نامعلوم شرپسند عناصر نے گذشتہ پانچ ماہ میں دو مرتبہ دوارکا میں مسجد پر حملہ کیا، مسلمان رہائشی خوف زدہ

نئی دہلی، جون 18: 14 نامعلوم شرپسندوں نے 14 جون کی شب دوارکا مارکیٹ کے سیکٹر 11 میں شاہ جہان آباد سوسائٹی میں ایک مسجد پر حملہ کیا، جس سے مقامی مسلمان رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اگرچہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور تفتیش شروع کردی ہے، تاہم پولیس کو اب تک شرپسندوں کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

پچھلے پانچ ماہ میں اس مسجد پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اگرچہ 14 جون کے حملے میں مسجد کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے، لیکن 28 فروری کی شب ہونے والے پہلے حملے میں مسجد کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا تھا۔ کھڑکی کے پینوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ابھی بھی جرم کے گواہ کے طور پر مسجد کے احاطے کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔

عبد المنان، جو کہ مسجد کے مؤذن ہیں، حملے کے وقت مسجد میں موجود تھے۔ انھوں نے انڈیا ٹومورو کی ٹیم کو بتایا کہ سیکیورٹی گارڈ چمن مسجد پر پتھر پھینکنے کی آواز سن کر باہر آگیا لیکن شرپسند موٹرسائیکل پر بھاگ گیا۔ گارڈ اندھیرے کی وجہ سے شرپسندوں کی شناخت نہیں کرسکا۔

مسجد مینجمنٹ کمیٹی کے انچارج ابرارالحق سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ گارڈ سے واقعے کی اطلاع ملنے پر انھوں نے پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) کو فون کیا۔ پولیس کی ٹیم فوراً موقع پر پہنچی لیکن ملزمان پہلے ہی فرار ہوچکے تھے۔

مؤذن کے مطابق پہلا واقعہ 28 فروری کو اس وقت پیش آیا تھا، جب حملہ آور 2 بجے کے قریب ایک کار میں آئے تھے اور ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے کھڑکیوں پر پتھراؤ کیا تھا۔ یہ واقعہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے فوراً بعد ہوا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک، سیکڑوں دیگر زخمی اور کروڑوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

مؤذن نے کہا ’’28 فروری کی رات 2 بجے کے قریب جب میں مسجد کے چھت پر اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ میں نے مسجد کے اندر کچھ ٹوٹنے یا گرنے کی آواز سنی۔ جب میں اور محافظ نیچے کی طرف بھاگے تو ہم نے دیکھا کہ مسجد کے قالین پر پتھر پڑے ہوئے ہیں۔ مسجد کے اندر سے ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھ سکے اور نہ ہی ان کی شناخت کرسکے جنھوں نے یہ کیا تھا، لیکن انھیں جے شری رام چلاتے ہوئے ہم نے سنا۔‘‘

پولیس نے 28 فروری کے بعد دو سیکیورٹی اہلکاروں کو مسجد کی حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیا تھا، لیکن لاک ڈاؤن کے بعد اسے دن میں ایک کانسٹیبل اور رات میں دو کی ڈیوٹی تک محدود کر دیا تھا۔

وہیں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (دوارکا) راجندر سنگھ نے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایس ایچ او (دوارکا جنوبی پولیس اسٹیشن) رام نواس نے کہا کہ مسجد پر حملے کے سلسلے میں کوئی شکایت درج نہیں کی گئی ہے۔

لیکن ڈپٹی کمشنر آف پولیس (دوارکا) انٹو ایلفانس نے انڈیا ٹومورو کو بتایا ’’اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہے۔ اس کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مسجد میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے سے فوٹیج لیے گئے ہیں اور جانچ پڑتال کی گئی ہے، لیکن اس میں کچھ بھی نہیں ملا۔‘‘

مسجد کے اگلے دروازے پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، جب کہ تمام حملے مسجد کے عقبی حصے سے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مقامی غنڈوں کو معلوم ہے کہ کیمرا مسجد کے اگلے حصے پر لگا ہوا ہے اور اسی وجہ سے وہ ہمیشہ پیچھے کی طرف سے پتھر پھینک دیتے ہیں تاکہ ان کی شناخت نہ ہو۔ ایک اور کیمرہ قریب ہی واقع پٹرول پمپ پر نصب ہے۔ مجرم اس طرف سے آتے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا اگر پیٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کی جانچ کی جائے تو پولیس ان کی شناخت کر سکتی ہے۔