شواہد کی کمی کے سبب دہلی تشدد کیس میں 20 افراد کو ملی ضمانت، انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے نام ایف آئی آر میں نہیں تھے

نئی دہلی، مئی 24— شمال مشرقی دہلی تشدد کیس میں پچھلے ایک ہفتے میں 20 سے زائد افراد کی ضمانت ہوچکی ہے۔ مبینہ طور پر ان میں سے بیش تر نے متعلقہ عدالتوں کو بتایا کہ ان کے نام ایف آئی آر میں نہیں تھے اور بعد میں انھیں جھوٹے طریقے سے ملوث کیا گیا۔

دی انڈین ایکسپریس کی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ ’’ضمانت حاصل کرنے والے بیش تر ملزمان کو لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔‘‘

شمال مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں فروری کے آخر میں ہونے والے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 750 مقدمات درج کرکے 1300 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

چوبیس فروری سے شروع ہونے والے تین روزہ طویل تشدد کے دوران تقریباً 50 افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے۔ فسادیوں نے سیکڑوں مکانات، دکانیں اور گاڑیاں لوٹ لیں اور ان میں آگ لگا دی تھی۔

22 مئی کو ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) سنیل چودھری نے کچھ ملزمان کو ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر ضمانت دے دی۔

انگلش ڈیلی کے مطابق جج نے ضمانے نامے میں کہا ’’آئی او نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی ہے۔ استفسار پر آئی او نے جواب دیا کہ وہ اس واقعے میں درخواست دہندہ (ملزم) کی فعال شمولیت ظاہر کرنے کے لیے کوئی ثبوت اکٹھا نہیں کرسکا ہے۔ انھوں نے (آئی او) نے یہ بھی بتایا کہ وہ کسی ایسے عوامی عینی شاہد کو بھی نہیں ڈھونڈ سکے جس نے درخواست دہندہ کو جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا ہو۔‘‘

شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران شہر کی پولیس نے متعدد نوجوان کارکنوں اور طلبا کو بھی گرفتار کیا ہے جو دسمبر-مارچ کے درمیان سی اے اے مخالف مظاہرے میں پیش پیش تھے۔ ان میں جامعہ ملیہ کی طالبہ صفورا زرگر کے علاوہ جامعہ کے ہی طلبا میران حیدر اور آصف اقبال تنہا شامل ہیں، جن پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔