ہریدوار:گھاٹ پر گھومنے پہنچے مسلم خاندان سے بد سلوکی،ہندو نوجوان نے  باہر نکل جانے کے دھمکی دی

کہا:یہاں غیر مسلموں کو آنے کی اجازت نہیں ہے،پولیس کی کارروائی کے بعد رشبھ نے معافی مانگی

نئی دہلی ،21جون۔

اتراکھنڈ میں مسلمانوں سے نفرت کا معاملہ کم نہیں ہو رہا ہے ۔اب ایک نیا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے اتراکھنڈ کے ہریدوار سے۔جہاں ایک مسلم خاندان گنگا کے کنارے گھومنے گیا تھا جسے ایک ہندو نوجوان نے یہ کہتے ہوئے بھگا دیا کہ یہاں پر مسلمانوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ واقعہ ہریدوار کے  اگرسین گھاٹ کا ۔ اس میں ایک نوجوان کچھ لوگوں کو گنگا میں نہانے سے منع کر رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ گنگا گھاٹ پر ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلم کمیونٹی سے آتے ہیں۔ ہندو برادری کا ایک شخص ہے جو اسے نہانے سے روکتا ہے۔ اسے اعتراض ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہوتے ہوئے گنگا میں نہانے کیوں آئے ہیں۔

دی للن ٹاپ کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں نوجوان کو خاندان سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ یہاں صرف ہندو ہی آ سکتے ہیں۔ کچھ مقامی لوگوں نے مسلم کمیونٹی کے لوگوں پر الزام لگایا ہے کہ گھاٹ پر نہانے کے دوران وہ پانی میں اپنے کپڑے دھو رہے تھے جس سے ہندو برادری کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 16 جون کو پیش آیا جس کی ویڈیو سوموار 19 جون کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ مسلم خاندان گھاٹ  پر گھومنے آیا  تھا۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ وہ گھاٹ پر نہا رہے تھے۔ تبھی رشبھ گوڑ نام کا ایک نوجوان وہاں آیا اور گنگا کے کنارے آنے والے خاندان کو بھگا دیا۔ رشبھ ویڈیو میں کہہ رہا ہے۔  ‘یہاں صرف ہندو آ سکتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں آ سکتا۔ باہر! گیٹ سے باہر نکلو۔ چلو یہاں سے تم لوگ۔ بدتمیزی نہ کرو۔ اگر میں آپ کو یہاں دوبارہ دیکھوں تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔اس پر خاندان کے ایک رکن نے رشبھ کو بتایا، ’’میں ہر کی پوری میں گاڑی چلاتا ہوں۔‘‘

اس پر رشبھ نے جواب دیا،”آپ ہر کی پوری پر گاڑی چلاتے ہیں یا چندی دیوی پر گاڑی چلاتے ہیں۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ باہر نکل جاؤ۔

رپورٹ کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس کی جانچ کی اور رشبھ سے بات کی ۔رشبھ نے الزام لگایا کہ وہ گنگا میں نہا رہے تھے اور کپڑے دھل رہے تھے ۔جس پر میں نے انہیں باہر جانے کے لئے کہا۔پولیس نے اس کے رویئے کو قابل اعتراض بتایا تو اس نے تحریر طور پر معافی مانگ لی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان نے کوئی شکایت نہیں کی ہے اگر کوئی شکایت ہوتی ہے تو پولیس کارروائی کرے گی۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد لوگوں کا ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے ۔ متعدد صارفین نے لکھا ہے کہ ندیا ں کسی دھرم یا مذہب کی نہیں ہوتیں وہ پوری انسانیت کی ہوتی ہیں۔دھرمیندر نام کے صارف نے لکھا کہ ندیوں کا کوئی دھرم نہیں ہوتا وہ امتیاز نہیں برتتیں۔واحد نامی صارف نے لکھا کہ بھارت تقسیم ہو چکا ہے ،یہ اخلاقی دیوالیہ پن کی مثال ہے ۔