حیدرآباد: شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ”ملین مارچ” میں ہزاروں افراد کی شرکت

حیدرآباد، 5 جنوری: ہفتہ کے روز شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شہر حیدرآباد کے لوور ٹینک بنڈ پر واقع دھرنا چوک پر ملین مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی، ملی، فلاحی تنظیموں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم دانشوروں، سیکولر اداروں، یونیورسٹیز کے طلبا، انجمنوں، صحافیوں، اور دانشوروں نے شرکت کی۔

ملین مارچ کے موقع پر پولیس کی سخت سیکیورٹی کے بیچ شہر حیدرآباد کے قریبی اضلاع سے بھی کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کرتے ہوئے اس متنازعہ قانون کے خلاف اپنی آواز اٹھائی۔

واضح رہے کہ مختلف مسلم جماعتوں، تنظیموں کے ساتھ ساتھ سیکولر اور سماجی و عوامی تنظیموں نے بھی اس مارچ کی اپیل کی تھی۔ نظم وضبط کی برقراری کے لیے رضاکاروں کو متعین کیاگیا تھا۔ اس مارچ میں 40 سے زائد عوامی تنظیمیوں نے شرکت کی۔

اس مارچ میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ تلنگانہ پرائیویٹ اسکولس ایکشن کمیٹی اور مختلف پرائیویٹ اسکولس فیڈریشن کے ذمہ داروں اور طلبا نے بھی ملین مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ مارچ سیاہ قوانین کے خلاف احتجاج ہے جو ہمارا دستوری حق ہے۔ اسکولس کے ذمہ داروں نے پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی میں پولیس مظالم، مقدمات کی مذمت کی اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تقریبا گزشتہ 20 دنوں سے اس مارچ کی تیاری کی جارہی تھی۔ جے اے سی نے پہلے نیکلس روڈ پر اس مارچ کی اجازت مانگی تھی تاہم اس کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد دھرنا چوک پر یہ ملین مارچ کیا گیا۔

مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس تلنگانہ کے صدر جناب عزیز نے ملین مارچ کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کمشنر سے اس ملین مارچ کے لیے نیکلس روڈ کی بات کی گئی تھی تاہم پولیس کمشنر نے اس خیال کو مسترد کردیا۔

انھوں نے کہاکہ جب ایل بی نگر میں آرایس ایس کی جانب سے لاٹھیوں کا مارچ ہوسکتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ آسکتے ہیں تو پھریہ کیسی حکومت ہے جو اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہے اور نیکلس روڈ پر احتجاج کی درخواست کو پولیس کمشنر نے مسترد کردیا۔

انھوں نے ایک ہزار سے زائد افراد کو جمع ہونے کی اجازت نہ دیے جانے سے متعلق کہا کہ دنیا کا کیا کوئی ایسا احتجاج ہے جس میں شامل ہونے والوں کی تعداد کا تعین پولیس کرتی ہے؟

سماجی کارکن الیاس شمسی نے میڈیا کو ملین مارچ کی ضرورت سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی طبقات نے مل کر اس قانون کے خلاف ملین مارچ نکالا ہے۔

انھوں نے کہاکہ اس ملین مارچ کے ذریعہ امت شاہ اور مودی تک یہ پیام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہم ہندوستان میں رہنے والے ہندوستانی زندہ ہیں اور یہ شہریت ترمیمی قانون نہ صرف مسلمان بلکہ ہر ایک ہندوستانی کے خلاف ہے۔ اس سے دلت اور قبائلی بھی متاثرہوں گے۔

اس مارچ میں کثیر تعداد میں شامل وکلا نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ وکلا جے اے سی کے وکلا اس مارچ کی حمایت کرتے ہیں، ان وکلا نے کہاکہ امن پسند ہندوستانیوں کے کندھے سے کندھا ملانے کے لیے وکلا بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں۔ ہندوستان میں کوئی بھی قانون مذہب کی بنیاد پرنہیں بننا چاہیے۔

بعض احتجاجیوں نے موقع پر متعین پولیس ملازمین کو پھول بھی پیش کیے۔

(ایجنسیاں)