قیام کے بعد سے اب تک اتراکھنڈ وقف بورڈ کی کوئی سالانہ رپورٹ تیار نہیں ہوئی

حق اطلاعات قانون کے تحت مانگی گئی معلومات میں انکشاف ،20 برسوں سے  کوئی رپورٹ اسمبلی کے سامنے پیش نہیں کی جا سکی

نئی دہلی ،06جنوری :

اتراکھنڈ کی موجودہ حکومت اکثر کامن سول کوڈ ،لینڈ جہاد اور لو جہاد جیسے مفروضوں کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہے ۔خاص طور پر گزشتہ دو برسوں  سے بھگوا تنظیموں کے ذریعہ  مزارات اور قبروں کی مسماری کے ویڈیو وائرل ہوتے رہے ہیں جنہیں خود دھامی حکومت لینڈ جہاد کا نام دے کر جواز فراہم کرتی رہی ہے ۔اترا کھنڈ وقف بورڈ کے تعلق سے  ایک آر ٹی آئی میں   حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2003 میں اتراکھنڈ وقف بورڈ کے قیام کے بعد سالانہ رپورٹ  کبھی تیار نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اسے  ریاستی اسمبلی میں کبھی پیش نہیں کیا گیا۔

انڈیا ٹو مارو کی رپورٹ کے مطابق   وقف بورڈ اتراکھنڈ  کی سالانہ رپورٹ کبھی تیار نہیں کی گئی۔ بورڈ کی رپورٹ تیار کرنا محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت محکمہ اقلیتی بہبود کی سربراہی ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کر رہے ہیں۔

اتراکھنڈ وقف بورڈ نے یہ معلومات آر ٹی آئی کارکن ایڈوکیٹ ندیم الدین کو ایک سوال کے جواب میں دی ہے۔ انہوں نے وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 98 کے تحت اتراکھنڈ وقف بورڈ کی سالانہ رپورٹ کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں، جسے ہر سال تیار کرکے ریاستی اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہئے۔

مذکورہ معلومات پبلک انفارمیشن آفیسر کم ریکارڈ کیپر سوہن سنگھ نے انفارمیشن کمشنر ارجن سنگھ کے حکم پر فراہم کی ہیں۔ درخواست گزار ایڈوکیٹ ندیم الدین کو دی گئی جانکاری میں کہا گیا ہے کہ ریاستی وقف بورڈ اور وقف املاک سے متعلق ابھی تک کوئی رپورٹ تیار نہیں کی گئی ہے۔

ایڈوکیٹ ندیم الدین کے مطابق، وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 98 میں کہا گیا ہے کہ ایک مالی سال کے ختم ہونے کے بعد، ریاستی حکومت، جلد از جلد، ریاستی وقف بورڈ کے کام کاج اور انتظامیہ کے بارے میں ایک عام سالانہ رپورٹ کا بندوبست کرے گی۔

سیکشن کہتا ہے کہ رپورٹ کو ریاستی مقننہ کے ہر ایوان کے سامنے رکھا جانا چاہیے یا جہاں صرف ایک ایوان پر مشتمل ایک مقننہ ہو، رپورٹ اس ایوان کے سامنے رکھی جائے۔ ایسی ہر رپورٹ کا فارمیٹ اور اس میں شامل معاملات ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئیں۔

یہاں 2114 رجسٹرڈ وقف اسٹیٹس ہیں جن میں 2091 سنی وقف اور 13 شیعہ وقف شامل ہیں۔ سنی وقف املاک کی آمدنی سے ریاستی وقف بورڈ کو چندہ کی رقم صرف 22 لاکھ 48 ہزار 805 روپے تھی، جب کہ شیعہ وقف املاک سے حصہ داری کی رقم 13 ہزار 790 روپے تھی۔

ایڈوکیٹ ندیم کا کہنا ہے کہ یہ عجیب اور تشویشناک بات ہے کہ 2003 میں اتراکھنڈ کے وجود میں آنے کے بعد سے ریاستی وقف بورڈ کی کوئی رپورٹ تیار اور ریاستی اسمبلی میں پیش نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر وقف املاک پر رپورٹ تیار کی جاتی تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا تھا اور اسے مسلم کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور سماجی بہبود کے لیے خرچ کیا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے وقف اراضی پر تجاوزات کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی تھی۔

انڈیا ٹومارو سے بات کرتے ہوئے وکیل ندیم نے کہا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 98 کی عدم تعمیل کے لیے ایک PIL دائر کی جا سکتی ہے۔

ایڈوکیٹ ندیم، جنہوں نے قانونی معاملات پر کئی کتابیں لکھی ہیں، کہتے ہیں، ”چونکہ وقف بورڈ اور وقف املاک کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں ہے، اس لیے وقف املاک کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات دستیاب نہیں ہے۔ وقف املاک کی تعداد کو دیکھتے ہوئے، وقف بورڈ میں ان کی شراکت کی رقم بہت کم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے گی تو لوگوں کو وقف املاک کی حالت اور وقف بورڈ کے کام کاج کا پتہ چل جائے گا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس وقت وقف املاک کی ایک بڑی تعداد پر قبضہ کر لیا گیا ہے، لیکن کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ ایسی وقف املاک کا ڈیٹا سالانہ رپورٹ تیار ہونے کے بعد معلوم ہو جائے گا۔