سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما کے لیے ضمانت کی شرط کے طور پر سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کے حکم کو برقرار رکھا

نئی دہلی جولائی 11: نیوز 18 کے مطابق عدالت عظمیٰ نے جمعہ کے روز کانگریس کے ایک رہنما کو اپنے خلاف ایک فوجداری مقدمے کی سماعت تک سوشل میڈیا کے استعمال سے باز رہنے کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا شرد اروند بوبڈے کی سربراہی میں ایک بنچ نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ایک شخص ’’بندوق کی طرح استعمال کرسکتا ہے‘‘۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق سپریم کورٹ نے کانگریس کے رہنما سچن چودھری کی درخواست پر مرکز اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا، جس میں ضمانت کی منظوری کے لیے ان پر عائد شرائط کو چیلنج کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پریس کانفرنس کرنے کے مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے والے چودھری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ وہ مقدمہ ختم ہونے تک سوشل میڈیا کا استعمال نہ کریں۔

چیف جسٹس بوبڈے نے چودھری سے پوچھا ’’آپ کو سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کو کہنے والے حکم میں کیا غلط ہے؟ اگر عدالت کسی ملزم کو بندوق سے دور رہنے کا حکم دے سکتی ہے تو اسی طرح وہ آپ کو سوشل میڈیا سے دور رہنے کے لیے بھی کہہ سکتی ہے۔‘‘

معلوم ہو کہ پریس کانفرنس میں چودھری نے مرکز اور اترپردیش حکومت کو کورونا وائرس کو صحیح سے قابو نہ کر پانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ امروہہ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا تھا۔

امروہہ پولیس نے 11 اپریل کو چودھری کو گرفتار کیا تھا اور 20 مئی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے چودھری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ وہ مقدمے کے اختتام تک سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کریں گے۔ جب انھوں نے حکم میں ترمیم کی التجا کی تو ہائی کورٹ نے کہا کہ کانگریس کے رہنما 18 ماہ تک یا یہ مقدمہ ختم ہونے تک سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرسکتے، ان میں سے جو بھی پہلے ہو جائے۔

ایڈووکیٹ سلمان خورشید، جنھوں نے سپریم کورٹ میں چودھری کے لیے پیشی کی، نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم آزادیِ اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اعلی عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت نے کانگریس قائد کوسوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت دینے کا عبوری حکم جاری کرنے سے بھی انکار کردیا۔ لیکن اس نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے مناسب رہنما خطوط وضع کرے گی۔ اس کے بعد عدالت نے معاملہ 28 اگست تک کے لیے ملتوی کردیا۔