سفیر صدیقی

شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ملک گیر سطح پر جاری ان مظاہروں میں مرد و خواتین، طلبا و طالبات، شعرا، ادبا اور دانش ور سب کا حصہ ہے جو اپنے اپنے طریقے سے مختلف پلیٹ فارموں سے اس کالے قانون کی مخالفت میں سرگرم عمل ہیں، وہیں راج دھانی دہلی کا ایک مسلم علاقہ شاہین باغ نہ صرف پورے ملک بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہا ہے جہاں 70-80 برس کی معمر دادیاں اور 5 سال کی چھوٹی بچیاں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ گزشتہ ایک مہینے سے یخ بستہ فضاؤں اور باد و باراں کی سختیوں کے باوجود کوہ استقامت بن کر ظالمانہ قانون کی مخالفت میں ڈٹی ہوئی ہیں۔ ملک گیر مظاہروں میں شاہین باغ کا پُر امن احتجاج اپنی ایک الگ شناخت کا حامل ہے اور پورے ملک کے لیے ایک مثال بن چکا ہے۔ شاہین باغ میں 15 دسمبر سے اب تک ہزار پریشانیوں اور گوناگوں افواہوں کے باوجود وہاں کی خواتین نے استقامت کے ساتھ اپنا احتجاج نہ صرف جاری رکھا ہے بلکہ دن بہ دن اسے اور مضبوط بنایا ہے۔ یہاں تک کہ آج شاہین باغ نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شاہین باغ کے احتجاج کی اس شہرت اور کامیابی میں سوشل میڈیا کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ’’گودی میڈیا ‘‘ نے اس پر توجہ نہیں دی اور اس کی خبروں سے گریز کیا، سوشل میڈیا ہی وہ پلیٹ فارم تھا جس نے شاہین باغ کے اس احتجاج کو اتنا پھیلایا کہ قومی میڈیا سے پہلے ہی اس احتجاج نے عالمی میڈیا کو اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ جس کے بعد چار و ناچار قومی میڈیا بھی اسے کوریج دینے پر مجبور ہوا۔

دوسری طرف اسی سوشل میڈیا کے ذریعے شاہین باغ کے احتجاج کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اسے توڑنے کا کام بھی لیا گیا۔ جہاں ٹویٹر، فیس بک اور انسٹا گرام پر ہزاروں اکاؤنٹ شاہین باغ احتجاج کی تشہیر کے لیے وقف ہیں، وہیں بی جے پی آئی ٹی سیل کے ذریعے شاہین باغ کے احتجاج کی غلط تصویر کشی کے لیے بھی متعدد ہیش ٹیگ چلانے کی کوشش کی گئی جسے محبان وطن نے ناکام بنا دیا۔ حالیہ دنوں میں بی جے پی آئی ٹی سیل کے ذریعے ’’شاہین باغ کی بکاؤ عورتیں‘‘ جیسا بھدا ہیش ٹیگ ٹویٹر پر چلایا گیا تھا جو ان پر ہی الٹا پڑا اور جواب میں ’’ہر شہر شاہین باغ‘‘، ’’شاہین باغ کی مہان عورتیں‘‘، ’’شاہین باغ ایک مثال‘‘ جیسے ہیش ٹیگ چلائے گئے اور آئی ٹی سیل کو منہ کی کھانی پڑی۔

ٹویٹر پر شاہین باغ سے نعرے لگاتی ہوئی چھوٹی سی ایک بچی کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا کر دیا تھا۔ اس بچی کی ہمت نے ہزاروں افراد کو گھر سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور ہزاروں لوگوں کے ضمیر کو جگانے کا کام کیا۔ ملک بھر کے تقریباً تمام مسلم و غیر مسلم خواص و عوام نے اسے اپنے اپنے طور پر شیئر کیا اور اس ویڈیو نے شاہین باغ احتجاج کی روحانیت کو نہایت خوب صورت اور مؤثر طریقے سے لوگوں تک پہنچایا۔ وہیں دوسری طرف بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے ایک عجیب و غریب جھوٹی ویڈیو بنا کر ٹویٹر پر شیئر کرنا شروع کیا جس کے مطابق شاہین باغ کی عورتیں 500 روپیوں کے لیے وہاں بیٹھی ہیں۔ آئی ٹی سیل نے شاہین باغ کی ساکھ خراب کرنے کے لیے اس کے ساتھ ’’شاہین باغ کی بکاؤ عورتیں‘‘ کا ہیش ٹیگ ٹویٹر پر ٹرینڈ کرایا جس میں ان کو یوں منہ کی کھانی پڑی کہ جواب میں ’’شاہین باغ کی مہان عورتیں‘‘ جیسا ہیش ٹیگ جلد ہی اس سے آگے نکل گیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شاہین باغ کی خواتین کا ساتھ دیتے ہوئے بی جے پی آئی ٹی سیل کی اس مذموم حرکت کو ناکام بناتے ہوئے انھیں منہ توڑ جواب دیا۔ شاہین باغ آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس کی ویڈیو کی تردید میں بیان بھی جاری کیا ہے۔آج کے اس تکنیکی دور میں سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو کر کسی تحریک کو آگے بڑھانا یا اس کی ساکھ برقرار رکھنا تقریباً نا ممکن سا ہوگیا ہے۔ ہر انسان اپنے موبائل میں موجود سوشل سائٹس پر ہی زیادہ خبریں دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر مین اسٹریم میڈیا چینل نے سوشل سائٹس پر اپنے اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں جہاں وہ مسلسل خبریں شائع کرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کے پاس ٹی وی دیکھنے یا طویل خبریں پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ تصویروں کے ساتھ مختصر خبریں یا چھوٹی چھوٹی معلوماتی ویڈیو دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ شاہین باغ کی تشہیر اور اس کی مضبوطی کے لیے بھی سوشل میڈیا کا استعمال ناگزیر ہے۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے ہزاروں بلکہ لاکھوں کارکنان اپنے پروپیگنڈے کو پھیلانے کے لیے سوشل سائٹس ہی کا سہارا لیتے ہیں اور وہیں پر کسی فرد، پارٹی یا تحریک کی ساکھ بنانے یا بگاڑنے کا کام ہوتا ہے۔ سوشل سائٹس کا استعمال اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ سوشل سائٹس صرف قومی نہیں بلکہ عالمی سطح تک آپ کی آواز پہنچانے کا سب سے آسان ذریعہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہین باغ کے احتجاج کو کم وقت میں عالمی میڈیا تک پہنچانے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ چنانچہ شاہین باغ کی با ہمت خواتین اور با ہوش انتظامیہ نے اپنے احتجاج کو مؤثر بنانے کے لیے سوشل سائٹس کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ یہاں تک کہ شاہین باغ کا مظاہرہ وکی پیڈیا پر بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے جو بجائے خود اس کی کامیابی کی ایک بڑی دلیل ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر پر مختلف اکاؤنٹس شاہین باغ کے مظاہرے کی ہر چھوٹی بڑی خبر بخوبی عوام تک پہنچا رہے ہیں، اور حکومت کے ساتھ ساتھ عالمی قوموں تک بھی اپنی آواز پہنچا رہے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ سلسلہ اس وقت تک یوں ہی جاری رہے گا جب تک کہ شہریت کا کالا قانون واپس نہیں لے لیا جاتا۔

***