شہریت ترمیمی بل: اندیشے اور مضمرات

متنازعہ شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے والا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس بل کی سب سے زیادہ مخالفت شمال مشرقی ریاستوں میں ہورہی ہے۔ کیا ہیں اس بل کے مضمرات جانیے دعوت نیز کی اس خصوصی رپورٹ میں۔

افروز عالم ساحل

متنازعہ شہریت ترمیمی بل پر کابینہ کی مہر لگ چکی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ مرکزی حکومت اگلے ہی ہفتے پارلیمنٹ کے رواں سرمائی اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں میں اس بل کو پیش کر دے گی۔ چونکہ شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی خاص طور پر مخالفت کی جارہی ہے، لہذا وزیر داخلہ امیت شاہ اُن ریاستوں کا دورہ کر کے ایک کل جماعتی میٹنگ بھی کرچکےہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اس بل کو لے کر پورے ملک میں مخالفت شروع ہو چکی ہے۔

ملحوظ رہے کہ مرکزی حکومت کو اس بل کے حوالے سے شمال مشرقی ریاستوں میں خاصی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آسام میں یہ احتجاج کچھ زیادہ ہی ہے، کیونکہ آسام کے لوگوں کا ماننا ہے کہ مجوزہ بل 1985 کے اس آسام معاہدے کو منسوخ کردے گا، جس نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کی کٹ آف کے لیے 24 مارچ 1971 کی تاریخ طے کی تھی۔ اس لیے آسام چاہتا ہے کہ اس تاریخ کے بعد بنگلہ دیش سے آنے والے تمام لوگوں کو باہر نکالا جائے، خواہ وہ ہندوہوں یا مسلمان۔

این آرسی کے میدان میں سرکاری نوکری چھوڑ کر کام کرنے والے انجنیئر عبدالباطن نے ہفت روزہ دعوت سے بات چیت میں بتایا کہ آسام میں بنگلہ دیش سے آنے والے لوگوں کی شہریت پر احتجاج کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ 1979 سے 1985 کے درمیان مظاہروں میں 7 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اور اب انھیں غیر ملکی درانداز وں کو اس بل کے ذریعے مرکزی حکومت شہریت دینے کی بات کر رہی ہے، تو آسام سمجھوتے کا وجود کیا باقی رہا؟

وہ کہتے ہیں ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بل آئین کے سراسر خلاف ہے۔ ملک کا جو بھی شہری آئین کی دل سے عزت کرتا ہے، وہ اس بل کو کبھی قبول کر ہی نہیں سکتا۔ ‘‘

انجنیئر عبدالباطن کے مطابق چند بنگالی ہندوؤں کو چھوڑ کر آسام میں سبھی اس شہریت ترمیمی بل کے خلاف ہیں۔  بنگالی ہندوؤں میں بھی بہت سارے لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

آسام کے سینئر وکیل حافظ رشید احمد چودھری کا کہنا ہے کہ ’’شہریت ترمیمی بل سے ہندوؤں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا سیدھا مطلب دو باتیں ہیں: ایک یہ کہ یہ تمام غیر قانونی تارکین وطن قانونی تارکین وطن بن جائیں گے، اور دوسری یہ کہ اگر وہ ملک میں چھ سال تک رہائش پذیر رہے ہیں، تو وہ شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ انہیں شہریت نہیں دی جائے گی۔ صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔ اس سے ہندوؤں کو کچھ نہیں ملے گا۔‘‘

یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اگرچہ بی جے پی مذہبی نقطۂ نظر سے دراندازی کے مسئلے کو دیکھتی ہے، لیکن شمال مشرق کے لوگ اسے اس طرح نہیں دیکھتے۔ ان کا ماننا ہے کہ درانداز خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، انہیں بے دخل کیا جائے۔ ان ریاستوں کے لوگ بنگلہ بولنے والے درانداز وں کو اپنی ثقافتی اور لسانی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص ملاقات میں درانگ ضلع کے رتن پٹی گاؤں کے پروین کمار ساہا کہتے ہیں: ’’ میرا ایک دوست بلال ہے۔ وہ مسلمان ہے اور میں ہندو ہوں۔ ہم دونوں کا نام این آرسی میں نہیں آیا ۔ کسی کو دشواری ہوسکتی ہے لیکن ہم ساتھ رہتے ہیں۔ ہم شہریت ترمیمی بل نہیں چاہتے ۔ کیونکہ اگر مجھے شہریت کا درجہ دیا جاتا ہے اور میرے دوست کو نہیں، تو اس سے ہمارے درمیان پھوٹ پڑ جائے گی۔ ‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ ساہا کے 22 افراد کے خاندان میں صرف 8 کا نام این آرسی میں آیا ہے۔ 14 کا نام این آرسی میں نہیں آیا ہے۔ اس صورت حال سے ان کا خاندان بہت پریشان ہے۔ باوجود اس کے پروین ساہا کو لگتا ہے کہ شہریت ترمیمی بل سے یہاں کے ہندو ؤںاور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پڑے گا۔

شہریت ترمیمی بل کیاہے؟

مذکورہ بل پارلیمنٹ میں جولائی 2016 میں پیش کیا گیا تھا، اس کی رو سے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مذہب ماننے والی اقلیتی برادریوں کو بھارتی شہریت دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے نافذ ہونے کے بعد یہ تمام اگر پچھلے 6برسوں سے بھارت میں رہ رہے ہیں تو بھارتی شہریت کے اہل ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ مدت 11 سال تھی۔ اس بل کے ذریعہ مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس کے دائرہ کار سے دور رکھا گیا ہے۔

2016 کے بعد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 7 جنوری 2019 کو پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ شہریت (ترمیمی) بل، 2019 پر لوک سبھا میں غور کیا گیا اور اسے 8 جنوری 2019 کو منظور کیا گیا۔ لیکن یہ بل راجیہ سبھا میں زیر غور رہا۔ 16ویں لوک سبھا کے تحلیل ہوجانےکے نتیجے میں یہ بل پاس نہیں ہو سکا۔

کیوں ہورہی ہےاس بل کی مخالفت؟

شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی مخالفت اس لیے ہو رہی ہےکیونکہ اس بل میں بھی مذہب کی بنیاد پر غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی بات ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو بہت سی ریاستوں کی آبادی بڑھ جائے گی اور پھر کون سی ریاست انہیں زمین دے گی۔

دوسری طرف ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ آئین مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی بات نہیں کہتا ۔ یہ لیڈر اس بل کو بھارتی آئین کی دفعہ 14 کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، جس کی روسے آئینی طور پر تمام مذاہب کے ماننے والے برابر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین میں سیکولرزم کی اقدار کو بچانے کے لیے ہم مستقل کوشش کر رہے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کے فیصلے کو ہم کبھی قبول نہیں کریں گے۔

ہر چند کہ اس بیچ خبر آئی ہے کہ مرکزی حکومت مخالفت کو دیکھتے ہوئےاروناچل پردیش، ناگالینڈ اور میزورم ریاستوں کو ، جہاں انر لائن پرمٹ (ILP) لگتاہے، مجوزہ شہریت ترمیمی بل کے دائرہ کار سے دور رکھنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، کیونکہ یہیں کے عوام بل کی مخالفت میں سب سے زیادہ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی حکومت کا اصل مقصد ہندی بیلٹ کے صوبوں میں ہندو مسلمانوں کو بانٹ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

پدم شری ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان

مشہور فلم ساز اریبام شیام شرما نےشہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنا پدم شری ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منی پور کے اس فلم ساز کو سال 2006 میں یہ ایوارڈ ملا تھا۔ 83 سالہ فلم ساز اور میوزک کمپوزر کی فلموں کو متعدد قومی فلم ایوارڈ مل چکے ہیں۔

اس بل کے نام پر بی جے پی کی سیاست

ماہرین کے بقول یہ بل بی جے پی کی فرقہ ورانہ پولرائزیشن کی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ بی جے پی کو اس کے ذریعے مغربی بنگال اور شمال مشرق میں ہندو ووٹ بینک مضوط ہونے کا فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے اس کا وعدہ 2014 اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کیا تھا اور اس کا بھی اسے بہت حد تک فائدہ ملا۔

آسام میں بی جے پی کے وزیر ہمنت بِسوا کھل کر کہتےرہے ہیں کہ اس بل کے نفاذ کے بعد آسام مسلم اکثریتی ریاست بننے سے بچ جائے گا اور ہندوؤں کی بالادستی قائم ہو سکے گی۔ دراصل، آسام ملک کی دوسری ریاست ہے جس میں جموں و کشمیر کے بعد تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ مسلم آبادی ہے۔ ریاست کی کل آبادی تین کروڑ ہے اور اس میں 34 فیصد بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں۔

آسام میں اس بل کی مخالفت میں اتریں تنظیموں کا الزام ہے کہ بی جے پی اس بل کے ذریعے اپنے ہندو ووٹ بینک کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ بنگلہ دیش، پاکستان یا افغانستان سے بھلے ہی آگے کوئی آئے یا نہ آئے، اصل بات یہ ہے کہ این آر سی میں مسترد ہندوؤں کو شہریت دینے کے لیے بی جے پی یہ بل لانا چاہتی ہے۔ در حقیقت اس سال جاری کی گئی این آر سی کی حتمی فہرست میں 19 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے نام کاٹ دیئے گئے تھے، جن میں ایک اندازے کے مطابق 12 لاکھ بنگالی ہندوؤں کے نام شامل ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بی جے پی کو بنیادی طور پر اس کا فائدہ مغربی بنگال میں ہوگا، جہاں پہلے بنگالی ہونا ہی پہچان تھی۔ اب مغربی بنگال میں معاملہ ’بنگالی ہندو‘ بنام ’بنگالی مسلمان‘ کا ہو چکا ہے۔ وہاں کے لوگ اب مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہورہےہیں۔ وہاں کا مسلم ووٹ ترنمول کانگریس اور دوسری پارٹیوں کو جاسکتا ہے، لیکن ہندو ووٹ پر بی جے پی کی نظر ہے اور شاید ہوسکتا ہے کہ ہندو اب بی جے پی کو ووٹ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی بنگال کی ریلیوں میں شہریت کا مسئلہ اٹھاتی رہی ہے۔

معاملہ سپریم کورٹ میں بھی…

جنوری 2019 میں اس بل کو لے کر ایک معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔ جہاں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس بل کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت سے انکار کردیا تھا۔ عدالت عظمی نے کہا کہ ابھی یہ بل راجیہ سبھا سے منظور ہونا باقی ہے تب تک یہ پٹیشن زیر التوا رہے گی۔

 لیکن فروری کے آخر میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بنچ نے اس عرضی کو جلد سماعت کے قابل سمجھا اور چھ ہفتوں میں مرکزی حکومت سے جواب داخل کرنے کو کہا۔ لیکن مرکزی حکومت نے عدالت کو کیا جواب دیا، یہ بات اب تک پبلک ڈومین میں نہیں آسکی ہے۔

کتنے آئے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے؟

اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

لوک سبھا میں وزارت داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ تین برسوں  میں، سال 2016-2018 کے دوران تقریبا 58ًلاکھ افراد بنگلہ دیش سے آئے ہیں۔ یہاں یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی آبادی اس ملک کے بننے کے وقت تقریباً 23 فیصد تھی، جو اب 3 فیصد کے آس پاس رہ گئی ہے۔

وہیں سال 2016-2018 کے دوران بھارت آنے والے پاکستانیوں کی تعداد 1 لاکھ 41 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس دوران افغانی تقریباً 4 لاکھ 26 ہزار کی تعداد میں آئے۔

2016-2018 کے دوران اپنے ملک سے سکونت ترک کرکے بھارت آنے والے پاکستانی، افغانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

پاکستان

2016  —56,021

2017  —44,266

2018  —41,514

افغانستان

2016  —1,23,330

2017  —1,49,176

2018  —1,53,906

بنگلہ دیش

2016  —13,80,409

2017  —21,56,557

2018  —22,56,675