مشین کا سچ اورانسان کا جھوٹ

مصنوعی ذہانت کو بھی مفادات کے تئیں بدلا جاسکتا ہے!

ڈاکٹر سلیم خان

للن شرما نے کلن مشرا سے پوچھا یار یہ اپنے سندر پچائی کو کیا ہوگیا ؟
کلن بولا اس کو کیا ہوگا ؟ وہ تو گوگل کا ناظم اعلیٰ ہے ۔ ساری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کررہا ہے۔
کیا خاک نام روشن کررہا ہے ! اس نے اپنے پردھان جی کو ساری دنیا میں بدنام کردیا ہے۔
اس کی کیا مجال کے پردھان جی کی جانب ترچھی نظر سے دیکھے ۔ ہم لوگ کروڑوں روپے گوگل کواشتہار کے طورپر رشوت دیتے ہیں ۔
للن بولا بھیا کس دنیا میں رہتے ہو ہوش میں آؤ۔تمہیں پتہ ہے گوگل نے جیمنی نام سے مصنوعی ذہانت کا ایک ایپ بنایا ہے۔
ارے بھیا مجھ کو کسی نئے ایپ کی کیا ضرورت ؟ میرے لیے تو اپنی واٹس ایپ یونیورسٹی ہی کافی ہے۔
ابے کوئیں کے مینڈک ذرا باہر نکل کر دیکھ کہ ہمارے چہیتے پردھان جی کے خلاف کیا کیا سازشیں رچی جا رہی ہیں !
کلن بولا اچھا بھیا تم ہی بتا دو کہ آخر گوگل کے جیمنی نے ایسا کون سا مہا پاپ کردیا کہ جس سے تم اتنے پریشان ہو؟
بھائی اس پر کسی احمق نے پردھان جی کے بارے میں پوچھا کہ ’کیا مودی فاشسٹ ہیں‘ ؟
اچھا تو اس میں کیا مسئلہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ایپ پر توکوئی بھی جو مرضی ہو پوچھ سکتا ہے۔
للن نے کہا جی ہاں لیکن اس ایپ کا جواب تھا کہ ’ان پر ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کا الزام ہے جو کچھ ماہرین کے مطابق فاشزم ہے۔‘
اچھا، اس نے بغیر کسی ثبوت کے اتنا بڑا الزام لگا دیا ۔ ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔ پچائی کے دفتر پر دھرنا دیں گے بلکہ موقع پاکر توڑ پھوڑ بھی کردیں گے۔
اوہو کلن جوش میں نہ آؤ ۔ میں تمہیں کہہ چکا ہوں کہ پچائی کا دفتر ہندوستان میں نہیں امریکہ میں ہے اور تم وہاں اپنی من مانی نہیں کرسکتے۔
کیوں نہیں کرسکتے؟ وہ ہمارے پردھان جی کی توہین کردے اور ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟
بھیا دیکھو ایسا ہے کہ ہم وہیں شیرہوتے ہیں جہاں پولیس ہمارے ساتھ ہوتی ہے ورنہ ہمیں بھیگی بلی بن جانا پڑ جاتا ہے۔
کلن بگڑ گیا اور بولا کیا بکتے ہو؟ شیر ہر جگہ شیر ہوتا ہے وہ جنگل میں ہو یا چڑیا گھر میں کہیں بھی گھاس نہیں کھاتا۔ کیا سمجھے؟
ہاں بھائی وہ تواصلی شیر کی بات ہے ۔ ہم جیسے شیر کی کھال اوڑھ کر دہاڑنے والی لومڑیوں پر یہ اصول صادق نہیں آتا ۔ حقیقت پسند بنو۔
یار پچائی نے پردھان جی کی توہین کی اور تم پورے سنگھ پریوار کی اہانت کررہے ہو ۔ یہ تم لوگوں کو ہوکیا گیا ہے للن؟
مجھے کچھ نہیں ہوا ؟ تم خیالوں کی دنیا سے نکلو اور دیکھو ہمارا اختیار تو پنجاب پر بھی نہیں چلتا ۔ ہم جو کچھ ہریانہ میں کرسکتے ہیں وہ پنجاب میں ممکن نہیں ہے۔
کلن بولا یار تمہاری یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آئی۔
ارے بھیا ہم نے ہریانہ سے احتجاج کرنے والے کسان پر گولی چلاکر ڈھیر کردیااور پنجاب سرکار نے اس کے گھر والوں کو ایک کروڑ روپے دے دیا ۔ اب بولو؟
ہاں یار یہ تو بہت غلط ہوا جبکہ ہماری کٹھر سرکارتو ان کسانوں کے گھر پر بلڈوزر چلا کر اس کی زمین قرقی کرنا چاہتی تھی ۔
ہاں بھیا تمہاری طرح ہریانہ سرکار بھی بھول گئی تھی کہ یہ صوبائی وفاق کا ملک ہے اورکوئی ریاست تو دور مرکزی حکومت بھی داداگیری نہیں کرسکتی۔
کلن بولا بھیا للن ہمارے آئین میں موجود انہیں خرا بیوں کو دور کرنے کے لیے پردھان جی کا دوبارہ اقتدار میں آنا ضروری ہے۔
بھائی کلن یہ خرابی نہیں بلکہ خوبی ہے ۔ اسی کے سبب ملک متحد ہے اگر اس کو چھیڑنے کی کوشش گئی تو سارا تانا بانابکھر جائے گا ۔
ہاں یار تمہاری بات درست لگتی ہے کیونکہ ویسے بھی جنوبی ہند کو بی جے پی مکت کیا جاچکا ہے لیکن تم امریکہ سے پنجاب کیوں چلے گئے ؟
للن ہنس کر بولامیں نہ تو امریکہ گیا اور نہ پنجاب میں تو تمہارے سامنے رام کی نگری ایودھیا میں بیٹھا ہوا ہوں ۔
کلن بولا مجھے پتہ ہے لیکن میں یہ پوچھ رہا تھا کہ پردھان جی کے بارے میں سندرپچائی کے جیمنی نے بغیر کسی دلیل کے اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی؟
اس کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ہندو قوم پرست نظریہ، اس کے اقلیتوں کے خلاف تشدد اور اختلاف رائے کو کچلنے کی پالیسی کے سبب مودی فسطائی ہیں۔
کلن یہ سن کر سوچ میں پڑگیا اور بولا یار اس دورِ پر فتن میں ایسا کھرا سچ تو کوئی مشین ہی بول سکتی ہے ۔
کیوں انسان کیوں نہیں بول سکتا؟ کیا سندر پچائی بھی نہیں ، کیا بولتے ہو یار؟
عصرِ حاضر کا انسان لالچ اور خطرات کے پیش نظر سچ میں جھوٹ کی آمیزش کردیتاہے لیکن مشین کا کیا وہ ان دونوں آلائشوں سے بے نیاز ہے۔
للن نے سوال کیا اچھا ہم مشین کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے مگر اس کے بنانے والے سندر پچائی پر تو این ایس اے لگا کر جیل میں ڈال سکتے ہیں ؟
کلن قہقہہ لگا کر بولا ہوش کے ناخن لو للن ۔ سندر پچائی کب کا ہندوستانی پاسپورٹ پھینک کر امریکی شہریت لے چکا ہے ۔
اچھاتو کیا اب خالصتانی گرپتونت سنگھ پنو کی طرح اس پر بھی ہمارا کوئی زور نہیں چلے گا؟
جی ہاں اور اگر ہم نے زور آزمائی کرنے کی کوشش کی تو امریکہ بہادر پچائی کی حمایت میں ہمارے خلاف کھڑا ہوجائے گا۔
یار لیکن ہماری حکومت نے کچھ تو کیا ہی ہوگا؟ ہم اس طرح خاموش تماشائی بن کر کیسے بیٹھ سکتے ہیں ؟ پردھان جی نے ہمیں وشو گرو بنادیا ہے۔
کلن بولا ہاں بھیا وشو گرو ہونے کا بھرم رکھنے کی خاطرمرکزی وزیر مواصلات راجیو چندر شیکھر نے گوگل کے خلاف کارروائی کا اشارہ تودیا ہے۔
تو کیا ہندوستان نے امریکی سفیر کو بلا کر ڈانٹا یا واپس بھیجنے کی دھمکی دی؟
جی نہیں امریکہ کوئی مالدیپ تھوڑی ہے۔ اس سے ذرا سنبھل کر بات کرنی پڑتی ہے ،کیا سمجھے؟
للن نے سوال کیا اچھا بھائی یہ تو بتاؤ کہ احتیاط کے ساتھ ہمارے وزیر نے کیا اشارہ دیا؟
انہوں نے ایکس پرلکھا: ’یہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت 3 (بی) اور فوجداری قانون کی متعدد دفعات کے تحت براہ راست خلاف ورزی ہے۔‘
ارے بھیا ایسی خلاف ورزی کےخلاف کارروائی بھی تو ہونی چاہیے کیا بس ایک ٹویٹ سے کام چل جائے گا؟
جی نہیں ، گوگل کو اس معاملے میں نوٹس بھیجی جا رہی ہے۔
للن نے سوال کیا لیکن یار وزیر موصوف اپنی نوٹس میں کیا لکھیں گے؟
حکومت ہند اے آئی کی تربیت اور ذرائع کی تفصیل دریافت کرے گی کہ جن کی بنیاد پر جوابات تیار کیےجاتے ہیں نیز مذکورہ ’ماہرین‘ کون ہیں؟ وغیرہ
اچھا یار یہ بتاو کہ گوگل پر ہماری اس دھمکی کا کوئی اثر ہوگا یا نہیں؟
کیسے نہیں ہوگا ؟ گوگل نے اس پراپنے رد عمل میں کہا کہ اس نے جیمنی اے آئی ٹول کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ’فوری‘ کام شروع کردیا ہے۔
للن نے کہا یار یہ تو بہت ڈھیلا ڈھالا جواب ہے۔ کیا اس سے بات بن جائے گی؟
جی ہاں مگر گوگل نےیہ صفائی بھی پیش کی کہ جیمنی کو تخلیقی اور پیداواری ٹول کے طور پر بنایا گیا ہے اور یہ ہمیشہ قابل بھروسہ نہیں ہو سکتا۔
کیا مطلب؟ جب اپنے کام کی بولے تو اعتماد کرلیا جائے اور خلاف ہو تو مسترد کردیا جائے؟ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ کیااس میں کوئی خطِ امتیاز بھی ہے؟
جی ہاں گوگل کے مطابق حالات حاضرہ کے واقعات، سیاسی موضوعات، یا بدلتی ہوئی خبروں کے بارے میں اسے بہتر بنایا جارہاہے۔
للن ہنس کر بولا یعنی مشین کو بھی جھوٹ بولنا سکھایا جارہا ہے؟ مگر کیا یہ ممکن ہے؟؟
کیوں نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور زیلنسکی کے معاملے میں اس کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔
للن نے سوال کیا یار تمہاری بات میری سمجھ میں نہیں آئی؟ ذرا کھل کر بتاؤ۔
بھیا فسطائیت والا سوال جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں پوچھا گیا تو گوگل کی مصنوعی ذہانت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
واضح جواب نہیں دیا کا کیا مطلب؟ یہ بتاؤ کہ اس نے کیا جواب دیا ؟
کلن نے کہا زیلینسکی کے حوالے سے اے آئی کا جواب تھا ’یہ سوال پیچیدہ ہے، اس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔‘
یار یہ تو کسی سیاسی ترجمان جیسا گول مول جواب ہے۔ اچھا یہ اس دور کے سب سے معروف فسطائی رہنما ٹرمپ کے بارے میں جیمنی کی کیا رائے ہے؟
ٹرمپ پر بھی وہ لکھتاہے ’مسلسل بدلتی ہوئی معلومات کے درمیان انتخابات ایک پیچیدہ موضوع ہیں اور پھر وہ گوگل سرچ کی طرف بھیج دیتا ہے‘۔
یار یہ تو غضب تماشا ہے کہ اپنوں کے بارے میں یہ مشین کنیّ کاٹ جاتی ہے اور غیروں کی بابت بے دھڑک سچ بولتی ہے۔ انسان تو انسان مشین بھی۰۰
کلن بولا ہاں بھیا انسان اگر کوئی چیز بنائے گا تو اپنے جیسی ہی بنائے گا نا؟
للن نے کہا یہ بات تو درست ہے مگر مصنوعی ذہانت بھی کیا کرے ؟ اس کی بھی محدودیت اور مجبوری ہے۔
اچھا ! انسان کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے مگربے جان کو کیا مسئلہ ہوسکتاہے؟
بے جان کی مشکل یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کو جوڑ جاڑ کر اپنی ذہانت بگھار دیتا ہے یعنی جو مصالحہ ملتا ہے اسی کو بگھاردیا جاتا ہے۔
کلن بولا یار یہ تمہاری باورچی خانے کی مثال میرے سرکے اوپر سے نکل آگئی اس لیے ذرا آسان کرکے سمجھاؤ۔
بھیا بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مودی کی فسطائی پالیسیوں اور اقدامات کی بھرمار ہے ۔ جیمنی وہیں سے جواب نکال کر دے دیتا ہے۔
اچھا سمجھ گیا ۔ وہ اپنا دماغ میرا مطلب ہے کامن سینس استعمال نہیں کرتا۔
ارے بھائی کلن ہم انسان ہوکر استعمال نہیں کرتے تو بے چاری مشین کا کیا؟ اس کے پاس دماغ نام کی چیز ہی نہیں ہے۔
ہاں یار اسی لیے ہماری مخالفت پرلوگ الزام لگاتے ہیں کہ سچ خواہ کسی ذریعہ سے آئے ہندو راشٹر میں اس کا استقبال نہیں کیا جاتا۔
للن بولا لیکن بھیا غلطی ہماری بھی ہے ہم لوگ دن رات دوسروں کی مخالفت تو کرتے ہیں لیکن اپنے پردھان کی تعریف و توصیف نہیں کرتے ۔
ارے بھیا میں تو ہر روز اٹھنے کے ساتھ ہی ان کی آرتی اتارتا ہوں ۔ اب تم ہی بولو کہ اور کیا کروں؟
آرتی اتارنا چھوڑو اور دیکھو، ہمارے مخالفین انٹرنیٹ پرپہلے تو پوچھتے ہیں کہ ’کیا مودی فاشسٹ ہیں؟‘، ’کیا مودی کٹر ہیں؟‘، ’کیا مودی آمر ہیں؟‘
کلن جھنجھلا کر بولا ارے بھیا تو ہم ان کو سوال پوچھنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟
بھائی ان کی اس چال کو سمجھو۔ ایک سوال پوچھتا ہے اور دوسرا جواب دیتا ہے۔ اس طرح یہی بیانیہ چھا جاتا ہے اور بے چارے جیمنی کو مغالطہ ہو جاتاہے۔
چلو مان لیا لیکن اب ہم کیا کرسکتے ہیں؟
بھئی ہمیں سوال کرنا چاہیے کہ ’کیا واقعی مودی جمہوریت پسند ہیں؟‘، ’کیا وہ حقیقت میں انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں؟ ‘ وغیرہ
کلن بولا لیکن یار ایسے سوالات سے تو بات بگڑ جائے گی ۔ اس کے جوابات ہمیں مزید مشکل میں ڈال دیں گے۔
کیوں ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ انٹرنیٹ پر جھوٹ بولنے کی مکمل چھوٹ ہے۔ جو جتنا چاہتا ہے بول سکتا ہے اور ہم سے زیادہ جھوٹ کون بول سکتا ہے؟
ہاں یارلیکن اب ہمارے جھوٹ کا غبارہ پھوٹنے لگا ہے۔ عوام کا ہم پر سے اعتماد اٹھنے لگا ہے ۔ وہ ہماری باتیں سن کر ہنسنے بلکہ ہنسی اڑانے لگے ہیں۔
یہ تم سے کس نے کہہ دیا ۔ پورے میڈیا کو ہم نے گود لے لیا ہے۔ چہار جانب ہمارا بول بالا ہے۔
کلن نے کہا یہ تمہارا خیال خام ہے ۔ کیا تم دھرو راٹھی کو جانتے ہو؟
جی ہاں ایک پاگل یو ٹیوبر جو جرمنی میں بیٹھ کر اول فول بکتا رہتا ہے۔
وہ جو بھی بکتا ہے لیکن اس کو دیکھنے اور سننے والوں کے بارے میں کیا جانتے ہو؟
میں کیوں جانوں ؟ وہ ہمارا دشمن ہے میرے لیے یہی جاننا کافی ہے۔
جی نہیں دشمن کی طاقت کوکم آنکنے والے جیتی ہوئی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔
اچھا چلو تم ہی بتاو کہ دُھرو کون سا تیس مار خان ہے؟
بھیا اس نے ابھی حال میں’دی ڈکٹیٹر‘ کے عنوان سے مودی کی تصویر لگاکر ایک ویڈیو بنائی جس کو ایک کروڑ چار لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا۔
یار یہ تو بہت بری بات ہے مگر ہمارے پردھان جی کو بھی تو دیکھنے والے کم نہیں ہیں۔
جی ہاں لیکن پھر بھی اس سے بہت کم ہیں ۔ مثال کی طور پر کل نشر ہونے والے من کی بات کو صرف ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگوں نے دیکھا ۔
یار کمال ہے ۔ اتنی گھپلے بازی کے باوجود اتنے کم ناظرین شرم کی بات ہے۔ اب اپنے پردھان جی کو کچھ نیا کرنا چاہیے۔
ہاں بھیا انہوں نے کچھ نیا کرنے کی خاطر پانی میں ڈبکی لگائی ۔ اسے اسکوبا ڈائیونگ کہتے ہیں۔ اسے بھی صرف 78 ہزار لوگوں نے دیکھا ۔
یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کو کون اوٹ پٹانگ مشورے دیتا ہے۔ ان کو دھرم کرم کی ویڈیو بنوانی چاہیے۔
ارے بھیا پانی میں ڈبکی لگانے کے بعد وہ دوارکا مندر گئے اور وہاں کی ویڈیو بھی نشر ہوگئی ۔
اچھا تو اس کو کتنے لوگوں نے دیکھا ؟
ارے بھیا دوارکا دھیش مندر کے اندر ان کی پوجا پاٹ دیکھنے والے تو 14 ہزار سے بھی کم تھے لگتا ہے اب مندر مندر کا کھیل فیل ہوگیا ہے۔
للن کا موڈ خراب ہوگیا تو اس نے بات بدلنے کے لیے کہا یار مجھے تو اس میں کوئی بین الاقوامی سازش دکھائی دیتی ہے۔
وہ کیسے؟ فی الحال امریکہ ، اسرائیل، روس اور عرب تک سارے ممالک پردھان جی کے ساتھ ہیں اس لیے ان کے خلاف کون سازش کرے گا؟
ارے بھیا ان سب سے نمٹنے کے لیے اکیلا چین کافی ہے اور اس کے پیچھے ہمارے ازلی دشمن پاکستان کاہاتھ ہے۔
کلن نے سوال کیا ہاں یار میں نے تو یہ سوچا ہی نہیں لیکن یہ الزام ہوائی ہے یا اس کے حق میں تمہارے پاس کوئی ثبوت بھی ہے؟
بھائی کچھ دن قبل یہی سوال چیاٹ جی پی ٹی سے پوچھا گیا تو اس نے بھی اسی طرح کا جواب دیاتھا۔
اچھا وہاں پر کیا کہا گیا؟
پہلے تو اس نے ٹالنے کی کوشش میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا فسطائی ہونا نقطہ نظر اور ذاتی رائے کا معاملہ ہے۔
کلن نے پوچھا یہ تو معقول بات ہے ۔ اس پر تمہیں کیا اعتراض ہے؟
ہاں مگر پھر ناقدین اور حزب اختلاف کے اراکین کا حوالہ دے کر پردھان جی اور ان کی حکومت پر آمرانہ رجحانات دکھانے کا الزام لگادیا۔
یار بغیر کسی ثبوت کے ایسا الزام لگانا تو بہتان طرازی ہے ۔
ثبوت کے طور پر اس نے طاقت کے ارتکاز، اختلاف رائے کو دبانے، سی اے اے اور جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کا حوالہ بھی دےدیا۔
کلن بولا یار ہماری سرکار تو جمہوری فریم ورک کے اندر کام کر رہی ہے پھر بھی ہم پر ایسے الزامات لگتے ہیں ؟ یہ بہت ناانصافی ہے۔
اب ہے تو ہے ۔ ایک طرف راہل ہماری ناک میں دم کررہا ہے۔ دوسری طرف کسان اور جرانگے پاٹل۔ سمجھ میں نہیں آتا کریں تو کیا کریں؟
جی ہاں لگتا ہے الیکشن سے قبل ہمارے ستارے گردش میں آگئے ۔ اترپردیش میں بےروزگاروں کی لام بندی ہمیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔
ہاں یار یوپی میں اگر ہماری ہوا اکھڑ گئی تو کمل پر جھاڑو پھر جائے گا کمبخت ممتا، پوار، ٹھاکرے، یادو اور کیجریوال سب ساتھ ہوگئے ہیں۔
بھیا کچھ کرنا پڑے گا۔ میں تو کہتا ہوں ان سب کو پکڑ کر جیل میں ڈال دو۔
اچھا اگر یہ کر دیا تب تو جیمنی اور چیاٹ جی پی ٹی کو جھٹلانا اور بھی مشکل ہوجائے گا ۔
اور دھرو راٹھی کی ویڈیو کے دیکھنے والے ایک کروڑ سے بڑھ کر دس کروڑ ہوجائیں گے۔
للن جھنجھلا کر بولا بھاڑ میں جائے گوگل ووگل ۔ ہمارے لیے تو مودی کافی ہے۔ ہر ہر مودی ۔ گھر گھر مودی ۔
کلن بھی جئے شری رام کا نعرہ لگا تے ہوئےنکل پڑا۔
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)
***

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 3 مارچ تا 9 مارچ 2024