ٹوئٹر پر مسلم خواتین کے خلاف نا زیبا فقرے بازی

خواتین کی ہراسانی کا سلسلہ ہورہا ہے دراز، بن رہے ہیں ایپ

افروز عالم ساحل

ہر دن کی طرح ہانا محسن خان کی زندگی میں 4جولائی 2021کا دن بھی آیا۔ پورا دن سکون سے گزرنے کے بعد ان کے ساتھ ایک ایسا ’برا حادثہ‘ پیش آیا کہ آج تک وہ اپنے دل و دماغ سے غصے کو نکال نہیں پائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ غصہ تب ہی دور ہو گا جب پولیس ان کی ایف آئی آر پر کارروائی کر کے مجرموں کو گرفتار کرے گی اور انہیں سخت سے سخت سزا دے گی۔

ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں ہانا محسن خان بتاتی ہیں کہ 4جولائی کی شب میری ایک دوست نے واٹس ایپ پر ایک ٹویٹ کا لنک بھیجا، جس میں میرا نام پوسٹ ہوا تھا۔ جب میں نے لنک پر کلک کیا تو ایک ایپلیکیشن پر پہنچ گئی، جہاں مجھے ’فائنڈ یور سلی ڈیل‘ نظر آیا۔ ایک پل کے لیے تو مجھے سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہے۔ آگے کلک کیا تو ’یور ڈیل فار ٹو ڈے‘ کے ساتھ ایک اور لڑکی کی تصویر نظر آئی، جسے میں نہیں جانتی تھی۔ دوسری کلک میں میری دوست کی تصویر آئی اور اس کے نام کے ساتھ ساتھ ٹویٹر ہینڈل کی جانکاری بھی شیئر کی گئی تھی۔ چوتھی کلک میں میری خود کی اپنی تصویر میرے سامنے تھی۔ میں خود کی تصویر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ میرا دماغ ہی خراب ہو گیا اور اتنا شدید غصہ آیا جو آج تک میرا خون کھولا رہا ہے۔ آخر کوئی بھی آپ کی تصویر سوشل میڈیا سے اٹھا کر ’سلی ڈیل‘ کے لیے کیسے لگا سکتا ہے؟ یقیناً ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا، کئی مسلم لڑکیوں کے ساتھ یہ پہلے بھی ہو چکا ہے، لیکن میرے ساتھ یہ پہلی بار ہو رہا تھا۔

بتا دیں کہ ہانا محسن خان ایک ایئر لائن کمپنی میں کمرشیل پائلیٹ ہیں۔ انہوں نے اگلے دن اس کی شکایت نوئیڈا سیکٹر 24 پولیس اسٹیشن میں دی، جس پر 6 جولائی کو ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ ہانا کے مطابق ان کی اس ایف آئی آر کی بنیاد پر ہی دہلی پولیس نے بھی ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایک ایسی ہی ایف آئی آر فاطمہ خان نے پانچ جولائی کو ساکی ناکا پولیس اسٹیشن میں اور نور مہوش نے کولکاتا میں درج کرائی ہے۔

ہانا کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ پولیس جلد سے جلد اس معاملے میں کارروائی کرے اور تمام مجرم پکڑے جائیں، تاکہ آگے مزید کسی کی ’سلی ڈیل‘ نہ ہو۔ غور طلب رہے کہ ’سلی‘ ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا پر مسلم خواتین کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ کو امید ہے کہ آپ کی ایف آئی آر پر آگے کچھ ہو پائے گا؟ اس پر ہانا محسن خان کہتی ہیں کہ مجھے ابھی تک کوئی مثبت ریسپانس ملا ہے۔ میری شکایت پر دوسرے دن ہی ایف آئی آر درج ہو گئی۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے میں پوری مستعدی کے ساتھ کارروائی کرے گی۔ دہلی پولیس تو کہہ رہی ہے کہ اس معاملے کو دس دن کے اندر نمٹا دیں گے۔ اگر واقعی ہماری پولیس اتنی ہی ایکٹیو رہی تو مجھے پوری امید ہے کہ یہ لوگ پکڑے جائیں گے اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔

جرنلسٹ ثانیہ احمد یہ لڑائی اگست 2020 سے لڑ رہی ہیں۔ اب انہوں نے ایڈووکیٹ انس تنویر کے ذریعہ ٹویٹر کے انڈیا اور سان فرانسیسکو آفس کو لیگل نوٹس بھیج کر 8 مطالبے کیے ہیں اور صاف طور پر کہا ہے کہ اگر ایک مہینے کے اندر ٹویٹر نے ان کے ان مطالبوں پر کارروائی نہیں کی تو آگے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔

ثانیہ احمد کہتی ہیں کہ ٹویٹر پر میری بولی پہلی بار نہیں لگائی گئی ہے۔ پچھلے سال بھی میں ان کے نشانے پر تھی جب یہ پاکستانی لڑکیوں کی بولی لگا رہے تھے اور میں نے انہیں بے نقاب کیا تھا۔ یہ سنگھی ٹولہ گزشتہ ایک سال سے مجھے مسلسل ہراساں کر رہا ہے۔ میری دو شکایتیں دینے کے بعد بھی پولیس نے اس پر ایف آئی آر درج نہیں کی بلکہ میں نے الٹا پولیس اہلکاروں میں تعاون نہ کرنے، بدتمیزی کرنے اور بد مزاج سے پیش آنے کا رویہ ہی دیکھا ہے۔ ان پر میرا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔ مجھے اب خوشی ہے کہ اس واقعے کو آخر کار توجہ مل رہی ہے۔ خوشی اس بات کی بھی ہے کہ آخر کار نیشنل کمیشن فار وومن نے اب کچھ سنجیدگی اختیار کی ہے اور اس کی طرف سے کچھ اقدام کرنے کی امید ہے۔ نیز میں کانگریس کے ان تمام رہنماؤں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنی حمایت میں توسیع کی ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا ٹوڈے گروپ میں کام کرنے والی ثانیہ احمد نے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں ٹویٹر پر اچانک دیکھا کہ ایک اکاؤنٹ پاکستانی لڑکیوں کی بولی لگا رہا ہے اور مسلم لڑکیوں کے بارے میں کافی گندی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس اکاؤنٹ کو رپورٹ کرتے ہوئے اس بارے میں ٹویٹر پر لکھا تاکہ لوگ اس اکاؤنٹ کو رپورٹ کر سکیں۔ لیکن اس اکاؤنٹ کا تو کچھ ہوا نہیں، بلکہ الٹا وہ ان کے ہی پیچھے پڑ گئے۔ یہی گھٹیا حرکت عیدالفطر کے دن کانگریسی کارکن حسیبہ امین کے ساتھ بھی دوہرائی گئی۔ ہفت روزہ دعوت نے جرنلسٹ ثانیہ احمد کی پوری کہانی اور ان کا انٹرویو کافی پہلے ہی شائع کر دیا ہے، اسی گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اب ہم ٹویٹر کو نوٹس بھیجیں گے، کیونکہ یہ سب کچھ ٹویٹر پر چل رہا ہے۔ یہ ٹویٹر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے اکاؤنٹس پر لگام لگائے۔ ان کے خلاف ایکشن لے اور قانونی کارروائی کرے۔‘

دراصل ان کا ایک پورا نیٹ ورک ہے اور ان کا کام سوشل میڈیا پر مسلم لڑکیوں کو ٹارگیٹ کرنا ہے۔ یہ ان کی بولی لگاتے ہیں۔ اب اسی نیٹ ورک نے متعدد مسلم خواتین کی سوشل میڈیا تصویروں کے ساتھ ’سلی فار سیل‘ نام کا ایک اوپن سورس ایپ بنایا تھا، جسے فی الحال ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ اس ایپ میں اسّی سے زائد مسلم لڑکیوں کی جانکاری ٹویٹر سے لے کر ڈالی گئی تھی۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق اس ایپ کو چودہ جون کو ہی شروع کیا گیا تھا۔ تب سے اس پر مسلم لڑکیوں کی تصاویر اور ذاتی معلومات ’نیلام‘ ہو رہی تھیں اور کچھ لوگ اس پر فحش تبصرے کر کے ان کی بولیاں لگا رہے تھے۔ لیکن اس پر سب سے زیادہ سرگرمی چار سے پانچ جولائی کے درمیان ہوئی، تب یہ لوگوں کی نظر میں آیا۔ یہ ایک اوپن سورس کمیونٹی ایپ تھی جو سافٹ ویئر کوڈنگ فراہم کرنے والے پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ پر تیار کی گئی تھی۔

تاریخ میں نہیں ملتی ایسی مثال

ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں ڈاکٹر فردوس عظمت صدیقی کہتی ہیں کہ تاریخ میں ایسی گھناؤنی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ میں اسے صرف مسلم لڑکیوں پر حملہ نہیں مانتی، یہ ملک کی تمام عورتوں پر حملہ ہے۔ گزشتہ پانچ تا چھ برسوں میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے، وہ ماضی میں دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ خواتین پر اس طرح کبھی حملہ ہوا ہو گا۔ ملک کے بٹوارے کے وقت ضرور ہوا تھا، لیکن وہ کچھ وقت کے لیے تھا۔ بتا دیں کہ فردوس عظمت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سروجنی نائیڈو سنٹر فار ویمن اسٹڈیز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ سال 2014 میں ان کی ایک کتاب ‘A Struggle for Identity : Muslim Women in the United Provinces’ مشہور کیمبرج یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔

وہ مزید بتاتی ہیں کہ سب سے پہلے جب 1881 میں مردم شماری ہوئی تو پہلی بار یہ زہر بویا گیا کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور اس میں مسلم عورتوں کو ایک ’سیکسول بم‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ 1925 میں جب آر ایس ایس قائم ہوئی تو انہوں نے بھی مسلم خواتین کو لے کر الٹی سیدھی باتیں کہیں لیکن وہ سب کچھ ایک حد میں تھا، آج انہوں نے تمام حدیں پار کردی ہیں۔

ہماری پولیس کتنی ایماندار ہے؟

ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں دہلی ہائی کورٹ کی وکیل سواتی کھنہ بتاتی ہیں کہ لڑکیوں کی ’سائبر بولنگ‘ تو ہوتی رہی ہے، لیکن جب اس میں شناخت آجاتی ہے تو یہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ اگر میں مسلم نہیں ہوں، لیکن ملک کی اقلیتوں یا خواتین کے حقوق کے لیے کھل کر بول یا لکھ رہی ہوں، تو مجھے کسی مسلم مرد کے ساتھ جوڑ کر نشانہ بنایا جائے گا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ حسیبہ امین نے بھی اس طرح کے ’سلی ڈیل‘ کو لے کر ایف آئی آر درج کرائی تھی، لیکن پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ میرے معاملے میں میرا یہی تجربہ ہے۔ لیکن تب ہم اپنی لڑائی اکیلے لڑ رہے تھے۔ اس ایپ کے بعد میں جہاں تک دیکھ رہی ہوں، تمام لڑکیوں نے اس پر کھل کر بولا ہے تو وومن کمیشن بولتی ہوئی نظر آئی ہے اور ایف آئی آر درج ہوا ہے۔

سواتی کہتی ہیں کہ مجھے بڑا عجیب لگ رہا ہے کہ ایک جانب لڑکیوں کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے، وہیں کمیونٹی کے مردوں کے ذریعہ انہی کو کہا جا رہا ہے کہ تم لوگ سوشل میڈیا پر کیوں رہتی ہو؟ اپنی تصویریں کیوں ڈالتی ہو؟ کچھ لکھتی کیوں ہو؟ یعنی ہر طرح کی ’مورل پولیسنگ‘ شروع ہو گئی ہے۔ یہ بھی اتنا ہی غلط ہے۔ یہ ان کو سپورٹ کرنے والی ہی بات ہو گئی۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ لڑکیاں ڈر کر اپنے گھروں میں بند ہو جائیں، ان کے یا ان کی آئیڈیولوجکل تنظیموں کے خلاف کچھ نہ بولیں۔

سواتی مزید کہتی ہیں کہ اس پورے معاملے میں ایف آئی آر تو درج ہو گئی ہے۔ اب جو کرنا ہے، ہماری پولیس کو کرنا ہے۔ لیکن یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ ہمارا سسٹم کتنا مضبوط، اسکِلڈ اور ایماندار ہے۔ واضح رہے کہ سواتی کھنہ کے ساتھ بھی اس ’آن لائن جسنی تشدد‘ کے دو معاملے پیش آچکے ہیں۔ پہلا معاملہ دسمبر 2019 میں پیش آیا تھا جب وہ جھارکھنڈ کے تبریز انصاری کی لنچنگ کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر منعقد مظاہرے میں شامل ہوئی تھیں۔ راقم الحروف نے ان کی تصویر اور ویڈیو بنائی تھی جو سوشل میڈیا پر پورے ملک میں وائرل ہوئی تھی۔ جس کے بعد ایک خاص ذہنیت کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف طرح طرح کی باتیں لکھیں۔ انہیں سواتی نہیں، بلکہ صبیحہ خان کے نام سے پکارا گیا۔ دوسرا معاملہ مارچ 2020 میں سامنے آیا۔ دبئی میں موجود ایک ہندوستانی شیف ترلوک سنگھ نے سواتی کھنہ کو جسم فروش بتاتے ہوئے دلی آ کر ’عصمت دری کرنےاور تیزاب سے حملہ‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ کیونکہ سواتی کھنہ ان دنوں سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمس پر نہ صرف شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہی تھیں، بلکہ مودی حکومت کو تقسیم کرنے والی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔ تب سواتی کھنہ دلی یونیورسٹی کے لا فیکلٹی کی طالبہ تھیں۔ اس دونوں معاملوں پر ہفت روزہ اپنی خاص رپورٹ پہلے شائع کر چکا ہے۔

میں تو سیاسی پوسٹ بھی نہیں لکھتی۔۔۔

عام طور پر مانا جاتا ہے کہ جو لڑکیاں سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت پر تنقید کررہی ہیں، انہی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن ہفت روزہ دعوت کے ساتھ ایک طویل گفتگو میں پائلٹ ہانا محسن خان کہتی ہیں کہ میں تو سیاسی موضوعات پر بھی نہیں لکھتی اور نہ ہی سیاست سے میرا کوئی رشتہ ہے۔ میں نے آج تک سیاست یا مذہب کے بارے میں نہیں لکھا، کیونکہ میرا کام مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ میں ایک پائلٹ ہوں اور اپنے ایئر کرافٹ کے بارے میں لکھتی ہوں اور تصاویر شیئر کرتی ہوں۔ ان ٹرالوں کے پاس مجھے نشانہ بنانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ لیکن مجھے صرف مسلم ہونے کی وجہ سے ٹارگیٹ کیا گیا۔ دراصل جب کوئی کسی کمیونٹی کو نیچا دکھانا چاہتا ہے تو اس کے سب سے سافٹ ٹارگیٹ کو ہٹ کرتا ہے، وہی کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان سوشل میڈیا کا استعمال ہی بند کر دے۔ وہ ہمیں خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ یہ بے حد ہی شرمناک ہے۔ میں ان کے خلاف اپنی لڑائی ہر حال میں جاری رکھوں گی چاہے جتنے بھی سال لگ جائیں۔ کیونکہ یہ کسی بھی معنی میں فسادیوں سے کم نہیں ہیں۔

اوپ انڈیا کے سابق ایڈیٹر نے کی تھی اس ایپ کی حمایت

ہندوتوا وادی تنظیموں سے وابستہ کئی لوگوں نے ٹویٹر پر اس ایپ کی حمایت کی۔ اس ایپ کا لنک دائیں بازو کی ویب سائٹ اوپ انڈیا کے بانی ایڈیٹر رہے اجیت بھارتی نے بھی ٹویٹ کیا تھا۔ بھارتی نے لکھا ’’کسی نے ’سُلّی ڈیلز‘ کے نام سے ایک ایپ بنا دیا ہے۔ لکھا ہے کہ من پسند سلی آپ کو مل جائے گی۔ یہ انہوں نے عام معاشرے کی مدد کے لیے بنایا ہے۔ میں ٹیکنالوجی اور اوپن سورس کا بچپن سے حامی رہا ہوں۔ لنک دے رہا ہوں، آپ لوگ جانچ لیں۔“ اس ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے ایپ کا لنک بھی شئیر کیا تھا۔ اجیت بھارتی اب اوپ انڈیا (Opindia.com) میں نہیں ہیں۔ وہ فی الحال ’ڈوپولیٹکس‘ نامی ایک ویب سائٹ کے ایڈیٹر ہیں۔

اس کے اس ٹویٹ ہر جب ہنگامہ برپا ہوا اور لوگوں نے اس کے اس ٹویٹ کے خلاف لکھنا شروع کیا تو اپنا یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ اور اگلا ٹویٹ کیا، ’اس ٹویٹ کا ایک ہی مقصد تھا: آپ کو بتانا کہ ’ان کا‘ تنتر کتنا جامع، تیز اور منظم ہے کہ کوئی ایسا ایپ یا کچھ بھی بنتا ہے تو، وہ فوراً ویکٹیم بنتے ہوئے، نیریٹیو بھی مینیج کرتے ہیں، اور پیچھے سے اس پر دباؤ بناتے ہوئے کارروائی کرواتے ہیں۔ ایپ ہٹایا جا چکا ہے۔

’ایڈیٹر گلڈس آف انڈیا‘ نے بھی کی ہے مذمت

متعدد مسلم تنظیموں کے ساتھ ساتھ ’ایڈیٹر گلڈس آف انڈیا‘ بھی اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے پولیس سے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

’ایڈیٹر گلڈس آف انڈیا‘ نے 7 جولائی کو ایک پریس بیان جاری کر کے مسلم خواتین بشمول صحافیوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر اہانت آمیز رویے پر سخت اعتراض درج کراتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم خواتین اور خواتین صحافیوں کو ڈرانے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال تشویشناک ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’’یہ گھناؤنہ حملہ معاشرے کے کچھ حصوں میں، خصوصاً مسلم خواتین کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے خلاف بھی ہے جو واضح الفاظ میں موجودہ حکومت پر نقد کرتے ہیں۔‘‘

اس پریس بیان میں نیہا دیکشت کے معاملے کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر گزشتہ دنوں آن لائن دھمکی دی گئی، ان کا پیچھا کیا گیا، ہر طرح سے ہراساں کیا گیا۔ انہیں اپنے صحافتی کام کی وجہ سے ہر طرح کی پریشانیوں میں مبتلا کیا گیا ہے۔ ایڈیٹر گلڈس کے اس پریس بیان میں صحافی فاطمہ خان کا بھی ذکر ہے، انہیں بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کے جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے سال 2020 کے دہلی فسادات کو کَور کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی انہیں کافی ہراساں کیا گیا۔

پارلیمنٹ میں زیر بحث آچکا ہے معاملہ

سوشل میڈیا پر ’سائبر جنسی تشدد‘ اور لڑکیوں کو ہراساں کیے جانے کا معاملہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھ چکا ہے۔ خاص طور پر ٹویٹر پر خواتین کی عصمت دری کی دھمکی دینے کی بات راجیہ سبھا میں رکھی جا چکی ہے۔ ہفت روزہ دعوت کے نمائندے نے اس بات پر تحقیق کی کہ اس سال اس موضوع پر ایوانوں میں کیا سوال پوچھے گئے اور حکومت نے کیا جواب دیا ہے۔

اس سلسلے میں کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے نے گیارہ فروری 2021 کو راجیہ سبھا میں یہ سوال پوچھا تھا کہ ’کیا وزارت برائے خواتین واطفال کی ترقی کو ایسے کئی ٹویٹر اکاؤنٹس کی جانکاری ہے جو لگاتار سوشل میڈیا پر خواتین کو عصمت دری کی دھمکی دینے سمیت خواتین سے متعلق نفرت بھرے جنسی تبصرے پوسٹ کرتے ہیں؟ وزارت کے ذریعے ایسے ٹویٹر اکاؤنٹس کو ختم کرنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی ہے اور ایسے لوگوں پر قانونی کارروائی کرنے اور خواتین کے تئیں حساس بنانے کی خاطر کیا کیا قدم اٹھائے گئے ہیں؟‘

جواب میں خواتین واطفال کی ترقی کی وزیر سمرتی ایرانی نے تحریراً بتایا کہ اس طرح کے معاملوں سے نمٹنے کے لیے وزارت برائے خواتین واطفال کی ترقی نے ایک ای میل آئی ڈی دیا ہے، جس پر اس طرح کے معاملوں کی شکایت بھیجی جا سکتی ہے۔ یہ ای میل آئی ڈی complaint-mwcd@gov.in ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ آئی ایکٹ 2000 میں نقالی کے ذریعہ دھوکہ دہی (سیکشن 66 ڈی) رازداری کی خلاف ورزی (دفعہ 66 ای) الیکٹرانک شکل میں فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل (دفعہ 67) الیکٹرانک شکل میں جنسی حرکتوں پر مشتمل مواد کی اشاعت یا ترسیل وغیرہ (دفعہ 67 اے) الیکٹرانک فارم جنسی حرکتوں وغیرہ میں بچوں کی عکاسی کرنے والے مواد کی اشاعت یا ترسیل (دفعہ 67 بی) میں سزا مقرر ہے۔

وہیں وزارت داخلہ امور، نربھیا فنڈ کے تحت ’’Cyber Crime Prevention against Women and Children ‘‘ (سی سی پی ڈبلیو سی) نام سے ایک اسکیم چلاتی ہے، جس کے تحت عصمت دری کی تصاویر یا جنسی طور پر واضح مواد، چائلڈ پورنوگرافی یا بچوں سے جنسی استحصال کرنے والے مواد سے متعلق شکایتوں کی اطلاع دینے میں عام عوام کو اس قابل بنانے کے لیے ایک آن لائن سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) کی شروعات کی گئی ہے۔ اس پورٹل میں عوام کو ہر طرح کے سائبر جرائم درج کرانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ شہریوں کے لیے اپنی زبان میں آن لائن شکایات درج کروانے میں ان کی مدد کے لیے ٹول فری نمبر 155260 بھی موجود ہے۔ وہیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کو فحش، عصمت دری وغیرہ کی بات کرنے والی پوسٹ کو ہٹانے کے لیے آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 79 (3) (بی) کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو نوٹس جاری کرنے کے لیے حکومت ہند کی ایک ایجنسی کے طور پر نوٹیفائڈ کیا گیا ہے۔

وہیں دس مارچ 2021 کو لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے تحریری طور پر بتایا ہے کہ سال 2019 میں پورے ملک میں خواتین کے خلاف سائبر کرائم کے کل 8379 معاملے درج ہوئے ہیں۔ جس میں صرف 2551 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کی گئی اور محض اکیاون معاملوں کو مجرم ٹھہرایا گیا۔ ان اکیاون معاملوں میں 3694 افراد کی گرفتاری ہوئی اور ان میں 3195 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی اور ان میں صرف ستر افراد مجرم قرار دیے گئے۔

اس تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت نوٹیفائڈ انفارمیشن ٹکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنس اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھیکس کوڈ) رولز، 2021 اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کمپیوٹر وسائل کے صارفین کو ایسی کوئی بھی پوسٹ اپ لوڈ، ترمیم، شائع، نشر، ترسیل، اپ ڈیٹ یا شیئر نہ کرنے کی انفارمیشن دے گا جو کسی بھی طرح سے فحش، پورنو گرافک، پیڈو فیلک، بچوں کے لیے نقصان دہ یا اس کے لیے موجود قانون کی خلاف ورزی کرتی ہو۔ یہ رول متعلقہ فرد کی جنسی رازداری، جنسی طور پر واضح یا مورفڈ تصاویر سے جڑی مواد کی رپورٹنگ، اس کو ہٹانے کا ایک robust grievance redressal mechanism فراہم کرے گی۔

خیال رہے کہ سال 2018 میں اقوام متحدہ نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ خواتین کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنائیں تاکہ وہ آزادی اظہار کا اپنا حق استعمال کر سکیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے آن لائن ہراساں کرنے کو سائبر کرائم کا درجہ دیتے ہوئے اسے کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔ لیکن ہمارے ملک ہندوستان میں ایسی سنجیدگی دور دور تک نظر نہیں آتی۔ بلکہ یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ اس کام میں ملوث لوگوں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے اسی لیے پولیس بھی ان پر کوئی خاص کارروائی نہیں کرتی۔

***

اس طرح کے معاملوں سے نمٹنے کے لیے وزارت برائے خواتین واطفال کی ترقی نے ایک ای میل آئی ڈی دیا ہے، جس پر اس طرح کے معاملوں کی شکایت بھیجی جا سکتی ہے۔ یہ ای میل آئی ڈی complaint-mwcd@gov.in ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ آئی ایکٹ 2000 میں نقالی کے ذریعہ دھوکہ دہی (سیکشن 66 ڈی) رازداری کی خلاف ورزی (دفعہ 66 ای) الیکٹرانک شکل میں فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل (دفعہ 67) الیکٹرانک شکل میں جنسی حرکتوں پر مشتمل مواد کی اشاعت یا ترسیل وغیرہ (دفعہ 67 اے) الیکٹرانک فارم جنسی حرکتوں وغیرہ میں بچوں کی عکاسی کرنے والے مواد کی اشاعت یا ترسیل (دفعہ 67 بی) میں سزا مقرر ہے۔
وہیں وزارت داخلہ امور، نربھیا فنڈ کے تحت ’’Cyber Crime Prevention against Women and Children ‘‘ (سی سی پی ڈبلیو سی) نام سے ایک اسکیم چلاتی ہے، جس کے تحت عصمت دری کی تصاویر یا جنسی طور پر واضح مواد، چائلڈ پورنوگرافی یا بچوں سے جنسی استحصال کرنے والے مواد سے متعلق شکایتوں کی اطلاع دینے میں عام عوام کو اس قابل بنانے کے لیے ایک آن لائن سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) کی شروعات کی گئی ہے۔ اس پورٹل میں عوام کو ہر طرح کے سائبر جرائم درج کرانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 18 تا 24 جولائی 2021