معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوے جھوٹ کا پلندہ

اس دروغ گوئی کا مقابلہ کون کرے؟

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

سنگھی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے اس کا پورا زور جملہ بازی پر ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے کی بازی گری اسے خوب آتی ہے۔ وزیر مالیات سیتا رمن نے ملک کی معاشی ترقی پر بلند بانگ دعویٰ جھوٹ کا پلندہ قرطاس ابیض کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جس میں موجودہ حکومت نے ملک کی تمام تر مشکلات اور پریشانیوں کا ذمہ دار کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے حکومت کو قرار دیا اور این ڈی اے حکومت کو ملک میں ہونے والی سماجی، معاشی، تعلیمی ترقی کا واحد عامل قرار دیا جو خود نمائی کی جھوٹی کوشش ہے اور قرطاس ابیض میں پیش کیا گیا غلط ڈیٹا حکومت کی بدحواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان دہ ڈیٹا جسے اعداد کا الٹ پھیر کہا جاسکتا ہے قرطاس ابیض میں اپنی معاشی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یو پی اے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بے سمتی کو گن گن کر اجاگر کرنا ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مودی کے دس سالہ دور حکومت کے معاشی کارناموں و دیگر ترقیوں کا تذکرہ کیا جاتا۔ یو پی اے کے دس سالہ دور اقتدار میں ملک نے کس قدر معاشی ترقی کی اس کے لیے عوام کے سامنے بلیک پیپر (قرطاس اسود) پیش ہوا ہے۔ یو پی اے اور این ڈی اے کا اگر تقابلی موازنہ کیا جائے تو کئی پہلوؤوں سے یوپی اے کا مظاہرہ بہتر رہا ہے۔ این ڈی اے کے دور میں ناقص اور غلط معاشی پالیسیوں اور معاشی معاملات سے نمٹنے میں ناقابل یقین بد انتظامی سامنے آئی ہے کیونکہ کروڑوں کنبوں کی بچت بہت نیچے گر گئی ہے۔ حکومت نے اپنے کارپوریٹ دوستوں کے لیے بینک قرضوں کی اجرائی میں بڑی چابک دستی دکھائی تاکہ ہزاروں کروڑ روپیوں کے ناجائز الکٹورل بانڈس حاصل کیے جاسکیں۔ ڈیٹا کے مطابق یو پی اے کے دور اقتدار میں 2.2 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف کیے گئے جبکہ بھاجپا کی این ڈی اے حکومت میں 14.56 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف کیے گئے۔ شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کے مصارف پر بڑے پیمانے پر کمی کی گئی۔ شعبہ صحت میں دونوں حکومتوں کے صرفے سے تقریباً جی ڈی پی کا دو فیصد ہی رہا جبکہ تعلیم پر یو پی اے حکومت میں جملہ مصارف 4.6 فیصد رہے۔ اس کے برخلاف بی جے پی کے زیر قیادت تعلیمی شعبہ پر صرفہ محض 2.9 فیصد ہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ فرسٹ فاونڈیشن کے Annual Status of Education Report کا ڈیٹا ملک کے تعلیمی انفراسٹرکچر کے حالت زار کو بیان کرتا ہے جسے ’’ہفت روزہ دعوت ‘‘ کے 11 تا 17 فروری کے شمارے میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ یو پی اے دور حکومت میں جی ڈی پی شرح نمو پرانی سیریز میں 7.46 فیصد رہی تھی۔ اس کے برعکس مودی دور حکومت میں جی ڈی پی کی شرح نمو 5.9 فیصد رہی ہے۔ اس طرح مالی خسارہ منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں 4.5 فیصد رہا جبکہ مودی کے دور حکومت میں 5.8 فیصد درج کیا گیا۔ قومی قرض (National Debt) جس کی زد ملک کے ہر شہری پر پڑتی ہے یو پی اے کے دور حکومت میں یہ 58.6 لاکھ کروڑ روپے تھا جو 2014-2024 کے دوران 17.33 لاکھ کروڑ روپے ہوگیا۔ کنبوں کی بچت یو پی اے کے دس سالہ دور حکومت میں 23.0 فیصد تھی جبکہ این ڈی اے کے دور اقتدار میں گرکر 19 فیصد پر آگئی۔ روزگار کے محاذ پر این ڈی اے حکومت بری طرح ناکام رہی ہے جو قابل تشویش ہے۔ دو کروڑ سالانہ روزگار دینے کے جھوٹے وعدے پر بی جے پی اقتدار میں آئی لیکن اب بے کار نوجوان سڑکوں پر نظر آرہے ہیں۔ 25 سال سے کم عمر کے 42 فیصد گریجویٹس روزگار کے لیے سرگرداں ہیں روزانہ دس فیصد بے روزگار لوگوں کی خبر اخباروں میں برابر چھپتی رہتی ہے۔ ہریانہ کے پانچ ہزار نوجوان اب نوکری کے لیے جان کو خطرہ میں ڈال کر جنگ زدہ اسرائیل جانے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔
مودی حکومت کانگریس مکت بھارت کی تمنا کرتے کرتے تھک گئی، اب تو وہ لغو الزام تراشی پر اتر آئی ہے۔ یو پی اے کے دس سالہ دور اقتدار میں ملک کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ موجودہ وزیر مالیات نے منموہن سنگھ کے دور حکومت پر قرطاس ابیض جاری کرکے بتایا کہ گزشتہ حکومت نے معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس غلط بیانی پر ساری دنیا حیران و پریشان رہ گئی۔ ایک ناکام کوشش یہ بھی کی کہ نریندر مودی، ڈاکٹر منموہن سنگھ سے بھی بڑے ماہر معاشیات ہیں۔ قرطاس ابیض میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ مودی نے ڈوبتی ملکی معیشت کو کنارے پر لانے کی کوشش کی۔ زور زور سے ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریسی دور حکومت میں ملکی معیشت دنیا بھر میں 10ویں معیشت بھی وہ بہتر ہوکر آج پانچویں بڑی معیشت بن چکی ہے اور مودی کا دعویٰ ہے کہ ہم چند سالوں میں دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائیں گے۔ اس طرح 2047 تک ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا کیونکہ ہماری شرح بڑی تیزی سے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ مگر زمینی سطح پر مہنگائی ، کسانوں، مزدوروں اور خواتین کے حال زار سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔ کسان اپنی جائز مانگوں کو لے کر گزشتہ دو سالوں سے
حکومت کے کالے قوانین کے خلاف تحریک چلارہے ہیں۔ دو سال قبل 700 کسانوں نے اپنی مانگ کو لے کر جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنی اگائی ہوئی فصلوں کے لیے کم سے کم سپورٹ پرائس کی حکومت سے حسب وعدہ گارنٹی مانگ رہے ہیں۔ مگر حکومت اپنے کارپوریٹ دوستوں کے مفادات کے خاطر کسانوں پر مظالم ڈھارہی ہے ۔ملک میں ہر سال لاکھوں کسان زارعت کے لیے ، لیے گئے قرضوں کی ادائیگی نہ کرپانے پر خود کشی کرلیتے ہیں۔ سماجی اور معاشی عدم مساوات بہت زیادہ ہے۔ فی کس آمدنی جی 20 ممالک میں سب سے کم ہے۔ قرطاس ابیض حکومت نے اسے نظر انداز کرکے محض یہ واضح کیا ہے کہ جی 20 ممالک میں معیشت کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں دو لاکھ 16ہزار لوگوں کی آمدنی ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ ملک کی بڑی آبادی نان شبینہ کو ترستی ہے۔ مودی حکومت کے گزشتہ دس سالوں میں مہنگائی نے غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے۔ آٹا یو پی اے دور حکومت میں 22 روپے فی کلو تھا جو اب بڑھ کر 35 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ سرسوں کا تیل 90 روپے فی کلو تھا جو اب 143روپے فی کلو ہوگیا ہے۔ اسی طرح غذائی اجناس کی قیمتیں کھلے بازار میں آسمان چھو رہی ہیں۔ راشن کی دکانوں سے کم قیمت پر اناج کی خریداری کرتے ہیں تو اس میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے راشن کے اناج کو چھوڑ کر کم ہی مقدار میں اناج سپر مارکیٹ سے خریدنے کو لوگ ترجیح دیتے ہیں۔ جس سے ان کے کھانے کے اوقات اور مقدار کو کم کرنا پڑتا ہے۔ ان کی اس خراب صورتحال کی عکاسی ایف اے او، یونیسف، آئی ایف اے ڈی،ڈبلیو ایف پی، ڈبلیو ایچ او کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹس سے ہوتی ہے جس میں پایا گیا ہے کہ چار میں سے تین بھارتی (یعنی ایک ارب لوگ) مقوی غذا کا خرچ برداشت نہیں کرپاتے ہیں۔ منریگا کے ذریعہ سو دنوں تک دیہی بے روزگاروں کو روزگار دینے کی بات کہی گئی تھی لیکن حکومت نریندر مودی کے ایڈورٹایزمنٹ پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کردیتی ہے۔ سرکاری فضول خرچ الگ ہے۔ اس لیے حکومت اب سالانہ 47 دنوں تک ہی روزگار دے پا رہی ہے۔ غربت کا عالم یہ ہے کہ گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہم برابر نچلے پائیدان پر آرہے ہیں۔ 2023 کے ہنگر انڈیکس میں 125ممالک میں ہمارا مقام 111واں ہے۔ ملک میں 23 کروڑ آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جو اس سے بہتر ہیں۔ انہیں زندہ رکھنے کے لیے حکومت نے 81 کروڑ لوگوں کو مفت راشن 2028 تک دینے کا اعلان کیا ہے۔ پروفیسر رگھو رام راجن کا کہنا ہے کہ مفت خوری کے بجائے حکومت کو روزگار پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ نریندر مودی کے حواریوں اور سنگھیوں کا طریقہ کار رہا ہے کہ وہ کبھی بھی سیدھی طرح جواب نہیں دیتے ۔ مہنگائی پر سوال کیا جاتا ہے تو نہرو کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور بے روزگاری کے لیے اندرا گاندھی کو۔ بھاجپائیوں اور گودی میڈیا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مودی کے دو کروڑ روزگار کی حقیقت کیا ہے؟ حکومت نے کبھی وضاحت نہیں کی کہ 2014 میں کتنی سرکاری نورکریاں تھیں اور حکومت نے اسے کم کرکے کہاں پہنچادیا۔ عوامی شعبہ کی بہت ساری صنعتوں کو اپنے دوستوں امبانی اور اڈانی کو ماٹی کے مول بیچ دیا۔ ان شعبوں میں جو روزگار تھے اس سے ہمارے ملک کے نوجوان محروم کر دیے گئے۔ مرکزی حکومت کبھی بھی اعلان کرتی نظر نہیں آئی کہ سرکاری نوکریوں کا سلسلہ کب سے شروع ہوگا؟ دس سالوں میں روزگار میں اضافے کے بجائے اسے تقریباً ناپید کرکے رکھ دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ مودی کے ایک دہائی کے کارنامے کسی طرح بھی قابل قدر نہیں ہیں ۔
***

 

***

 ملک میں دو لاکھ 16 ہزار لوگوں کی آمدنی ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ ملک کی بڑی آبادی نان شبینہ کو ترستی ہے۔ مودی حکومت کے گزشتہ دس سالوں میں مہنگائی نے غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے۔ آٹا یو پی اے دور حکومت میں 22 روپے فی کلو تھا جو اب بڑھ کر 35 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ سرسوں کا تیل 90 روپے فی کلو تھا جو اب 143 روپے فی کلو ہوگیا ہے۔ اسی طرح غذائی اجناس کی قیمتیں کھلے بازار میں آسمان چھورہی ہے۔ راشن کی دکانوں سے کم قیمت پر اناج کی خریداری کرتے ہیں تو اس میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے راشن کے اناج کو چھوڑ کر کم ہی مقدار میں اناج سپر مارکیٹ سے خریدنے کو لوگ ترجیح دیتے ہیں۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 3 مارچ تا 9 مارچ 2024