وحشت و بربریت کا پانچواں مہینہ

امریکی عوام کا بڑا طبقہ اسرائیلی زیادتیوں کے خلاف بائیڈن حکومت سے نالاں

مسعود ابدالی

حماس کی 80فیصد سے زائد سرنگیں اب بھی محفوظ۔ کئی سرنگوں کو تباہ کرنے کا اسرائیلی دعویٰ
آتش و آہن کی بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے اسکولوں کا قیام کامیابی کی ضمانت ہے
غزہ پر آہن و آتش کی مسلسل بارش کا پانچواں مہینہ شروع ہوگیا، فی الحال یہ وحشت ختم ہوتی نظر نہیں آتی، اور ختم ہو بھی کیسے کہ عالمی عدالت سمیت کسی میں یہ ہمت نہیں کہ اسرائیل کا ہاتھ پکڑسکے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے سے ان وحشیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ ٹھوس شواہد و ثبوت کے باوجود عالمی عدالت نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کو نسل کشی قرار دے کر خونریزی فوری طور پر بند کرنے کا حکم دینے کے بجائے ‘احتیاط’ کی نصیحت کرتے ہوئے وضاحت کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ اس عرصے میں اسرائیل کو حملے جاری رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
اہل غزہ کا قتل عام جاری رکھنے کے لیے اتحادیوں نے خزانوں کے منہ کھول رکھے ہیں۔ ہر روز امریکہ کے تین دیو ہیکل مال بردار طیارے مہلک گولہ بارود لے کر تل ابیب اتر رہے ہیں۔ اس کارِ خیر میں اب جرمنی بھی سرگرم ہوگیا ہے اور ٹینکوں کے 15 ہزار گولے خصوصی پروزاوں سے اسرائیل پہنچا دیے گئے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کےساتھ اسرائیل کے عرب احباب بحری نقل وحمل میں تل ابیب کو کلیدی اعانت فراہم کررہے ہیں۔ ایشیا سے اسرائیل آنے والے جہازوں کا تیز ترین راستہ بحیرہ احمر ہے کہ یہاں سے شمال مشرق میں خلیج عقبہ کے دہانے پر اس کی ایلات بندرگاہ جبکہ بائیں جانب نہر سوئز سے گزر کر بحر روم کی اسرائیلی بندرگاہوں تک رسائی مل جاتی ہے۔ حوثی کارروائیوں کی بنا پر بحیرہ احمر اسرائیل کے لیے no go ایریا بن چکی ہے جس کی وجہ سے خلیج عقبہ اور نہر سوئر دونوں راستے عملاً مسدود ہیں۔ اسرائیل کے عبرانی چینل 13 نے انکشاف کیا ہے کہ اب اسرائیل آنے والے جہاز خلیج عدن سے بحیرہ احمر کی طرف جانے کے بجائے دائیں جانب خلیج اومان میں متحدہ عرب امارات (UAE)کی خوفکان اور فجیرہ کی بندرگاہوں پر مال اتار رہے ہیں جہاں سے ٹرکوں کے ذریعے سعودی عرب اور اردن کے راستے یہ سامان اسرائیل پہنچایا جارہا ہے۔ یعنی اہل غزہ کے قتل عام میں گوری اقوام کےساتھ اسرائیل کے عرب دوست بھی مقدور بھر حصہ لے رہے ہیں۔
جہاں متحدہ عرب امارات، درآمدی محصولات و بندرگاہ اخراجات اور سعودی عرب و اردن راہداری کی مدمیں اہل غزہ کے لہو کی قیمت وصول کررہے ہیں وہیں غزہ جانے والے امدادی ٹرکوں نے آمرِ مصر جنرل السیسی کے لیے کمائی کا ایک نیا کھاتہ کھول دیا ہے۔ امداد بھیجنے والے اداروں نے الزام لگایا ہے کہ مصری فوج سے وابستہ جنرل انٹلیجنس سروس (GIS) غزہ جانےوالے سامان پر 5000 ڈالر فی ٹرک حفاظتی فیس وصول کر رہی ہے۔
جنگ بندی سے تو کسی کو دلچسپی نہیں لیکن غزہ میں زیرحراست اسرائیلی قیدی چھڑانے کے لیے امریکہ، یورپی یونین، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں پیرس میں تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مذاکرات کا مقصد وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو پر مقامی دباو کم کرنا ہے۔ محاذ جنگ سے ٹوٹے پھوٹے ٹینکوں کی آمد، جلی ہوئی لاشوں اور نشان عبرت بنے معذور جوانانِ رعنا کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ نتن یاہو اپنی قوم کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے حماس کو قیدیوں کی رہائی پر مجبور کر دینگے، لیکن لواحقین کے مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے اور قیدیوں کی واپسی کےساتھ اب ان کی کی رخصتی کا مطالبہ بھی شروع ہوچکا ہے۔
ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم یہودا براک نے ہاتھ جوڑ کر کہا ‘ یاہو خدا کے واسطے جان چھوڑ دو’۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نتن یاہو اقتدار سے چمٹے رہے تو اسرائیل غزہ کی دلدل میں غرق ہو جائے گا۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کے لیے مہلت تیزی سے ختم ہورہی ہے۔غزہ سے سر ٹکراتے سو دن گزر گئے۔ اب نئی سوچ اور اپروچ کی ضرورت ہے۔ اگر نتن یاہو ملک سے مخلص ہیں تو غلطی تسلیم کرکے گھر چلے جائیں اور اسرائیلی عوام کونئی قیادت منتخب کرنے کا موقع دیں۔
اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے عوض عارضی جنگ بندی اور امدادی سامان کی غزہ روانگی میں سہولت کاری کے وعدے کیے جارہے ہیں جب کہ مستضعفین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی غزہ سے واپسی اور آئندہ حملہ نہ کرنے کے وعدے کی سلامتی کونسل سے ضمانت کے بعد ہی قیدیوں کے تبادلے پر بات ہوگی۔ دو ریاستی فارمولے کو مستضعفین نے مہمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہل غزہ نے بلدیاتی اختیارات حاصل کرنے کے لیے 25 ہزار معصوم جانوں کی قربانی نہیں دی، ہمیں نہر سے بحر تک فلسطین کے سوا کچھ قبول نہیں۔
تین فروری کو نتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے امن تجاویز حماس کو بھیج دی گئیں ہیں جس کا جواب جلد متوقع ہے۔ اسی ضمن میں ترک صدر کے مشیر سلامتی ابراہیم کالن نے قطر میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے ملاقات کی ہے۔ عرب ذرائع سے باتیں کرتے ہوئے امریکی حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چھ ہفتے جنگ بندی اور قیدی رہا ہوجانے کے بعد نتن یاہو کے پاس جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کوئی جواز نہ ہوگا۔
جواز و دلیل ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو خود کو کسی فورم پر جواب دہ سمجھتے ہوں۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ فوج کی سرپرستی میں حوّارہ کے فلسطینیوں پر پتھراؤاور فائرنگ کرنے والے چار انتہا پسند قبضہ گردوں (settlers) کی اسرائیلی میڈیا پر تصویر دیکھ کر امریکی صدر نے جب ان کےخلاف تادیبی پابندیاں (Sanctions) عائد کیں تو نتن یاہو اور ان کے اتحادی سخت مشتعل ہو گئے۔ ایوان وزیراعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیاکہ ‘ علاقے کے باسیوں کی عظیم اکثریت پرامن اور قانون پر عمل کرنے والوں کی ہے۔ یہاں کے بہت سے نوجوان غزہ میں اسرائیل کا دفاع کررہے ہیں۔ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی کا نظام موجود ہے اور اس تناظر میں امریکی صدر کا یہ قدم غیر ضروری ہے۔ وزیر خرانہ اسموٹرچ نے اس پر ایک ردا مزید لگاتے ہوئے کہا کہ اپنا دفاع کرنے والے معصوم اسرائیلیوں پر پابندی لگاکر امریکی صدر پُرامن آباد کاروں پر حملوں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔
غزہ میں پائیدار جنگ بندی اس لیے بھی بہت مشکل لگ رہی ہے کہ نتن یاہو سرکار کے انتہا پسند اتحادی غزہ سے فلسطینیوں کو نکال کر وہاں اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کے لیے انتہائی پرعزم ہیں۔ گزشتہ ہفتہ ان کے دفتر کے باہر قدامت پسندوں نے زبردست مظاہرہ کیا جس کی قیادت 12 وزراء کر رہے تھے۔ مظاہرین نے ’’غزہ خالی کراؤ، بحیرہ روم ہمارا ہے‘‘ کہ نعرے لگائے۔ جلوس کے سامنے ایک بڑے بینر پر عبرانی میں درج تھا کہ ’’فلسطینیوں کا غزہ سے انخلا ہی پائیدار امن کا ضامن ہے‘‘
اسرائیلی فوج کی خون آشامی، کچھ عرب ممالک سمیت ساری دنیا کا تعاون اور انتہا پسندوں کی جانب سے غزہ کو چٹیل میدان بنادینے کے دعوٰی ایک طرف لیکن بدترین قتل عام کے باوجود اسرائیل عسکری فتح سے ابھی کافی دور ر ہے۔ اس کے فوجی اعلامیوں میں ہر روز ایک نئی سرنگ کے انکشاف اور تباہی کی باتصویر خبر شائع ہوتی ہے۔ غزہ کے اسپتالوں، مساجد ، جامعات اور مفاد عامہ کے عمارات اسی جواز پر تباہ کی گئیں کہ ان کے نیچے سرنگوں کے دہانے ہیں۔ بہت سی قبضے میں لی گئی سرنگوں کا امریکی صحافیوں کو دورہ بھی کروایا گیا۔ ان سرنگوں کو بحر روم کے پانی سے بھرنے کے لیے جدید پمپ اور بکتر بند مواد میں لپٹے پائپ امریکہ نے فراہم کیے ہیں۔ لیکن وال اسٹریٹ جرنل نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا کہ 114 دن گزر جانے کے بعد بھی 80 فیصد سے زیادہ سرنگیں صحیح سلامت اور اہل غزہ کے قبضے میں ہیں جن تک رسائی تو کیا اسرائیلیوں کو ان کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ اہل غزہ نے حملہ آوروں کو پھانسنے کے لیے جعلی سرنگیں کھود رکھی ہیں جو دراصل آگ کے گڑھے ہیں جن کی زد میں آکر درجنوں اسرائیلی سپاہی راکھ بن گئے۔
اس حوالے سے اسرائیلی میڈیا پر ایک بڑی دلچسپ خبر کتوں کے بارے میں شائع ہوئی ہے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ دور حاضر کی جنگوں میں کتے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج غزہ میں سرنگوں کے سراغ اور دھماکہ خیر مواد برآمد کرنے کے لیے امریکی نسل کے تربیت یافتہ کتے بھی لائی ہے۔ دوسری جانب اہل غزہ کے یہاں کتے پالنے کا رواج نہیں لیکن اسرائیلی فوج کے غزہ میں قدم رکھتے ہی مقامی آوارہ کتے میدان میں آگئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے کتے ہمارے کتوں کی طرح سمجھدار تو نہیں لیکن بہت بہادر، لڑاکا اور خونخوار ہیں۔ ہمارا کتا غزہ کے کسی کتے کی گرفت میں آجائے تو اپنی ہلاکت کے باوجود وہ اسرائیلی کتے کی گردن میں دانت گاڑے رکھتا ہے ۔
میدان جنگ کی خبروں پر شدید سنسر کے باوجود اسرائیلی فوج میں تھکن کی خبریں اسرائیلی میڈیا پر بھی آرہی ہیں، کئی بریگیڈ کی واپسی کے بعد اسرائیلی فوج نےاپنے مایہ ناز Kfir بریگیڈ کو آرا کے لیے غزہ سے واپس بلالیاہے۔ پیادہ فوج پر مشتمل یہ بریگیڈ خان یونس میں تعینات تھا۔شدید جانی نقصان کی بنا پر پیادہ اور ہلکے بکتر بند دستوں پر مشتمل چھ بریگیڈ اس سے پہلے واپس بلائے گئے ہیں۔ دو فروری کو اسرائیلی فوج نے اپنے ٹینکوں کے غزہ سے واپس ہونے کی تصاویر شائع کی ہیں جن میں یہ ٹینک بوسیدہ نظر آرہے ہیں۔ اس حوالے سے عسکری حلقوں میں یہ لطیفہ بھی عام ہے کہ اہل غزہ کے تیار کردہ راکٹوں کے ہاتھوں ایک کروڑ ڈالر کے Merkava ٹینک کا حشر دیکھ کر فلپائن اور دوسرے خریدار اب اسرائیلی ٹینکوں کے بجائے 200 ڈالر کے یاسین RPG خرید رہے ہیں۔
میڈیا اور امریکی قیادت پوری طرح اسرائیل کی پشت پر ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی آہستہ اہستہ واضح ہونے لگا ہے۔ اسویسی ایٹیڈ پریس اور جامعہ شکاگو کے ادارے NATIONAL OPINION RESEARCH CENTER یا NORC نے دو فروری کو رائے عامہ کا جو جائزہ شائع کیا ہے اس کے مطابق 50 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائی حد سے گزر چکی ہے۔ نومبر میں یہ خیال 40 فیصد امریکیوں کا تھا۔ اس سروے کی اہم بات یہ ہے کہ اب ریپبلکن پارٹی سے وابستہ افراد کی رائے بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ نومبر میں 18 فیصد ریپبلکن سمجھتے تھے کہ اسرائیل زیادتی کررہا ہے۔ اب یہ تناسب 33 فیصد ہوچکا ہے۔
اسی عوامی دباو کا نتیجہ ہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی اجتماع (Caucus) نے ایک قرارداد کی منظوری دی جس میں (فلسطین و اسرائیل) دو ریاستی فارمولے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ رائے شماری کے دوران 51 میں سے 49 سینیٹروں نے تحریک کی حمایت کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مضبوط و مستحکم جمہوری اسرائیل کے شانہ بشانہ فلسطینی امنگوں کی ترجمان آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست مشرق وِسطی میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔
تباہی و بربادی کے باوجود اہل غزہ مایوس نہیں۔ یکم جنوری سے نئے تعلیمی سال کا آغاز اس شان سے ہوا کہ پٹی کا کوئی بھی اسکول، جامعہ، لائبریری، طباعتی مرکز بچوں کا تفریحی پارک سلامت نہیں۔ اساتذہ کی بڑی تعداد بھی شہید ہوچکی لیکن سخت جان اور پُرعزم اہل غزہ کہاں ہار ماننے والے ہیں۔ آتش و آہن کی موسلا دھار بارش میں کھلے آسمان تلے اسکول قائم کردیے گئے ہیں جہاں باقاعدگی سے کلاسیں شروع ہوچکی ہیں۔ اسی مثبٹ نوٹ پر ہم یہ گفتگو ختم کرتے ہیں کہ ایمان اور علم ہی کامیابی کے ضامن ہیں۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
***

 

***

 تباہی و بربادی کے باوجود اہل غزہ مایوس نہیں۔ یکم جنوری سے نئے تعلیمی سال کا آغاز اس شان سے ہوا کہ پٹی کا کوئی بھی اسکول، جامعہ، لائبریری، طباعتی مرکز بچوں کا تفریحی پارک سلامت نہیں۔ اساتذہ کی بڑی تعداد بھی شہید ہوچکی لیکن سخت جان اور پُرعزم اہل غزہ کہاں ہار ماننے والے ہیں۔ آتش و آہن کی موسلا دھار بارش میں کھلے آسمان تلے اسکول قائم کردیے گئے ہیں جہاں باقاعدگی سے کلاسیں شروع ہوچکی ہیں۔ اسی مثبٹ نوٹ پر ہم یہ گفتگو ختم کرتے ہیں کہ ایمان اور علم ہی کامیابی کے ضامن ہیں۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 11 فروری تا 17 فروری 2024