مغربی فکر،جدیدیت اور۔۔ دور حاضر کا نوجوان

’جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا ‘

مجتبیٰ فاروق، حیدرآباد

جدیدیت اور مغربی تہذیب کالی آندھی کی طرح ہر طرف چھائی ہوئی ہے اور فکری تخریب کاری کا بگل بجا رہی ہے۔ زبردست تیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ مشرق سے لے کر ایشاتک ا س نے اپنے تباہ کن اثرات سے ابلیسیت کانظام برپاکر رکھا ہے ۔ اپنے ایجنڈوں اور کارندوں کے ذریعے سے دنیا کے ہر کونے میں خدابے زار اور لادینیت پر مبنی تہذیب قائم کر رکھی ہے ۔اور یہ مختلف ناموں سے ہر جگہ اپنے اثرات دکھا رہی ہے ۔کہیں اس کو’’ جدیدیت ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ تو کہیں اس کو ’’روشن خیالی‘‘کا نام دیا گیا ہے ۔بعض لوگ اس کو’’تہذیب حاضر‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔آخر یہ تہذیب کیا چاہتی ہے اس کی غرض وغایت اور مقصد کیا ہے ؟اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اس تہذیب کا مقصد اور منشایہ ہے کہ پچھلے دوسوبرس سے فطرت کے خلاف جو بغاوت شروع ہوئی ہے، اس کو نہ صرف نئے قالب میں پیش کرناہے بلکہ اس کو منظم اور وسعت دے کر آگے بھی بڑھاناہے۔ لیکن مغربی تہذیب اور جدیدیت کابھوت آخر ہمارے دماغوں پر کیوں کر سوار ہوا ۔کون لوگ اس کے ذمہ دار ہیں۔ اور کن لوگوں نے فطرت اور خالق حقیقی کے خلاف بغاوت کرکے خود ساختہ ازموں کو ایجاد کیاہے ؟اس فہرست میںسب سے نمایاںنام چارلس ڈارون کا ہے۔پھر کارل مارکس،اورفیڈرک اینجلس،اس کے بعدسگمنڈفرائڈ،برٹرنڈرسل اور ژال پال سارتر کانام لیا جاسکتا ہے۔یہ وہ دانشور ہیں جنھوں نے فطرت اور خالق حقیقی سے بغاوت اور منہ موڑکر عالم انسانیت میں زبردست فکری بحران پیداکردیا اور دنیائے انسانیت میںانبیائی فکر کے خلاف انتہائی بھیانک محاذ سنبھالاجو رکنے اور تھمنے کانام ہی نہیں لیتا ۔ اس بغاوت اور انحراف سے اب انسان بھیانک نتائج کا سامناکر رہا ہے۔اور مصائب ومشکلات کے بھنور میں ایک انسان پوری طرح سے پھنس گیا ہے۔
عصر حاضر میں نوجوان اور طلبہ وطالبات ستر پوشی ،حیا، عزت وعفت اور ایمان جیسے الفاظ سے نہ صرف کوسوں دور ہیں بلکہ نابلد بھی ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ نوجوان طلبہ وطالبات مغربی تہذیب اور جدیدیت ہی کو اپنی آماجگاہ بنائے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک کہ ہمارے بعض مسلم رہنما اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہمیں مغرب کے نقش قدم پر چلناہی ہوگا ۔حالانکہ اس تہذیب میں خدا کا تصور بالکل غائب ہو چکا ہے ۔ انبیائی تعلیمات سے اس تہذیب نے وسیع پیمانے پر روگردانی کی روش اپناکر آسمانی کتا بوںمیںتحریف کرکے ان کی اصل تعلیمات کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔اس تہذیب کے ماننے والوں نے اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ ایک طرف مغرب میں ہم جنس پرستی ،برہنگی اور اخلاق باختگی کو شخصی آزادی(Personal Rights)کے نام پرقانونی جواز فراہم کیا تو دوسری طرف مسلم طالبات کوشخصی آزادی سے محروم کرکے انھیں حجاب یا اسکارف پہن کر اسکول جانے یا کسی اور حکومتی ادارے میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔یہاں تک کہ فرانس کے سابق صدر نکولس سر کوزی نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ’’ برقع اور حجاب آمرانہ اقدام ، نسل پرستی اور تعصب کا آئینہ دار ہے اور فرانس جیسے جمہوری معاشرے میں کسی عورت کوستر پوشی اور حجاب کی ہر گز اجازت نہیں دی جاسکتی ‘‘۔
مغربی تہذیب نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔اس تہذیب کی گندگی اور خرابیوں کا اعتراف اب ان کے اپنے دانشواران بھی کھل کر کرنےلگے ۔ جیساکہ جان ایل ایسپوزیٹوکا کہناہے کہ ’’مغرب کو اپنی تہذیب کی خرابیوں اور کمیوں کو دورکرنا چاہیے۔‘‘ اس تہذیب کے حامی اور علمبردار اس زعم میں بھی مبتلا ہیں کہ ان کی تہذیب دوسری تہذیبوںسے بر تر اور اعلی ہے۔ اسی زعم کی وجہ سے وہ اپنی تہذیب کو سنوارنے اور اس میں توازن کو قائم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس تہذیب میں مذہبی فکر کی ذرہ برابر بھی رمق دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے اس تہذیب میں اخلاقی اقدار اور پاکیزگی وشائستگی ختم ہو رہی ہے ۔ ’’روح ‘‘نام کی چیزسے مغربی تہذیب ہر اعتبار سے حدیثِ بے خبرا ں ہے۔یہ تہذیب لادینیت اور الحاد پر قائم ودائم ہے جوکہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس میں نہ فکر آخرت اور نہ ہی روز جزا وسزا کا تصور ہے ۔ زندگی کے بارے میں اس تہذیب کا تصوریہ ہے کہ ’’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘او ر Eat Drink and be Happy ہے۔اسی نظریہ کے تحت وہ اپنی پوری زندگی گذار رہے ہیں۔اس تہذیب میں صر ف ظاہری چودھراہٹ ،مادی سہولتیںاور ظاہری چمک ودمک نظر آتی ہے ۔اسی لیے علامہ اقبال ؒنے اس تہذیب کو فساد زدہ تہذیب قرار دیا ہے:
فساد قلب و نظر ہے فرنگ کي تہذيب
کہ روح اس مدنيت کي رہ سکي نہ عفيف
رہے نہ روح ميں پاکيزگي تو ہے ناپيد
ضمير پاک و خيال بلند و ذوق لطيف
اس فساد زدہ تہذیب نے برائیوںاور بے حیائی کو مزین (Decorated)کرکے ہر سو عام کر دیا۔ ام الخبائثیعنی شراب اس تہذیب کی ایک اہم علامت ہے ۔سود پر مبنی معیشت کو دنیا بھر میں پھیلا دیا ،حیا اور پاک دامنی پر حملہ کرکے عورتوں سے لباس بھی اتروایا ،یہ اس تہذیب کا شاخسانہ ہے ۔جدیدیت (Modernization)کے نام پر سماج میں رائج اقدار کوتہ وبالا کر ڈالا۔ انھوں نے میڈیا کی وساطت سے جھوٹ کو اتنا عام کردیا کہ ہر ایک اس جھوٹ کو سچ ماننے لگتا ہے ،اسی میڈیا کے ذریعہ سے مغرب نے عر یانیت، فحاشی اور ہم جنس پرستی کو اتنا عام کر دیا کہ اب یہ چیزیں ان کے لیے معاشی استحکام کا ایک اہم ذریعہ بھی بن گئی ہے۔ عورت کا استحصال سب سے زیادہ اسی تہذیب نے کیا اور عورت کو نسائیت سے نہ صرف محروم کیا بلکہ اس کو ایک شئے (Product)بنا کر کھلونے کی حیثیت د ے د ی اور مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو گھروں سے نکال کر کارخانوں اور حیاسوز ویب سائٹس کی دنیا کی زینت بنا کر اس پر معاشی بوجھ بھی ڈال دیا ۔ اس تہذیب نے ہم جنس پرستی کو بھی اتنا فروغ دیا کہ اب وہ اس کو قانونی جواز و تحفظ بھی فراہم کر رہے ہیں۔طوائف کو جنسی کارکن کی حیثیت دے دی،کنڈوم اور جنسی تعلیم کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے اوراسقاط حمل کو یہ تہذیب عورت کا جائز حق ٹھہرارہی ہے ۔مغرب میںتحریک نسواں(Feminism) یانسوانی تحریکوں کا ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ فیمنزم اور ہم جنس پرستوں میں آپس میں گہرا تال میل ہے ۔ یورپ اور مغرب میں ہم جنس پرست عورتوں(lesbian)نے فیمنزم کی تنظیموں میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ ان تنظیموں میں رہ کر اپنی اپنی چاہتوںاور خواہشات کو جلا بخشی۔ ویسے تو یہ جنسی آوارگی مغرب کے لیے نئی نہیں ہے۔اس جنسی آوار گی یا جنسی انقلاب (Sexual Revolution )کا آغاز ۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہوا، اس جنسی انقلاب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تک نہیں اور اس بیہودہ انقلاب نے ہر قوم و تہذیب کو متا ثر کیا۔فحش ویب سائٹس (pornography ) کے ذریعہ سے اس حیا سوز تہذیب نے اخلاق اور حیا کی دھجیاں اڑا دیں۔ اسلام کی نگاہ میں ہم جنس پرستی انتہائی شنیع فعل ہے اور بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے ۔ قرآن کے مطابق اسی گناہ کے جرم میں قوم لوط کو اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کر کے صفحۂ ہستی سے نیست ونابود کردیا۔اس تہذیب میں ایک اعلیٰ ترین رنڈی (Prostitute)تین ہزار ڈالر فی گھنٹہ کماتی ہے ۔آج کل کی اصطلاح میں اسے آرٹسٹ ،فلم اسٹار،Sex Workerاور Porn Starکہا جاتا ہے ،لیکن اس پیشے کے عیوب ظاہر کرنے کے لیے سب سے بہترین لفظ یہی ہے ۔اگر یہ رنڈی روزانہ بارہ گھنٹے کام کرے تو اس کی روزانہ کی آمدانی ۳۶ ہزار ڈالر ہے جو ایک امریکی استاد کی سالانہ آمدنی ہے۔ یہ رنڈی ماہانہ دس لاکھ اسی ہزار ڈالر کماتی ہے جب کہ امریکی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ایک سال میں صرف دو لاکھ ستر ہزار چار سو ڈالر کماتا ہے ۔( سہ ماہی حکمت قرآن،لاہور ،جنوری تا مارچ ۲۰۱۵ء ) قصور مغرب کا ہی نہیں ہے بلکہ دوسری اقوام اور تہذیبوں نے بھی اس حیا سوز انقلاب کوگلے لگایا ہے ۔ اس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ شیطان انسان کو بے حیائی اور بد کاری میں مبتلا دیکھنا چاہتا ہے، قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
الشَّیْْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَأْمُرُکُم بِالْفَحْشَاء (البقرۃ :۲۶۸)
’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈرا تا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے‘‘۔
گویا کہ برائیوں کی طرف مائل کرنا ، ترغیب دینا پھر ان برا ئیوں کو خوشنما بناکر پیش کرنا اور اکساناشیطان کا بنیادی اور اہم کام ہو تاہے ۔ برائیوں کو فروغ دینے میں یہ شیطانی طرز عمل سب سے بڑا عامل ہے ۔اس تہذیب میں آج کا نوجوان پوری طرح سے جکڑا ہوا ہے اور فکری اور ذہنی غلامی میں پھنس چکا ہے ۔مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں کہ اس وقت مغرب ایک اخلاقی جذام میں مبتلا ہے ،اور اب اس کی عفونیت پورے ماحول میں پھیلی ہوئی ہے ۔اس مرضِ جذام کا سبب اس کی جنسی بے راہ روی اور اخلاقی انارکی ہے جو بہیمیت و حیوانیت کی حدود تک پہنچ گئی ہے، لیکن ا س کیفیت کابھی حقیقی سبب عورتوں کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی ،مکمل بے پردگی ،مرد و زن کا غیر محدود اختلاط اور شراب نوشی تھی۔ اسلامی ملکوں میں جہاں مغربی تہذیب کی پُرجوش نقل کی جارہی ہے اور جہاں پردہ بالکل اٹھ گیا ہے اور مرد و زن کے اختلاط کے آزادانہ مواقع حاصل ہیں ،پھر صحافت، سنیما،ٹیلی وژن ،لٹریچر اور حکمراں طبقہ اس کی ہمت افزائی بلکہ رہنمائی کر رہا ہے ،وہاں اس جذام کے آثار و علامات پوری طرح ظاہر ہونے لگے ہیں اور یہ قانونِ قدرت ہے جس سے کہیں مفر نہیں ۔
مغرب کامذہب اور تہذیب کے حوالے سے کیا موقف ہے ؟وہ مندرجہ ذیل ہے:
۱۔ مذہب فرسودہ ہو چکا ہے اور تہذیب ہی سب کچھ ہے ۔
۲۔ مذہب عقل کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا ہے ۔کیوں کہ عقل کچھ اور کہتی ہے اور مذہب کچھ اور حکم دیتا ہے ۔
۳۔ مذہب یادِ ماضی ہے ،جب کہ تہذیب حال کے مسائل کو حل کرتی ہے۔
۴۔ یہ تہذیب کی دنیا ہے جو ہمارے مسائل کا حل پیش کرتی ہے ۔ جب کہ مسائل کو حل کرنے میں مذاہب ناکام ہوچکے ہیں ۔
اسلام کا موقف کیا ہے ؟
اسلام دین فطرت ہے یہ انسان کے جملہ مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور انسان کی جائز خواہشات کو پورا کرنے کی نہ صرف تر غیب دیتا ہے بلکہ اس کو عبادت قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر انسان کی بنیادی خواہشات تین طرح کی ہوتی ہیں: کھانے پینے کی خواہش،جنسی خواہش اور ریاست (قیادت یاعہدہ ومنصب ) کی خواہش ۔ان تینوں خواہشوں کے حوالے سے قرآن اور سنت میں واضح تعلیمات موجود ہیں ۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں مکمل سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام (Socio-Economic Political System)کے ساتھ نفس کی تربیت اور روح کی پاکیزگی کی تعلیمات موجود ہیں۔ اسلام ایک مکمل تہذیب بھی ہے جس میں پاکیزگی و شائستگی اور حیا کی تعلیمات دی گئی ہیں۔اسلامی تہذیب کے ہوتے ہوئے کسی اور تہذیب کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کو ئی فرد اسلامی تہذیب کے ہوتے ہوئے کسی تہذیب سے متاثر ہوتا ہے یا اس سے کسی اثر کو قبول کرتا ہے تو اس تہذیب کے دوسرے اثرات بھی اس پر پڑتے ہیں۔ مشہور مورخ اور فلسفی ٹائین بی کی یہ بات نہایت قابل غور ہے جب اس نے کہا کہ ’’جب تم ایک تہذیب کو دعوت دیتے ہو تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس تہذیب کے کچھ اجزا تو اختیار کر لو اور کچھ کومسترد کر دو بلکہ تمہیں رفتہ رفتہ اس تہذیب کے سارے لوازمات کو اختیار کرنا پڑتا ہے‘‘۔ لیکن اسلام ایک اصول پیش کرتا ہے وہ اصول یہ ہے’’ خذماصفا ودع ماکدر‘‘ یعنی جو کچھ اچھائی ہے اسے لے لواور جو کچھ برائی ہے اسے چھوڑ دو۔اس بنیادی اصول سے ہم مکمل طور سے ہٹ گئے اور اچھائی لینے کے برعکس ہم نے برائی کو لینا پسند کیا۔ اسلامی تہذیب کی بنیادقرآن وحدیث ہے جو ایک فرد یا قوم کوعقیدہ ٔ توحید ، عقیدۂ رسالت اور عقیدہ ٔآخرت اور پاکیزگی وشائستگی و حیا کی ترغیب دیتی ہے ۔ جب کہ مغربی تہذیب کی بنیاد تحریف شدہ کتا بوں اور عقیدہ ٔتثلیث اور انبیائی فکر سے روگردانی اور بے حیائی ہے۔ یہ تہذیب اب اپنے ہی خنجر سے آپ خودکشی کرے گی ۔بقول علامہ اقبال
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا
آج فحاشی وعریانیت ، ننگا ناچ اور حیا سوز ذرائع ابلاغ ہر گھر اور خاندان کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے ۔ بے شمار رسائل وجرائد اور اخبارات بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں ۔انٹر نیٹ پر ان گنت حیا سوز ویب سائٹس موجود ہیں، جن تک ہر نوجوان کی رسائی بآسانی ہو جاتی ہے ۔ گھر سے لے کر کالج تک اور کالج سے لے کر بازار تک بے حیائی پر مبنی ماحول کا سامنا ہے۔ ایسا معا شرہ اور فضا نوجوان کی جنسی خواہشات کو بر انگیختہ کر دیتی ہیں ۔ بے حیائی اخلاق باختگی ایک ایسی وبا ہے جو بڑی تیزی کے سا تھ اپنے اثرات دکھا رہی ہے جس کی بدولت آج نوجوانوں میں خوف، تناؤ ،ذہنی اور نفسیاتی پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں ۔ شکوک و شبہات ، الحاد ، مغربی فلسفہ و فکر ،جدید مادہ پرستانہ افکار و نظریات ،مابعد جدیدیت اور انارکیت کا ایک طوفان برپا ہے جواب نوجوانوں کے دل و دماغ پر راج کر رہے ہیں ۔ برائیاں ، پریشانیاں، بے حیائی اور فحاشی اور رذائل اخلاق دیمک کی طرح نوجوانوں کو کھا ئے جارہے ہیں ۔اطمینان قلب ، تطہیر ذہن ،حیا پسندی ، پاک دامنی اور حسن اخلاق سے نوجوانوں کو متصف کرنا وقت کا ایک تجدید ی کام ہوگا ۔ بقول مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ ’’وقت کا تجدیدی کام یہ ہے کہ امت کے نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ میں اسلام کی اساسیات اور اس کے نظام و حقائق اور رسالت محمدی ﷺ پراعتماد واپس لایا جائے جس کا رشتہ اس طبقہ کے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ آج کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ اس فکری اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں کا علاج بہم پہنچایا جائے۔جس میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بری طرح گرفتار ہے اوراس کی عقلیت اور علمی ذہن کو اسلام پر پوری طرح مطمئن کر دیا جائے‘‘ ۔
اسلام نہ صرف برائیوں کو قابو میں کرنا چاہتا ہے بلکہ ان کا قلع قمع بھی کرتا ہے ۔ جن میں نوجوان طبقہ مبتلا ہے، اسلام نے برائیوں سے دور رہنے کی سخت تاکید کی ہے ۔ اب اگر برائیوں کو جاننے اور اس کے انجامِ بد سے باخبر ہونے کے باوجود اجتناب نہیں کریں گے ،تو اللہ کے رسول ﷺ کا یہ مبارک ارشاد ذہنوں میں مستحضر رکھنا چاہیے کہ إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: (إذا لم تستحِ، فاصنع ما شئت)؛ رواه البخارياگلی نبوت کی باتوں میں جو کچھ لوگوں نے پایا اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ جب تم کو شرم نہ رہے تو جو چاہے کرو‘‘۔یہ بات بھی ذہن میں مستحضر رہے کہ اللہ تعالی ٰ ہر عمل کی نگرانی کر رہا ہے، چاہے ہم تنہائی میں ہوں یا دوست و احباب میں ہوں اور اس سے کوئی چیز یا ذرہ پوشیدہ نہیںہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْراً یَرَہُ ۔وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَرَہ
( الزلزال :۷)
’’تو جس نے ذرہ بھر بھی اچھائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا ‘‘۔
(مضمون نگار مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی حیدر آباد سے پی۔ایچ۔ڈی اسکالر ہیں)
***

شکوک و شبہات ، الحاد ، مغربی فلسفہ و فکر ،جدید مادہ پرستانہ افکار و نظریات ،مابعد جدیدیت اور انارکیت کا ایک طوفان برپا ہے جواب نوجوانوں کے دل و دماغ پر راج کر رہے ہیں ۔ برائیاں ، پریشانیاں، بے حیائی اور فحاشی اور رذائل اخلاق دیمک کی طرح نوجوانوں کو کھا ئے جارہے ہیں ۔اطمینان قلب ، تطہیر ذہن ،حیا پسندی ، پاک دامنی اور حسن اخلاق سے نوجوانوں کو متصف کرنا وقت کا ایک تجدید ی کام ہوگا ۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، خصوصی شمارہ 28 مارچ تا  3 اپریل 2021