سیرت صحابیات سیریز(۲۱)

حضرتام رومانؓ

حضورؐکی خوش دامن اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ماں
۹ ہجری میں رحمت دوعالم ﷺ کو ایک دن ایک ایسی خاتون کی وفات کی خبر ملی ، جو شمع رسالت پر پروانہ وار فدا تھیں۔ حضورؐ یہ خبر سن کر سخت حزن و ملال کے عالم میں ان کے جنازے پر تشریف لے گئے۔ خود قبر میں اتارا اور پھر ارشاد فرمایا:
’’جوشخص عورتوں میں حور عین کو دیکھنا چاہے وہ ام رمان کو دیکھے‘‘
یہ ام رومانؓ جن کو سید المرسلین فخر موجودات ﷺ نے جنت کی حور قرار دیا، سیدنا صدیق اکبرؓ کی رفیقہ حیات، حضور پرنورؐ کی خوش دامن اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی والدہ ماجدہ تھیں۔
حضرت ام رومانؓ کا شمار بڑی جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق قبیلہ کنانہ کے خاندان فراس سے تھا، اہل سیر میں سے کسی نے ان کا اصل نام نہیں لکھا ، اس لیے اپنی کنیت ’’ام رومان‘‘ ہی سے مشہور ہیں۔ سلسلہ نسب یہ ہے:
ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔
حضرت ام رومانؓ کا پہلا نکاح (زمانہ جاہلیت میں) عبداللہ بن حارث بن سنجیرہ سے ہوا اور انہی کے ساتھ مکہ آکر سکونت پذیر ہوئیں۔ عبداللہ کے صلب سے ان کے ہاں ایک بیٹا ہوا، جس کا نام طفیل رکھا گیا۔ کچھ عرصے بعد عبداللہ بن حارث نے وفات پائی اور ام رومانؓ بے سہارا رہ گئیں۔ چوں کہ عبداللہ اپنی زندگی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حلیف بن گئے تھے اس لیے ان کے انتقال کے چند ماہ بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ام رومانؓ سے خود نکاح کرلیا، صدیق اکبرؓ کے صلب سے ام رومانؓ کے ہاں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ پیدا ہوئے جو تاریخ اسلام کی نہایت درخشندہ ہستیاں ہیں۔
بعثت کے بعد سرور کونین ﷺ نے دعوت حق کا آغاز فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ان چار عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ایک تھے ، جنہوں نے سب سے پہلے لوائے تو حید کو تھاما (ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہ، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت زید بن حارثہؓ) حضرت ام رومانؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اسلام کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے بھی بلا تامل ان کی تقلید کی اور یوں سابقون الاولون کی مقدس جماعت میں شامل ہوگئیں۔
سفر ہجرت میں صدیق اکبر ؓ کو رحمت عالمﷺ کو رفاقت کا عظیم الشان شرف حاصل ہوا۔ مکہ سے چلتے وقت انہوں نے بھی حضورؐکی پیروی کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کو اللہ کے بھروسے پر دشمنوں کے درمیان چھوڑدیا۔ جب مدینہ پہنچ کر کچھ اطمینان ہوا تو حضورؐ نے حضرت زین بن حارثہؓ اور حضرت رافعؓ کو اپنے اہل و عیال لانے کے لیے مکے بھیجا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کے ہم راہ عبداللہ بن اریقط کو اپنے صاحب زادے عبداللہ ؓ کے نام خط دے کر بھیجا کہ وہ بھی ام رومانؓ ، اسماؓ اور عائشہ ؓ کو اپنے ہم راہ مدینہ منورہ لے آئیں۔ چناں چہ حضرت ام رمانؓ ، حضرت اسما اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ کے ہم راہ مکہ معظمہ سے روانہ ہوئیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ سفر ہجرت میں جب ہم لوگ بیدا کے مقام پر پہنچے تو میرا اونٹ بدک گیا، میں اور میری والدہ ام رومانؓ اس کے ہودج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اونٹ نے کود پھلانگ شروع کی تو میری ماں بہت مضطرب ہوئیں اور انہوں نے جب یہ کہنا شروع کردیا ’’ہائے میری بیٹی ہائی میری دلہن‘ بارے اللہ نے خیر کی اونٹ پکڑا گیا اور ہم لوگ خیریت سے مدینہ پہنچ گئے۔
مدینہ منورہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اہل و عیال نے بنو حارث بن خزرج کے محلے میں قیام کیا جہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک مکان پہلے ہی سے لے رکھا تھا۔
۶ ہجری میں افک کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافقین مدینہ کی سازش سے ناپاک تہمت لگائی تھی۔ واقعے کی صورت کچھ ایسی تھی کہ رحمت عالمﷺ کی طبع مبارک بھی پر ملال ہوگئی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے لیے اپنے آقا کا ملال قیامت سے کم نہ تھا۔ دکھیا بیٹیوں کی پناہ گاہ و امان مادر ہی ہوتی ہے۔ حضورؐسے اجازت لے کر گرتی پڑتی اپنے والدین کے گھر پہنچیں۔ یہ ایک دو منزلہ مکان تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اوپر کی منزل میں تھے اور حضرت ام رومانؓ نچلی منزل میں بیٹھی تھیں۔ بیٹی کو اس حالت میں آتے دیکھ کر پوچھا: ’’میری بچی خیر تو ہے، کیسے آئیں‘‘۔ حضرت عائشہؓ نے واقعہ بیان کیا۔ حضرت ام رومانؓ ماں تھیں، دکھ تو انہیں بھی بہت لیکن حضرت عائشہ ؓکا دل رکھنے کو کہا : ’’بیٹی گھبراو نہیں، جو عورت اپنے خاوند کو زیادہ محبوب ہوتی ہے اسے شوہر کی نظروں سے گرانے کے لیے ایسی باتیں بنائی جاتی ہیں‘‘۔
حضرت عائشہؓ کے دل پر بنی ہوئی تھی۔ انہیں ماں کے جواب سے تسکین نہ ہوئی اور فرط الم سے ان کی چیخ نکل گئی۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنی بچی کی چیخ سن کر بالا خانے سے نیچے اترے، واقعہ سنا، رقیق القلب تو تھے ہی خود بھے رونے لگے ۔ جب ذرا قرار آیاتو حضرت عائشہؓ سے کہا، بیٹی تم اپنے گھر جاو ہم ابھی آتے ہیں۔
جب وہ چلی گئیں تو صدیق اکبر ام رومانؓ کو ہم راہ لے کر حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ہاں پہنچے۔ ام المومنین رنج و الم کی شدت سے بخار میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ حضرت ام رومانؓ نے انہیں اپنی گود میں لٹالیا۔ نماز عصر کے بعد سرور عالمﷺ گھر تشریف لائے اور اس بہتان کے بارے میں حضرت عائشہؓ سے استفسار فرمایا۔ حضرت عائشہﷺ نے ماں باپ کی طرف دیکھا اور کہا آپ لوگ جواب دیں لیکن وہ دونوں رحمت دو عالمﷺ کے سچے شیدائی تھے اپنے آقا کو ملول دیکھ کر بیٹی کی حمایت کیسے کرسکتے تھے، کہنے لگے ’’ہم کیا کہہ سکتے ہیں‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عر ض کیا: یا رسول اللہ ؐمیں بالکل بے گناہ ہوں ۔
آخر غیرت الٰہی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے خود عائشہ صدیقہؓ کی طہارت کی گواہی بڑے پر زور الفاظ میں دی ۔ ارشاد ہوا۔
’’جب تم نے یہ سنا تو مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہیں کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح تہمت ہے‘‘۔ (النور:۱۲)
آیت برات کے نزول سے حضرت ام رومانؓ کو کمال درجے کی مسرت ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا سر بھی فخر سے بلند ہوگیا۔ ماں نے بیٹی سے کہا ’’بیٹی اٹھو اور اپنے شوہر کے قدم لو‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ناز سے جواب دیا ’’میں تو صرف اپنے رب کی ممنون اور شکر گزار ہوں، جس نے میری بے گناہی کی شہادت دی‘‘۔اسی سال کے آخر میں ایک اور یادگار واقعہ پیش آیا حضرت ابوبکر صدیقؓ اصحاب صفہ میں سے تین بزرگوں کو اپنے گھر بہ طور مہمان لائے۔ انہیں وہاں چھوڑ کر سرور عالمﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ وہاں کچھ زیادہ دیر گئی، گھر واپس آئے تو حضرت ام رومانؓ نے پوچھا :
’’مہمانوں کی یہاں چھوڑ کر آپ کہاں چلے گئے تھے؟‘‘
حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا: میں رسول اکرمﷺ کی خدمت میں تھا تم مہمانوں کو کھانا کھلادیتیں‘‘۔
حضرت ام رومانؓ نے عرض کیا: میں نے انہیں کھانا بھجوایا تھا لیکن انہوں نے میزبان کی ،غیر حاضری میں کھانا تناول کرنا پسند نہیں کیا‘‘۔
***

 

***

 


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  6 تا 12 مارچ  2022