روس نے ان ممالک کو تیل کی سپلائی پر پابندی عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے جو قیمتوں پر حد نافذ کرتے ہیں

نئی دہلی، دسمبر 28: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کے روز ایک حکم نامے کی منظوری دے دی ہے جس میں ان ممالک کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اپنے معاہدوں میں قیمتوں کی حد مقرر کرتے ہیں۔

تیل کی سپلائی پر یہ پابندی یکم فروری 2023 سے نافذ العمل ہوگی اور اگلے پانچ ماہ تک برقرار رہے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات پر پابندی کی وضاحت وزراء کی کابینہ بعد میں کرے گی۔

یہ پیش رفت جی 7 ممالک– کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ یورپی یونین کے اس عمل کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں 5 دسمبر کو یوکرین پر ماسکو کے حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر روس کے سمندری کچے خام تیل پر 60 ڈالر فی بیرل کی قیمت مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے بعد تیل برآمد کرنے والے دوسرے بڑے ملک کے طور پر تیل کا کاروبار روس کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کی فروخت میں خلل ڈال کر، G7 ممالک بالواسطہ طور پر ماسکو کی یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے مالی امداد کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

یوروپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ ’’تیل کی قیمت کی حد سے متعلق یورپی یونین کا معاہدہ، G7 اور دیگر کے ساتھ مل کر روس کی آمدنی میں نمایاں کمی کرے گا۔ اس سے ہمیں توانائی کی عالمی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘

منگل کو روس نے کہا کہ اس حکم نامے پر امریکہ، دیگر غیر ملکی ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے روسی تیل اور تیل کی مصنوعات پر قیمتوں کی حد مقرر کرنے کے لیے کیے گئے ’’غیر دوستانہ اقدامات‘‘ کے جواب میں دستخط کیے گئے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ستمبر میں پوتن نے مغرب کو خبردار کیا تھا کہ اگر ملک کی تیل اور گیس کی برآمدات پر قیمتوں کی حدیں لگائی گئیں تو روس یورپ کو سپلائی بند کر دے گا۔