کورونا وائرس: آج رات بارہ بجے سے پورا ملک مکمل طور پر تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن، وزیر اعظم نے گھر سے نکلنے کے خلاف متنبہ کیا

نئی دہلی، مارچ 24: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں منگل کی آدھی رات سے اگلے 21 دن تک ملک گیر لاک ڈاؤن عمل میں آئے گا۔ مودی نے کہا ’’اگر ہم آئندہ 21 دن [لاک ڈاؤن] کا انتظام نہیں کر سکے تو ہمیں 21 سال پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔‘‘

اس سے قبل مرکز نے اتوار کے روز ناول کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے 31 مارچ تک ملک بھر کی تمام ٹرینیں، میٹرو اور انٹرسٹیٹ بس خدمات معطل کردی تھیں۔

منگل کی شام تک تقریباً 32 ریاستوں اور مرکزی علاقوں نے مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیو نافذ کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کرفیو توڑ کر سڑک پر گھومنے والے بہت سے افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مودی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ عائد کردہ اقدامات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ ماہرین صحت کے تجربات اور دیگر ممالک کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد لیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس کی وجہ سے معاشی نقصان ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لاک ڈاؤن سے پوری قوم کو معاشی نقصان ہوگا۔ لیکن ہر ہندوستانی کی جان بچانا میری، حکومت ہند، ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔‘‘

مودی نے کہا کہ ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ کوویڈ ۔19 کے پھیلاؤ کے چین کو توڑنے میں کم سے کم 21 دن کے لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔

 

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ مرکز نے ملک میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 15،000 کروڑ روپیے بھی مختص کیے ہیں۔ مودی نے کہا ’’ہم ان فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے جانچ کی سہولیات، ذاتی تحفظ کے سازوسامان، قرنطین وارڈ، آئی سی یو بیڈ اور مزید ضروری اشیا کی تعداد میں اضافہ کر سکیں گے۔‘‘

مودی نے کہا کہ مرکز لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے ریاستی حکومتوں، مقامی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متعدد افراد مدد کے لیے آگے آرہے ہیں۔

وزیر اعظم نے لوگوں سے کہا کہ وہ کورونا وائرس کے بارے میں افواہوں پر یقین نہ کریں اور لوگوں کو صرف قابل اعتماد طبی مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔

وہیں وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے مطابق اب تک بھارت میں کورونا وائرس کے 519 واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں سے 10 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ پیر کو مودی نے اس حقیقت پر غم وغصے کا اظہار کیا تھا کہ بہت سے لوگ لاک ڈاؤن کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ مرکز نے ریاستوں سے اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہا ہے۔