کورس کے ذریعہ اب تعلیم گاہوں میں بھی گھولا جائے گا نفرت کا زہر ؟

دانشوران قوم، ماہرین تعلیم اور محققین کو جے این یو کے اس اقدام پر آواز اٹھانے کی ضرورت

افروز عالم ساحل

آر ایس ایس کے دوسرے سرسنچالک گولوالکر نے اپنی کتاب ’بنچ آف تھاٹس‘ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس ملک میں (آر ایس ایس کے لیے ) تین اندرونی بحران (خطرات) ہیں۔ ان میں پہلا خطرہ مسلمان ہیں، دوسرا عیسائی اور تیسرا کمیونسٹ ہیں۔ گولوالکر کی یہ سوچ موجودہ حکومت میں اب زمین پر نظر آنے لگی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

مسلمانوں کو اندرونی بحران مانتے ہوئے دلی کی جواہرلال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اکیڈمک و ایگزیکٹو کونسل نے یونیورسٹی میں انسداد دہشت گردی کے نام پر ایک نیا کورس متعارف کرایا ہے، جس میں ’جہادی دہشت گردی‘ کو مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل اور سابقہ سوویت یونین اور چین کو ’ریاستی دہشت گردی کا اہم اسپانسر‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کورس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’قرآن کی غلط تشریح کے نتیجے میں ایک جہادی فرقہ پرست تشدد کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا ہے جو خودکش دھماکہ اور قتل عام کی مختلف شکلوں میں دہشت گردی کے ذریعے موت کی تعریف کرتا ہے۔‘ ساتھ ہی اس کورس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’بنیاد پرست اسلامی مذہبی علما کے ذریعہ سائبر اسپیس کے استحصال کے نتیجے میں دنیا بھر میں جہادی دہشت گردی کے الیکٹرانک پروپیگنڈے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

یہی نہیں، یہ کورس طلبا کو یہ بھی بتائے گا کہ سوویت یونین اور چین دہشت گردی کے بڑے ریاستی سرپرست رہے ہیں اور وہ اپنی انٹلیجنس ایجنسیوں کو تربیت دینے، مدد کرنے اور کمیونسٹ الٹرا اور دہشت گردوں کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے معاملے میں بہت زیادہ ملوث رہے ہیں۔ ’کولڈ وار‘ کے دوران کیپیٹلسٹ اور کمیونسٹ بلاکس کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے کمیونسٹ ممالک (چین اور سابقہ سوویت یونین) نے دنیا بھر میں اپنا عقیدہ پھیلانے کے لیے دہشت گرد گروپوں کی مالی امداد شروع کی۔ اور اب ’کولڈ وار‘ کے دور کے خاتمے کے بعد کئی اسلامی جہادی گروپ ترقی کے لیے روسی اور چینی جنگی حربے استعمال کر رہے ہیں۔

اس طرح یہ کورس دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل میں مذہب اور ریاست کے کردار کا احاطہ کرے گا۔ آپ کوبتا دیں کہ اس کورس کو جے این یو کی اکیڈمک کونسل نے 18؍اگست 2021 کو ہونے والی میٹنگ میں منظوری دی، جسے بعد میں ایگزیکٹو کونسل نے بھی منظور کرلیا۔

اس کورس کے اعلان کے بعد ملک کے کچھ دانشوروں نے اس پر اپنی مخالفت درج کرائی تھی۔ لیکن تازہ معلومات کے مطابق جےاین یو انتظامیہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، اور وہ اس کورس کو اپنے نئے سیشن میں شروع کر دینے کی پوری تیاری کرچکی ہے۔ اس کورس کے لیے حکومت ہند کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان جےاین یو کو شاباشی بھی دے چکے ہیں۔ گزشتہ مہینے انہوں نے 45 مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ ’جےاین یو کی تعریف کی جانی چاہیے، میں جے این یو کے وائس چانسلر کو ایسا کورس شروع کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘

بتادیں کہ جے این یو میں’Counter Terrorism, Asymmetric Conflicts and Strategies for Cooperation among Major Powers‘ نامی یہ کورس بیچلر آف ٹیکنالوجی یعنی بی ٹیک کی ڈگری حاصل کر چکے طلبا کے لیے چلنے والی کورس ’ایم ایس سی، اسپیشلائزیشن ان انٹرنیشنل ریلیشن‘ میں ایک آپشنل سبجکٹ کے طور پر پڑھایا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جے این یو میں ہر سال سیشن کا آغاز جولائی سے شروع ہوجاتا ہے، لیکن اس بار سیشن کی شروعات ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ پی ایچ ڈی کے بعد ابھی چند دنوں پہلے پوسٹ گریجویٹ کورسیس کے لیے ستمبر میں ہوئے داخلہ امتحانات کے رزلٹ ابھی جاری کیے گئے ہیں، وہیں انڈر گریجویٹ کورسیس کے داخلہ امتحانات میں بیٹھنے والے طلبہ کو اپنے نتائج کا انتظار ہے۔ ستمبر میں ہوئے داخلہ امتحانات کے نتائج بھی ابھی تک جاری نہیں ہوسکے ہیں۔تاخیر کی وجہ’ کوویڈ‘ بتائی جا رہی ہے۔

اکیڈمک دنیا کی اس کورس کو لے کر کیا ہے سوچ ؟

ہفت روزہ دعوت نے جےاین یو میں انسداد دہشت گردی کے نام پر شروع ہوئے اس کورس سے متعلق کے بارے میں ملک کے متعدد دانشوروں سے بات کی، اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ حکومت کی منشا کیا ہے، وہ اس سے کیا پیغام دینا چاہتی ہے، اکیڈمک دنیا اس کورس کو لے کر کیا سوچ رہی ہے، اور سب سے اہم سوال کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ہفت روزہ دعوت نے جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کی سکریٹری اور اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ’سنٹر فار انٹرنیشنل پولیٹیکس، آرگنائزیش اینڈ ڈیزارمامنٹ‘ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر موسومی بسو سے خاص بات چیت کی ۔ اس بات چیت میں انہوں نے جے این یو و مرکزی حکومت پر کئی سوال کھڑے کیے۔ ان کا صاف طور پر کہنا ہے کہ کوئی بھی کورس یونہی شروع نہیں ہوتا۔ اس کا ایک قاعدہ ہوتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں کسی قاعدے قانون کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ آخر یہ جلد بازی کیوں؟

ڈاکٹر موسومی بسو کہتی ہیں، انٹرنیشنل ریلیشن ایک بہت ہی متنوع مضمون ہے۔ اس میں بہت ساری چیزیں آتی ہیں۔ لیکن ان میں صرف سیکوریٹی کو ہی کیوں چنا گیا ہے؟ باقی چیزیں آپ کو اہم کیوں نہیں لگیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر آپ سیکوریٹی پڑھا رہے ہیں تو کیا پڑھا رہے ہیں؟ سیکوریٹی میں بھی کئی چیزیں ہیں، ملک میں ہیومن سیکوریٹی کی بات آپ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ آپ کا جو رویہ یا پوزیشن ہے، کیا اس کو تاریخ سپورٹ کرتی ہے؟ آپ انسداد دہشت گردی کے نام پر ’جہادی دہشت گردی‘ کہاں سے لے آئے؟ دہشت گردی کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا، لیکن آپ ’جہادی دہشت گردی‘ کہہ کر دہشت گردی کو ایک خاص سماج سے کیوں جوڑ رہے ہیں؟ کیا جےاین یو ایک سنٹرل یونیورسٹی ہونے کے ناطے اس طرح کا خیال رکھ سکتی ہے؟ میرا تو ماننا ہے کہ جب ہم دہشت گردی کو کسی مذہب کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں تو پھر ہمیں اس دہشت گردی کی تاریخ بھی دیکھنی ہوگی۔ آپ طلباء کو دہشت گردی کی پوری تاریخ پڑھایئے۔ آپ اسے کسی ایک مذہب کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھ سکتے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ مجھے بہت عجیب محسوس ہوا کہ اس کورس میں ’اسٹیٹ ٹیررازم‘ کے نام پر دو اسٹیٹس چین اور سوویت یونین کا نام درج کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر تعلیم نے وائس چانسلر کو شاباشی دی ہے۔ اب وزیر تعلیم کو سوچنا چاہیے کہ کیا یہ مرکزی حکومت کی آفیشیل پوزیشن ہے؟ کیا حکومت ہند اس بات کو تحریری طور پر مانتی ہے کہ یہ دونوں اسٹیٹس ’ٹیرر اسٹیٹس‘ ہیں؟ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان ملکوں کے ساتھ آپ کی ڈپلومیسی کیا ہوگی؟ کل اگر یہ دونوں اسٹیٹس آپ سے پوچھیں کہ آپ نے یہ کس بنیاد پر یہ بات کہہ دی تو پھر آپ کا جواب کیا ہوگا؟

ڈاکٹر موسومی بسو کہتی ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل ریلیشن کے اس کورس پر جے این یو کے اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ہی کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کورس کو شروع کرنے کا پروسیس کیا رہا؟ پروسیس کی بات اس لیے اہم ہے کہ اگر یہ اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں زیر بحث آتا تو ان تمام سوالوں کے جوابات کھل کر سامنے آ جاتے۔ لیکن آپ نے یہ موقع ہی نہیں دیا۔ اب چونکہ وزیر تعلیم نے شاباشی دے دی ہے تو مسئلہ مزید سنجیدہ ہوجاتا ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں، آپ سوویت یونین کی بات کرر ہے ہیں۔ سوویت یونین اب کے دہائی میں تو ہے ہی نہیں۔ اور سوویت یونین نے جب افغانستان پر حملہ کیا تھا تو سوال یہ ہے کہ مقابلے کے لیے مجاہدین کو کس نے کھڑا کیا تھا؟ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ وہ مجاہدین کہاں سے طالبان بن گئے تھے اور کہاں سے القاعدہ وجود میں آیا۔ ایسی تاریخ نہیں پڑھانی چاہیے، جس میں آدھا ادھورا سچ ہو۔ مجھے پوری امید ہے کہ جو تاریخ پڑھتے ہیں، وہ یہ سوال ضرور پوچھیں گے۔

طویل گفتگو میں ڈاکٹر موسومی بسو سوال کرتی ہیں کہ یونیورسٹی کا رول کیا ہونا چاہیے؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیتی ہیں کہ یونیورسٹی کا کام ہے کہ وہ صحیح معلومات فراہم کرے، صحیح معلومات فراہم کرے ، ملک کے ہر مسئلے پر تبادلہ خیال کرے اور اس کو آگے بڑھائے نہ کہ جو اسٹیٹ بول رہا ہے اسی کو دہرائے؟ یونیورسٹی کا رول تو یہ ہونا چاہیے کہ اگر حکومت غلط راہ پر ہے تو یہ اس کو صحیح راہ دکھائے اور بتائے کہ غلط رویہ کی وجہ سے مستقبل میں کیا مسائل پیدا ہوں گے۔ جس طرح ایک یونیورسٹی میں منتخبہ طور سے انٹرنیشل ریلیشن کو پڑھایا جا رہا ہے اس پر ملک کے ہر سمجھدار شخص کو مخالفت کرنی چاہیے۔

یہ پوچھنے پر کہ کیا جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے اس مسئلے پر جے این یو انتظامیہ کو کوئی خط یا میمورنڈم دیا ہے؟ اس پر ڈاکٹر موسومی بسو کا کہنا ہے کہ ابھی تک ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئی خط یا میمورنڈم نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن ایک پریس کانفرنس کے درمیان ایسوسی ایشن نے اپنی مخالفت ضرور درج کرائی ہے۔

جب ہفت روزہ دعوت نے سوال کیا کہ ٹیچرس ایسوسی ایشن کا آگے کیا ارادہ ہے؟ اس پر ڈاکٹر موسومی بسو کا کہنا ہے وزیر تعلیم کی شاباشی کے بعد یہ کورس اب منظور کر لیا گیا ہے۔ فی الحال یہ ایک اختیاری مضمون ہے۔ طلباء اس کو لیں گے یا نہیں اور اسے کون پڑھائے گا؟ یہ تمام باتیں آگے چل کر واضح ہوں گی۔

مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھ پور کے سابق وائس چانسلر و جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) پدم شری پروفیسر اختر الواسع ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں کہتے ہیں: ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نے جو نعرہ دیا تھا، ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس’، یہ کورس اسے تار تار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اب تک جو ایک خاص طبقے کے خلاف سڑکوں پر بربریت کا ننگا ناچ ہو رہا تھا، جس میں اب تک کم پڑھے لکھے یا کم شعور والے لوگ لگے ہوئے تھے، اب اس کو یونیورسٹیوں میں بھی عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک طرف تو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت مسلمانوں سے مکالموں کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف اس طرح کی حرکتیں ہورہی ہیں۔ حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

وہ مزید کہتے ہیں، دہشت گردی کا مذہب سے تعلق نہیں ہوتا۔ کچھ تنگ نظر لوگ جن کی اپنی سیاسی ضرورتیں ہیں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کا کام محبت کا فروغ ہونا چاہیے نہ کہ تنگ نظری پھیلانا اور کسی مخصوص فرقے کو مطعون اور مذموم کرنا۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان ہفت روزہ دعوت سے خاص بات چیت میں کہتے ہیں کہ ملک میں تعلیم کا جو بھگوا کَرن ہو رہا ہے اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جائے۔ مسلمانوں سے نفرت ہندوتوا نظریے کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ یہ کورس ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو بدظن کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ یہ ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش ہے۔ یہ وہی چیز ہے جو ایم بی بی ایس کے طلباء کو رامائن اور مہابھارت کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے خیالات کو پڑھانے سے متعلق سننے میں آرہی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ابھی تو جے این یو سے ’جہادی دہشت گردی‘ سے متعلق کورس کی شروعات ہورہی ہے۔ بعد میں دوسری یونیورسٹیوں میں بھی اس کورس کو منظور کیا جا سکتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ یہ ایک پائلٹ پراجیکٹ ہے۔ ابھی وہ اس کورس کو جے این یو میں ٹیسٹ کر رہے ہیں، وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی کتنی مخالفت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کہتے ہیں کہ جب میں دلی اقلیتی کمیشن میں تھا، تب یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسی طرح کا ایک کورس دلی یونیورسٹی میں بھی شروع ہونے والا ہے۔ ان کو میں نے کمیشن کی جانب سے نوٹس بھی بھیجا تھا لیکن کوویڈ کی وجہ سے یہ بات دب گئی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ حکومت کا ارادہ مزید کئی یونیورسٹیوں ہی میں اس کورس کو منظور کرنے کا ہے تاکہ پڑھنے والے نوجوانوں میں یہ نفرت کا زہر پھیلایا جا سکے کہ اسلام ہی دہشت گردی سکھاتا ہے۔

جے این یو سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کر چکے ڈاکٹر ابھئے کمار کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی تعریف متعین کرنے میں عالمی برادری میں آج تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ کسی زمانے میں کسی کے لیے بھگت سنگھ دہشت گرد ہوتے ہیں، بعد میں وہ مجاہد آزادی کے طور پر دیکھے جانے لگے۔ آزادی سے پہلے گاندھی جی پر سیڈیشن کا چارج لگتا ہے، آزادی کے بعد وہ بابائے قوم بن جاتے ہیں۔ گاندھی کو مارنے والا گوڈسے جس کی شناخت اب تک ایک ’دہشت گرد‘ کی تھی، آج اس کی کچھ لوگ پوجا کر رہے ہیں۔ جن طالبان کو لے کر گزشتہ دنوں ہائے توبہ مچائی گئی، اسی طالبان کو کسی زمانے میں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے وائٹ ہاؤس میں بلا کر کہا تھا کہ امریکہ کے بانیوں اور ان کے خیالات میں کوئی فرق نہیں ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اسلام سے ہم ہندوستانیوں کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ملک میں جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان میں ۹۹ فیصد ہمارے اندرونی معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرتے۔ ایران، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ان سب سے ہمارے رشتے بہتر ہیں۔ پاکستان سے ہمارے رشتے خراب ہیں تو وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی طرح کی سیاسی وجوہات ہیں۔ اور جب کبھی اس ملک سے کسی کی جنگ ہوتی ہے تو ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی جان لڑاتا ہے۔ آر ایس ایس اور اس کے نظریے کو ماننے والوں کا مقصد ملک کا ماحول خراب کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ دیکھو مسلمان، عیسائی اورکمیونسٹ اس ملک کے دشمن ہیں، کیونکہ یہی تینوں ان کے سیاسی ہندوتوا پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔

ابھئے کمار کہتے ہیں کہ ہمارے ملک سے سب سے زیادہ مزدور مسلم ممالک میں ہی جاکر کام کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو سب سے زیادہ نوکریاں وہیں ملتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری حکومت کے کارندے جب کسی مسلم ممالک میں جاتے ہیں تو ان کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ آپ کیا پڑھا رہے ہیں اور کیا نہیں پڑھا رہے ہیں۔ ایسی چیزوں سے تو ایک دن ہندوستان کی تصویر خراب ہونی ہی ہے۔

ابھئے کمار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اس کورس کی مخالفت ہندو یا مسلمان ہونے کے ناطے نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے کر رہے ہیں۔ آپ کو ٹیررازم کے نام پر کچھ پڑھانا ہی ہے تو اس کو وسیع طور پر پڑھائیے کہ یہ ٹیررازم در اصل ہے کیا؟ ٹیررازم کی صحیح تعریف کیوں نہیں بیان کی جاتی؟ ٹیررازم کو پھیلانے والے تو سارے مذہب میں ہیں، ان کے بارے میں بھی بات کیجیے اور بتائیے کہ ان کو ہتھیار کہاں سے ملتے ہیں اور یہ ہتھیار بناتا کون ہے؟ اور یہ بھی سوال ہونا چاہیے کہ کاؤنٹر ٹیررازم کے نام پر اسٹیٹ کے ذریعے کتنے بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں؟ کتنے معصوموں کی زندگیاں برباد کی جارہی ہیں؟

سال ۲۰۱۸ میں ہی جے این یو نے کر لی تھی اس کورس کی تیاری

جے این یو میں جو موجودہ کورس منظور کیا گیا ہے، اس کی تیاری سال ۲۰۱۸ میں ہی کر لی گئی تھی۔ لیکن اس وقت اچانک احتجاج ہونے کی وجہ سے جے این یو نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیے تھے۔ اس وقت جن تنظیموں نے اس کی مخالفت میں تھوڑی بہت آواز اٹھائی تھی وہ اب پوری طرح سے خاموش نظر آرہی ہیں۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کہتے ہیں کہ سال ۲۰۱۸ میں جے این یو میں اس کورس کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی تب میں نے اس سے متعلق جے این یو کو ایک نوٹس بھیج کر کئی سوال کیے تھے جس کے جواب میں جے این یو کا کہنا تھا کہ اکیڈمک کونسل کے سامنے اس طرح کا کوئی کورس نہیں آیا ہے۔ اس زمانے میں ابھئے کمار نے بھی صدر جمہوریہ کو ایک خط لکھ کر اپنی مخالفت درج کرائی تھی۔ تب ابھئے کمار جے این یو کے ریسرچ اسکالر تھے۔

واضح رہےکہ اس زمانے میں جمیعت العلماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے جے این یو کے اس مبینہ مجوزہ کورس کی مذمت کی تھی اور اس کے وائس چانسلر کو خط لکھ کر کہا تھا کہ ’یہ انتہائی تکلیف دہ اور مضحکہ خیز بات ہے کہ جے این یو جیسا تعلیمی ادارہ دہشت گردی کے بارے میں ایک کورس شروع کر رہا ہے اور اسے اسلام سے جوڑ رہا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یونیورسٹی پر گندی ذہنیت کے لوگوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔‘

تب انہوں نے وائس چانسلر پر زور دیا تھا کہ وہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے والے اس کورس کو شروع کرنے پر نظر ثانی کریں۔ ’اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ہم قانونی کارروائی کرنے کے لیے مجبور ہوں گے ۔‘ تب جے این یو نے یہ کہا تھا کہ اکیڈمک کونسل کی میٹنگ میں ’اسلامی دہشت گردی‘ نام کے کسی کورس کی کوئی تجویز نہیں پیش کی گئی ہے۔ یہ صرف میڈیا کی بنائی ہوئی ایک جھوٹی خبر ہے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

پروفیسر اختر الواسع کہتے ہیں، مجھے تکلیف ہے کہ جو لوگ موہن بھاگوت سے ملاقات میں شامل و شریک ہیں، وہ اس مسئلے کو نہیں اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں ایک وفد لے کر وزیر اعظم کے پاس جانا چاہیے۔ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے رویے پر بھی افسوس ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس ملک میں جو لوگ بھی سیکولر ڈیموکریٹک اقدار پر یقین رکھتے ہیں انہیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ملک کے دانشوروں نے بھی اس مسئلے پر اس طرح سے آواز نہیں اٹھائی جس طرح سے اٹھانی چاہیے تھی۔ میری اپیل ہے کہ ملک کے تمام دانشور ایک پلیٹ فارم پر آکر اس کورس کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کریں۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تو اس پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کو معلوم ہو کہ مٹھی بھر لوگ ہی سہی، لیکن انہوں نے مخالفت میں آواز اٹھائی ہے۔ بھلے ہی آپ اس وقت کورس چلانے سے نہ روک سکتے ہوں، لیکن آپ کا احتجاج درج ہونا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ یہ مستقبل میں کام آئے۔ اس لیے اس وقت ملک کے ہر دانشور کو اس کورس کے خلاف ضرور آواز بلند کرنی چاہیے۔

ابھئے کمار کہتے ہیں کہ جے این یو انتظامیہ کو یہ کورس فوراً واپس لینا چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک میں جو بھی دانشور ہیں، سیکولر ذہن کے لوگ ہیں، جو منطق اور دلیل پر یقین رکھتے ہیں، ان تک اس کورس کی مکمل معلومات پہنچنی چاہئیں۔ اس مسئلے کو زور وشور سے اٹھا کر منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ پرامن طریقے سے پورے ملک میں حکومت کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنے تھوڑے سے سیاسی فائدے کے لیے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو آگ میں نہیں جھونک سکتے۔ یاد رکھیے کہ اس کورس کی مخالفت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے ذریعے بچوں کے ذہن میں بارود بھرا جائے گا، جو کہ جے این یو بلکہ اس ملک اور دنیا کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔

کالجوں میں پڑھایا جائے گا اب رامائن، مہابھارت کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کا نظریہ

مدھیہ پردیش میں کالج کے طلباء اب مہابھارت، رام چریتر مانس، یوگا اور گیان دھیان کے ساتھ ساتھ بھگوان رام، ہنومان اور تلسی داس کے بارے میں پڑھیں گے۔ ساتھ ہی وید، اپنشد اور پرانوں کی بھی تعلیم دی جائے گی۔ بی اے کے پہلے سال میں، رام چریترمانس کا عملی فلسفہ اسی سال سے اختیاری طور پر شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ انجینئرنگ کالج کے طلباء کو رام سیتو کے بارے میں پڑھایا جائے گا۔

مدھیہ پردیش کے ہائر ایجوکیشن محکمہ کا دعویٰ ہے کہ اس نئے نصاب سے طلباء کی شخصی ارتقاء ہوگا اور یہ طلباء کو اخلاقی اقدار سکھانے کا ایک قدم ہے۔

قبل ازیں، ریاستی حکومت نے ایم بی بی ایس پڑھنے والے طلباء کو آر ایس ایس کے بانی ہیڈگیوار اور دین دیال اپادھیائے جیسے لوگوں کے خیالات پڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ کورس بھی کالج کھلنے کے بعد اسی سال شروع کیا جائے گا۔

اسی مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں ہندو مہاسبھا نے’گوڈسے گیان شالہ‘ کھولا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس ’گیان شالہ‘ میں نوجوانوں کو گاندھی کے قاتل گوڈسے کا نظریہ پڑھایا جائے گا۔ ساتھ ہی اس ’گیان شالہ‘ میں ناتھورام گوڈسے کی مبینہ حب الوطنی کے قصے بھی بتائے جائیں گے۔

اسی سال مارچ میں آئی ایک خبر کے مطابق، یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی ) نے تاریخ (آنرس) کا جو نصاب تیار کیا ہے، اس میں پہلے پرچے کو ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ’بھارت ورش‘ کے تصور کے ساتھ ساتھ وید، ویدانگ، اپنشد، مہاکاویو، جین اور بدھ مت کے ادب، منو سمرتی اور پران پڑھانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ایک باب میں ہندوستان کے قدیم تعلیمی نظام اور آیوروید و یوگا کا تصور کو بھی رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ’سندھ سرسوتی تہذیب‘کے نام سے ایک موضوع ہے۔ یہ سندھ، سرسوتی تہذیب اور ویدک تہذیب کے درمیان تعلق پر بحث کو بیان کرتا ہے۔ ساتھ ہی اس نئے نصاب میں مغلوں کی تاریخ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہیں تاریخ کے ساتویں پرچے میں’بابر کے ہندوستان پر حملے‘کے بارے میں ایک نیا موضوع شامل کیا گیا ہے۔

وہیں اسی سال ۲۵ اگست کو یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دہلی یونیورسٹی میں ہندو مہا سبھا کے لیڈر رہے ونائک دامودر ساورکر کے نام پر کالج بنے گا۔ آپ کو بتادیں کہ اس تجویز کو دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے منظوری دے دی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ، سشما سوارج، ارون جیٹلی کے نام پر بھی کالج سینٹرز کے نام رکھیں جائیں گے۔

یہی نہیں ، کیرلا کی کنور یونیورسٹی نے آر ایس ایس لیڈر ایم۔ ایس۔ گولوالکر کی ’بنچ آف تھاٹس‘ اور ہندو مہاسبھا کے رہنما وی ڈی ساورکر کی کتاب’ہندوتوا: ہو از اے ہندو؟‘ کے کچھ حصوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن مقامی سطح پر احتجاج و بھاری مخالفت کے بعد کنور یونیورسٹی نے وی ڈی ساورکر اور ایم ایس گولوالکر کے نظریات اور ان کے کاموں کو اپنے نصاب سے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے- یاد رہے کہ کانگریس نے اس پر اپنا سخت اعتراض کیا تھا۔

وہیں اب گزشتہ ۱۳ نومبر ۲۰۲۱ کو ایک ٹویٹ کر وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ’ ویر ساورکر جی کو ہم ان کے بہت سے کاموں کے لیے جانتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ساورکر جی نے ہندی کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہندی کی ڈکشنری بنا کر ہمیں کئی ایسے لفظ دیے جو اگر ساورکر جی نہ ہوتے تو شاید ہم انگریزی کے الفاظ کا ہی استعمال کر رہے ہوتے۔‘

اسی کے ساتھ انڈین کونسل فار ہسٹوریکل ریسرچ ویر ساورکر کے نام پر انڈمان و نکوبار، ناگپور، دہلی سے لے کر لندن تک ساورکر پر 75 خصوصی پروگرام منعقد کرنے جا رہی ہے۔ ان پروگراموں میں ساورکر کے تاریخی کاموں کو یاد کرتے ہوئے تاریخ میں ان کے کردار پر بات کی جائے گی۔ ساتھ ہی اس تاریخ کو اسکولی نصاب میں شامل کرنے کی بھی تیاری چل رہی ہے۔

***

 اسلام سے ہم ہندوستانیوں کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ملک میں جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان میں ۹۹ فیصد ہمارے اندرونی معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرتے۔ ایران، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ان سب سے ہمارے رشتے بہتر ہیں۔ پاکستان سے ہمارے رشتے خراب ہیں تو وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی طرح کی سیاسی وجوہات ہیں۔ اور جب کبھی اس ملک سے کسی کی جنگ ہوتی ہے تو ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی جان لڑاتا ہے۔ آر ایس ایس اور اس کے نظریے کو ماننے والوں کا مقصد ملک کا ماحول خراب کرنا ہے ۔
ڈاکٹر ابھئے کمار


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  12 تا 18 دسمبر 2021