ڈاکٹر سلیم خان
قدیم ہندوستان میں سناتن دھرم کے خلاف گوتم بدھ اور مہاویر کی دو بڑی عوامی تحریکات کا سراغ ملتا ہے۔ یہ دونوں اپنے وقت میں بہت کامیاب ہوئیں اور ان مذاہب نے ورن آشرم کی بنیاد پر قائم سماج کی چولیں ہلا دیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ان کو کچل دیا گیا یا نگل لیا گیا۔ بودھ دھرم کے ماننے والوں کو مارپیٹ کر ان کا دیس نکالا کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سرزمین ہند پر جنم لینے والے بدھ مت کو دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا اور آج بھی اس کے پیروکار بھارت سے زیادہ سری لنکا، برما، چین اور جاپان میں پائے جاتے ہیں۔ اور جین مت کو تہذیبی اعتبار سے نگل لیا گیا یہاں تک کہ اس کی منفرد شناخت پوری طرح ختم ہوگئی۔ چند مخصوص رسوم و رواج کے استثناء کے ساتھ عملاً وہ ہندو مذہب کا حصہ بن چکا ہے۔ سرکاری سہولتوں کے حصول کی خاطر وہ کاغذ پر اپنے آپ کو اقلیت کہتے تو ہیں مگر حقیقت میں وہ اکثریت کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مودی اور جین شاہ کے درمیان کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ حالانکہ مختار عباس نقوی کو اب بھی ان دونوں سے مختلف سمجھا جاتا ہے۔ تاریخِ ہند میں مسلم حکم رانوں کے خلاف کسی بغاوت یا عوامی تحریک کا ذکر نہیں ملتا۔ جہاں تک جنگوں کا سوال ہے وہ سیاسی نوعیت کی کشمکش تھی جو مسلم بادشاہوں کے درمیان اور ہندو راجاؤں کے بیچ بھی ہوتی رہتی تھی۔ اس کا مقصد اپنی سلطنت کے سرحدوں کی توسیع ہوتا تھا۔ میدانِ جنگ میں ہندو اور مسلمان حکم راں کبھی ایک دوسرے کے خلاف تو کبھی ایک ساتھ بھی نظر آتے تھے مثلاً پرتھوی راج چوہان کا ابراہیم لودھی کے خلاف ظہیر الدین بابر کو حملے کی دعوت دینا۔ اس جنگ میں ابراہیم لودھی کے خلاف برسرِ جنگ بابر کو پرتھوی راج چوہان کی حمایت حاصل تھی۔ مختلف فوجوں اور ان کے سپہ سالاروں کے درمیان لڑی جانے والی اس جنگ کا نہ تو مذہب سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی عوام اس میں ملوث تھے۔ ہندو راجاؤں کی فوج میں مسلمان فوجی اور مسلمانوں کی فوج میں ہندو رنگروٹ ملازمت کے لیے شامل ہوجاتے تھے۔ آگے چل کر وہ پیشہ ور فوجی انگریزوں کی فوج میں بھی شریک ہوگئے۔
سی اے اے، این سی آر اور این پی آر کے آتے آتے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ملک کے دانشور، کسان اور بیروزگار اس سرکاری چال کو سمجھ گئے۔ جامعہ اور جے این یو میں کی گئی دہشت گردی کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی اور ملک کے طول و عرض میں ان کالے قوانین کے خلاف ایک عوامی تحریک چل پڑی۔
ہندوستان کی جدید تاریخ میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی جو زبردست تحریک اٹھی اس میں ایک مشترکہ دشمن کے خلاف ہندو مسلمان متحد ہوگئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے مشترکہ دشمن ہندو مسلم اتحاد کی ایک حاجت ہے اور سنگھ پریوار فی الحال اس کو ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔ آزادی کی پہلی جنگ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں لڑی گئی جس میں جھانسی کی رانی جیسے کئی ہندو حکم راں شریک تھے۔ نوابوں اور راجاؤں کی سربراہی میں عوام کی شرکت سے لڑی جانے والی اس جنگ کو نیم عوامی تحریک کہا جاسکتا ہے۔ اس ناکام مہم کے بعد دہلی کے تاجدار بہادر شاہ ظفر کو رنگون بھیج کر انگریزوں نے پورے ملک پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔برطانوی سرکار نے اس کشمکش کو غدر کا نام دیا مگر حقیقت میں یہ بیرونی سامراج کے خلاف پہلی تحریکِ حریت تھی۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی خاطر مسلح تحریکات کا بھی ذکر تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے۔ مثلاً دینی رہنماؤں کے ذریعے چلائی جانے والی ریشمی رومال تحریک یا سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج جس میں ہندو مسلمان دونوں شریک تھے۔
انگریزی سامراج کے خلاف آزادی کی دوسری کوشش گاندھی جی کی قیادت میں کی گئی۔ اس عوامی تحریک کو مولانا محمد علی جوہر کی رہنمائی میں چلنے والی تحریکِ خلافت کی حمایت حاصل تھی۔ گاندھی جی کے ساتھ تحریکِ آزادی میں مختلف نظریات کے حامل لوگ شامل ہوگئے تھے مثلاً، اس میں جہاں ایک طرف مدن موہن مالویہ تھے تو ان کے شانہ بہ شانہ مولانا ابولکلام آزاد بھی موجود تھے۔ بال گنگا دھر تلک کے ہمراہ محمد علی جناح تھے۔ ہندو اور مسلمان عوام اس کو آگے بڑھا رہے تھے۔ ونائک دامودر ساورکر نے ہندو مہاسبھا بنا کر الگ سی کوشش کی لیکن کالاپانی سے توبہ کرکے لوٹنے کے بعد وہ انگریزوں کے باج گزار بن گئے۔ محمد علی جناح نے کانگریس سے الگ ہو کر مسلم لیگ بنائی اور پاکستان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم کے مزار پر سندھ کے رہنے والے لال کرشن اڈوانی نے انہیں تاریخ ساز شخصیت کہہ کر خراج عقیدت پیش کیا۔
آزادی کے بعد ملک میں پہلی ملک گیر تحریک ایمرجنسی کے خلاف اٹھی۔ اندرا گاندھی نے جب آئین کو معطل کر کے اپنے سارے سیاسی مخالفین کو جیل میں ٹھونس دیا تو اس جبر و استبداد کے خلاف جئے پرکاش نارائن نے مکمل جمہوریت (پورن سوراج) نعرہ بلند کر کے عوامی تحریک کا آغاز کیا۔ اس موقع پر شمالی ہندوستان کی ساری بڑی سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر جنتا پارٹی قائم کی اور اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ بلا تفریق مذہب و ملت عوام نے بڑھ چڑھ کا اس تحریک میں حصہ لیا لیکن آگے چل کر جن سنگھیوں نے اس سے الگ ہوکر بی جے پی بنائی۔ اس طرح اندرا گاندھی کو دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع مل گیا۔
وی پی سنگھ نے اپنی پارٹی سے بغاوت کر کے بوفورس کی بدعنوانی کے خلاف ملک میں دوسری عوامی تحریک چلائی۔ اس کے بل بوتے پر وہ راجیو گاندھی کی زبردست اکثریت والی حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو گئے۔
وی پی سنگھ کے مسلمانوں پر انحصار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے دور میں ملک کو مفتی محمد سعید کی صورت میں پہلا وزیر داخلہ ملا۔ حالانکہ پنڈت نہرو کے زمانے میں مولانا آزاد جیسی عظیم شخصیت کو بھی وزیر تعلیم کےعہدے پر اکتفاء کرنا پڑا تھا۔ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی خاطروی پی سنگھ نے جب منڈل کا کارڈ کھیلا تو بی جے پی کی ہوا اکھڑ گئی۔ زعفرانیوں کے لیے منڈل کی مخالفت اور حمایت دونوں خودکشی کے مترادف تھی۔ اس لیے رام مندر کا مسئلہ اچھال کر لال کرشن اڈوانی کو کمنڈل کے ساتھ عوامی تحریک چلانے پر مجبور ہونا پڑا لیکن وہ جنتا دل کا متبادل بننے میں ناکام رہے۔ وی پی سنگھ کے بعد کانگریس کےنرسمہا راؤ اور ان کے بعد پھر سے دیوے گوڑا کی حکومت بنی۔ جنتا دل کے اقتدار کا خاتمہ آپسی سر پھٹول کے سبب ہوا اور پہلی بار بی جے پی کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔ اٹل بہاری واجپائی کسی عوامی تحریک کا نتیجے میں نہیں بلکہ سرکار کے خلاف عوامی ناراضگی کے سبب وزیر اعظم بنے تھے۔ اٹل جی کے ٹل جانے پر کانگریس نے دوبارہ اقتدار میں آکر دس سالوں تک حکومت کی اور پھر بی جے پی کو مودی جی کی قیادت میں دو بار سرکار بنا نے کا موقع مل گیا۔ نریندر مودی کی پہلی کامیابی ایک توحکومت سے بیزاری، دوسری سیاسی بازیگری کا کمال تھا، اس کے پسِ پشت کوئی عوامی انقلاب کارفرما نہیں تھا۔ مودی جی نے اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لیے پہلی میقات کے اواخر میں غیراعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی، لیکن اس کے اثرات محسوس نہیں کیے جا سکے۔ لیکن دوسری میقات کی ابتداء میں ہی معیشت کی ابتری قابو سے باہر ہوگئی۔ اس ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے انہیں اپنے شعلہ بار وزیر داخلہ کی مدد سے دھڑا دھڑا قانون سازی کی آندھی برپا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کشمیر میں دفعہ ۳۷۰ کا خاتمہ عوام کے جذباتی استحصال کا ایک حصہ تھا لیکن چونکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو پاکستان سے جوڑ کر ملک دشمن قرار دینا بہت آسان تھا اس لیے سیاسی جماعتوں کے لیے مخالفت کرنا مشکل ہوگیا۔ عوام نے بھی کوئی بڑی تحریک چلانے سے گریز کیا اور ان کا احتجاج وادی کے اندر انسانی حقوق کی پامالی تک محدود ہوکر رہ گیا۔ بابری مسجد کا فیصلہ چونکہ سرکار نے کوئی قانون بنا کر نہیں کیا تھا بلکہ عدالت سے کروایا تھا اس لیے حکومت کو اس کے لیے براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانا ممکن نہیں تھا نیز مودی سرکار سے اس فیصلے کے خلاف قانون بنانے کی بالکل توقع نہیں تھی اس لیے عوام نے اسے بھی بادلِ ناخواستہ برداشت کرلیا۔ مگر سی اے اے، این سی آر اور این پی آر کے آتے آتے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ملک کے دانشور، کسان اور بیروزگار اس سرکاری چال کو سمجھ گئے۔ جامعہ اور جے این یو میں کی گئی دہشت گردی کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی اور ملک کے طول و عرض میں ان کالے قوانین کے خلاف ایک عوامی تحریک چل پڑی۔
یہ حسنِ اتفاق ہے کہ پیش رو عوامی تحریکات کی طرح اس تحریک میں بھی ہندو مسلمان متحد ہیں۔ ایک طرف جہاں ہندو دانشور آگے بڑھ کر ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمان عوام جوش و خروش سے میدان میں اتر کر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ آر ایس ایس ایک نظریاتی تحریک ہے اور اس کا مقابلہ نظریے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حالیہ احتجاج کا جہاں ایک عملی پہلو ہے وہیں اس کی ٹھوس نظریاتی بنیادیں بھی ہیں جس کو گاندھی جی کے پڑ پوتے تشار گاندھی نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ۔ تشار گاندھی کے مطابق اس قانون کا بیج آئین مخالف نظریات میں ہے۔ انہوں نے سرکاری تقریبات پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ یہ لوگ گاندھی کے نام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ گاندھی کو مارنے کے بعد ان سے عقیدت کا اظہار کرنا بہت آسان ہے، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تقسیم کے بعد گاندھی جی نے کہا تھا کہ پاکستان سے ہر ستم رسیدہ ہندوستان آسکتا ہے خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ بی جے پی نے بڑی عیاری سے چنندہ الفاظ کا استعمال کر کے ملک کو تقسیم کرنے کا کام کیا ہے اس لیے یہ ملک کو منقسم کرنے والا آزاد ہندوستان کا سب سے خطرناک قانون ہے۔ اپنے نظریات کے حق میں تشار گاندھی نے یہ دلیل پیش کی کہ ملک کسی زمینی ہیئت کا نام نہیں ہے۔ اتحاد، استعداد اور انصاف ملک و قوم کے اجزائے ترکیبی ہیں لیکن اس حکومت سے ان تینوں کوخطرہ لاحق ہے۔ اس قانون کے بعد وطن کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا۔ اس قانون سے کوئی ایک بھی طبقہ مطمئن نہیں ہے اس لیے بڑی تعداد میں عوام اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تشار گاندھی نے گاندھی جی کے تصورِ وطن کو بچانے اور گنگاجمنی تہذیب کی حفاظت کے لیے نوجوانوں سے سی اے اے مخالف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی استدعا کی۔ ہندو سماج کے مخلص دانشوروں کی یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی اور بجا طور پر یہ توقع کی جارہی ہے کہ وقت کے ساتھ ہندو عوام بھی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ این آر سی کے خلاف شاہین باغ کے احتجاج سے ترغیب حاصل کر کے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی خواتین احتجاج کرنے لگی ہیں۔ یوگیندر یادو نے شاہین باغ میں خواتین کی اس بے مثال تحریک کو پورے ملک کے لیے ایک نظیر قرار دینے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ جلد ہی دیگر خواتین بھی مسلمانوں کی پیروی کرتے ہوئے ملک بھر میں آئین کی حفاظت کے لیے اپنے آرام و آسائش کو چھوڑ کر دھرنا دیں گی۔ چنانچہ شاہین باغ میں سکھ خواتین کی شمولیت اس امکان کی تائید کرتا ہے۔ اس طرح آئینی حقوق کی بحالی کے لیے ایک ہمہ جہتی عوامی تحریک کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس پیش رفت نے بی جے پی کا چین و سکون غارت کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ آئے دن اجیت ڈوبھال کے ساتھ بیٹھ کردن بہ دن پیچیدہ ہونے والی صورتحال پر غور تو کرتے ہیں لیکن ان کو کوئی حل سجھائی نہیں دیتا۔
عام طور پر عوامی اضطراب کا فائدہ اٹھانے کے لیے سیاسی جماعتیں فوراً میدان میں آجاتی ہیں اس لیے احتجاج و مزاحمت کی کمان ان کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ اس بار وہ چوک گئے اور عوام ان کے بغیر آگے بڑھ گئے۔ سیاست فی الحال ایک منافع بخش پیشہ بن چکی ہے جس میں لوگ راتوں رات معاشی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ سیاستدانوں کے اندر کروڑ پتی عیش پسندوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے بے شمار مفادات سرکار کے دربار سے وابستہ ہیں۔ وہ لوگ بہت سوچ سمجھ کر کسی احتجاج کا حصہ بنتے ہیں۔ موجودہ سیاستدانوں کے نزدیک ان کا ذاتی مفاد اور پھر پارٹی کا سیاسی فائدہ اہم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی ملک و قوم کی فلاح و بہبود کا نمبر آتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر آتا ہی نہیں ہے۔ اس کے برعکس سرکار دربار کے بجائے اپنی محنت و مشقت پر انحصار کرنے والا عام آدمی بلا خوف و خطر میدانِ عمل میں اتر کر ظلم و زیادتی کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کر دیتا ہے۔ ملک کے چپے چپے میں این آر سی کے خلاف ہونے والا یہ احتجاج اسی حقیقت کا مظہر ہے۔ یہ سلسلہ اب رکنے کے بجائے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔
سی اے اے اور این آر سی سے متعلق ابتداء میں سیاسی جماعتوں کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ براہِ راست احتجاج کریں گے تو عوام ان کا ساتھ نہیں دیں گے نیز بی جے پی ان کے مظاہروں کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیاسی فائدہ اٹھا لے گی، لیکن اب انہیں عوامی مزاج کا اندازہ ہوگیا ہے اور وہ بھی سینہ ٹھونک کر میدان میں اتر نے لگے ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال حیدر آباد کا پہلا تاریخی مظاہرہ ہے۔ صوبائی حکومت کی حوصلہ شکنی کے باوجود جب بغیر کسی سیاسی سرپرستی کے جلوس کو غیر معمولی کامیابی مل گئی تو مجبوراً ایم آئی ایم کو بھی اپنی ساکھ بچانے کے لیے احتجاج کا اعلان کرنا پڑا۔ عوام کا جوش و خروش اس قدر شباب پر تھا کہ اس نے ایم آئی کی ترنگا ریلی کو بھی کامیاب بنا دیا۔
این آر سی اور سی اے اے کے ذریعے بی جے پی مغربی بنگال کے ہندو رائے دہندگان کا دل جیت کر ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتی تھی اس لیے ان قوانین کی مخالفت کرنا ممتا بنرجی کی سیاسی مجبوری بن گئی تھی۔ ممتا کی پیش قدمی کے بعد ہوا کا رخ دیکھ کر دیگر علاقائی جماعتیں بھی محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگی ہیں۔ مہاراشٹر کے اندر شرد پوار نے وائی ایم سی اے میدان میں خواتین کے عظیم مظاہرے سے خطاب کرنے کے لیے اپنی رکن پارلیمان بیٹی سپریا سولے کو بھیجا اور اب وہ کانگریس کے ساتھ مل کر مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ریاست میں مخلوط حکومت کی حمایت کرنے والی ساری سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر شرد پوار کی قیادت میں ۲۴ جنوری کو ان سیاہ قوانین کے خلاف ممبئی میں ریلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس احتجاج میں کانگریس، راشٹروادی کانگریس، سماجوادی پارٹی، لوک بھارتی، سی پی آئی، سی پی ایم، جنتا دل سیکولر، ڈی آر ایس پی وغیرہ شرکت کریں گے۔
مذکورہ احتجاج کے اغراض و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کے رکن کپل پاٹل اور کرن پاوسکر نے بتایا کہ شہری ترمیمی قانون صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں ہے بلکہ آدیواسی، لنگایت سماج، پسماندہ طبقات اور دیگر طبقات کے بھی خلاف ہے۔ اس کے نفاذ سے عوام کو نوٹ بندی جیسی دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ چونکہ کسی ایک مذہب یا سماج کا معاملہ نہیں ہے اس لیے تمام ہندوستانیوں کو متحد ہوکر سڑکوں پر آنا ہوگا۔ اس میں کسی مخصوص پارٹی کا پرچم لہرانے کے بجائے ترنگا لہرایا جائے گا اور سارے شرکاء ’ہم بھارت کے لوگ‘ کا نعرہ بلند کریں گے۔ عوامی بیداری کے اثرات اب قومی سطح پر بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ دہلی میں راہل گاندھی نے اس کو روزگار اور معاشی ابتری سے جوڑ کر سرکار کی ناکامی کے خلاف نوجوان، طلباء اور کسانوں کے روز افزوں غم و غصہ کی جانب سے دھیان ہٹانے کے لیے ملک کو بانٹنے والا اقدام قرار دیا ہے۔مودی جی کے لیے راہل گاندھی یا شرد پوار جیسے سیاسی لوگوں سے نمٹنا کسی قدر آسان ہے مگر اصل خطرہ عوامی تحریکات سے ہے۔ جئے پرکاش نارائن کے نقشِ قدم پر یشونت سنہا نے ممبئی شہر کے گیٹ آف انڈیا سے گاندھی شانتی یاترا شروع کر کے ایمرجنسی کے خلاف چلنے والی تحریک کی یاد تازہ کردی ہے۔ اس یاترا کو ہری جھنڈی دکھانے کے لیے شرد پوار اور پرکاش امبیڈکر موجود تھے۔ ممبئی سے شروع ہونے والا یہ سفر ۶ ریاستوں سے گزر کر ۳۰ مارچ کو تین ہزار کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کر کے دہلی میں گاندھی سمادھی پر اختتام پذیر ہوگا۔ یشونت سنہا کے اس اعلان نے مودی سرکار کی نیند حرام کردی ہے کیونکہ بی جے پی کے سابق مرکزی وزیر کی قیادت میں یہ یاترا ان صوبوں میں سے گزرے گی جو بی جے پی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا جیسے سابق بھاجپا والوں کی قیادت میں چلائی جانے والی غیر سیاسی مہم کو ہندو مسلم رنگ دے کر بدنام کرنا زعفرانیوں کے لیے ناممکن ہے۔ اس لیے دن بہ دن یہ حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کے حوالے سے حکومت نے بغیر تیاری کے شہد کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے اور اب وہ اپنی تباہی و بربادی کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
این آر سی کے خلاف یہ تحریک بجا طور پر دوسری تحریکِ آزادی ہے اور اس میں بھی ملک کے مسلمان اپنی شاندار روایات کے مطابق کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔