آخر زمان، دجال اور سازشیت

سید سعادت اللہ حسینی

(امیر جماعت اسلامی ہند)

گذشتہ شمارے (جون 2020) میں ہم نے سازشیت اور سازشی نظریات پر روشنی ڈالی تھی اورقرآنی نصوص اور عقلی دلائل کی روشنی میں ان کے سلسلہ میں معتدل نقطہ نظر کی وضاحت کی کوشش کی تھی۔ سازشی نظریات کے لیے عام طور پر فتنہ دجال، یاجوج و ماجوج اور قربِ قیامت اورآخر زمان (End Time) سے متعلق روایتوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان روایات کا ایک حصہ تو ضعیف و موضوع اور اسرائیلی روایات پر مشتمل ہے، لیکن ایک بڑا حصہ صحیح احادیث میں بھی ملتا ہے۔ صحیح بخاری، سنن ابن ماجہ اور جامع ترمذی میں کتاب الفتن کے عنوان سے، صحیح مسلم میں کتاب الفتن و اشراط الساعۃ کے عنوان سے اورسنن ابو داود میں کتاب الفتن و الملاحم، کتاب المہدی اور کتاب الملاحم، ان تین عنوانات کے تحت محدثین کرام نے قیامت کی علامتوں، آخر زمان کے فتنوں اور دیگر نبوی پیشین گوئیوں سے متعلق احادیث جمع کی ہیں۔ آج کے اشارات میں حسبِ وعدہ ہم ان روایات کے تجزیے کی کوشش کریں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ان روایات سے کیا معلوم ہوتا ہے اور ان کا اصل سبق کیا ہے؟

آخر زمان سے متعلق روایات اور نظریاتِ سازش

رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی اور قرب قیامت کی متعدد نشانیاں بتائی ہیں۔ قیامت کے قریب ایک نہایت پر فتن دور کی پیشین گوئی فرمائی ہے جس میں بے انتہا خون خرابہ ہوگا، طرح طرح کے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ایمان کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔ مسیحِ دجّال (جسے دجال اکبر یا کانا دجّال بھی کہا جاتا ہے) کے فتنے کی خبر دی گئی ہے جو بہت ہی ظالم اور غیر معمولی بلکہ مافوق الفطری قوتوں کا مالک ہوگا اور خدائی و نبوت کا دعوےدار ہوگا۔ مہدی کی آمد کے بارے میں بتایا گیا جو مسلمانوں کے ایک نہایت صالح اور باصلاحیت امام ہوں گے اور دنیا میں بے نظیر عدل و انصاف قائم کریں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی گئی جو دجّال سے دنیا کو نجات دلائیں گے۔ یاجوج ماجوج کی یلغار پر مطلع کیا گیا جو دنیا بھر میں بدامنی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کریں گےاور آخر کار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے ہلاک ہوجائیں گے۔

ان تمام روایتوں کے حقیقی (exact) مفہوم تک قطعیت کے ساتھ پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ امین و صادق رسول ﷺنے بعض جگہوں پر استعارے کی زبان استعمال کی ہو۔ مثلاً دجال کی انتہائی تیز رفتار سواری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک گدھا ہوگا [1] جس پر دجّال سوار ہوگا اور یہ گدھا انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ اُسے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک، پہنچاتا رہے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ واقعی گدھا ہوگا یا کوئی ترقی یافتہ عصری سواری ہوگی جسے آپ ﷺ نے اپنے مخاطبین کو سمجھانے کے لیے گدھے سے تعبیر کیا ہو۔ اس حد تک معنوں کی مختلف تعبیرات کی اِن روایات میں گنجائش ہے اور ہمارے علما کی تشریحات میں بھی ایسی مختلف رائیں ملتی ہیں، لیکن سازشیت کے علم بردار ان روایات کی دورازکار تاویلات کرتے ہیں۔ کھینچ تان کر انھیں عصر حاضر کی ترقیوں پر، اورموجودہ دور کے سیاسی و تمدنی واقعات و حادثات پر منطبق کرتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر اس زمانہ کو آخر زمان یعنی وہ دور فتن قرار دے دیتے ہیں جو قیامت سے بالکل لگا ہوا ہے۔ چونکہ دجّال کا کوئی وجود نظر نہیں آتا اس لیے طرح طرح کی تاویلات سے کسی تمدّنی نظام کو، کسی حکومت کو، کسی ٹیکنالوجی کو، ٹکنالوجی کے کسی نظام کو، اور اس طرح کی دیگر اجتماعی ہئیتوں یا غیر مرئی چیزوں کو دجال اکبر قرار دے دیتے ہیں۔ چنانچہ کسی کے نزدیک ٹی وی دجال ہے تو کسی کے نزدیک کارپوریٹ کمپنیاں، کسی کے نزدیک جدید مغرب کا سیاسی و عسکری مقتدرہ دجال اکبر ہے تو کسی کے نزدیک پورا میڈیا۔ اسی طرح ان روایتوں میں جس میں خون خرابے اور جنگ و جدال کا ذکر ہے، ان کو عصری واقعات پر منطبق کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر پیشین گوئیاں کی جاتی ہیں کہ فلاں سن میں حضرت عیسٰیؑ کا ظہور ہوگا اور فلاں میں مہدیؑ کا، فلاں میں دجال آئے گا اور اس تاریخ کو قیامت بپا ہوگی۔ ناواقف قارئین کو یہ باتیں مبالغہ آمیز لگیں گی لیکن اردو سمیت، مسلمانوں کی ہر زبان میں ایسے کیلنڈروں پر مشتمل لٹریچر موجود ہے، جس میں تمام نشانیوں کے ظہور اور وقوع قیامت کی تاریخوں کا تعین کیا گیا ہے۔ (دل چسپ بات یہ ہے کہ ایسی متعدد تاریخیں گزرچکیں ہیں!)

اس طرز فکر کے درج ذیل نتائج نکلتے ہیں۔ اور پڑھے لکھے مسلمانوں کے ایک طبقہ میں ان اثرات کو صاٖف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ سارے اثرات ہمار ی اجتماعی زندگی کے لیے کئی پہلووں سے نہایت نقصان دہ ہیں۔ اس لیے ان کا نوٹس لینا ضروری ہے۔

1۔ مسیح دجال کو احادیث میں طرح طرح کی مافوق الفطری قوتوں بلکہ خرقِ عادت امور کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ اس کی سواری، اُسےآناً فاناً دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچادے گی ، وہ مردوں کو زندہ کردے گا، جب چاہے گا بارش برسائے گا، جب بولے گا تو ساری دنیا سن لے گی، زراعت اور غذائی پیداوار پر اس کو کنٹرول ہوگا، وغیرہ۔ کھینچ تان کر جدید ٹکنالوجی کی صلاحیتوں کو ان خوارقِ عادت کا مظہر قرار دیا جاتا ہے گویا ان سائنسی ترقیوں کا مقصد دجال کے لیے محیر العقول آلات کار فراہم کرنا ہے۔ چنانچہ ہر نئی ٹکنالوجی کے بارے میں یہ گمان پیدا کیا جاتا ہے کہ یہ دجال کا ممکنہ فتنہ ہے۔ (جب ملک میں پہلی بار ٹرین چلی تھی تو بعض مصنفین نے اسے دجال کا گدھا قرار دیا تھا!) یہ طرز فکر ٹکنالوجی کے سلسلہ میں شک، بےزاری اور کراہیت کا رویہ پیدا کرتا ہے۔ اگر یہ یقین پیدا ہوجائے کہ انٹرنیٹ، کمیونکیشن ٹکنالوجی، فور جی اور فائیو جی، تیز رفتار جہاز، راکٹ، ایگری کلچرل ٹکنالوجی، ویکسین اور بایو ٹکنالوجی وغیرہ سب دجالی فتنے کے آلات کار ہیں تو کوئی صاحب ایمان کیوں اس فتنہ میں خود کو مبتلا کرے گا؟ (ٹکنالوجی کے نقصان دہ پہلو، ماحولیاتی اثرات، اس کی اخلاقیات، اس کا اسلامی نقطہ نظر وغیرہ ایک الگ موضوع ہے۔ ٹکنالوجی کا جدید مغربی تصور بلاشبہ کئی پہلووں سے اسلامی نقطہ نظر سے نامناسب ہے۔ اس تصور کو ہم پہلے بھی زیر بحث لاچکے ہیں اور آئندہ بھی لاتے رہیں گے۔ یہاں زیر بحث، ٹکنالوجی کو دجالی فتنہ سمجھ کر بالکلیہ مسترد کرنے کا طرز عمل ہے) ۔ چنانچہ یہ سوچ سائنس، ٹکنالوجی، اور ٹکنالوجی کی ترقیوں سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس وقت ٹکنالوجی کے اثرات اتنے ہمہ گیر ہیں کہ اسلامی نشأۃ ثانیہ کی کوئی اسکیم اس پر مناسب توجہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹکنالوجی سے متعلق چیلنجوں کا، حوصلہ و ہمت، ذہانت و اختراع، اور اقدامی کا وشوں کے ساتھ سامنا کریں لیکن زیر بحث طرز فکر ٹکنالوجی کے سلسلے میں شک و تردد اور فرار و گریز کے رویہ کی افزائش کرتا ہے۔

2۔ بعض روایات میں یہ اشارے بھی ملتے ہیں کہ فتنوں کے دور میں تمدنی زندگی سے دوری اور پہاڑوں اور غاروں میں پناہ، زیادہ محفوظ راستہ ہوگا۔ اگر یہ یقین پیدا ہوجائے کہ فتنوں کی شدت کا آخری زمانہ آ لگا ہے، دجال عنقریب نمودار ہونے والا ہے اور قیامت قریب آچکی ہے، تو جدوجہد اور کوشش و محنت کا داعیہ باقی نہیں رہتا۔ نہ صرف ٹکنالوجی اور سائنسی ترقیوں سے، بلکہ عام تمدنی زندگی سے بھی بیزاری اور وحشت پیدا ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ان نظریات کے علم برداروں میں اس طرح کی باتوں کی پرزور وکالت بھی ملتی ہے۔ یہ مزاج تمدنی ترقیوں میں رکاوٹ بنتا ہے اور دنیا کی تمدنی ترقیوں میں اسلام اور اہل اسلام کے فعال اور ایجابی کردار کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ یہ اسلام کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ اسلام مادہ پرستی کی بھی ضد ہے اور رہبانیت کی بھی۔ وہ اپنے ماننے والوں کو، دنیا اور دنیا کے معاملات میں قائدانہ اور ہادیانہ کردار کےلیے تیار کرتا ہے، ترکِ دنیا اور معاملاتِ دنیا سے فرار کے لیے نہیں۔

3۔ آخری زمانے میں فتنہ و فساد کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ ایک موعود شخصیت یعنی مہدی علیہ السلام یا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں سے ہونے کی پیشین گوئی ہے۔ اگر وقت سے پہلے آخر زمان کا یقین پیدا ہوجائے تو ایک عام آدمی کے لیے حق و باطل کی کشمکش میں بھرپور رول ادا کرنے اور عام قوانین فطرت کے مطابق کامیابی حاصل کرنے کا داعیہ باقی نہیں رہتا۔ وہ مستقبل کو صرف پیشین گوئیوں اور خدا کے تکوینی قوانین کی روشنی میں دیکھتا ہے اور اس میں اپنے کسی رول کی معنویت کو سمجھ نہیں پاتا۔ آخرِ زمان کا احساس خود بخود عیسٰی مسیح اور مہدی کے خاموش انتظار کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ منصوبہ بندی، حکمت عملی اور جدوجہد کی تاثیر پر یقین باقی نہیں رہتا اور کشمکش و جدوجہد، جہاد و اجتہاد اور عملی و ذہنی کاوشوں کے محرکات نہایت کم زور ہوجاتے ہیں۔

اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت اور قربِ قیامت کی علامتوں سے متعلق درست اور متوازن فکرکو اختیار کرنا ہماری نظریاتی ہی نہیں عملی ضرورت بھی ہے۔ اس سے متعلق سوچ کا عدم توازن، عملی رویوں میں بھی عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ قرآن مجید، احادیث صحیحہ، معتبر علما کی جانب سے کی گئی ان کی تعبیرات و تشریحات و غیرہ کی روشنی میں، ان باتوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ ہم اس سلسلے میں اپنے مطالعہ اور غورو فکر کا حاصل چند نکات کی صورت میں ذیل میں پیش کررہے ہیں۔ اہل علم کے سنجیدہ تبصروں کا استقبال ہے۔

قیامت کا قطعی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے

قرآن مجید میں یہ بات کئی جگہ کہی گئی ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ یہ بات صرف اللہ کو معلوم ہے۔ یسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَیانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّی لَا یجَلِّیهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا تَأْتِیكُمْ إِلَّا بَغْتَةً (یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو “اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا”۔ الاعراف 187)

علامہ ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قتادہ نے کہا کہ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے۔ زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بےخبر ہیں۔ سدی نے کہا کہ کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بےخبر ی میں ہی آجائے گی۔ [2]

سورہ لقمٰن میں اُن باتوں کی فہرست بیان کی گئی ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس میں ایک اہم بات قیامت کا وقت بھی ہے۔ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ لقمن 34)۔ متعدد احادیث میں یہ بات ملتی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سے وقوع قیامت کا وقت پوچھا گیا تو آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔

سورہ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ارادہ و منشا بھی بیان کردیا ہے کہ میں قیامت کے علم کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں۔ إِنَّ السَّاعَةَ آتِیةٌ أَكَادُ أُخْفِیهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ۔ (قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ سورہ طہ: 15)

قیامت کے علم کا مخفی رکھنا، اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت کا تقاضا اور اس کی اسکیم کا حصہ ہے۔ معارف القرآن میں سورہ اعراف کی (مذکورہ 187) آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے:

مقصد اس کا یہ ہے کہ جس طرح انسان کی شخصی موت کی تاریخ اور وقت کو غیر معین و مبہم رکھنے میں بڑی حکمتیں ہیں اسی طرح قیامت کو جو پورے عالم کی اجتماعی موت کا نام ہے اس کو مخفی اور مبہم رکھنے میں بھی بڑی حکمتیں ہیں، اول تو یہی ہے کہ یقین کرنے والوں کے لیے اس صورت میں زندگی دو بھر اور دنیا کے کام مشکل ہوجائیں گے اور منکرین کو طویل میعاد سن کر استہزاء و تمسخر کا بہانہ ملے گا اور ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگا۔ اس لیے بتقاضائے حکمت اس کی تاریخ کومبہم رکھا گیا تاکہ لوگ اس کے ہول ناک واقعات سے ہمیشہ ڈرتے رہیں اور یہ ڈر ہی انسان کو جرائم سے باز رکھنے کا سب سے زیادہ موثر علاج ہے۔[3]

رسول اللہ ﷺنے متعدد احادیث میں قیامت کے واقعی (exact) وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر فرمائی ہے۔ ایک مشہور حدیث (جسے حدیث جبرئیل کہا جاتا ہے) میں آیا ہے کہ ایک دفعہ جبرئیل علیہ السلام، صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں، انسانی شکل میں آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کئی سوالات کیے جن کے آپ نے جوابات عنایت فرمائے، لیکن جب انھوں نے سوال کیا کہ متی الساعۃ (قیامت کب آئے گی؟) تو آپ ﷺ نے جواب دیا ما المسؤول عنها بأعلم من السائل (جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا) ۔ یعنی قیامت کے وقت کا مکمل علم نہ جبرئیلؑ کو ہے نہ آپ ﷺ کو۔

البتہ آپ ﷺنے متعدد جگہوں پر قیامت کی کچھ نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے۔[4] لیکن جن روایتوں میں ان نشانیوں کا ذکر ہے ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشانیاں بھی زبان نبوت سے اس طرح بیان ہوئی ہیں کہ ان سے، امت کے اندر، قیامت کے سلسلہ میں تجسس اور فکر مندی تو پیدا ہوتی ہے لیکن حقیقی وقت کا تعین نہیں ہوپاتا۔ مولانا رفیع عثمانی، اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

اتنی کثیر علامات اور ان کی تفصیلات سے بعض اوقات قاری یہ توقع بھی کرنے لگتا ہے کہ واقعات کی کڑیاں ملا کر وہ قیامت کا ٹھیک ٹھیک زمانہ متعین کرنے میں کامیاب ہوجائے گا، لیکن نہ ایسا ہوا ہے نہ ہوسکے گا، قرآن حکیم کا واضح ارشاد ہے کہ لَا تَأْتِیكُمْ إِلَّا بَغْتَةً (قیامت تم پر اچانک آپڑے گی) وجہ یہ ہے کہ اول تو بہت سی علامتوں میں ترتیب ہی کا ادراک نہیں ہوتا کہ کون سا واقعہ پہلے اور کون سا بعد میں ہوگا، اور جن واقعات کی ترتیب احادیث میں بیان کردی گئی ہے ان میں بھی متعدد مقامات پر یہ پتہ نہیں چلتا کہ دونوں واقعوں کے درمیان کتنے زمانہ کا فاصلہ ہے، پھر بہت سی احادیث میں ایسا اجمال ہے کہ ان کی مراد یقینی طور پر متعین نہیں ہوتی، حتی کہ بعض مقامات پر پڑھنے والے کو تعارض کا شبہ ہونے لگتا ہے، حالانکہ وہاں اجمال ہے تعارض نہیں۔ [5]

ان سب حقائق کے باوجود، قیامت کے وقت کے پیچھے پڑنا اور اس کے ماہ و سال کا حساب لگانے کی کوشش کرنا ایک بے معنی اور لاحاصل عمل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے اس کی موت ہی قیامت ہے۔ اس لیے کہ موت کے ساتھ ہی عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ آپ ﷺ نے کئی دفعہ موت کو قیامت کہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بدّو حاضر ہوتے تھے اور وہ آپ سے سوال کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ ان میں سب سے کم عمرشخص کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے: إن یعش هذا لا یدركه الهرم حتى تقوم علیكم ساعتكم (اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی۔ ) امام بخاریؒ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد ریمارک کیا ہے کہ قال هشام یعنی موتهم (ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد (قیامت سے) ان کی موت تھی۔)[6] یعنی اس بچے کے مرنے سے پہلے تم سب مرجاؤ گے اور وہی تمہاری قیامت ہے۔

قیامت کی علامات اور ان کی تین قسمیں

صحیح احادیث میں قیامت کی جو علامتیں بیان کی گئی ہیں، اُن کی تین نمایاں قسمیں ہیں۔ پہلی قسم اُن علامتوں کی ہے جو ظاہر ہوچکی ہیں۔ دوسری قسم اُن علامتوں کی ہے جو بہت عمومی قسم کی ہیں اورجن کے وقوع کے کسی خاص زمانے کا تعین نہایت مشکل ہے، بلکہ اُن میں سے اکثر مختلف زمانوں میں بار بار ظہور پذیر ہوتی رہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد مختلف زمانوں میں یہ محسوس کیا جاتا رہا کہ یہ علامتیں ظاہر ہونے لگی ہیں۔ تیسری قسم اُن متعین اور نہایت واضح علامتوں کی ہے، جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی۔

پہلی قسم، یعنی وہ علامتیں جو ظاہر ہوچکی ہیں اُن میں پہلی علامت تو رسول اللہ ﷺ کی وفات ہے جسے آپ ﷺ نے قیامت کی نشانی قراردیا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر عوف بن مالکؓ کو آپ نے قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں اور کہا کہ پہلی نشانی میری موت ہے۔ [7] اس مفہوم کی اور روایات بھی حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ شق القمر کے واقعہ کو خود قرآن نے قیامت کی نشانی قرار دیا ہے، جو پیش آچکا ہے۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ (قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ القمر: 1) آپ ﷺ نے قرب قیامت سے متعلق علامتوں میں بعض ایسی باتوں کا بھی ذکر فرمایا جو آپ کی وفات کے فوری بعد قریبی زمانہ میں واقع ہوچکی ہیں۔ مثلاً یہ علامت کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں باہم جنگ کریں گی۔ [8] اکثر شارحین حدیث کے نزدیک یہاں جنگ صفین کی طرف اشارہ ہے جو آپ ﷺ کی وفات کے 27 سال بعد دریائے فرات کے کنارے لڑی گئی تھی۔ یا آپ نے فرمایا کہ نبوت کے جھوٹے مدعیوں کا ظاہر ہونا بھی قیامت کی نشانی ہے۔ ( ان بین یدی الساعۃ کذابین) [9] ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کی وفات کے فوری بعد اس فتنہ کا ظہور شروع ہوگیا تھا اور ہر زمانہ میں ایسے جھوٹے مدعین نبوت پیدا ہوتے رہے۔ ایک جگہ آپ نے فتحِ بیت المقدس (اعدد ستا بین یدی الساعة موتی، ثم فتح بیت المقدس) [10] کو بھی قیامت کی نشانی قراردیا۔ یہ واقعہ دو بار پیش آچکا ہے۔ آپ کی وفات کے چار سال بعد حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اور (پانچویں صدی کے اواخر میں صلیبیوں کے ہاتھوں سقوط کے بعد) 583 ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھوں۔ ارضِ حجاز سے ایک بڑی آگ کےبھڑک اٹھنے کے واقعہ کو نشانی کہا گیا (لاتقوم الساعۃ حتی تخرج نار من ارض الحجاز) [11] امام نوویؒ نے 654ہجری میں پیش آئے آتش زنی کے ایک بڑے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نشانی بھی ظاہر ہوچکی ہے۔ [12] آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ “میں اور قیامت ان دو کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی مراد دو انگلیوں سے تھی۔ ” [13] شارحین حدیث نے ان باتوں کی تشریح میں یہ بات کہی ہے کہ خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بعثت کے بعد، اللہ تعالیٰ کے ماہ و سال کے حسا ب سے، قیامت کا وقت کافی قریب آگیا ہے۔ دنیا کی عمر کا جتنا وقت باقی ہے اُس سے کہیں زیادہ گزر چکا۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے قیامت کے قرب کی خبر دی اور آپ چاہتے تھے کہ آپﷺ کے بعد آپ کے امتی ہمیشہ قیامت کو نہایت قریب سمجھ کر زندگی گزاریں۔

فتنوں اور برائیوں کا ظہور

دوسری قسم کی علامتیں وہ ہیں جن میں بعض برائیوں اور فتنوں کے ظہور کو قرب قیامت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ان علامتوں کو علامات صغریٰ بھی کہاجاتا ہے۔ قیامت کی آخری علامات ظاہر ہونے سے پہلے طرح طرح کے فتنوں کا ظہور ہوگا اور قیامت کے قریب آخر زمان میں یہ فتنے نہایت شدید ہوجائیں گے۔ صحیح احادیث میں آپ ﷺ نے ان فتنوں کے لیے بہت ہی خوف ناک تعبیرات استعمال فرمائی ہیں اور امت کو ان سے خبردار کیا ہے۔

یہ فتنے ظلم و خون خرابے کی شکل میں بھی ہوں گے، ایمان پر حملوں اور اہل ایمان کے لیے طرح طرح کی دشواریوں کی شکل میں بھی ہوں گے اور برائیوں کے طوفان کی شکل میں بھی۔ مثلاً فرمایا کہ إن من اشراط الساعة ان یرفع العلم، ویثبت الجهل، ویشرب الخمر، ویظهر الزنا (علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اور (علانیہ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا) [14]۔ لا تقوم الساعة حتى یظهر الفحش، والتفاحش، وقطیعة الرحم، وسوء المجاورة (قیامت برپا نہیں ہوگی تاوقتیکہ بے حیائی اور فحش گوئی عام ہوجائے، قطع رحمی اور اور پڑوسیوں سے بدسلوکی کا چلن ہوجائے) [15]۔ لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتی بالمشركین، وحتى تعبد قبائل من أمتی الأوثان (قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ میری امت کے قبائل مشرکوں سے جاملیں گے اور بتوں کی پوجا کرنے لگیں گے) [16]۔

یہ برائیاں کم و بیش ہر زمانہ میں رہی ہیں۔ عام ہوجانے یا ان کے پھیل جانے کا کوئی واضح پیمانہ نہیں ہے۔ تاریخ میں متعدد بار اس طرح کی برائیوں، ظلم، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد اور فواحش و منکرات کی نہایت تیز لہریں آئیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اس طرح کی لہریں اور ان پر مبنی ادوار، کتنی بار قیامت تک آئیں گے؟ ہمیں ان برائیوں کو دیکھنے سے یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی کثرت قیامت کا سبب بن سکتی ہے اوران تنبیہات کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان برائیوں کی شناعت بیان کی جائےکہ یہ برائیاں اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں۔ ان کا عام ہوجانا، دنیا کے خاتمے اور قیامت کے قرب کی نشانی ہے۔

ایک انسان کے لیے بیماری یا حادثہ موت کی علامت ہوتا ہے لیکن ہر انسان کی زندگی میں متعدد بار بیماریاں اور حادثات پیش آتے رہتےہیں جو اللہ کی جانب سے تنبیہ اور موت کی تذکیر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی وقت اچانک آخری بیماری یا حادثہ، اُسے موت سے ہم کنار کردیتا ہے۔ اسی طرح اس عالمِ انسانیت کی زندگی میں یہ فتنے اور علامات صغریٰ انسانوں کی تنبیہ کے لیے بار بار نمودار ہوتی رہیں گی۔ ایک حدیث میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ فتنوں کی ہر اگلی لہر، پچھلی لہر سے زیادہ شدید تر ہوگی۔ فإنه لا یاتی علیكم زمان إلا الذی بعده شر منه حتى تلقوا ربكم، سمعته من نبیكم صلى الله علیه وسلم۔ (تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو[17]) یہاں تک کہ کسی وقت قیامت کی آخری علامات اچانک ظہور پذیر ہوجائیں گی۔ اگر کسی طرح کی علامات صغریٰ کا ظہور ہورہا ہے تو نہ یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ یہ آخری دور ہے اورنہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آخری دور نہیں ہے۔ اس طرح کی قیاس آرائیوں کے لیے نہ کوئی ٹھوس بنیاد ہمارے پاس موجود ہے اور نہ ان کی کوئی ضرورت ہی ہمیں لاحق ہے۔ ہم اپنی ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ ہیں اور ہر طرح کے فتنوں سے خود کو بچانے کی کوششوں کے مکلف ہیں۔ یہ کام ہم کو ہر حالت میں کرتے رہنا چاہیے۔

یاجوج ماجوج کے ظہور وغیرہ جیسی باتوں کو متعین علامت سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو کئی سو برسوں پر محیط ہے، اور اس کاآغاز بھی صدیوں پہلے ہوچکا ہے۔ مشہور عالم و محدث حضرت انور شاہ کشمیریؒ نے یاجوج ماجوج سے متعلق احادیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یاجوج ماجوج مختلف زمانوں میں بار بار آتے رہیں گے اور دنیا میں تباہی مچاتے رہیں گے۔ قیامت کے بالکل قریبی زمانے میں، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد وہ پھر تباہی مچائیں گے اور حدیث کے مطابق آپ علیہ السلام کی بددعا سے ہلاک ہوجائیں گے۔ حضرت کشمیریؒ نے تیمور لنگ، چنگیز خان، ہلاکو خان، ان سب کو، ان کی بپاکردہ تباہیوں کے پیش نظر یاجوج ماجوج قرار دیا ہے۔ [18]

قیامت کی علامات کبریٰ

علامتوں کی تیسری قسم وہ ہے جو بہت ہی متعین اور واضح ہے۔ اس میں مسیح دجال کا ظہور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور، مہدی کا ظہور، دجال کے پیروکار یہودیوں کے ساتھ ایک بڑی جنگ، کعبہ پر چڑھائی کے لیے آنے والے ایک لشکر کا زمین میں دھنس جانا، دابہ کا ظاہر ہونا، سورج کا مغرب سے نکلنا وغیرہ جیسی علامتیں شامل ہیں۔ ان علامتوں کو شارحین حدیث علامات کبریٰ کہتے ہیں۔ یہ آخری علامتیں ہیں، جن کے بعد کسی بھی وقت اچانک قیامت برپا ہوجائے گی۔

یہ علامتیں یعنی علامات کبریٰ بہت واضح ہیں۔ ان کی دور ازکار تاویلات کرکے، اپنے اپنے زمانے پر چسپاں کرنے کی کوشش ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ ایسی تاویلات نہ احادیث کے متن سے میل کھاتی ہیں اور نہ ان کے منشا سے۔ علامات کبریٰ میں ایک اہم علامت مسیح دجال کا ظہور ہے۔ سازشی نظریات کے لیے مسیح دجال کے کردار کی تاویلات کی جاتی ہیں۔ کئی لوگوں نے، جدید تمدن، عالمی مقتدرہ، سیاسی و معاشی استعمار وغیرہ جیسی غیر مرئی چیزوں کو دجال قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ غیر ضروری تاویلیں ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ تحریر فرماتے ہیں:

جن احادیث میں دجال کا ذکر ہے اور اس کے اوصاف و علامات بیان کیے گئے ہیں، وہ تواتر معنی کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ان میں صاف اس کی صراحت ہے کہ وہ ایک معین شخص ہوگا جس کی کچھ معین صفات ہوں گی، وہ ایک خاص او ر معین زمانہ میں ظاہر ہوگا نیز ایک معین قوم میں ظاہر ہوگا جو یہود ہیں۔ [19]

مولانا مودودیؒ کےبارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ دجال کے منکر ہیں۔ لیکن مولاناؒ نے بڑی صراحت کے ساتھ یہ بات لکھی ہے کہ

دجال آئے گا، ان صفات کا حامل ہوگا اور یہ فتنے برپا کرے گا۔ یہ بالکل یقینی خبریں ہیں جو آپﷺ نے اللہ کی طرف سے دی ہیں۔ ان میں کوئی روایت دوسری روایت سے مختلف نہیں ہے۔ [20]

ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن روایتوں میں دجال کا ذکر آیا ہے انھی میں اس کی خاص صفات اور علامات بھی ذکر کی گئی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرکےکسی اجتماعی ہئیت یا کسی غیر جان دار کو دجال باور کرانے کی کوشش بے محل ہے۔ دجال کےبارے میں صحیح احادیث کے تجزیئےسے ایک اہم بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ کوئی پراسرار، سازشی کردار نہیں ہوگا جو اپنے آپ کو مخفی رکھ کر اہل ایمان کو دھوکا دے۔ اس لیے اس کے سلسلہ میں قیاس آرائیوں اور وہم و گمان کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ جب بھی ظاہر ہوگا اپنی مکمل شناخت کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ احادیث میں جو واضح علامتیں ہم کو ملتی ہیں ان میں اُس کے زندہ وجود ہونے، خوارق کے حامل ہونے اور رسالت و خدائی کے دعوے دار ہونے کے علاوہ، ایک اہم علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ “مكتوب بین عینیه كافر یقرؤه كل مؤمن كاتب وغیر كاتب” (اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں کافر لکھا ہو گا جس کو ہر مؤمن پڑھ لے گا خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔) [21] یعنی اس کا کفر کا علم بردار ہونا بالکل واضح اور علانیہ ہوگا اور کسی مومن کو اس معاملہ میں کوئی دھوکا نہیں ہوگا۔

اسی طرح، جدید ٹکنالوجی کی ترقیوں کو دجال اور دجالی فتنہ سمجھنا بھی ایک غلط نقطہ نظر ہے۔ اس مسئلہ پر مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا تبصرہ بڑا اہم ہے، فرماتے ہیں:

قوانین قدرت پر غیر معمولی اقتدار بجائے خود ایسی چیز نہیں ہےجو آدمی کو دجال بنادے بلکہ قرآنی تعلیم کی رو سے تو قدرت کے قوانین سے استفادہ نسل انسانی کے مقام خلافت کا عام اقتضا ہے۔ آدم علیہ السلام کو اسماء کا جو علم بخشا گیا تھا، اسی اجمالی علم کی یہ تفسیر ہے۔ [22]

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید مولانا بدر عالم مہاجر مدنیؒ نے اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی اہم بات کہی ہے۔

ہمارے زمانے میں مادی ترقیات خواہ کتنی بھی ہوجائیں، وہ سب مادی قوانین کے تحت ہیں۔ ان کو دجالی فتنہ سمجھنا بالکل بے محل بلکہ خلاف واقعہ بات ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ زمانے میں جو ایجادات سامنے آرہی ہیں وہ عجیب سے عجیب تر ہیں لیکن موجودہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں سب ہی اس میں شریک ہیں… اس لیے بھی ان میں سے کسی کو دجالی فتنہ قرار دینا قبل از وقت ہے بلکہ ان کو اس کے مقدمات میں شمار کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اسکا مقدمہ دینی جہل، ضعف ایمان اور طغیانی طاقتوں کا ہمہ گیر اقتدار ہے۔ [23]

مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے جدید مغربی تہذیب و تمدن کو دجال اکبر قرار دینے کو "زود فکری اور زود بیانی کا عارضہ” قرار دیا ہے[24] لیکن یہ بات بھی فرمائی ہے کہ

مغرب کا جدید تمدن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ المسیح الدجال کے خروج کی زمین تیار کررہا ہے۔ ۔ ۔ صحیح اور صاف جچی تلی بات جس میں خواہ مخواہ نبوت کے الفاظ میں کھینچ تان اور رکیک تاویلوں کی ضرورت نہیں ہوتی یہی ہے کہ المسیح الدجال کے خروج کا دعویٰ تو قبل از وقت ہے مگر المسیح الدجال جس فتنے میں دنیا کو مبتلا کرے گا، اس فتنے کے ظہور کی ابتدا کسی نہ کسی رنگ میں مان لینا چاہیے کہ ہوچکی ہے۔[25]

مولانا ابوالحسن ندویؒ نے بھی یہی خیال ظاہر فرمایا ہے۔ ان کی مختصر کتاب “معرکہ ایمان و مادیت”[26]، اس موضوع پر بڑی چشم کشا کتاب ہے۔ مولانا نے مغرب کی جدید مادہ پرست تہذیب کے بارے میں فرمایا ہے کہ

دجالی اور پرفریب روح اس تہذیب میں اس وجہ سے داخل ہوئی اور سرایت کرگئی کہ اس نے بھی نبوت، آخرت، غیب، خالق کائنات اور اس کی قدرت کاملہ پر ایمان اور اس کی شریعت و تعلیمات کا بالکل مخالف رخ اختیار کیا، حواس ظاہری پر زیادہ سے زیادہ بھروسا کیا اور صرف ان چیزوں سے دل چسپی رکھی جو انسان کو جسمانی لذت، فوری منفعت اور ظاہری عروج و غلبہ سے ہم کنار کرسکیں۔ [27]

ہمارا طالب علمانہ خیال یہ ہے کہ مقدماتِ دجال، ہر زمانہ میں ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں۔ دجالی اور پرفریب روح، تاریخ کے ہر دور میں باطل شیطانی نظاموں اور تہذیبوں میں کارفرما رہی ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ پیش آمدہ واقعات کو مقدمات دجال سمجھا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد پیش آنے والے واقعات (فتنہ ارتداد اور چھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ وغیرہ) سے لے کر خلافت راشدہ کے بعد کے واقعات اور پھر تاتاری و صلیبی حملوں تک اور اس کے بعد مغربی استعمار، دور غلامی اور نوآبادیاتی نظام تک، ہر دور میں باطل کی قوت و طاقت کو دجال کا پیش خیمہ سمجھا گیا ہے۔ اس لیے مقدماتِ دجال کو بھی ہم فتنوں ہی کی، یا علامات صغریٰ ہی کی ایک قسم سمجھتے ہیں جن کے بارے میں ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ یہ بیماری یا حادثے کی طرح کی اجتماعی وارننگ ہے جس کا بار بار ظہور ہوتا رہتا ہے۔ کوئی وارننگ آخری وارننگ ہوبھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہوسکتی۔ جدید مغربی تہذیب اور موجودہ دور کے سیاسی و عسکری فتنے، ظہور دجال کا پیش خیمہ ہوبھی سکتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کی تنبیہات کے سلسلہ کا ایک حصہ ہو اور آئندہ اور کئی ادوار، فتنوں کی لہریں اور تاریخ کے اتار چڑھاو پیش آنے والے ہوں۔ اس معاملہ میں کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنا نہ ہمارے لیے ممکن ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔

ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟

اوپر کے مباحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی آخر الزماں کی بعثت کے ساتھ ہی آخر زمان کا آغاز ہوچکا ہے اور فتنے وقتاً فوقتاً سر ابھارتے رہتے ہیں۔

وہ علامتیں جن کا تعلق فتنوں سے ہے، ان کے سلسلے میں مسلسل اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے، اس کی پناہ مانگنا چاہیے اور ان فتنوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔ یہ تعلیم بھی ہم کو صحیح احادیث میں تاکید کے ساتھ ملتی ہے۔ خاص طور پر فتنہ دجال سے حفاظت کی دعا رسول اللہ ﷺ نے سیکھائی ہے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے اورجو فتنے بھی برپا ہوتے رہیں اُن کے سلسلہ میں اس بحث میں پڑے بغیر کہ یہ آخری دور کے فتنے ہیں یا فتنوں کے سلسلے کا حصہ ہیں، ہمیں فتنوں کا حوصلہ و ہمت اور مومنانہ استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔ جن باتوں کی خبر آنحضرت ﷺنے دی ہے وہ اللہ کے تکوینی امر کا حصہ ہیں اور اپنے وقت پر ان کی تکمیل ہوگی لیکن ہم اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں مکلف ہیں، وہ ہر حال میں ادا کرنے کی کوشش ہم کو کرتے رہنا چاہیے۔

فتنہ دجال سمیت، تمام فتنوں سے بچنے کی عملی تدابیر کیا ہیں؟ صحیح احادیث میں ان کے سلسلہ میں بھی رہ نمائی ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فتنہ دجال سے بچنے کے لیے سورہ کہف کی تلاوت کی ہدایت فرمائی ہے۔ ایک روایت میں ابتدائی دس آیتوں کا[28] اور ایک میں آخری دس آیتوں کا ذکر ہے[29]۔ کئی علما نے سورہ کہف پر اس مقصد سے غور کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس میں فتنہ دجال سے بچنے کے سلسلہ میں کیا اشارات پائے جاتے ہیں؟ اس میں جو اشارات ہیں وہ بھی انھی صفات و کاموں سے متعلق ہیں جو ایک مسلمان سے ہر زمانہ میں مطلوب ہیں۔ اس لیے چاہے سورہ کہف کو بنیاد بنائیں یا قرآن و حدیث کی عام تعلیمات کو، ہر جگہ یہی نظر آتا ہے کہ فتنوں سے تحفظ مومنانہ اوصاف، مومنانہ کردار اور مومنانہ ذمہ داریوں کے بکمال اہتمام ہی پر منحصر ہے۔ چند اشاروں کا بطور مثال نیچے ذکر کیا جارہا ہے۔

1۔ کتاب اللہ سے گہرا تعلق: اللہ کی کتاب فتنوں سے تحفظ کا موثر ترین اور اہم ترین ذریعہ ہے یہ بات ہم کو اسلامی نصوص میں کثرت سے ملتی ہے۔ جہاں تک سورہ کہف کا تعلق ہے، اُس کا آغاز ہی کتاب اللہ کے ذکر سے ہوتا ہے۔ پھر اصحاب کہف کےواقعہ کے ذکر کے فوری بعد جو احکام آیات 27 سے 30 تک آئے ہیں ان میں جو پہلا حکم دیا گیا ہے وہ کتاب اللہ کو پڑھتے رہنےکا حکم ہے۔ وَاُتْلُ مَا أُوحِی إِلَیكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا (اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے۔ کہف: 27) ایک طویل حدیث میں یہ مضمون بڑی وضاحت اور بڑے زور کے ساتھ آیا ہے۔ اسے بعض محدثین نے گرچہ ضعیف قرار دیا ہے لیکن اس کے معنوں کی تائید کی ہے اور اس سے استدلال بھی کیا گیا ہے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار متنبہ کیا کہ آگاہ ہو جاؤ ،ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے! میں نے عرض کیا: “یارسول اللہ! اس فتنہ کے شر سے بچنے اور نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟ ”آپ ﷺنے فرمایا: ’’کتاب اللہ! اس میں تم سے پہلی اُمتوں کے قصے ہیں اور تمہارے بعد والوں کی خبریں ہیں اور تمہارے بیچ پیدا ہونے والے معاملات کا حکم ہے، وہ قولِ فیصل ہے۔ جو کوئی ہدایت کو قرآن کے بغیر تلاش کرے گا اس کے حصہ میں اللہ کی طرف سے صرف گم راہی آئے گی۔ قرآن ہی اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ حکمت سے پر تذکیر ہے سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں، اور زبانیں اس کو گڑبڑ نہیں کر سکتیں اور علم والے کبھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے اور وہ کبھی پرانا نہیں ہو گا اور اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہو ں گے۔جس نے قرآن کے موافق بات کہی اس نے سچی بات کہی، اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ مستحق اجر و ثواب ہوا ۔اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل و انصاف کیا ، اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہو گئی۔[30]

فتنوں سے حفاظت میں اللہ کی کتاب کا جو رول ہے وہ بالکل واضح ہے۔ فتنوں کی شدت میں مسلمانوں کا قرآن سے تعلق اور مضبوط و مستحکم ہونا چاہیے اور ہر مسئلہ کا حل اور ہر قدم پر رہ نمائی قرآن کی روشنی میں حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔

2۔ قیامت کو یاد رکھنا، دین کی روح پر توجہ دینا، اور متشابہات کے پیچھے نہ پڑنا: علامات قیامت کا اصل مقصد قیامت کے تعلق سے امت کو ہمیشہ چوکس اور ہوشیار رکھنا ہے۔ جب تک واضح علامتیں، یعنی علامات کبریٰ ظاہر نہیں ہوجاتیں (جو اتنی واضح ہیں کہ ان کے لیے کسی جستجو کی ضرورت نہیں ہوگی) اس وقت تک فتنوں کی دورازکار تاویلات، وہم و گمان، آخر زمان کی نشانیوں کی کھوج اور جستجو بے معنی عمل ہے اور اس کے چکر میں دنیا اور دنیا کے امور کے تئیں مستقل متشکک، انفعالی اور سلبی رویہ شدید نقصان دہ اور مہلک ہے۔ ہم کو ہمیشہ قیامت کے لیے تیار ی کرتے رہنا چاہیے اور جو واقعات متشابہات میں سے ہیں ان کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔

سورہ کہف کا بھی ایک اہم سبق یہ ہے کہ انسان کو متشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ جن واقعات و احوال کا مطلق علم ہماری دسترس سے باہر ہے، ان کے پیچھے لاحاصل قیاس آرائیوں اور بے بنیاد اٹکلوں کے بجائے، اپنے کام، ذمہ داریوں اور واقعات سے حاصل ہونے والے سبق پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔ زوال یافتہ مذہبیت کی پیدا کردہ مریضانہ ذہنیت کو، احکام و آیات الٰہی کے اصل مقصد و منشا کے بجائے، بے مقصد تجسس، قصہ گوئی و افسانہ تراشی اور لایعنی مو شگافیوں میں مزہ آنے لگتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اہل کتاب اسی نفسیات کے شکار تھے جس پر قرآن نے چوٹ کی ہے۔ وَلَبِثُوا فِی كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِینَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ قُلِ اللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا ۖ لَهُ غَیبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِی وَلَا یشْرِكُ فِی حُكْمِهِ أَحَدًا (اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں) 9 سال اور بڑھ گئے ہیں۔ تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ سورہ کہف 25، 26) یہی درس موسیٰ و خضر کے واقعہ سے بھی ملتا ہے کہ جس بات کا علم نہ ہو اس کے سلسلہ میں صبر کیا جائے۔ وَكَیفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں”۔ سورہ کہف 68)

سورہ اعراف کی آیت 187 کے آخری فقرے کی تفسیر میں، مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے جو ریمارک کیا ہے وہ بڑا معنی خیز اور اس بحث میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہے۔ فرماتے ہیں:

لیکن اکثر لوگ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ کیا چیز ان کے جاننے کی ہے جس کے انھیں درپے ہونا چاہیے اور کیا چیز ان کے حدود علم سے ماورا ہے جس کے پیچھے پڑنا محض اوقات کی اضاعت اور اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا کرنا ہے۔ انسان کی یہ عجیب بدبختی ہے کہ وہ زیادہ تر ان چیزوں کے پیچھے پڑتا ہے جن کو نہ تو وہ جان سکتا ہے نہ وہ اس کے جاننے کی ہیں اور پھر ان کو بہانہ بنا کر ان حقائق سے منہ موڑ لیتا ہے جن کو جاننا اس کی دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ جو لوگ متشابہات کے پیچھے پڑ کر محکمات کا انکار کرتے ہیں ان کی بھی اصلی بیماری یہی ہے۔ [31]

3۔ استقامت کے ساتھ اسلام پر جمے رہنا اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر اور فتنوں کے مقابلہ میں صبر کرنا اور دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا: دور فتن کے تعلق سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فان من ورائکم ایام الصبر الصبر فیه مثل قبض علی الجمر للعامل فیهم مثل اجر خمسین رجلا یعملون مثل عمله. ( لوگو تمہارے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے جس زمانے میں صبر کرنا پڑے گا۔ ۔ ۔ مشکل حالات میں قائم رہنا پڑے گا۔ ۔ ۔ نامساعد حالات میں استقامت کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ ۔ ۔ اس وقت جو دین اور اس کے احکامات کو مضبوطی سے تھامے گا اور دین کے احکامات پر عمل کرے گا، اس کو اس طرح کے امور سرانجام دینے والے 50 افراد کے برابر اجر دیا جائے گا۔) [32]اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی یہ سبق ملتا ہے کہ فتنوں کا مقابلہ اپنے دین و ایمان پر استقامت کے ساتھ جم کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اصحاب کہف کے واقعہ کے درس کا خلاصہ ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا ہے:

"اگر کفار کا غلبہ بے پناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جا رہی ہو، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہیے بلکہ اللہ کے بھروسے پرتن بتقدیر نکل جانا چاہیے[33]”۔

سورہ کہف میں چار کرداروں کے حوالے سے چار اہم فتنوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اول: دین و ایمان کے سلسلہ میں فتنہ جس کے مقابلہ کے لیے اصحاب کہف اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے، دوم: مال کا فتنہ یعنی مال پر غرور اور مال کی طاقت پر بھروسا جس کا دوباغ والا شکار ہوگیا تھا۔ سوم، علم کا فتنہ: جس سے حفاظت کے لیے موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر پر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ بہت سی باتیں بڑے سے بڑے انسان کے بھی دائرہ علم سے باہر ہیں اورچہارم: اقتدار و صلاحیت کا فتنہ جس پر قابو کی خوبصورت مثال ذوالقرنین کے کردار میں ملتی ہے جنھوں نے ایک بڑے کارنامہ کو انجام دینے کے بعد بھی عجز و انکساری کے ساتھ یہی کہا کہ هَـٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّی (یہ سب میرے رب کی رحمت ہے۔ الکہف: 98) ۔ اس طرح اس سورہ کے واقعات سے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے استقامت و پامردی کا درس حاصل ہوتا ہے اور مال و دولت، علم و فضل اور بادشاہت و اقتدار کے حاصل ہونے پر تواضع و انکساری، اللہ کا شکر اور اس پر بھروسا اور نعمتوں کے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کا سبق ملتا ہے۔ یہ اسباق، اہل ایمان کو تمام فتنوں سے مقابلے کا راستہ دکھاتے ہیں۔

4۔ اللہ کے دین کی راہ میں جدوجہد، فتنوں کا مقابلہ، دعوت وتبلیغ اور جہاد فی سبیل اللہ: فتنوں کے زمانے میں جہد وعمل سے گریز کا نہیں بلکہ جدوجہد کی رفتار تیز کرنے کا حکم ہے۔ ہر خلافِ اسلام رجحان کے خلاف کوشش اور جدوجہد کو ہم اپنی ذمہ داری سمجھیں، اس کے لیے اپنی قوت و توانائی کو بھرپور استعمال کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات بھی فرمائی ہے کہ اہل حق کا گروہ شدید فتنوں کے زمانے میں بھی دین کی خاطر جدوجہد کرتے رہے گا اور فتنوں اور فتنہ پردازوں سے مقابلہ کرتا رہے گا۔ لَنْ یبْرَحَ هٰذَا الدِّینُ قَائِمًا یقَاتِلُ عَلَیهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ۔ [34] ( یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس دین کی خاطر قیامت تک جنگ کرتی رہے گی۔) فتنوں ہی کے تناظر میں آپ ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام ان حالات میں اہل ایمان کو استقامت کے ساتھ کرتے رہنا چاہیے اور یہ کہ گناہوں پر خاموشی، گناہوںمیں شامل ہونے کے مترادف ہے۔ إذا عُمِلتِ الخطیئةُ فی الأرضِ ؛ كان من شهِدَها فكرِهَها كمن غاب عنها، و من غاب عنها فرضیها كان كمن شهِدَها (جو شخص ان گناہوں کو دیکھے اور ان سے نفرت کرتے ہوئے اس کے ارتکاب سے دوسروں کو روکے اور انھیں ببانگِ دہل رد کرے تو اس کو گناہ سے دور رہنے والوں میں لکھا جائے گا…جو شخص گناہ سے دور رہا، مگر نہ اس سے نفرت کرتا ہے اور نہ اعلانیہ اس کو رد کرتا ہے، گویا یہ خاموشی اس کی رضا مندی ہے، لہذا اس کی مثال گناہ نہ کر کے بھی ایسی ہے جیسے وہ گناہگاروں کے ساتھ گناہ میں شریک ہوا۔) [35] واضح رہے کہ امام ابو داؤد نے یہ حدیث کتاب الملاحم کے تحت بیان کی ہے۔ (جس میں قیامت کی نشانیوں اور برپا ہونے والے فتنوں سے متعلق احادیث جمع کی گئی ہیں)

اصحاب کہف کے واقعہ کے ذکر کے بعد بھی یہی ہدایت دی گئی ہےکہ لوگوں کی خوشی و ناراضی کی پروا کیے بغیر دعوت حق کا کام کرتے رہیں۔ وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْیؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْیكْفُرْ (اور اعلان کردے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ سورہ کہف: 29)

باطل قوتوں سے مقابلہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ وسائل، اہل حق کے پاس ہوں۔ اس کا بھی واضح حکم قرآن نے دیا ہے (وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ۔ الانفال 60) ٹکنالوجی اور جدید دور کی کشمکش کے وسائل کو دجالی جال سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا ہے بلکہ ان پر قدرت حاصل کرنی ہے اور ایجاد و اختراع کے ذریعہ بہتر وسائل کے حصول میں اپنا رول ادا کرنا ہے۔

ذو القرنین کے واقعہ سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم و جابر اور خون خوار قوتوں سے بچاؤکے لیے تمام ممکنہ تدبیریں اختیار کی جائیں، سارے ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں، ایجاد و اختراع کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے روبہ کار لایا جائے، انوکھے حل ڈھونڈے جائیں، اپنی قوت و صلاحیت کا پورا استعمال کیا جائے اور اس کے بعد اللہ پر بھروسا رکھا جائے۔

فتنوں کے ذکر کے ساتھ ہی لوگ ان احادیث کا تذکرہ شروع کردیتے ہیں جن میں جنگل اور غاروں میں پناہ کی بات کہی گئی ہے۔ ہجرت اور جنگلوں میں پناہ آخری چارہ کار ہے جو اس وقت اختیار کیا جائے گا جب ایمان کی حفاظت کا کوئی اور راستہ نہ ہو۔ فمن وجد منها ملجأً أو معاذا فلیعذ به( اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے) ۔ [36] اگر شہر میں رہ کر جان بچانا بالکل ممکن نہ ہو تو لوگ غاروں اور پہاڑوں میں روپوش ہوجاتے ہیں اور جوں ہی موقع ملتا ہے، عام زندگی کی طرف پلٹ آتے ہیں، یہی معاملہ دین وایمان کا بھی ہونا چاہیے لیکن فتنوں کے حقیقی یا خود ساختہ اندیشوں کے پیش نظر ترک دنیا اور کشمکش وجدوجہد سے گریز کے راستہ کی وکالت اور اس کی ترغیب، رہبانیت پسندی ہے جو دین اسلام کا مزاج ہرگز نہیں ہے۔ اصلاً تو ہر حال میں مقابلہ وکشمکش اور جہد پیہم اور سعی مسلسل ہی مومنانہ شیوہ ہے۔ متشابہات اور تاویلات کے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہات کو مرکوز کرنا اور عام قوانینِ فطرت کے راستہ سے حق اور سچائی کے غلبے کے طریقے سوچنا اور روبعمل لانا، یہ ہر حال میں ہمارا شیوہ ہونا چاہیے کہ اسی کے ہم مکلف ہیں۔

5۔ اجتماعیت اور نیک لوگوں کی رفاقت: ایک صحیح حدیث کے مطابق آپ نے شدید فتنوں کی خبر دی تو روایت کرنے والے صحابی نے پوچھا کہ اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ وابستگی کو اپنے اوپر لازم کرلینا۔ ( تلزم جماعة المسلمین وإمامهم) ۔ [37]

یہ اشارہ سورہ کہف میں بھی ملتا ہے۔ اصحاب کہف کے واقعہ کے ذکر کے بعد جو ہدایات آئی ہیں ان میں ایک اہم ہدایت یہ ہے کہ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِینَ یدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِی (اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھو جو صبح و شام اپنے رب کی رضا جوئی میں اس کو پکارتے ہیں۔ سورہ کہف: 28) فتنوں کے زمانہ میں اس بات کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کہ نیک مسلمانوں کی صحبت میسر ہو اور ان کی مضبوط اجتماعیت کا ہم حصہ بنے رہیں۔ اکیلے فرد کا فتنے کا شکار ہوجانا آسان تر ہوتا ہے وہ اگر اہل ایمان کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہے تو فتنوں کا مقابلہ اور دفاع سہل ہوجاتا ہے۔

مولانا علی میاںؒ اور مولانا مناظر احسن گیلانیؒ دونوں نے اجتماعی زندگی کو اصحابِ کہف کے واقعہ کا اہم سبق قرار دیا ہے۔ مولانا گیلانی لکھتے ہیں:

اصحاب کہف کی اجمالی تعبیر کی آیتوں میں سب سے پہلی بات یہی نظر آئے گی کہ کہفی زندگی گزارنے والوں کو قرآن بجائے فرد واحد کے فتیۃ (نوجوانوں کی ایک ٹولی) قرار دیتا ہے۔ آپ چاہیں تو اس سے یہ نتیجہ پیدا کرسکتے ہیں کہ ایمانی آزمائش کے زمانے میں… اپنے ہم مذاق، ہم مشرب افراد کو آمادہ کیا جائے کہ کہفی زندگی میں ساتھ دے کر ایک دوسرے کے لیے باعث انس بھی ہوں اورضرورت کے وقت باہم ایک دوسرے کی دست گیری و غم گساری بھی کرسکتے ہوں۔ [38]

مولانا علی میاںؒ لکھتے ہیں:

یہ ہوسکتا تھاکہ وہ منہ اٹھائے جدھر چاہے چل دیتے، ہر شخص اپنا راستہ لیتااور اپنی دنیا الگ آباد کرتااور ایک ایک غار یا پہاڑ کی چوٹی لے لے کر بیٹھ جاتا، جس طرح عیسائی اپنے دور انحطاط اور راہبانہ زندگی میں ہمیشہ کرتے آئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ سب ایک ساتھ جماعتی طریقے پر اس شہر کو خیر باد کہیں، اپنے دین و عقیدہ کو سینے سے لگائے اور حرز جان بنائے ہوئے، خدا کی رحمت کے طلب گار، اور کشائش و کامیابی اور نصر مبین کے منتظر اور امیدوار، یہ وہ مناسب طریقہ اور صحیح راستہ ہےجو اہل ایمان کو ہر اس موقع پر اختیار کرنے کی ضرورت ہے جب زمین ان پر تنگ ہوچکی ہو۔ [39]

مذکورہ پانچوں باتیں ہر حال میں اہل اسلام سے مطلوب ہیں۔ لیکن فتنوں میں ان کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور فتنے ان مستقل ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں ان کاموں کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور اگر کوئی غیر معمولی فتنہ محسوس بھی ہورہا ہو تو ترک دنیا کی وکالت یا معاملات دنیا کے سلسلے میں منفی و سلبی رویے کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ دور کی کوڑی لاکر آخر زمان اور قیامت کا حساب لگانے بیٹھنا چاہیے بلکہ اپنی مستقل ذمہ داریوں پر توجہ بڑھادینی چاہیے اور انھیں اور زیادہ بہتر طریقے سے انجام دینے کی فکر کرنی چاہیے۔■

حواشی و حوالہ جات:

  1. مسند احمد کی جس روایت میں دجال کے گدھے کا ذکر آیا ہے اسے علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
  2. اسماعیل بن عمر ابن کثیرؒ؛ تفسیر القرآن العظیم؛ الجزء الثالث؛ دار طیبہ للنشر والتوزیغ؛ الریاض؛ 1999ص 518، 519
  3. مولانا مفتی محمد شفیع، معارف القرآن؛ جلد چہارم، مکتبہ معارف القرآن؛ کراچی؛ ص 141
  4. صحیح البخاری كتاب الإیمان باب سؤال جبریل النبی صلى الله علیه وسلم عن الإیمان والإسلام والإحسان وعلم الساعة؛ رواہ ابو ہریرۃ؛؛ و صحیح المسلم، کتاب الایمان، باب بیان الایمان والاسلام و الاحسان والایمان بالقدر؛ رواہ عمر بن خطاب
  5. مفتی محمد رفیع عثمانی؛ علامات قیامت اور نزول مسیح؛ مکتبہ دارالعلوم کراچی؛ 2003؛ ص124
  6. صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت، رواہ عائشہؓ
  7. صحیح البخاری، کتاب الجزیہ والموادعہ، بَابُ مَا یحْذَرُ مِنَ الْغَدْرِ
  8. صحیح بخاری؛ كِتَاب اسْتِتَابَةِ الْمُرْتَدِّینَ وَالْمُعَانِدِینَ وَقِتَالِهِمْ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِی صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى یقْتَتِلَ فِئَتَانِ دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَۃ
  9. صحیح مسلم کتاب الفتن باب لاتقوم الساعۃ
  10. صحیح البخاری، كتاب الجزیه والموادعة؛ باب مایحذر من الغدر؛ رواه عوف بن مالك
  11. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب خروج النار؛ رواہ انس بن مالک ؓ
  12. علامہ وحید الزمان۔ مسلم شریف مع مختصر شرح نووی؛ جلد ششم، نعمانی کتب خانہ لاہور؛ 2004؛ ص426 و 427
  13. صحیح البخاری؛ كِتَاب الرِّقَاقِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِی صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَین
  14. صحیح البخاری کتاب العلم ؛ بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ؛ رواہ انس بن مالک
  15. رواه أحمد: 6514، وصححه الألبانی السلسلة الصحیحة: 2288
  16. رواه أبو داود: 4254، وصححه الألبانی صحیح الجامع: 1773
  17. صحیح البخاری، کتاب الفتن؛ بَابُ لاَ یأْتِی زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِی بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ:
  18. الشیخ محمد انور شاہ الکشمیری الہندی؛ فیض الباری علی صحیح البخاری (مع حاشیہ البدر الساری)؛ الجزء الرابع؛ دارالکتب العلمیہ، بیروت، 2005صفحات 197 و 358۔ 360
  19. مولانا ابوالحسن ندویؒ۔ معرکہ ایمان و مادیت؛ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام؛ لکھنو؛ 1998 ص 120
  20. مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ؛ رسائل و مسائل (تدوین نو) حصہ اول؛ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی (2016) ص 426
  21. صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ؛ باب ذکر الدجال؛ رواہ حذیفہؓ
  22. مولانا سید مناظر احسن گیلانی، دجالی فتنے کے نمایاں خد وخال؛ المیزان ناشران کتب؛ لاہور؛ 2007؛ ص19
  23. مولانا بدر عالم مہاجر مدنی؛ ترجمان السنہ، جلد چہارم؛ ادارہ اسلامیات؛ لاہور؛ 1968؛ ص 425
  24. مولانا سید مناظر احسن گیلانی، دجالی فتنے کے نمایاں خد وخال؛ المیزان ناشران کتب؛ لاہور؛ 2007؛ ص23
  25. ایضاً ص 25
  26. مولانا ابوالحسن ندویؒ۔ معرکہ ایمان و مادیت؛ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام؛ لکھنو؛1998؛
  27. ایضاً ص16
  28. ” من حفظ عشر آیات من اول سورة الكهف عصم من الدجال ” صحیح مسلم؛ کتاب فضائل القرآن و ما یتعلق بہ؛ باب فضل سورۃ الکہف و آیتہ الکرسی؛ روایت ابو الدرداء
  29. 29. "من حفظ من خواتیم سورة الكهف عصم من فتنة الدجال "سنن ابی داود؛ کتاب الملاحم؛ باب خروج الدجال؛ حدیث 4323؛ رواہ قتادہ: صححہ الالبانی
  30. جامع الترمذی؛ ابواب فضائل القرآن؛ حدیث رقم 2967رواہ علی بن ابو طالبؓ؛ صححہ نیسابوری و المنذری و قال الالبانی اسنادہ ضعیف
  31. مولانا امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن؛ جلد سوم، ص 405
  32. (سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، حدیث 4341
  33. مولانا مودودیؒ؛ تفہیم القرآن؛ جلد سوم ص 7
  34. صحیح مسلم، کتاب الإمارة، باب قوله: لا تزال طائفة من أمتی ظاهرین علی الحق لا یضرهم من خالفهم
  35. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، حدیث 4345
  36. صحیح البخاری؛ کتاب الفتن؛ باب تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِیهَا خَیرٌ مِنَ الْقَائِمِ:
  37. صحیح البخاری، کتاب الفتن؛ بَابُ لاَ یأْتِی زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِی بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ
  38. مولانا سید مناظر احسن گیلانی، دجالی فتنے کے نمایاں خد وخال؛ المیزان ناشران کتب؛ لاہور؛ 2007؛ ص112
  39. مولانا ابوالحسن ندویؒ، معرکہ ایمان و مادیت؛ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام؛ لکھنٔو؛1998؛ص55، 56