جموں و کشمیر انتظامیہ نے کشمیری ملازمین پر ’’دہشت گردی کے معاون‘‘ کا لیبل لگا کر انھیں ملازمت سے برطرف کرنے کو معمول بنا دیا ہے: محبوبہ مفتی

نئی دہلی، اگست 20: پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے 20 اگست کو جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے کشمیری ملازمین پر ’’دہشت گردوں کے ہمدرد‘‘ کا لیبل لگا کر انھیں ملازمت سے برطرف کرنے پر تنقید کی۔

محبوبہ مفتی کا ردعمل جموں و کشمیر بینک کے چیف مینیجر سجاد احمد بزاز کو مبینہ طور پر ’’ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ‘‘ ہونے کے الزام میں برطرف کرنے کے ایک دن بعد آیا ہے۔

ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں سابق وزیر اعلیٰ نے لکھا ’’کشمیری ملازمین کو غلط طریقے سے دہشت گردوں کے ہمدرد اور آئی ایس آئی کے حامی قرار دے کر منتخب طور پر ختم کرنا معمول بنا دیا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا ’’ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ خود ہی جج اور جیوری کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس غنڈہ گردی کا مقصد کشمیریوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔‘‘

ہفتے کے روز ایک حکم نامے میں بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ’’معتبر ایجنسیوں سے موصول ہونے والی رپورٹ میں موجود کیس کے حقائق اور حالات پر غور کرنے کے بعد کہ مسٹر سجاد احمد بزاز کی سرگرمیاں… انٹرنل کمیونیکیشن اینڈ مارکیٹنگ میں تعینات محکمہ او ایس ایم (آفیسر سروس مینوئل) میں قاعدہ/ پروویژن 12.29 کے تحت سروس سے اس کی برطرفی کی ضمانت دیتی ہیں۔‘‘

حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’ریاست کی سلامتی کے مفاد میں مسٹر سجاد احمد بزاز کے کیس کی انکوائری کرنا مناسب نہیں ہے۔‘‘

جموں و کشمیر حکومت جموں و کشمیر بینک میں اکثریتی شیئر ہولڈر ہے۔