سیرت صحابیات سیریز(40)

حضرت سبیبیہ غامدیہؓ

حضرت سبیبیہؓ قبیلہ بنو غامدیہ کی ایک شریف زادی تھیں۔ وہ مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں۔ اگر وہ چاہتیں تو کسی کو علم نہیں ہوسکتا تھا لیکن وہ ایک سچی مسلمان تھیں، چنانچہ احساس معصیت نے انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا اور وہ ایک دن بارگاہ رسالتؐ میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہوئیں۔
’’یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے، میں نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہے‘‘
حضورؐ نے فرمایا: ’’واپس جا، استغفار کر اور اللہ کی طرف انابت و رجوع کر‘‘۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐنے ان سے گواہ طلب کیے۔ انہوں نے عرض کیا رسول اللہ، اس وقت کوئی دیکھنے والا موجود نہیں تھا‘‘
اس پر ارشاد ہوا ’’جا اور استغفار کر شاید تیرا گناہ اللہ معاف کردے‘‘
وہ دوسرے دن پھر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں:
’’ یا رسول اللہ، کیا آپ مجھے بھی اسی طرح پھیر دینا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالکؓ کو لوٹا دیا تھا۔ خدا کی قسم میں بدکاری کے نتیجے میں ایک بچے کی ماں بننے والی ہوں‘‘
آپؐ نے حکم دیا ’’واپس جاو‘‘ وہ چلی گئیں۔
تیسرے دن پھر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:
یا رسول اللہ، مجھ پر حد جاری کیجیے تاکہ میں پاک ہو جاوں‘‘
حضور نے فرمایا: ’’واپس جاو اور بچہ کی پیدائش کا انتظار کرو‘‘
وہ چلی گئیں، جب بچہ پیدا ہوا تو بچے کو گود میں لیے ہوئے سرور عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپؐ سے درخواست کی کہ مجھ پر حد جاری فرمائیں۔
حضورؐ نے فرمایا: ’’دودھ پینے کی مدت تک انتظار کرو، جب بچہ دودھ چھوڑ دے تب آنا‘‘
جب بچے کی رضاعت کا زمانہ گزر گیا تو پھر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں۔ اب آپ نے حکم الہیٰ کے مطابق رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا۔ (ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضرت سبیبیہ ؓ نومولود بچے کو گود میں لیے ہوئے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپؐ نے فرمایا کہ فی الحال ہم اس پر حد جاری نہیں کریں گے اور اسے اس وقت تک چھوڑے رکھیں گے جب تک اس بچے کے دودھ پلانے کا کوئی انتظام نہ ہوجائے۔ یہ سن کر ایک انصاری بزرگ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ، اس بچے کی رضاعت میرے ذمہ ہے۔ اس پر حضورؐ نے سببیہ ؓ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے بھی پتھر پھینکا جو حضرت سبیبیہ ؓ کے سرپر پڑا اور خون کی چھینٹیں اڑ کر حضرت خالدؓ کے چہرے پر پڑیں۔ ان کے منہ سے حضرت سبیبیہ ؓ کے لیے کوئی سخت جملہ نکل گیا۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’خالد، زبان کو روکو۔ خدا کی قسم اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ ظلم سے محصول وصول کرنے والا بھی اگر ایسی توبہ کرنے تو بخشا جائے‘‘۔
اس کے بعد آپؐ نے حضرت سبیبیہ ؓ کی نماز جنازہ پڑھی۔
ایک روایت میں ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر فاروقؓ نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہؐ اس کا کیا سبب ہے کہ آپؐ نے ایسی عورت پر نماز پڑھی ہے جو حرام کاری کی مرتکب ہوئی تھی‘‘؟
سید المرسلینؐ نے فرمایا:
راہ خدا میں جان قربان کرنے سے بڑھ کر اس نے کوئی چیز نہیں پائی یعنی اس نے محض خوف خدا سے خود آکر اپنے گناہ کبیرہ کا اقرار کیا اور اپنی جان قربان کر دی‘‘
(طالب الہاشمی کی کتاب تذکارصحابیاتؓ سے ماخوذ)
***

 

***

 حضرت سبیبیہ ؓ کے خون کی چھینٹیں اڑ کر حضرت خالدؓ کے چہرے پر پڑیں۔ ان کے منہ سے حضرت سبیبیہ ؓ کے لیے کوئی سخت جملہ نکل گیا۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’خالد، زبان کو روکو۔ خدا کی قسم اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ ظلم سے محصول وصول کرنے والا بھی اگر ایسی توبہ کرنے تو بخشا جائے‘‘۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  25 ستمبر تا 1 اکتوبر 2022