ملت کی تعلیمی پس ماندگی دور کرنے کے لیے چند عملی مشورے

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات

نجم الدین صدیقی، سرونج (مدھیہ پردیش)

آج دنیا کی بہت سی قومیں اور ملک ترقی یافتہ ہیں اور ترقی کر رہے ہیں، اور ہم پس ماندہ ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم تعداد، محنت و جفاکشی، دیانت داری اور ایثار جیسی اخلاقی صفات میں کسی کم ہیں، بلکہ دیکھا جائے تو اب بھی ہم ان خوبیوں میں دوسری اقوام سے نہت بہتر ہیں۔ تاہم تعلیم کے معاملے میں ہم پچھڑتے چلے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی اور سماجی طور پر بھی پس ماندہ ہوگئے۔ دیگر اقوام نے تعلیم کو ایک خاص سمت دے کر اپنے اندر بیداری، جد و جہد، حوصلہ، دور اندیشی اور وقت کی پابندی جیسی خوبیاں پیدا کیں اور نفع و نقصان کی بنیاد پر مقصد کا تعین کرکے مادّی طور پر ہم سے آگے نکل گئے، جب کہ ہم بہت سے معاملات میں ان کے خوشہ چیں یا دست نگر ہوگئے۔

دوسری اقوام غور و فکر اور تحقیق کے میدانوں میں سرگرم رہیں۔ انھوں نے ہمارے عہد زریں کے کتب خانے اور ہمارے آبا کی کتابیں کو کھنگال ڈالا جب کہ ہم نے اپنے تاب ناک ماضی کو تو یاد رکھا لیکن ان روایات کو طاق نسیاں پر ڈال دیا جن کی بدولت وہ تاب ناک بنا تھا۔ جس کتاب میں ہمیں کائنات میں غور و فکر اور تحقیق کی تلقین کی گئی تھی اسے ہم نے پس پشت ڈال دیا اور محض ناظرہ پر اکتفا کر لیا۔ نتیجتاً دنیا کی قیادت کرنے والوں کو خود دوسروں کی رہ بری قبول کرنا پڑی۔ حالاں کہ اللہ کے رسولؐ نے ہمیں اوپر والا ہاتھ بننے کی تلقین کی تھی اور ہم اپنی پست ہمتی سے نیچے والا ہاتھ بن کے رہ گئے۔ اب دوکان دار کوئی اور ہے گاہک ہم ہیں۔ روزگار کسی اور کے پاس ہے اور ہم لائن میں کھڑے نوکری مانگ رہے ہیں۔ ہم جو انصاف کے علم بردار تھے اب خود دوسروں سے اپنے فیصلے کروا رہے ہیں۔ یعنی موجودہ حالات میں اپنے غیر دانش مندانہ رویے کی وجہ سے ہم مسکین بننے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ تہذیبی طور پر ہم پر دوسری تہذیبوں نے یلغار کر رکھی ہے اور ہم پست ہوتے جا رہے ہیں جب کہ ہمیں حکم ہے کہ سارے ادیان پر اس دین کو غالب کر دو۔ ہم نے تو اس پر بھی غور نہیں کیا کہ وہ کون سی اجتماعی برائیاں معاشرے میں در آئیں جن کی وجہ سے ہم پر چنگیز و ہلاکو اور یورپی اقوام مسلط کر دی گئیں۔ ہم نے ماحول کو اپنے تابع نہیں کیا اور ہر معاملے میں سمجھوتہ کرتے ہوئے زمانے سے پیچھے چلے گئے۔ اس پستی سے اٹھنے کا علاج ہے۔ ”تعلیم“ تعلیم ہم حاصل کر رہے ہیں، دینی و دنیوی دونوں طرح سے، لیکن موجودہ تعلیم سے ہمیں خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

دوسری اقوام غور و فکر اور تحقیق کے میدانوں میں سرگرم رہیں۔ انھوں نے ہمارے عہد زریں کے کتب خانے اور ہمارے آبا کی کتابیں کو کھنگال ڈالا جب کہ ہم نے اپنے تاب ناک ماضی کو تو یاد رکھا لیکن ان روایات کو طاق نسیاں پر ڈال دیا جن کی بدولت وہ تاب ناک بنا تھا۔ جس کتاب میں ہمیں کائنات میں غور و فکر اور تحقیق کی تلقین کی گئی تھی اسے ہم نے پس پشت ڈال دیا اور محض ناظرہ پر اکتفا کر لیا۔

ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو دنیا میں ہمیں کسی کے سامنے شر مندہ نہ کرے اور آخرت میں رب العزت اور حضورؐ کے سامنے سر خ رو کر دے۔ اس لیے ہمیں پورے تعلیمی نظام پر اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرنا چاہیے کہ کس طرح حقیقتِ زندگی اور حقائقِ کائنات کا اسرار کھول کر ہم مقصدِ حیات حاصل کریں۔ اس کے لیے علم ضروری ہے۔

علم کے دو دھارے ہیں:

1۔ حقائقِ زندگی

2۔ مقصدِ زندگی

علم کے جوہر کو اخذ کرنے کا نام تعلیم ہے۔

مقصد تعلیم:

بچے کی جسمانی، روحانی، ذہنی نشو و نما اور جرأتِ ایمان سے بھرپور اخلاقی و فلاحی شخصیت کی تعمیر جو مخلوقِ خدا کی رہ بری کر سکے۔

رہ بری کے مقام پر ہم تبھی پہنچ سکتے ہیں جب ہم اپنی تعلیم کو قرآن کے تابع کر دیں۔ ماضی میں جب ہمارا تعلیمی نظام قرآن حکیم کے تابع تھا تب ہم علوم کا منبع تھے، جیسے ریاضی، سائنس، جغرافیہ، فلکیات وغیرہ، اور بہت سی شریفانہ عادتوں کا نمونہ تھے۔ جب ہم نے تعلیم میں باطل کی رہ بری قبول کی تو کائنات کے علوم کی رہ بری سے بھی محروم ہوگئے اور معاشرے میں وہ قدریں بھی گنوا بیٹھے جو پسندیدہ اور مطلوب تھیں۔

ہمیں تو گائڈ لائن دے دی گئی ہے:

”اوران اچھی باتوں کی پیروی کروجو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہیں اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو“۔ (قرآن)

پیروی تب ہی ممکن ہے جب ہم اس کو جانیں اور سمجھیں۔

علم کا مطلب ہے جاننا۔ یہ کیسا علم ہے کہ ہم پڑھ بھی رہے ہیں اور جان بھی نہیں رہے ہیں۔ جیسے ہمارے بچے قرآن حکیم کو پڑھنے کے نام پر 4۔ 2 سال لگاتے ہیں لیکن قرآن کو جانتے اور سمجھتے نہیں۔

آج کل انگریزی میڈیم کی ہوڑ لگی ہے، جس میں پرائمری سیکشن میں بچہ بجائے پانچ کے آٹھ سال پڑھتا ہے اور جس کی سالانہ فیس ہزاروں میں ہوتی ہے اور آٹھ سال میں لاکھوں پر پہنچتی ہے۔

اتنا وقت اور پیسہ خرچ کرنے کے بعد بچے سے پوچھنے پر سوالوں کے جواب تو صحیح ملیں گے لیکن جب ان سے سبق کا نفسِ مضمون پوچھیں تو مڈل کلاس تک کے بچے عام طور پر صحیح جواب نہیں دے پا ئیں گے، یعنی بچے کا وہ قیمتی وقت جو علم حاصل کرنے میں لگتا ہے وہ رٹنے میں لگا دیا گیا۔ جب کہ مسقبل میں ان بچوں کو ان سے مقابلہ کرنا ہے جو نرسری سے ہی علم کو جان رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں۔ شروع سے ہی انگریزی میڈیم سے یہ نقصان بھی ہے کہ اس سے بچے پر اتنا بوجھ ہو جاتا ہے کہ اس کو دوسرے علوم سیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

ہمیں ایسا طریقۂ تعلیم وضع کرنا ہے کہ جو پڑھیں وہ جانیں۔ ہم غریب ہیں اور پچھڑے ہوئے ہیں اور مسابقت کے دور میں ہمیں کم خرچ، کم وقت میں اور زیادہ محنت کرکے برابری میں آنا ہے۔

اس لیے حالات کی مناسبت کے مطابق مفید آسان اور سستی تعلیم چاہیے جو مناسب (درست عقیدے پر مبنی) ماحول میں دی جائے اور معلم مشن اسپرٹ کے ساتھ پڑھائیں۔

پروگرام:

صفر سے چودہ سال تک کی آبادی جملہ آباد ی کا تقریباَ 82 فیصد ہو تی ہے، اور مسلمانوں کی 91 سال سے نیچے کی آبادی 94 فیصد ہے۔

ہمیں اس 41 سال تک کی آبادی کی تعلیم و تربیت کی فکر کرتے ہوئے پر ائمری اور مڈل اسکول کھولنے چاہئیں۔ پوری تعلیم اسلامی ماحول میں ہو اور ہماری (انجمن) نگرانی میں ہو کیوں کہ اس عمر تک بچے کا عقیدہ، قدریں اور اچھی عادتیں راسخ ہوتی ہیں۔ اسی دور میں صحت بھی بنتی ہے۔

مڈل اسکول:

9 سالہ عرصے میں تعلیم مادری زبان (اردو) میں مناسب ماحول میں تربیت کو دھیان میں رکھ کر دی جائے تاکہ جو پڑھیں اس کو جانیں اور سمجھیں اور عقیدے کی بھی حفاظت ہو سکے۔ (جدید طرز پر ایک پری اسکول کلاس ہو)

کورس:

تقریباً سرکاری ہو۔

زبان:

ارد و ہندی انگریزی اور عربی و مقامی ہو۔

ریاضی، سائنس، سوشل سائنس، تاریخ وغیرہ

معاون مطالعہ:

قرآن حکیم عربی میں سمجھنا، تاریخ اسلام، سیرت پاکؐ تاریخ صحابہ ؓ حدیث پاکؐ جاننا۔ اس کے علاوہ دوسری اہم شخصیات ابن سینا، امام رازی، ابن رشد وغیرہ کو پڑھنا۔ مسلم حکم رانوں کے محاسن کو جاننا۔ ہر قسم کی مفید ایکسرسائز کرنا، کھانے کی مفید عادتیں بنانا، کھانے پینے کی مفید اور نقصان دہ چیزوں کا علم دینا۔

پرائمری اسکول تک مخلوط تعلیم ہو سکتی ہے لیکن مڈل سیکشن سے لڑکے اور لڑکیاں الگ الگ پڑھائی جائیں۔

داخلہ:

لڑکے اردو میڈیم کے نام پر کم داخل ہوں گے، لڑکیاں مل سکتی ہیں۔ اس لیے شروعات ایسی جگہ سے کی جائے جہاں تعلیم کی کمی ہو، مدرسہ بھی نہ ہو۔ لیکن ایک ماڈل اسکول کسی قصبے میں ضرور ہونا چاہیے۔

استاد:

اسکول کے آس پاس کے علاقے کا سروے کرکے پڑھے لکھے لڑکے اور لڑکیاں تلاش کی جائیں اور انہیں مشن اسپرٹ سے پڑھانے کی تحریک دی جائے جہاں تک ممکن ہو سرکاری مستند ادارے کے تربیت یافتہ ٹیچر لیے جائیں۔

مالی ضرورت: شروع میں کچھ لوگوں کو مال کی قربانی دینا پڑے گی بعد میں سرکاری مدد اور طلبا کی فیس سے خرچ چلایا جا ئے گا۔

مڈل تک میڈیم:

مادری زبان (اردو) رہے آٹھویں کے بعد جو بچے زیادہ ذہین ہیں اور جو میڈیم بدلنا چاہیں ان کی مرضی کے مطابق میڈیم میں پڑھایا جائے۔ جو تکنیکی لائن میں جانا چاہیں انہیں انگریزی میڈیم میں پڑھا یا جائے اس کے لیے چھٹے درجے سے انگریزی مضمون پر خاص توجہ دی جانی چاہیے۔

کھیل کود:

ٹیم گیم فٹ بال، ہاکی، والی بال کے ساتھ ہی انفرادی گیم اور اسپورٹ پر زیادہ ھیان دیا جانا چا ہیے۔ سرکار نے اس کے لیے اکیڈمیان بنا ر کھی ہیں اور بچے کا پورا خرچ بھی وہی اُٹھا تے ہیں۔ ٹیم کے مقابلے میں فرد کا انتخاب زیادہ آسان ہے۔ مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ٹیم اور انفرادی کھیل کود ہوتے رہنا چاہیے۔ غیر صحت مند کھیل نہیں ہونا چاہیے۔ جو ڈو کراٹے کی بھی مشق کرائی جانی چاہیے اور یوگ کو بھی مناسب ڈھنگ سے اپنایا جانا چاہیے۔

ہمیں مڈل تک کی تعلیم تو خود ہی اپنے ماحول میں دینا چاہیے اور ممکن ہو تو پوری اسکولی تعلیم انٹرمیڈیٹ تک ہماری نگرانی میں ہو۔

کوچنگ:

کا مقصد ہے بچے کو اس کے اسکول کے درجے کے معیار کے برابر کر نا تاکہ وہ استاد کی بات سمجھ سکے، سوال کرسکے اور درجے میں اپنا معیار بہتر بنا سکے۔ جہاں انجمن اسکول نہ کھولا جاسکے وہاں کوچنگ مراکز کے ذریعے پڑھائی کا معیار بلند کیا جائے اور جو بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں ان کو ان مراکز میں پڑھا یا جائے نیز تربیت کی جائے۔

بڑی لڑکیوں کی کوچنگ بڑی ذمہ د اری کا کام ہے۔ لڑکیاں اسکول اور کالج گروپ میں جا تی ہیں لیکن کوچنگ میں یا تو تنہا جانا پڑتا ہے یا بہت چھوٹا گروپ ہوتا ہے، اور اکثر فاصلہ بھی ہو تا ہے۔ اس لیے لڑکیوں کی کوچنگ ان کے گھر کے قریب ہی ہونی چاہیے۔

مقصد:

ان کو مصروف رکھنا، نامناسب جگہوں سے بچانا، تعلیمی معیار بلند کرنا، مفید علم دینا، لڑکیوں کی ضرورت کی فطری، عملی و دینی تعلیم دینا۔

فنی تعلیم:

میڈیکل، ٹیکنیکل، قانون، انجینیرنگ وغیرہ کی تعلیم کے لیے بچے کا رجحان دیکھ کر شروع سے ہی تیاری کروانی چاہیے۔ مثلاً اگر میڈیکل کالج نہیں کھولا جاسکتا تو نرسنگ کورس چلایا جانا چاہیے، اورکم از کم دایہ ٹریننگ مرکز تو ہونا ہی چاہیے۔ یہ بہت مہنگا نظام ہوتا ہے۔ تو جہاں تک ممکن ہو سرکاری کالج میں یہ تعلیم دلوانا چاہیے۔

تعلیم با لغان:

تعلیم بالغان سماجی بیداری ہے۔ اس میں صرف علمی و معلوماتی تعلیم ہو مذہبی یا مسلکی نہ ہو۔ ا س میں زبان کی ضرورت کے مطابق تعلیم دی جائے اور استاد معلومات کے ساتھ اپنے گھر و حلقۂ اثر میں تعلیم کی ترویج کی اسپرٹ پیدا کریں۔

اس کے علاوہ انہیں درجات میں آگے چل کر محکمہ جاتی قانونوں کی معلومات دیں تاکہ وہ دفتری لیت لالی سے بچیں اور حکومت کی طرف سے جو محکمہ جاتی سہولتیں اور رعایتیں دی جارہی ہیں ان کی معلومات دینا۔ یعنی ہمارے نام سے حکومت کی طرف سے جو پیسہ و رعایت دی گئی اسکا ہم ہی استعمال کریں۔ جہالت و لا علمی و لاپرواہی کی وجہ سے ہم یہ مواقع کھو رہے ہیں۔

مقاصد:

(1) 18سے 25 سال تک کے بچوں کو مصروف رکھنا۔ (2) ان میں آگے بڑھنے و ترقی کرنے کی خواہش پیدا کرنا۔

(3) انہیں ا ن کی ضرورت کے مطابق علم و تربیت دینا۔ (4) ان میں مقابلہ کا جذبہ پیدا کرنا۔

(5) انہیں غیر اخلاقی و غیر قانونی کاموں سے بچانا۔ (6) وحدانیت و رسالت سے روشنا س کرانا۔

مقابلہ جاتی ا متحانات کی تیاری: جیسے انسپکڑ، پٹواری، آئی.ائے.ایس، آئی.پی.ایس وغیرہ نئے و اہم درجات میں داخلہ کی تیاری کرانا۔

ہمیں منفی، احساسِ جرم (guilt) اور معذرت خواہانہ ذہن (apologetic mindset) سے باہر نکلنا چاہیے اور اس پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے جو عام طور پر میڈیا میں پھیلایا جاتا ہے، مثلاً پاکستان ہم نے بنایا، ملک کو آزاد کرانے مں ہمارا کوئی خاص کردار نہیں، مسلم حکم رانوں نے عوام پر ظلم کیے، ہم جاہل، ظالم، بدتمیز و غنڈے ہیں وغیرہ۔

یہ ملک ہمارا ہے، تہذیبی طور پر ہم اس کے وارث ہیں۔ سماج کے کچھ طبقوں میں نشہ، جوا، سٹہ، بے ایمانی، رشوت خوری، بداخلاقی، طبقاتی چپقلش وغیرہ برائیاں پھیل رہی ہیں۔ ہمیں آگے بڑھ کر سماج کو ان برائیوں سے پاک کرنا ہے۔

ہمیں لوگوں کو بتانا چاہیے کہ ملک کا بٹوارا انھوں نے کیا جن کو اس سے فائدہ تھا، ہمیں نہیں تھا اور نہ ہوا۔ ملک کو آزاد کرانے میں سب شریک رہے، اور ہم نے بھی خوب قربانیاں دیں اور قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں اور دار و رسن کو اپنایا۔ ہم سے پہلے سماج اونچ نیچ اور چھوا چھوت میں گرفتار تھا، ہم نے انسانوں کو مساوات کا اسلامی تصور دیا۔ مسلم حکم رانوں نے عام طور پر انصاف سے کام لیا اور ملک کی دولت ملک میں ہی رکھی باہر نہیں لے گئے، اور آج کتنے لوگوں کے سوئس بنک وغیرہ میں اکاؤنٹ ہیں جن کی صحیح تعداد بھی معلوم نہیں۔

یہ ملک ہمارا ہے، تہذیبی طور پر ہم اس کے وارث ہیں۔ سماج کے کچھ طبقوں میں نشہ، جوا، سٹہ، بے ایمانی، رشوت خوری، بداخلاقی، طبقاتی چپقلش وغیرہ برائیاں پھیل رہی ہیں۔ ہمیں آگے بڑھ کر سماج کو ان برائیوں سے پاک کرنا ہے۔

ہمارے ملک کا سماج ملا جلا سماج ہے۔ کسی بھی ملے جلے سماج میں رہنے کے لیے بیدار مغزی اور جرأت ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ اگر خیر کا جذبہ بھی ہو تو ہم سماج میں معزز، مقرب بااعتماد اور اچھے انسان کی حیثیت سے متعارف ہوں گے۔

ہمارے معاشرے میں کچھ کمزوریاں در آئی ہیں، جیسے مسلکی اختلاف، علم کی کمی، پست ہمتی، دوسروں پر انحصار، ناکامی سے خوف زدہ رہنا اور کچھ خدمت کے جذبے کی کمی، اصولوں میں بھی سمجھوتہ کرتے رہنا۔

جہاں تک ہمارے آپس کے اختلافات کا تعلق ہے تو علم کیمیا کا اصول ہے کہ دو مختلف چیزیں یا عناصر ملتے ہیں تو ایک نئی چیز پیدا ہوتی ہے۔ اختلاف بھی دوگروہوں یا طبقوں میں ہوگا تو ایک نئی بات پیدا ہوگی اور اس کو مثبت بنایا جا سکتا ہے، اور یہ اختلاف ایک دوسرے کا تکملہ بن سکتے ہیں۔

دو متحارب فریق ایک دوسرے میں پست ہمتی اور خوف پیدا کرتے ہیں۔ ہم کسی کے متحارب فریق نہیں ہیں کیوں کہ ہم حامل قرآن ہیں جو پوری دنیا کی رہ بری کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں تو دنیا میں اچھائیوں کو پھیلانا اور برائیوں کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

ہمیں خود سے خوف کو دور کرنا ہے۔ پست ہمت اور خوف زدہ شخص کے لیے کامیابی تو دور کا مسئلہ ہے، اس کی پست ہمتی اور بے حوصلگی اس کو کسی مقابلے میں اترنے ہی نہیں دیتی، اور دوسروں کو کھلا واک اوور مل جا تا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

ہماری ذمہ داریاں تو بہت ہیں لیکن ہماری اہلیتیں  (capacities)اور مواقع کم ہیں، اس لیے ہم سماج میں پچھڑ گئے ہیں۔

اس پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے ہمیں پورے معاشرے میں بیداری مہم چلانا پڑے گی۔

  • بنیادی تعلیم عام کو ہونا چاہیے۔ ہر حق دار (eligible) کو اعلیٰ تعلیم ملنا چاہیے۔
  • تعلیمی کانفرنسز ہوتی رہنا چاہئیں جس سے تعلیمی معیار کا پتہ چلتا رہے۔ سرکار کی نئی تعلیمی پالیسی کا علم ہوتا رہے اور احتساب ہو تا رہے۔
  • ہر مقابلہ میں اترنا چاہیے۔
  • وہ علم جس سے اخلاقیات اور حوصلہ بلند ہو جیسے سیرت پاک و حکایات صحابہ وغیرہ، اسے حاصل کرنا چاہیے۔ تاریخ اسلام سے بھی خصوصی شغف رکھنا چاہیے۔
  • ہر فرد کو مذہبی، مقامی و دفتری زبانیں آنا چاہئیں۔
  • تاریخ کا علم ہو نا چاہیے۔
  • دنیا کے کام یاب ہیروز کی سوانح جاننا چاہیے۔
  • سرکار کے ہر شعبے کا حسب ضرورت علم ہونا چاہیے۔
  • معاشرے کے ہر فرد تک پہنچنا چاہیے۔
  • مذہبی اجتماعات کا افادیت کی بنیاد پر احتساب ہو نا چاہیے۔
  • کچھ خاص لوگوں کودوسرے مذاہب اور تہذیبوں کا علم ہونا چاہیے۔
  • ہماری فکر انفرادی سے بڑھ کر ملی ہو اور نظر (vision)کشادہ ہو۔

اب درس گاہیں بھی ہماری نہیں، اب ہم دوسروں سے علم و فکر اور تہذیب حاصل کر رہے ہیں۔

ہمیں زیادہ سے زیادہ درس گاہیں کھولنا چاہئیں، تعلیمی سروے کرنا چاہیے، پچھڑی ذاتوں میں خاص طور پر اسکول کھولنے چاہئیں، جیسے نٹ، بیلدار، بھلیڑی مسلمانوں وغیرہ کے علاقوں میں۔

تعلیمی نصاب بچے کے عقیدے اور اس کی ذہنی و جسمانی اہلیت کے مطابق ہو، ان کے لیے بوجھ نہ ہو۔ بچہ کی تندرستی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔

سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کے بچے ہوں اور وہ اردو پڑھناچاہیں تو ان کو اردو پڑھائی جائے اوراردو ٹیچر مقرر ہوں اور لوگوں کو نوکری ملے۔

خوراک، پوشاک  اور اجتماعی پروگرام (شادی وغیرہ) کے سارے طور طریقے افادیت، سادگی و کفایت پرمبنی ہوں۔

تجارت و تعلیم کے علاوہ بڑے پیمانے پر، امداد باہمی کی بنیاد پر، صنعت و حرفت پر زیادہ توجہ دی جائے۔ ایک سروے کمیٹی ہو جو معاشرے کا ہر قسم کا سروے کرکے سماج کی ضرورتوں کو پوراکرنے میں معاون بنے۔

زکوٰۃ کو منظم کیا جائے اور قرآن حکیم کی بتائی ہوئی مدوں ہی میں صرف کی جائے۔

مقامی طور پر ایک وقف تحفط کمیٹی بنانا چاہیے جن کے ارکان وقف جائیداد کے قانون سے واقف ہوں۔ ان کے پاس فنڈ بھی ہو تاکہ وہ وقف کمیٹی کی مدد کر سکیں۔ اور اس کی آمدنی سے ملت مستفید ہوسکے۔

ایک کمیٹی ہو جو مختلف سرکاری دفتروں سے اچھے رشتہ رکھے  اور انہیں تعاون دے، ساتھ ہی غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں سے رابطہ رکھیں اور معلومات کا تبادلہ کریں۔

سرکاری سہولت لینے کے لیے فرد پر بھروسا نہ کیا جائے انجمن خود تمام قانونی کام کرے۔

آسانی سے اسلام کو روشناس کرانے کا ذریعہ اذان ہے۔ اس لیے اذان خوش الحانی سے دی جائے اور درست دی جائے۔ اس کے تربیتی مراکز ہوں۔ دینی ضرورت کے لیے جو لوگ باہر گئے ہوں یا جو جیلوں میں بند ہوں، ان کے گھروں کی خبر گیری کی جائے۔

ان سب کا موں کے لیے اہل خیر حضرات سے مالی تعاون حاصل کرکے مستقل فنڈ بنایا جائے۔

لیڈر اور قوم کا تعلق دودھ اور ملائی جیسا ہو تا ہے، جیسا دودھ ویسی ملائی۔ اس لیے ہمیں دودھ (ملت) پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

اتحاد:

ہم خدمت دنیوی و مادی ٹارگیٹ یکساں کرلیں اور انہیں حاصل کرنے میں ایک دوسرے کے معاون بنیں۔

ترقی:

علم، حرکت، بیداری، مقصد کا تعین نظمِ وقت اور حوصلہ ضروری ہے۔

انجمن تاریخ داں:

شریر لوگ غلط تاریخ بیان کرکے ہمیں گم راہ اور بدنام کر رہے ہیں۔ اس انجمن کے ذریعے ہمارے بزرگوں اور حکمرانوں کے واقعات اور کارناموں کو سامنے لایا جائے، جیسے بادشاہ ہند ناصرالدین کا اپنی ملکہ سے یہ کہنا کہ میری آمدنی اتنی نہیں ہے کہ روٹی پکانے کے لیے ایک خادمہ رکھ سکوں (ملکہ خود کھانا پکاتی تھیں)، رہا شاہی خزانہ تو وہ سب رعایا کا مال ہے، میں اس میں سے اپنے لیے ایک کوڑی بھی نہیں لے سکتا۔

اور اسی کے ساتھ مستند تاریخی کتب کی لائبریریاں قائم ہوں جس میں تحقیق ہو اور نام نہاد تاریخوں کا محاسبہ ہو۔ سائنس کے اسکالرس کے پروگرام کرتے رہنا چاہیے، اور سائنس میں فلاح و بہبود کی ایجادات پر غور کرنا چاہیے۔

اطلاعی مرکز:

صرف ایک آدی کمپیوٹر پر بیٹھ کر پوری معلومات ہر قسم کی اکٹھی کر سکتا ہے۔ ہمیں معلومات سے دل چسپی کم ہے، اس لیے ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم مرکز سے ہرقسم کی تعلیمی معلومات روزگار کے مواقع اور سرکاری اسکیموں کی معلومات  اور اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ کار معلوم کرکے لوگوں کو بتائیں اور مدد بھی کریں۔

مقامی طور پر تعلیم یافتہ (عالم و گریجویٹ) لوگوں کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا اور ان کا ایک ڈھیلا ڈھالا نظم قائم کرنا۔ ان کے پروگرام کرتے رہنا جس میں ان کے مسائل  اور ملت کے مقامی مسائل پر مذاکرے کیے جائیں۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ  اور پنشن یافتہ لوگوں کا کلب: کلب کے ارکان کے علم و تجربہ اور معلومات سے مستفید ہونے کے لیے ان کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا  اور ملی مسائل پر ان سے گائڈ لائن لینا۔

واٹس ایپ:

چلانا چاہیے، قرآن حکیم کی معاشرتی آیا ت کا ترجمہ و تفسیر عالم صاحب کی رہ بری میں ہو، جیسے (مفہوم) کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹادے، اور اسی قسم کی احادیث صحاح ستہ سے بیان ہوں۔

ان سب کا موں کے لیے ایک این جی او ہو اور اس کے صدر کی معاونت کے لیے عالم، ماہر تعلیم اور وکیل ہوں۔

سرکار اقلیتوں کے لیے بجٹ تقویض کرتی ہے جو ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔ ہماری لا پروائی و لا علمی کی وجہ سے ہم اس بجٹ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ ہمیں اس رعایت کا پورا ستعمال کرنا ہے اور اس میں جان بوجھ کر جو رکاوٹیں ڈالتے ہیں ان کا احتساب کرنا ہے۔

آج ہم آزاد ہیں اپنا مقدر خود بنا سکتے ہیں، ضرورت ہے بیداری اور محنت کی۔ ہمیں تقلید نہیں کرنا ہے، رہبری کرنا ہے۔

اس کے لیے مڈل اسکول تک کی تعلیم کے ہم خود ذمہ دار بنیں، کسی کو بھی یہ ذمہ داری نہ دیں۔ تاکہ ہمارا عقیدہ، تہذیب اور اقدار محفوظ رہیں، اور علم کی بنیاد اتنی مضبوط ہوجائے کہ آگے جاکر ہم ایک مسابقتی امت (competitive nation) بن سکیں۔