کورونا وائرس کے بڑھتے پھیلاؤ کے پیش نظر شاہین باغ احتجاج عارضی طور پر ختم، ملک بھر میں تصدیق شدہ واقعات کی تعداد 492 تک جا پہنچی

نئی دہلی ، مارچ 24: دہلی پولیس نے منگل کی صبح لاک ڈاؤن کے احکامات کے بعد شاہین باغ میں سی اے اے مخلاف احتجاجی مقام کو مظاہرین سے خالی کروا دیا۔

اطلاعات کے مطابق صبح سات بجے کے قریب پولیس اہلکار احتجاج کے مقام پر پہنچے اور احتجاج کو ختم کر دیا۔ ایک عہدیدار نے بتایا ’’بار بار قائل کرنے کے باوجود وہ احتجاجی مقام کو خالی نہیں کررہے تھے۔ جب انھوں نے خالی کرنے سے انکار کیا تو انھیں آج زبردستی صبح ساڑھے سات بجے ہٹا دیا گیا۔‘‘

احتجاجی مقام سے چھ خواتین اور تین مردوں سمیت نو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’’مقامی لوگوں کی مدد سے احتجاجی مقام کو صاف کیا جائے گا۔‘‘ شہر کے دیگر حصوں، جعفرآباد (شمال مشرقی دہلی) اور ترکمان گیٹ (پرانی دہلی) میں بھی سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کو آج صبح ہٹا دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال کے ذیعے لاک ڈاؤن کے اعلان کے دو دن بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’’غیر معمولی اوقات غیر معمولی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

وہیں ہندوستان میں پیر کے روز دو اور اموات ہوئی ہیں، ایک ہماچل پردیش میں اور دوسری مغربی بنگال میں، جس کے بعد اس وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ وہیں ابھی تک 492 افراد کوروناوائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

احتیاطی اقدامات کے طور پر بدھ سے تمام گھریلو پروازیں بھی معطل رہیں گی، جب کہ ٹرینوں اور بین ریاستی بسوں کو پہلے ہی منسوخ کردیا گیا ہے۔ منگل کی صبح تک کم از کم 34 ریاستوں اور مرکزی علاقوں نے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ کردیا ہے۔