لاک ڈاؤن ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ممالک کو تمام پابندیاں ایک ساتھ نہیں ہٹانی چاہئیں: ڈبلیو ایچ او

نئی دہلی، اپریل 7: عالمی ادارۂ صحت کے ہنگامی صورت حال کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ جو ممالک کوویڈ 19 کا سلسلہ توڑنے کے لیے شروع کیے گئے اپنے لاک ڈاؤن سے باہر نکلنے کے درپے ہیں، انھیں ایک بار میں ہی تمام پابندیوں میں نرمی نہیں کرنی چاہیے۔ مائک ریان نے کہا کہ اس کے بجائے ملکوں کو لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک "سنجیدہ اور تدریجی(قدم بہ قدم) منصوبہ‘‘ اپنانے کی ضرورت ہے۔

ریان نے کہا ’’لاک ڈاؤن کی تمام پابندیوں کو ختم کرنا شاید برا خیال ہوگا۔ لاک ڈاؤن بیماری کو نیچے لے جا رہا ہے۔ ایک بار جب آپ لاک ڈاؤن ختم کر دیں گے تو آپ کو انفیکشن کو دبانے کے لیے دوسرا متبادل طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھا جا سکے۔

دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے وسیع پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، جس نے عالمی سطح پر 13،48،000 سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے اور 74،800 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا سبب بنا ہے۔ ریان نے کہا کہ ان پابندیوں میں اسکولوں، کام کے مقامات اور عوامی مقامات اور پارکس جیسے مقامات کی بندش اور اجتماعات پر پابندیاں شامل ہیں۔ کچھ ممالک، جیسے ہندوستان نے، غیر ضروری مقاصد کے لیے گھر چھوڑنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

تاہم متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن کا عمل اس ماہ کے آخر میں ختم ہونا ہے۔ ہندوستان میں، جہاں منگل کی صبح تک کورونا وائرس کے 4,421 معاملات اور 114 اموات درج ہوئی ہیں، 21 روزہ لاک ڈاؤن 14 اپریل کو ختم ہونا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2 اپریل کو ایک ویڈیو کانفرنس میں وزرائے اعلی سے کہا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کے بعد ملک کے "لڑکھڑا کر دوبارہ ابھرنے” کے لیے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔

اٹلی، جو یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے، 12 اپریل کو اپنا لاک ڈاؤن ختم کرے گا۔ جرمنی میں لاک ڈاؤن 19 اپریل کو ختم ہونے والا ہے۔ اسپین میں، جس نے دنیا میں کوویڈ – 19 کی وجہ سے اٹلی کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تعداد ریکارڈ کی ہے، لاک ڈاؤن 26 اپریل کو ختم ہوگا۔ ان تمام ممالک میں نئے کورونا وائرس کے مریضوں کی شرح کم ہوگئی ہے۔ وہیں امریکہ میں لاک ڈاؤن 30 اپریل تک جاری رہے گا۔