نئی دہلی — ایک ایسے فیصلے میں جس پر مذہبی اداروں، قانون سازوں اور سول سوسائٹی کی نظریں جمی ہوئی تھیں، سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج وقف ترمیمی بل کی آئینی حیثیت پر تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔

پانچ رکنی آئینی بنچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس ڈی وائے اروڑا نے کی، نے قرار دیا کہ اگرچہ مرکزی حکومت کو عوامی مفاد میں مذہبی اوقاف کو ریگولیٹ کرنے کا وسیع اختیار حاصل ہے، تاہم بل کی کئی شقوں کو آرٹیکل ۲۵ اور ۲۶ کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے دوبارہ پڑھا جانا ضروری ہے۔

اس فیصلے کا کیا مطلب ہے

ہندوستان کی تقریباً ۶ لاکھ رجسٹرڈ وقف املاک — جن میں مساجد، درگاہیں، مدارس، اسپتال اور قبرستان شامل ہیں — کے لیے یہ فیصلہ وضاحت اور حد بندی دونوں لے کر آیا ہے۔ عدالت نے وسیع ریگولیٹری ڈھانچے کو برقرار رکھا لیکن ان شقوں کو مسترد کر دیا جو متاثرہ کمیونٹیوں سے مشاورت کے بغیر مذہبی املاک کی یک طرفہ دوبارہ درجہ بندی کی اجازت دیتی تھیں۔

یہ فیصلہ ریاست کے شفافیت کے جائز مفاد اور کمیونٹی کے زیرِ انتظام مذہبی اوقاف کے آئینی تحفظ کے درمیان ایک متوازن نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔
Ad
اشتہار
336×280 – In-content Rectangle

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مذہبی املاک کے قانون کی سب سے اہم تشریحات میں سے ایک ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ فیضان مصطفیٰ نے اس فیصلے کو ایک سنجیدہ یاد دہانی قرار دیا کہ سیکولر طرزِ حکمرانی کو ہمیشہ مذہبی آزادی کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔

اہم شقوں پر فیصلہ

عدالت کے ۳۸۷ صفحات پر مشتمل فیصلے میں بل کی نو اہم شقوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں ریاستی وقف بورڈز کی تشکیل، تنازع کا حل، اور مجوزہ وقف ٹریبونل کا کردار شامل ہے۔

بنچ نے حکم دیا ہے کہ ہر ریاستی وقف بورڈ میں کم از کم دو کمیونٹی سے منتخب ارکان شامل کیے جائیں؛ کسی بھی دوبارہ درجہ بندی سے پہلے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے لازمی مشاورت ہو؛ اور تاریخی استعمال کو دستاویزی ریکارڈ کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانے اوقاف کے تنازعات میں اہم وزن دیا جائے۔

مختلف طبقات کے ردعمل

اس فیصلے پر ہندوستان کے سیاسی اور مذہبی طبقات کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصلے کو آئینی حقوق کا متوازن اور اصولی دفاع قرار دیا، جبکہ کئی بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ نے نوٹ کیا کہ وسیع ریگولیٹری فریم ورک برقرار رکھا گیا ہے۔

انفرادی وقف املاک کے عام متولّیوں کے لیے یہ فیصلہ عملی ریلیف فراہم کرتا ہے۔ لکھنؤ کے مولانا سلمان حسینی ندوی کہتے ہیں: ہم دو سال سے غیر یقینی کی حالت میں کام کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دیتا ہے۔

آگے کا راستہ

مرکزی حکومت کے پاس عدالت کی ہدایات کے مطابق نظر ثانی شدہ قواعد جاری کرنے کے لیے ۹۰ دن ہیں۔ وزارتِ اقلیتی امور نے اشارہ دیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت اگلے ہفتے شروع ہوگی۔ دریں اثنا، ملک بھر کے ہائی کورٹس میں زیرِ التوا کئی مقدمات کو مشترکہ جائزے کے لیے سپریم کورٹ منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔

انتظامی نتیجہ جو بھی ہو، آج کا فیصلہ آنے والے برسوں تک اس بات کا مطالعہ کیا جاتا رہے گا کہ ہندوستان کس طرح مذہبی آزادی کے تحفظ کو جدید طرزِ حکمرانی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے۔