این آر سی اور سی اے اے کے نام پر کروڑوں کا گھپلا ۔۔۔

حکومت کا موقف بظاہر سخت لیکن آسام این آر سی پر اٹھنے والے سوالات نے معاملے کی پول کھول دی

شبانہ جاوید ،کولکاتہ

عام انتخابات سے پہلے ایک بار پھر سی اے اے اور این آر سی کے نام پر لوگوں کو ہراساں کرنے کی منظم سازش کا آغاز
شہریت ترمیمی ایکٹ کے فرضی بیانیے کےپیچھے نہ صرف ملک کا پیسہ برباد کیا گیا بلکہ کئی انسانی زندگیوں کے ساتھ بھی کھیل کھیلا گیا
مشرق کا حال
کسی بھی ملک کے باشندوں کا دوسرے ملک میں غیر قانونی رہائش اختیار کرلینا ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی دراندازی ہمارے ملک بھارت کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جسے سیاسی جماعتیں ہتھیار بنا کر مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بنگلہ دیشیوں کے نام پر بھارتی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہراساں کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں مختلف مذاہب اور مختلف زبانوں کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ مختلف زبانوں میں ایک اہم زبان بنگلہ بھی ہے جو بنگالیوں کی مادری زبان ہے لیکن اس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں، بالخصوص مسلمانوں کو بنگلہ دیشی ہونے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں کام کرنے والے بنگالی مزدوروں پر زبان کی بنیاد پر نہ صرف بنگلہ دیشی ہونے الزام لگایا جاتا ہے بلکہ انہیں جیلوں میں بھی بند کر دیا جاتا ہے۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں گزارے ہیں۔ بنگلہ دیش بھارت کا پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط ہیں۔ کاروبار اور علاج کے لیے بنگلہ دیشی بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ ہوائی جہاز اور ٹرین سروسز کے علاو کولکاتہ سے ہر دن بسیں بھی چلتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بنگلہ زبان کے نام پر بھارت کے بنگالی مسلمانوں کو ایک بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ این آر سی کا اصل قانون بھی بنگلہ دیشی در اندازی معاملے کو سامنے رکھ کر ہی بنایا گیا تھا کیونکہ آسام میں غیر قانونی طریقے سے رہنے والے بنگلہ دیشیوں کے خلاف مقامی لوگوں کے چھ سال طویل احتجاج کے بعد Assam accord سائن ہوا اور 1986 میں شہری قانون میں تبدیلی کر کے شہری قانون سیکشن 6A کے تحت یکم جنوری 1966 سے قبل ہندوستان میں قیام پذیر لوگوں کو ہندوستانی شہری تسلیم اور یکم جنوری 1966 اور 25 مارچ 1971 کے درمیان آسام ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کو داخلے کی تاریخ کے دس سال بعد ہندوستانی شہری کے طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا اور ووٹ دینے کا حق دیا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی 1971 کے بعد ہجرت کر کے آسام آیا ہے جو کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی تاریخ بھی ہے تو foreigners tribunal کے تحت ان لوگوں کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے انہیں ڈیپورٹ کردیا جائے گا۔ اسی قانون کے تحت این آر سی بنائی گئی جو 1951 میں تیار کی گئی تھی۔ 2005 میں منموہن سنگھ کی حکومت میں اس پر میٹنگ ہوئی اور اسے اپڈیٹ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے 2014 میں آسام میں این آر سی کا عمل پورا کرنے کا حکم دیا اور 2015 میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں یہ عمل شروع ہوا۔ تین کروڑ 29 لاکھ لوگوں نے خود کو آسام کا شہری بتاتے ہوئے درخواست جمع کرائی۔ 30 جولائی 2018 میں شائع ہونے والے این آر سی ڈرافٹ میں 40 لاکھ لوگوں کے نام شامل نہیں تھے جس کے خلاف لوگوں کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایت پر 31؍ اگست 2019 میں این آر سی کا آخری ڈرافٹ جاری ہوا اس میں 19 لاکھ لوگ غیر ملکی قرار دیے گئے۔ اس فہرست میں ہندو بنگالیوں کے نام بھی شامل تھے۔ اس فہرست کے سامنے آنے کے بعد لوگوں کا احتجاج ہوا اور وہ پریشانیوں کا شکار ہو گئے۔ اپنے مستقبل کو لے کر پریشان درجن سے زائد لوگوں نے خود کشی کرلی۔ ایسے لوگ بھی اس فہرست میں شامل تھے جو سرکاری افسر تھے لیکن بیک جنبش قلم انہیں غیر ملکی قرار دے دیا گیا۔ لوگوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ این آر سی کے نام پر سیاسی روٹیاں بھی خوب سینکی گئیں۔ این آر سی کا خوف دکھا کر لوگوں کے اندر سب کچھ ختم ہونے کا ڈر پیدا کیا گیا۔ اسی وجہ سے اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔ کیا بچے کیا بوڑھے ہر ایک نے اس کالے قانون کی مخالفت کی۔ مہینوں احتجاج کیا گیا۔ کئی لوگوں کو قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی ماہر الوک دتا کے مطابق این آر سی کی تحریک نے ملک بھر کے لوگوں کو اس پر متحد کردیا۔ مرکزی حکومت کے لیے بھی اس کو نافذ کرنا آسان نہیں تھا اس لیے اس پر بات چیت کرکے اکثریتی طبقے کو خوش کرنے اور اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کی سیاسی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خود آسام میں جو این آر سی کی آخری ڈرافٹ جاری کی گئی وہ سوالات کے گھیرے میں ہے۔ آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن یعنی این آر سی کی آخری ڈرافٹ جاری ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی دستاویز کی تیاری کے عمل میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام سامنے آیا۔ یہ الزام آسام پبلیک ورکس کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ آسام میں این آر سی کے ڈائریکٹر پرتیک ہجیلا پر الزام ہے کہ این آر سی اپڈیٹ کے نام پر انہوں نے بڑی رقم خرد برد کی۔ آسام پبلیک ورکس نامی تنظیم نے سی بی آئی میں پرتیک ہجیلا پر الزام عائد کیا کہ این آر سی اپڈیٹ کے لیے مرکزی حکومت نے 16 سو کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا تھا جس کا غلط استعمال کیا گیا۔ جس کی چھان بین کی اپیل کی گئی ہے۔ اے پی ڈبلیو کے صدر ابھیجیت سرما نے دعویٰ کیا ہے کہ 12 جنوری 2014 سے 31 دسمبر 2019 کے درمیان این آر سی کے اسٹیٹ کوارڈینیٹر کے اکاؤنٹس پر کمپیوٹر کنٹرولر اور اڈیٹر جنرل کی ایک معائنہ رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ کروڑوں روپے کے فنڈس این آر سی لسٹ اپڈیٹ کرنے کے لیے دیے گئے جس کا غلط استعمال کیا گیا۔ تاہم سی بی آئی سی آئی ڈی اور مقامی پولیس کے پاس دس شکایات درج کروائی گئیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ این آر سی کو اپڈیٹ کرنے کے لیے فنڈس کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔ اگر حکومت واقعی سچائی سے پردہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو وہ ضروری اقدامات کر سکتی تھی۔ ابھیجیت سرما کہتے ہیں کہ اے پی ڈبلیو نے اب اس معاملے پر گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نومبر 2019 میں موجودہ چیف منسٹر ہمنتا بسوا سرما جو اس وقت آسام کے وزیر خزانہ تھے ان پر بھی ایسا ہی الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اڈیٹر جنرل نے این آر سی اپڈیٹ کی جانچ کے دوران ایک بہت بڑے مالی گھپلے کی اطلاع دی تھی۔ این آر سی اپڈیٹ جو رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے ذریعے کرایا گیا مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو تقریباً 1600 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ وزیر نے دعوی کیا کہ سی اے جی نے مالی بے ضابطگیوں کے 16 نکات کو ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا۔ آسام پولیس کے انسداد بدعنوانی ونگ نے ریاست کے محکمہ داخلہ کو خط لکھ کر ہجیلہ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو فہرست میں جگہ دی گئی ہے جبکہ حقیقی لوگوں کو بنگلہ دیشی در انداز یعنی غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کورٹ نے ہجیلا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے این آر سی کی آخری ڈرافٹ پر جانچ کی اجازت دے دی تو سالوں کی محنت اور سرکاری خرچ جو لگ بھگ 16 سو کروڑ روپے تھا سب بے کار ہو جائے گا۔ ہجیلا پر الزام ہے کہ انہوں نے فنڈ میں خرد برد کی اور سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کیا۔ این آر سی کے لیے اسٹیٹ کوآرڈی نیٹر ہونے کے ناطے انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور این آر سی کی لسٹ سے چھیڑ چھاڑ کی، جھوٹے دستاویزات تیار کیے، لوگوں کو ہراساں کیا۔ ان کے خلاف شکایتوں کے علاوہ ایک ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔ اب ایک بار پھر لوک سبھا کے انتخابات سامنے ہے اور این آر سی اور سی اے پر لیڈروں کے بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے نے گزشتہ دنوں کہا کہ بنگلہ دیشی در اندازی کی وجہ سے مسلم آبادی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بہار، بنگال اور جھارکھنڈ میں مسلم آبادی بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا اور کہا کہ ان ریاستوں میں این آر سی نافذ کرنا چاہیے۔ اب ایسے میں ایک بار پھر این آر سی پر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے جبکہ حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک میں کتنے بنگلہ دیشی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ اب بی جے پی یوں این آر سی کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی کیونکہ این آر سی پر جتنی بیان بازی ہوگی اس کے خلاف ردعمل بھی سامنے آئے گا۔ سماجی کارکن محمد آزاد منڈل کہتے ہیں کہ این آر سی کے خلاف ردعمل اور احتجاج کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مسلمانوں کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے گا جس سے نہ صرف ملک کی فضا خراب ہو بلکہ اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا جا سکے کیونکہ جس طرح آسام میں این آر سی پر سوال اٹھائے گئے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فرضی بیانیے کے پیچھے نہ صرف ملک کا پیسہ برباد کیا گیا بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ بھی کھیل کھیلا گیا۔
***

 

***

 این آر سی کے خلاف ردعمل اور احتجاج کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی ملک کے مسلمانوں کو خاص انداز میں پیش کیا جائے گا تاکہ نہ صرف ملک کی فضا خراب ہو بلکہ اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا جائے کیونکہ جس طرح آسام میں ہوئی این آر سی پر سوال کھڑے کئے گئے ہیں اس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ فرضی مدعے کے پیچھے نہ صرف دیش کا پیسہ برباد کیا گیا بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ بھی کھیلا گیا۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 11 فروری تا 17 فروری 2024