سید یعقوب شاہ میاں مرحوم

تحریک اسلامی کے خاموش سپاہی

سراج الدین ندوی

 

جن حضرات نے نہایت خاموشی سے تحریک اسلامی کے استحکام وتوسیع اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ان میں ایک نام محمد یعقوب شاہ میاں کا ہے۔ 18دسمبر 2020 کو ان کی رحلت کی خبر سے دل ودماغ کو گہرا صدمہ پہنچا۔ میرے تئیں ان کی بے پناہ محبت وشفقت اور حسنِ سلوک کبھی بھلایا نہ جاسکے گا۔ ان کی مسکراہٹ ان کے چہرے کو ایسے کھلا دیتی تھی جیسے تالاب میں کنول کا پھول۔ ان کی مسکراہٹ پر بشیر بدرؔ کا یہ شعر صادق آتا ہے:
اجلے اجلے پھول کھلے تھے
بالکل جیسے تم ہنستے ہو
وہ ان دنوں قطر پہنچ گئے تھے جب وہاں ترقی کی ابتداء ہوئی تھی۔ سڑکوں اور بلڈنگوں کی تعمیر اور بجلی و پانی کی سپلائی کا آغاز ہوا تھا۔ چنانچہ ان عربوں سے بھی آپ کے روابط تھے جنہوں نے غربت وافلاس کے دور میں اپنی جوانیاں گزاری تھیں۔ قدیم عرب آپ کی بڑی قدر کرتے تھے۔
انہوں نے قطر میں دو بڑے کام کیے۔
(۱) بہت سے تحریکی رفقاء کو قطر میں روزگار دلایا۔ خاص طور پر 1975 میں جب ایمرجنسی نافذ ہوئی اور ہندوستان میں بہت سے افراد بے روز گار ہو گئے تب انہوں نے بلا مبالغہ درجنوں افراد کو قطر میں روز گار فراہم کرایا۔
(۲) تحریک اسلامی کے تعارف اور جماعت کے قیام وتوسیع کے لیے انہوں نے قطر میں بہت کام کیا۔ خصوصاً بہت سے عرب علماء اور اہم شخصیات سے تحریک اسلامی ہند کا تعارف کرایا۔
میں 1992 میں جب پہلی بار قطر گیا تھا محمد بیگ صاحب (حیدرآباد) اس وقت وہاں کے ناظم ہوتے تھے۔ انہوں نے میری بڑی پزیرائی کی۔ ان کے علاوہ جن شخصیات نے میرا زبردست استقبال اور ضیافت کی ان میں یعقوب شاہ میاں مرحوم صاحب، لائق علی اخلاص صاحب، حیدر علی صاحب، وحید داد خاں صاحب اور مولانا عرفان احمد شمسی صاحب کے نام قابل ذکر ہیں۔ یعقوب شاہ میاں صاحب نے علامہ یوسف القرضاوی سے بھی میری ملاقات کرائی تھی۔
محمد یعقوب شاہ میاں صاحب کے بڑے بھائی محمد یوسفؒ صاحب اس وقت مرکزی سکریٹری ہوا کرتے تھے۔ امیر جماعت کے کہنے پر انہوں نے مجھے ایک تعارفی خط بھی اپنے دستخط اور مرکز کی مہر کے ساتھ عنایت کر دیا تھا۔ اس خط کا تمام احباب قطر پر خاصا اثر ہوا تھا۔ مولانا محمد یوسف کے صاحبزادے محمد موسیٰ کلیم صاحب ان دنوں قطر میں ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے میرے ساتھ بڑا تعاون کیا۔ جب بھی جب کہیں ملتے ہیں ٹوٹ کر ملتے ہیں۔ حلقۂ ادب اسلامی کے سکریٹری رفیق احمد ندوی شاد اکولوی نے میرے اعزاز میں ایک ادبی نشست رکھی تھی جس میں قطر کے بیس سے زائد مشاہیر شعراء نے سامعین کو اپنے کلام سے نوازا۔
یعقوب شاہ میاں صاحب کا سب سے نمایاں وصف ان کا خلوص اور بے لوث محبت کہا جا سکتا ہے۔ وہ ہر شخص سے بڑے تپاک سے ملتے۔ ہندوستان سے جو بھی رفیق قطر جاتا گرم جوشی سے اس کا استقبال اور ضیافت کرتے۔ اس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتے اور اسے اجنبیت کا احساس نہ ہونے دیتے۔
ان کی سادگی اور انکساری ضرب المثل کہی جا سکتی ہے۔ ان سے مل کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ قطر کی ایک معروف ومقبول شخصیت ہیں اور ایک اچھے پیشے سے وابستہ ہیں۔ وہ دکھاوا اور ریا سے کوسوں دور تحریکی کاموں اور تحریکی افراد کی خدمت میں مصروف رہتے۔ جب کبھی انہیں فون کیا جاتا فوراً Response دیتے اور اگر کبھی کسی کام کے لیے کہا جاتا فوراً اس کے لیے حاضر ہو جاتے۔
ان کا یہ وصف بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہیں تحریک سے والہانہ لگاؤ بلکہ جنون کی حد تک تعلق تھا۔ تحریکی کتب کا مطالبہ، تحریکی پروگراموں میں شرکت، تحریکی افراد سے وابستگی، تحریکی ضرورتوں کے لیے ہر وقت ہر قسم کی قربانی وحاضر باشی ایسی یادیں ہیں جنہیں کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔
مرحوم یکم جولائی 1941 کو نندیال (تلگانہ) میں پیدا ہؤے۔ والد کا نام سید کریم شاہ میاں تھا۔ انہوں نے پالی ٹیکنک سے سِول انجیئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔ 1969 میں ملازمت کی غرض سے دوحہ (قطر) آ گئے جہاں سِول انجینیئرنگ کے فیلڈ میں ریٹائرمنٹ تک کام کرتے رہے۔ ملازمت کے دوران کئی بڑے بلڈنگ پروجیکٹس میں ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2017 میں ملازمت سے سبکدوشی اختیار کر لی لیکن تا دم آخر دوحہ قطر ہی میں قیام پزیر رہے۔ 18؍ دسمبر 2020 کو 80 سال کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہا۔
اللہ سے دعا ہے کہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی فر وگذاشتوں کو معاف فرمائے اور جنت میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 10 جنوری تا 16 جنوری 2021