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ شاہین باغ کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں اس احتجاج میں انگریزی بولنے والی عورتیں شامل ہیں، وہیں کم پڑھی لکھی گھریلو خواتین بھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے ذریعے اس چیز کو پوری دنیا نے بخوبی دیکھ لیا ہے۔ یہاں آپ کسی بھی عمر کی خاتون سے پوچھ لیں کہ اتنی سردی میں آپ یہاں کیوں آئی ہیں تو جواب ہوگا کہ وہ ملک اور آئین کو بچانے کے لیے یہاں آئی ہیں۔
28 سالہ شبنم سے یہ پوچھنے پر کہ شہریت ترمیمی قانون سے آپ کو پرابلم کیا ہے؟ جواب میں وہ کہتی ہیں کہ یہ قانون ہمارے آئین کے خلاف ہے اور یہ حکومت بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فساد کرانا چاہتی ہے اور ان کے سازش کاروں کے ذریعے کہیں کہیں فسادات ہو بھی رہے ہیں۔ شاہین باغ کی ان خواتین نے پورے ملک کی خواتین کو جگا دیا ہے۔ سی اے اے کے خلاف احتجاج میں ہر شہر میں خواتین بھاری تعداد میں باہر نکل رہی ہیں۔ شاہین باغ کے ڈائس کا پورا کنٹرول لڑکیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے ان کی لیڈرشپ کی کوالیٹی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ ہندوستان میں ایسا وومن امپاورمنٹ پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے۔ سوربھ واجپئی کہتے ہیں کہ ہر’ آندولن‘ کا اپنا ایک ماڈل ہوتا ہے لیکن شاہین باغ کا آندولن آزاد بھارت میں اپنے طریقے کا سب سے انوکھا آندولن ہے۔ شاہین باغ نے ملک کو ایک اچھا قابلِ تقلید ماڈل دیا ہے آزادی کے ان 70 برسوں میں مسلمان کبھی بھی اتنے اعتماد کے ساتھ سڑکوں پر کبھی نہیں اترے تھے، لیکن اس قانون کے خلاف پہلی بار اترے ہیں۔ شاہین باغ سی اے اے کے خلاف احتجاج کا ایک ’لینڈ مارک‘ ہے۔ اس مظاہرے میں سوربھ واجپئی کئی دنوں سے آرہے ہیں۔ وہ دہلی یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے اپنی والدہ پشپا واجپئی، بڑی بہن اور خاندان کے دیگر افراد کو لے کر آئے تھے۔ تب پشپا واجپئی یہاں کسی سیلیبریٹی سے کم نہیں تھیں۔ وہ کہتی ہیں ہم سب مصیبت کے وقت ہمیشہ اکٹھے کھڑے ہوئے ہیں اور اس بار بھی ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ ہم سب کے مذاہب مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن ایک ساتھ رہنے میں مسئلہ کسے ہے؟ وہ کہتی ہیں کہ وہ شاہین باغ اس لیے آئی ہیں کیونکہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انھیں بہت تکلیف پہنچا رہا ہے۔ جس طرح بچوں کو پیٹا جارہا ہے وہ دیکھا نہیں جاتا۔
ساتھ میں ان کی بیٹی نویدیتا بھی ہیں انہوں نے تفصیلی گفتگو میں بتایا کہ اس معاشرے کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں یہاں آنے پر اتنا پیار ملے گا، یہ انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔ ہمیں مذہب کی بنیاد پر اس طرح تقسیم کرنے والوں کی ہرحال میں مخالفت ہونی چاہیے‘‘ ۔ یہ لڑائی نہ تو آسان ہے نہ چھوٹی ہے، اس کا انجام کیا ہوگا یہ بھی نہیں معلوم۔ شاید اسی لیے ان عورتوں کی جدوجہد میری نظر میں اور بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ جب کبھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جدوجہد کا ذکر آئے گا، شاہین باغ کی عورتیں بڑے ہی احترام اور عقیدت کے ساتھ یاد کی جائیں گی۔
کیا حقیقت میں مسلم عورتیں پہلی بار اس طرح سڑکوں پر آئی ہیں؟ نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں مسلم عورتوں کی تاریخ سے کبھی روشناس کرایا ہی نہیں گیا۔ کبھی کسی نے بتایا ہی نہیں کہ تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون میں مسلم خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں۔ سچ پوچھیے تو تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ آج سے ٹھیک سو سال قبل مولانا محمد علی جوہر کی ماں ’بی اماں‘ یعنی عبادی بانو بیگم پورے ہندوستان کا دورہ کر رہی تھیں۔ ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر محلے تک تحریک عدم تعاون اور خلافت کا پرچم لے کر جا رہی تھیں، گلی سے لے کر نکڑ تک انگریز حکومت کے ذریعے لائے گئے کالے قانون ’رولٹ ایکٹ‘ کے خلاف شروع ہوئے عدم تعاون تحریک کی اہمیت کو سمجھا رہی تھیں۔ ان کی تقریر سن کر عورتیں خلافت کمیٹی کے لیے اپنے گہنے و زیورات عطیہ کر دیا کرتی تھیں۔ اس طرح کئی لاکھ روپے کا چندہ اس زمانے میں عورتوں نے جمع کیا۔ ان کے جذبے سے برطانوی حکومت گھبرا گئی، ان کے جذبے کو توڑنے کے لیے ان کے دونوں بیٹوں کو جیل میں ڈال دیا۔ تو یہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور للکار کر کہنے لگیں،’’دودھ ہرگز نہ بخشوں گی تم کو، میں دلاور نہ سمجھوں گی تم کو، جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘۔۔۔
اتنا ہی نہیں، انہوں نے اس دوران ملک کی آزادی اور حقوق کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کرتے ہوئے جیل میں اپنے بیٹوں کے نام پیغام بھی بھیجا۔ اس پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ’’میرے بیٹو، بہادر بنو اور لڑائی کو ترک مت کرو، معافی بھی مت مانگو‘‘۔ مولانا محمد علی جوہر کی بیوی امجدی بانو بیگم بھی کسی سے کم نہیں تھیں۔ اپنے شوہر کی طرح انہوں نے بھی ہندوستان کی آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے 1920 میں خلافت تحریک کے لیے ’بی اماں‘ کی مدد سے 40 لاکھ روپے کا فنڈ جمع کیا۔ مہاتما گاندھی نے انہیں ’’بہادر عورت‘‘ کا خطاب دیا۔ گاندھی جی 29 نومبر 1921 کے ’’ینگ انڈیا‘‘ کے شمارے میں لکھتے ہیں۔ ’بیگم محمد علی جوہر‘ کے ساتھ کام کرنے پر مجھے بہت ساری چیزوں کا تجربہ ہوا۔ وہ شروع ہی سے اپنے شوہر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف خلافت تحریک کے لیے فنڈ اکٹھا کیا بلکہ وہ ہم لوگوں کے ساتھ بہار، بنگال، آسام جیسی ریاستوں کے دورے پر بھی گئیں اور لوگوں کے اندر انقلاب کا مشعل جلایا۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے شوہر سے کم نہیں تھیں۔مدراس سمندر کے کنارے ایک عظیم جلسہ منعقد گیا تھا، جس میں بیگم محمد علی نے ایک زبردست انقلابی تقریر کی، جسے عوام نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کی تقریر لاجواب تھی۔ گاندھی جی ہمیشہ امجدی بانو بیگم کی تعریف کرتے نظر آئے۔ وہ ان کے بارے میں ایک جگہ اور لکھتے ہیں کہ خلافت کمیٹی کے لیے بیگم محمد علی نے جتنی رقم جمع کر لی ہے اتنی شاید ان کے شوہر بھی نہ کر پاتے۔ میں اپنی رائے ظاہر کر ہی چکا ہوں کہ وہ مولانا سے بہتر تقریر کرتی ہیں… ‘ٹھیک سو سال بعد یہی بات آج بھی جامعہ اور شاہین باغ میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔



تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔