افسانہ نگار کا کام یہ ہے کہ وہ سماج کا عکس اس طرح پیش کرے کہ قاری مثبت اثر اخذ کرے: مشتاق احمد نوری

نئی دہلی، اکتوبر 7: تعمیری ادب کی نمائندہ تنظیم ’ادارۂ ادب اسلامی ہند‘ کے زیر اہتمام سہ روزہ قومی کانفرنس بہ موضوع ’اکیسویں صدی میں ناول: سمت اور رفتار‘ کے دوسرے دن، تین اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کا مرکزی موضوع ’اکیسویں صدی کے ناول عصری مسائل کے حوالے سے‘ تھا۔ جس کی صدارت معروف فکشن نقاد پروفیسر صغیر افراہیم اور مشہور فکشن نگار اور شاعر جناب مشتاق احمد نوری نے فرمائی۔ صدارتی گفتگو پیش کرتے ہوئے پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ اردو میں ناول نگاری کا آغاز سرسید کے زمانے میں ہوا، اس وقت ایک طرف تہذیب الاخلاق اور معارف ادب کے تقاضوں کو پورے کر رہے تھے لیکن ناول سے ان اداروں نے مکمل بے اعتنائی برتی، ادارہ ادب اسلامی اس حوالے سے مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے ناول کے افکار و نظریات کو اپنی کانفرنس کا موضوع بنایا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اکیسویں صدی کے زیادہ تر اچھے ناول نگاروں کا تعلق بہار، بنگال اور جھارکھنڈ جیسے علاقوں سے ہی ہے کیوں کہ تقسیم ہند کا کرب اصلاً انھیں ہی جھیلنا پڑا۔ اس سیشن میں ڈاکٹر یحییٰ جمیل، ڈاکٹر نعمان قیصر اور نایاب حسن نے بالترتیب ’اکیسویں صدی کے ناولوں میں مذہب کا سیاسی استحصال‘، ’اکیسویں صدی کے ناولوں میں حقوق انسانی‘ اور ’اکیسویں صدی کے ناولوں میں فسطائیت‘ کے عنوان سے پرمغز مقالے پیش کیے۔ نظامت کے فرائض جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر اور ماہ نامہ پیش رفت کے معاون مدیر محمد ساجد ندوی نے انجام دیے۔

کانفرنس کا دوسرا اجلاس پروفیسر صفدر امام قادری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس سیشن کا مرکزی عنوان ’اکیسویں صدی کے ناول اقلیتی مسائل کے حوالے سے‘ تھا۔ اس میں ڈاکٹر رؤف خیر، ڈاکٹر انوار الحق اور ڈاکٹر غالب نشتر نے بالترتیب ’اکیسویں صدی کے ناولوں میں اقلیتی حقوق‘، ‘اکیسویں صدی کے ناولوں میں اقلیتی بقا و تشخص کا مسئلہ‘ اور ’اکیسویں صدی کے ناولوں میں اقلیتوں کے سماجی اور معاشی مسائل‘ پر اپنے مقالے پیش کیے۔ پروفیسر صفدر امام قادری نے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے کانفرنس آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے سامنے نئے نئے زاویے اور سوالات ابھر کر آ رہے ہیں، یہی اس کانفرنس کی کام یابی کی ضمانت ہے۔ اس سیشن کی نظامت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف بلال نے انجام دی۔ کانفرنس کے تیسرے سیشن بہ عنوان ’اکیسویں صدی کے ناول تانیثیت کے حوالے سے‘ میں ڈاکٹر افضل مصباحی نے ’اکیسویں صدی کے ناولوں میں نو تانیثی رجحانات‘، صائمہ ثمرین نے ’ساجدہ زیدی کی ناول نگاری‘ اور روبینہ پروین نے ’سید محمد اشرف کی ناول نگاری‘ کے عنوان پر اپنے مقالے پیش کیے۔ اس سیشن کی صدارت چودھری چرن سنگھ یونی ورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشیدپوری اور ایس آر ٹی ایم یونی ورسٹی ناندیڑ، مہاراشٹر کے شعبہ اردو کے پرفیسر اور ادارہ ادب اسلامی مہاراشٹر کے صدر مقبول احمد مقبول نے فرمائی۔ پروفیسر اسلم جمشید پوری صاحب نے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ ’جتنے بڑے پیمانے پر اس وقت فکشن لکھا جا رہا ہے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ صدی فکشن کی صدی ہے‘۔

پروفیسر مقبول احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں جو مقالے پڑھے جا رہے ہیں ان سے اکیسویں صدی کے ناول کے تعلق سے نئے نئے سوالاات سامنے آرہے ہیں اور نئے نئے زاویوں پر روشنی پڑ رہی ہے۔ اس سیشن کی نظامت کے فرائض جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم سفیر صدیقی نے انجام دیے۔ کانفرنس میں سامعین کو سوالات کی شکل میں مقالہ نگاروں اور صدور سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ اخیر میں تمام مہمانان اور مقالہ نگاران کی خدمت میں مومنٹو پیش کیا گیا۔