امریکی سینیٹ میں افغان مخالف بل

سارے علاقے کو غیر مستحکم کرنے کی ایک کوشش

مسعود ابدالی

قطر معاہدے پر ٹرمپ کی مہر لیکن شکست کا ملبہ بائیڈن کے سر!
امریکی سینیٹ (راجیہ سبھا) کی مجلس قائمہ برائے خارجہ تعلقات کے نائب سربراہ سینیٹر جم رِش نے انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب برائے (سقوطِ) افغانستانیا Afghanistan Counterterrorism,Oversight and Accountabilityکے عنوان سے ایک مسودہ قانون(بِل) پیش کیا ہے۔ پیر 27 ستمبر کو جمع کرائے جانے والے اس بل پر محرک سمیت سینیٹ کے 22 ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ بلا استثنا تمام کے تمام دستخط کنندگان کا تعلق ریپبلکن پارٹی کے قدامت پسند، مسلم مخالف دھڑے سے ہے۔ مسودےکے مندرجات پر گفتگو سے پہلے بِل پیش کرنے والے بعض فاضل ارکانِ سینیٹ کے بارے میں چند سطور تاکہ قارئین اس مسودہ قانون کے اصل محرکات کا اندازہ کرسکیں۔
ریاست آئیڈاہو (Idaho)کے سینیٹر جم رِش اسرائیل کے نہ صرف پرجوش حامی ہیں بلکہ وہ صیہونی ریاست کی حمایت کو اپنے مسیحی عقیدے کی بنیاد قراردیتے ہیں۔ پندرہ سال پہلے کچھ سلیم الفطرت امریکی اساتذہ، وکلا، سماجی کارکنوں اور طلبہ نے اسرائیل پر معقولیت اختیار کرنے کے لیے دباو کی غرض سے اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کی مہم شروع کی جسے اقتصادی بائیکاٹ، سرمایہ نکاسی اور تحدیدات(Boycott, Disinvestment and Sanctions) المعروف بی ڈی ایس کا نام دیاگیا۔ اس مہم کو جامعات میں پذیرائی نصیب ہوئی۔ اکثر جامعات اپنی وقف دولت کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتی ہیں تاکہ ان کی دولت میں اضافہ ہو۔ بی ڈی ایس نے تحریک چلائی کہ ان رقومات سے اسرائیلی اداروں میں سرمایہ کاری نہ کی جائے۔ اس سلسلے امریکہ کی موقر ترین جامعہ کیلیفورنیا برکلے میں بی ڈی ایس کوزبردست کامیابی ملی اور طلبہ یونین نے اسرائیلی بائیکاٹ کی قرارداد منظور کرلی۔ کچھ دن بعد جامعہ کی سینیٹ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی طلبہ کی تجوزیر کو سندِ توثیق بخش دی ۔
یہ خبر سامنے آتے ہی امریکی کانگریس میں اسرائیلی ترغیب کاروں (Lobbyist) نے زبردست مہم چلائی اور جان رش نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرانسداد اسرائیلی بائیکاٹ قانون (Israeli Anti-Boycott Act)
منظور کرالیا جس کے تحت بی ڈی ایس کی حمایت کو یہود دشمن یا Anti-Semitic گردانتے ہوئے اسرائیل کے بائیکاٹ کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کے مطابق اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے تعلیمی اداروں کو وفاقی حکومت کی مدد اور گرانٹ نہیں دی جاسکتی۔
وسکونسن سے سینیٹر ران جانسن نے جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل پر ہونے والے مظاہروں کو کمیونسٹ زیرزمین دہشت گرد تنظیم انتیفا(Antifa)کی تحریک قراردیتے ہوئے مظاہرین کے خلاف فوج کے استعمال کا مطالبہ کیا۔ موصوف نے اس سال جنوری میں صدارتی انتخاب کے بعد الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس کی عمارت پر دائیں بازو کے دہشت گرد حملے کی دبے الفاظ میں حمایت کی۔
ریاست اوہایو کے راب پورٹ مین سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے داخلی سلامتی کے نائب سربراہ اور اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں
ریاست مسی سپپی(Mississippi) کی محترمہ سینڈی ہائیڈ اسمتھ نے ووٹنگ رائٹ بل کی مخالفت کی۔ اس قانون کا مقصد سیاہ فام اور رنگدار افراد کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ کو سنگین جرم قراردینا ہے۔
ریاست ٹینیسی Tennesseeکی محترمہ مارشا بلیک برن نے صدر اوباما کے انتخابات کے بعد برتھ سرٹیفیکیٹ بل پیش کیا تھا جس کے مطابق صدارتی انتخاب لڑنے والے افراد کے لیے امریکہ میں اپنی پیدائش ثابت کرنے کے لیے صداقت نامہ جمع کرانا ضروری قراردیا گیا تھا۔ امریکہ کے نسل پرستوں کا موقف تھا کہ صدر اوباما ایک افریقی کے بیٹے ہیں جنکی ولادت کینیا میں ہوئی تھی۔
فلوریڈا کے سینیٹ کے رکن مارکو روبیو نے چند برس پہلےبی ڈی ایس کے خلاف لڑائی قانون (Combating BDS ACT)کے عنوان سے ایک مسودہ قانون پیش کیا جس میں اسرائیل کے بائیکاٹ پر جرمانہ دگنا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ روبیو صاحب کے والدِ بزرگوار کیوبا سے ہجرت کرکے فلورڈا تشریف لائے تھے لیکن ایک مہاجر کے چشم و چراغ روبیو کوغیر ملکیوں کا امریکہ آنا پسند نہیں۔
اس بل کے دوسرے اہم حمایتیوں میں ریپبلکن پارٹی کے وہپ جان تون (John Thune)، سابق صدارتی امیدوار مٹ رامنی، محترمہ سوزن کالنز، رچرڈ بَر اور جان ارنسٹ شامل ہیں۔ یہ تمام کے تمام افراد اپنی فکر کے اعتبار سے قدامت پسند، اسرائیل کے حامی اور مسلم مخالف سمجھے جاتے ہیں۔
مجوزہ بل میں افغانستان سے امریکی انخلا کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیاہے۔ بل میں تجویز کیاگیاہے کہ:
l معاملے کا جائزہ لینے کے لیے امریکی وزارت خارجہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جو افغانستان میں اب بھی موجود امریکی شہریوں، حاملینِ گرین کارڈ اور امریکی فوج کے سہولت کاروں کے وہاں سے باعزت و باحفاظت انخلا کی حکمت عملی مرتب کرے۔ وہاں سے خصوصی امیگریشن ویزا (SIV) اور بطور پناہ گزین امریکہ آنے والوں کے لیے ایک جامع طریق کار متعین کیا جائے۔
l افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور بطورِمالِ غنیمت ملاوں کے ہاتھ لگنے والے امریکی اسلحے کو ٹھکانے لگانے (disposition) کی حکمت عملی تیار کی جائے۔
l طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کے ساتھ منشیات فروشوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔
l ریاستی اور غیر ریاستی عناصر بشمول پاکستان کی طرف سے طالبان کو ملنے والی مبینہ مالی مدد، محفوظ پناہ گاہیں اور سازو سامان اور تربیت کی مبینہ فراہمی کا جائزہ لیا جائے۔
l ایسے ممالک اور افراد جو 2001 سے 2021 تک طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں ان پر پابندیاں عائد کی جائیں
l مسودے کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران اور 15 اگست کو کابل کا کنٹرول حاصل کرنے لیے کس نے طالبان کی مدد کی۔
l مجوزہ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ، دفاع اور سراغ رساں اداروں کے حکام یہ رپورٹ بل منظور ہونے کے 180 روز کے اندر کانگریس کو جمع کرائیں۔
بادی النظر میں یہ بل صدر بائیڈن کے خلاف فرد جرم نظر آرہی ہے۔ سینیٹ میں سماعت کے دوران امریکی جرنیلوں سے کیے جانے والے ریپبلکن ارکان کے تیکھے سوالات سے اندازہ ہوتا ہے امریکی حزب اختلاف افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ صدر بائیڈن پر ڈالنا چاہتی ہے۔
اب سے تیرہ ماہ بعد امریکہ میں وسط مدت کے انتخابات ہونے ہیں اور جائزوں کے مطابق صدر بائیڈن کی مقبولیت تیزی سے کم ہورہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اس وقت برسر اقتدار ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کی پارلیمانی قوت بالکل برابر ہے، یعنی 100 رکنی ایوان میں دونوں پچاس پچاس نشستوں پر براجمان ہیں۔ چونکہ بر بنائے عہدہ، ایوانِ بالا کی سربراہی نائب صدر کے ہاتھ میں ہے اس لیے کملا دیوی ہیرس صاحبہ اہم رائے شماری کے دوران اپنا فیصلہ کن ووٹ ڈال کر صدر بائیڈن کی نیّا پار لگادیتی ہیں۔ ایوان زیریں میں بھی صدر بائیڈن کی جماعت کو معمولی سے برتری حاصل ہے اور 435 کے ایوان میں ان کے 220 ارکان ہیں، یعنی واضح اکثریت سے صرف دو زیادہ۔ ریپبلکن پارٹی نے کانگریس سے ڈیموکریٹک پارٹی کی برتری ختم کرنے کے لیے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ امریکی حزب اختلاف اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے خاصی پرامید ہے کہ اگر ایوان زیریں کی صرف تین نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی سے چھین لی جائیں تو بائیڈن اقتدار کے آخری دوسال امریکی صدر کے لیے عذاب بن سکتے ہیں۔
اگلے سال سینیٹ کی جن 34 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں ان میں قرارداد پر دستخط کرنے والے9 ارکان بھی شامل ہیں جنہیں مدت پوری ہونے پر ووٹروں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ اس بل کے کئی دستخط کنندگان کی نظریں 2024 کے صدارتی انتخابات پر ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کے تجزیہ نگار اس قرارداد کو پاکستان کے خلاف پابندیوں کے نئے سلسلے کا نقظہ آغاز دے رہے ہیں جبکہ امریکی سیاست کے ماہرین کا خیال ہے کہ تحریک کا بنیادی محرک 2022 کے وسط مدتی پارلیمانی اور 2024 کے صدارتی انتخابات ہیں۔
ریپبلکن پارٹی افغانستان میں شکست کی ذمہ داری صدر بائیڈن کے سرڈال رہی ہے حالانکہ اس بےمقصد خونریزی کا آغاز اکتوبر 2001 میں ریپبلکن صدر بش نے کیا اور جب 29 فروری 2020 کو ’ہتھیار ڈالنے‘ کی تقریب قطر میں منعقد ہوئی تب ایک اور ریپبلکن صدر ٹرمپ برسر اقتدار تھے۔
قطر معاہدے میں بہت صراحت سے درج تھاکہ امریکی فوج کا انخلا یکم مئی 2021 تک مکمل کرلیا جائے گا اور کرونا کی وجہ سے عسکری نقل و حرکت پر پابندی کے باوجود افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا جاری رکھنے کے لیے فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے صدر ٹرمپ نے استثنا جاری کیا۔صدر بائیڈن کا موقف بھی یہی ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے دور میں طئے پانے والے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے طالبان کی رضامندی سے انخلا کو اگست تک موخر کیا۔
افغانستان سے فوجی انخلا پر ساری امریکی قوم متفق تھی اور طالبان کی برتری بھی امریکیوں نے تسلیم کرلی تھی۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ طالبان اپنے وعدے کے مطابق پسپا ہوتی ان کی فوج کو تحفظ فراہم کریں گے اور امریکی افغانستان کا انتطام اشرف غنی انتظامیہ کو منتقل کرکے باعزت انداز میں وہاں سے نکل آئیں گے۔ امریکیوں کو یہ خدشہ تو تھا کہ نیٹو انخلا کے بعد افغان فوج کے لیے طالبان کا مقابلہ آسان نہ ہوگا لیکن انہیں ملک کی قبائلی ترکیبب کی بنا پر ’امید‘ تھی کہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا اور پھر اقوام عالم کے ساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں ’اصلاحِ احوال‘ کی کوشش کرے گا جس سے شکست اور پسپائی کا تاثر ختم ہوجائے گا۔
لیکن تین اگست کو نمزور کے دارالحکومت میں افغان فوج نے اپنااسلحہ طالبان کے حوالے کردیا جس کے دوسرے دن ہیرات میں جنگجو رہنما اسماعیل خان نے ہتھیار ڈال دیے اور صرف چند ہی دنوں میں ایک بھی گولی چلائے بغیر طالبان نے اس شان سے افغانستان پر قبضہ کیاکہ امریکی فوج کا جدید ترین اسلحہ ملاوں کے قبضے میں آگیا۔ امریکی وزارت دفاع کے ذرائع اس مالِ غنیمت کی مالیت 80 ارب ڈالر قراردے رہےہیں۔
سارے ملک پر قبضے کے باوجود طالبان نے کابل میں داخل ہونے سے گریز کیا کہ قطر میں ملا عبد الغنی برادر کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے یقین دلایا تھاکہ اگر طالبان عام معافی کا وعدہ کریں تو افغان حکومت ’باعزت انتقالِ اقتدار‘ کے لیے تیار ہے۔ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اس سے پہلے ہی عام معافی کا اعلان کرچکے تھے، چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی یقین دہانی اور اس کی امریکہ کی جانب سے توثیق کے بعد طالبان نے کابل کی طرف پیش قدمی روک دی۔ لیکن اس کے دوسرے ہی دن صدر اشرف غنی فرار ہوگئے اور ان کے نائب امراللہ صالح نے پنجشیر میں پناہ لے لی۔ اس کے بعد جو ہوا اس کی تفصیل امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مائک ملی نے امریکی سینیٹ میں خود بیان کی ہے۔ جنرل صاحب نے سماعت کے دوران بتایا کہ کابل کو چند درجن موٹر سائیکل سواروں نے جو اللہ اکبر کے نعرے لگارہے تھے، ایک بھی گولی چلائے بغیر فتح کرلیا۔ جنرل ملی نے افسردہ لہجے میں کہا کہ جدید ترین اسلحے سے لیس تین لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ فوج چند ہزار ملاوں کے سامنے گیارہ دن بھی نہ ٹھہر سکی۔
افغان فوج کے دل چھوڑ دینے اور اشرف غنی کے غیر متوقع فرار سے باعزت پسپائی کا امریکی منصوبہ درہم برہم ہوگیا اور اقوام عالم کے سامنے امریکہ ہزیمت اور رسوائی کا استعارہ بن گیا۔ جوکچھ وسط اگست میں ہوا اس کی بنیاد قطر معاہدہ ہے جس پر صدر ٹرمپ کے حکم سے دستخط کیے گئے لیکن اس کے منظقی انجام کی شرمندگی بائیڈن انتظامیہ کو اٹھانی پڑی اور اب ریپبلکن پارٹی قومی شرمندگی کو جماعتی مفاد کے لیے استعمال کررہی ہے۔
معاملہ اگر صدر بائیڈن کے احتساب تک رہتا تب بھی ٹھیک تھا کہ امریکہ کی داخلی سیاست سے دنیا کو کیا سروکار لیکن اس مسودہ قانون کی منظوری افغانستان اور پورے خطے میں امریکی مداخلت کے ایک نئے سلسلے کا نقطہ آغاز ہوگی۔ طالبان کے خلاف کڑی اقتصادی پابندیوں کے ساتھ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک کو بھی چچا سام کے عتاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکی حکومت، پاکستان، طالبان اور چین کے مقابلے میں ہندوستان کے دفاع، معیشت اور سفارت کاری کے شعبوں میں مدد کی پابند ہوگی۔ بعض سینیٹروں نے ایغور مسلمانوں کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی حکمت عملی تجویز کی ہے جس کے لیے ترکی، ازبکستان اور تاجکستان کی مدد درکار ہوگی۔طالبان حکومت کو غیر مستحکم کرنے لے لیے تاجکستان میں پناہ گزین امراللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود کی نصرت بھی نئی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہوگی۔
اس بل کے قانون بن جانے کی صورت میں وسط ایشیا کے افغانستان سے تعلقات میں تلخی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ چین، ازبکستان اور تاجکستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی جائے گی اور ہندوستان کو چین اور پاکستان کے خلاف اکسایا جائے گا۔ یہ بدنصیب علاقہ کئی دہائیوں سے تصادم اور جنگوں کا عذاب سہہ رہا ہے۔ اب صدر بائیڈن سے 2020 میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ان قدامت پسند و متعصب سینیٹروں نے نفرت و بداعتمادی کے بارود پر نئی چنگاری بکھیرنے کا عزم کرلیا ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
***

 

***

 افغان فوج کے دل چھوڑ دینے اور اشرف غنی کے غیر متوقع فرار سے باعزت پسپائی کا امریکی منصوبہ درہم برہم ہوگیا اوراقوام عالم کے سامنے امریکہ ہزیمت اور رسوائی کا استعارہ بن گیا۔ جوکچھ وسط اگست میں ہوا اس کی بنیاد قطر معاہدہ ہے جس پر صدر ٹرمپ کے حکم سے دستخط کیے گئے لیکن اس کے منظقی انجام کی شرمندگی بائیڈن انتظامیہ کو اٹھانی پڑی اور اب ریپبلکن پارٹی قومی شرمندگی کو جماعتی مفاد کے لیے استعمال کررہی ہے۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ 10 تا 16 اکتوبر 2021