عید قرباں اور فلسفہ قربانی

حضرت ابراہیم ؑکی کتابِ زندگی کا ایک سبق آموز ورق

مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی

 

اسلام میں بڑے تہوار دو ہی ہیں، ایک عیدالفطر دوسرے عید قرباں۔ ان دونوں تقریبوں سے مذہب اسلام کی شاندار روایات وابستہ ہیں۔ عیدالفطر روزوں کا شکرانہ اور قرآن مجید کے نزول کی یادگار ہے جس کے نتیجے میں پردہ عالم پر ملت محمدی کا ظہور ہوا۔ ’’عید قربان‘‘ اس بے مثال تاریخی واقعہ کی یاد تازہ کرتی ہے جو اب سے کم وبیش چار ہزار سال پہلے وادی مکہ میں پیش آیا تھا یعنی امتوں کے پیشوا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ اپنے نور نظر کو اپنے ہاتھ سے ذبح کررہے ہیں۔
اللہ کے پیغمبروں پر جو وحی آتی ہے اس کی مختلف قسمیں ہیں، جن میں ایک خواب بھی ہے۔ یہ خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ تمثیلی اور حقیقی۔ حقیقی اور عینی خواب میں اصل حقیقت صاف اور بے پردہ دکھائی جاتی ہے اور وہی مقصود ہوتی ہے، تمثیلی خواب میں حقیقت کو کسی اور پیرایہ میں دکھایا جاتا ہے۔ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب کہ گیارہ ستارے اور آفتاب وماہتاب ان کو سجدہ کررہے ہیں اور ان کو قحط اور خشک سالی کی حالت اور سوکھی بالوں اور دبلی پتلی گایوں کی صورت میں دکھائی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ بعض خواب مثالی صورت میں دکھائے جاتے ہیں اور تعبیر وبیان کے محتاج ہوتے ہیں، بعض ٹھیک ٹھیک مشاہدہ بن کر سامنے آتے ہیں، ان کے سمجھنے کے لیے تفصیل وتعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
بہرحال حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے پہلی دفعہ ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے ابراہیم! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے بیٹے کو قربان کردینے کا حکم دیا ہے صبح ہوئی تو ابراہیمؑ حیرت میں تھے۔ شام تک اس بے انتہا نازک معاملہ پر احتیاط سے غور کرتے رہے، آٹھویں تاریخ کو یوم الترویہ اسی لیے کہا جاتا ہے، ترویہ کے معنی غور وفکر اور تردد کے ہیں۔
نویں تاریخ کی تاریخ آئی تو پھر یہی آواز سنی اور اب یقین ہوگیا کہ یہ حکم حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ نویں ذی الحجہ کا نام ’’یوم عرفہ‘‘ اسی لیے ہے یعنی پہچان اور معرفت کا دن یہاں تک کہ جب دسویں تاریخ کی شب میں بھی یہی کچھ دیکھا تو حکم الٰہی بجا لانے کے لیے بے تامل اکلوتے بیٹے کو قربان کردینے کا ارادہ کرلیا۔ دسویں تاریخ کو ’’یوم النحر‘‘ کہنے کی یہی وجہ ہے نحر کے معنی ذبح کردینے اور قربان کردینے کے ہیں یعنی ذبح کرنے کا دن ۔
تین راتیں مسلسل یہی خواب دیکھنے اور یقین کامل حاصل کرلینے کے بعد باپ نے بیٹے کو صورت حال کی نزاکت سے باخبر کیا اور اس کے متعلق مشورہ کرنا چاہا اگرچہ ایسے کھلے ہوئے معاملہ میں اب مشورہ کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ پھر بھی اللہ کے رسول نے مشورہ کی سنت پر عمل کرنا اس لیے اور بھی مناسب جانا کہ اس طریقے سے بیٹے کی عزیمت اور ثابت قدمی کا امتحان ہو سکتا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی نوجوان بیٹے نے بوڑھے باپ کی زبان سے یہ بات سنی ایک لمحہ کے لیے پس وپیش کیے بغیر پکار اٹھا۔ پیارے باپ! اب آپ سوچتے کیا ہیں مالک کا جو حکم ہو اس کی فوراً تعمیل کیجیے دیر کیوں اور کس لیے؟ میرے متعلق آپ اطمینان رکھیں دیکھیے کس شوق سے اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔
ہزاروں ہزاروں سلام ایسے باپ اور بیٹے پر جنہوں نے بعد میں آنے والوں کو ایسے عزم وہمت اور ایثار وقربانی کا سبق دیا۔ قرآن کریم نے تسلیم ورضا کے اس زندہ جاوید کارنامے کو اپنے خاص معجزانہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے۔
’’جب اسماعیل اپنے باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے اور اس لایق ہوئے کہ باپ کی ضرورتوں میں ان کا ہاتھ بٹا سکیں تو ابراہیم نے کہا جان پدر میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں، تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا ابا جان! آپ کو جو حکم ہو ہے اس کو کر گزریے، خدا نے چاہا تو مجھ کو برداشت کرنے اور سہارنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے ہمارا حکم مان لیا اور تسلیم وانقیاد کی گردن جھکا دی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا تو ہم نے پکارا، اے ابراہیم! بس ٹھیرو تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہم نیک عمل کرنے والوں کو یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بے شبہ یہ تمہاری کھلی ہوئی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا (یعنی بیٹے کی قربانی کے بدلے ایک بڑی قربانی قایم کی) اور بعد کے آنے والوں پر بھی اس کو باقی رکھ چھوڑا (الصفت رکوع ۳)
ابراہیم واسماعیل علیہم السلام کا یہ انداز تسلیم ورضا اور جوش فدا کاری کچھ ایسا مقبول ہوا کہ اس کو ہمیشہ کے لیے ملی اور مذہبی نشان بنادیا گیا اور قربانی ایک مستقل سنت بن گئی۔
اسلام کا بہت بڑا اور اہم رکن ’’حج‘‘ جو ذی الحجہ کی نویں تاریخ (عرفہ) کو میدان عرفات میں ادا کیا جاتا ہے اور جس کے لیے دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں انسان اس بابرکت اور نورانی وادی میں بہ یک وقت جمع ہوتے ہیں اور ایک جذبہ بے تاب اور ولولہ بے پناہ کے ساتھ اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور اپنی لغزشوں اور ذلتوں کی معافی چاہتے ہیں خدا کے انہی اطاعت گزار بندوں کی نہایت متبرک یادگار ہے۔
حج کے دونوں میں ہر قدم پر جو ’’لبیک‘‘ کہا جاتا ہے یہ وہی حضرت ابراہیمؑ کی زبان حق سے نکلے ہوئے لفظوں کا ترجمہ ہے۔ یعنی پروردگار میں آپ کے حکم کی بجا آوری کے لیے حاضر ہوں۔ اے وحدہ لا شریک میرا سر ہر وقت آپ کی خوشنودی کے سامنے جھکا ہوا ہے۔۔
نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں کی عصر تک جو تکبیریں پڑھی جاتی ہیں جو ان دنوں کی نہایت اہم اور خاص عبادت خیال کی جاتی ہے۔ ان کی اصل یوں بیان کی جاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے جبریل امین ’’ودیہ کا مینڈھا لے کر حضرت ابراہیم کی خدمت میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابراہیم خلیلؑ حکم خدا وندی کی تعمیل (لخت جگر کی قربانی) بہ عجلت تمام کرنا چاہتے ہیں، خدا کا مقدس فرشتہ اس منظر کو دیکھ کر کہہ اٹھا اللہ اکبر اللہ اکبر خلیل اللہ نے جواب میں فرمایا لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر جبریل وخلیل کی زبان سے صبر وایثار کے پیکر اسماعیل نے جب یہ الفاظ سنے تو اسی حالت فرمایا: اللہ اکبر و للہ الحمد اس تفصیل کے مطابق یہ تکبیر تینوں بزرگوں کی زبان سے نکلے ہوئے پاکیزہ الفاظ کا مجموعہ ہے جو ایک خاص حالت وکیفیت میں کہے گئے تھے۔ صفا ومروہ پہاڑیوں کے درمیان چکر لگانا۔ منیٰ میں چار روز کا قیام اور اس مقام کی خاص خاص عبادتیں بھی کعبہ محترم کے انہی بانیوں اور تعمیر کرنے والوں کی یاد تازہ کرتیں اور پژمردہ دلوں کو حرارت ایمانی سے گرماتی ہیں۔
آئیے! تھوڑی دیر کے لیے ہر خیال سے یکسو ہوکر تاریخ عالم کی اس لاثانی شخصیت کے اسوہ حسنہ کی یاد منائیں جس نے حق کی آن قائم رکھنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ اپنی قوم کو چھوڑا، عزیزں، قریبوں سے ترک تعلق کیا اور حق وصداقت کی پاسبانی کے لیے ہر چیز سے بے نیاز ہو کر کتنی ہی آبادیوں اور کتنے ہی ویرانوں میں برسوں تک بے سہارے پھرتا رہا، جس نے آگ میں پڑنا گوارا کیا، لیکن اپنے عقیدے پر جس کو وہ حق جانتا تھا پتھر کی چٹان کی طرح جما رہا، یہاں تک کہ سالہا سال کی گردش اور مختلف آزمائشوں میں کامیاب ہونے کے بعد آخر عمر میں جب اس کی تمنا اس طرح پوری ہوئی کہ قدرت نے اس کو ایک بردبار ہونہار بیٹا دیا، جو کہ فی الحقیقت بڑھاپے کاسہارا اور خزاں رسیدہ چمن کا ایک تر وتازہ پھول تھا تو اس کو بھی خدا کی راہ میں قربانی کردینے کا حکم ہوا اور مالک کا یہ وفا شعار بندہ خوشی خوشی اس کے لیے آمادہ ہوگیا یہاں تک کہ جگر پارے کے گلے پر بے تکلف چھری رکھ دی۔
یہ ایک زبردست اور آخری آزمائش تھی جو معبود حقیقی نے اپنے سچے بندے کی کی۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ میرا یہ بندہ جس نے میرے لیے دنیا کی ہر چیز تج دی ہے محبت پدری کو بھی قربان کرسکتا ہے یا نہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ ابراہیم بڑا ہی بردار بڑا ہی نرم دل اور ہر حالت میں اللہ کی طرف رجوع ہوکر رہنے والا ہے (ہود:۷۵)
یہ ہے حج اور قربانی کی تاریخ کا مجمل سا خاکہ اور حضرت ابراہیمؑ کی کتاب زندگی کا ایک سبق آموز ورق
اب آئیے قربانی کے اصل مقصد اور اس کے فلسفہ پر بھی غور کرتے چلیں۔
اسم قربانی سے مقصد کسی وقت اور کسی حالت میں بھی دوسروں کی دل آزاری نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص دوسروں کا دل دکھانے کے لیے قربانی کرتا ہے تو وہ بے شبہ اپنے اس بہترین عمل کو برباد کرتا ہے۔ قرآن مجید نے قربانی کی اصل حقیقت کا روحانیت میں ڈوبے ہوئے ان لفظوں کے ساتھ برملا اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو گوشت پوست اور ہڈیوں اور خون سے کوئی سروکار نہیں۔
یہ گل سڑنے والی چیزیں اس کے دربار میں نہیں پہنچتیں جو چیز اس کی بارگاہ میں پہنچی اور شرف تقرب حاصل کرتی ہے وہ صرف دل کا ادب اور ضمیر کی پاکی ہے۔ (الحج:۳۷)
یعنی جانور ذبح کرکے اس کا گوشت کھانے کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم کبھی بھی اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کی رضا چاہتے تو اپنے اندر صبر وتحمل، نیک عملی اور پرہیزگاری کی روح بیدار کرو اور سوچو کہ جس جوش اور ولولے کے ساتھ تم نے ایک قیمتی جانور اس کے نام پر قربان کیا اسی جوش وخروش کے ساتھ زندگی کے باقی گوشوں میں بھی ایثار وقربانی کا ثبوت دینے کے لیے آمادہ ہو؟
انسانیت کا احترام، بھائی چارہ کا قیام، جذبہ انتقام سے نفرت، انسانی اخوت ومساوات، پڑوسیوں کے حقوق کی نگہداشت، دعوت امن اور قیام عدل، کردار کی بلندی اور پاکی دشمنوں اور برا چاہنے والوں سے بھی حسن سلوک حکمت اور دانائی سے ناگواریوں اور تلخیوں کا مقابلہ مایوسیوں اور نا امیدیوں کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی امید کی چٹان پر مضبوطی سے جمے رہنا، حق کی حمایت اور باطل کے مقابلہ پر سینہ تان کر کھڑے ہو جانا۔ بے سہاروں اور ناداروں کی ضرورتوں کا احساس، زندگی کے یہ تمام عنوانات تمہارے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسا جواب جو پیشوائے اعظم حضرت ابرہیم علیہ السلام اور سرور کائنات حضرت محمدﷺ کی لائی ہوئی ہدایات اور تعلیمات کے قالب میں ڈھلا ہوا ہو۔
***

جانور ذبح کرکے اس کا گوشت کھانے کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم کبھی بھی اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کی رضا چاہتے تو اپنے اندر صبر وتحمل، نیک عملی اور پرہیزگاری کی روح بیدار کرو اور سوچو کہ جس جوش اور ولولے کے ساتھ تم نے ایک قیمتی جانور اس کے نام پر قربان کیا اسی جوش وخروش کے ساتھ زندگی کے باقی گوشوں میں بھی ایثار وقربانی کا ثبوت دینے کے لیے آمادہ ہو؟

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 18 تا 24 جولائی 2021