فلسطین کی تازہ کشمکش اور آزاد فلسطین کے امکانات

شہداءغزہ کے لہو سے انقلابی تبدیلیوں کا ظہور

پروفیسر ایاز احمد اصلاحی، لکھنو

 

’جوں کے توں موقف ‘ کا صہیونی فریب کافور۔ فلسطینی کا ز کی تائید میںاٹھی عالمی لہر
غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملے نے نوجوان فلسطینیوں کو یروشلم سے غزہ تک اسرائیل کی خونیں و نسل پرست سامراجیت کے خلاف جس طرح متحد و ہم دوش کیا ہے وہ بہت دنوں کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ فلسطینیوں کی نئی کروٹ در اصل ان کا ایک نیا انتفاضہ ہے جسے فلسطینی "شیخ جراح انتفاضہ” کہہ رہے ہیں۔ یہ فلسطین کی تاریخ میں ایک نئے عہد کی شروعات ہے اور بقول کسے یہ ’’خاتمہ بالخیر کا آغاز‘‘ ہے۔ میری نظر میں یہ اسرائیل کے وجود کے لیے حماس کے نئے راکٹوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس بار کا حماس اسرائیل تصادم یا غزہ پر اسرائیلی حملہ صرف ایک وقتی حادثہ نہیں تھا جس کا آخری انجام حسب سابق جنگ بندی اور اسرائیل کی طرف سے اسٹیٹس کو قائم رکھنے کی یقین دہانی پر ختم ہو جائے، بلکہ یہ کچھ ایسی مثبت تبدیلیوں کا محرک بنا جس کا فلسطینیوں کو اور خود ہمیں برسوں سے انتظار تھا۔ اسی کو حماس کے سیاسی قائد اسمعیل ھنیئہ نے اہل پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان کے نام اپنے ایک خطاب میں ’’عظیم تبدیلیاں‘‘ (ألتحولات الكبرىٰ) کہا ہے۔ اس حقیقت کا احساس خود اسرائیلیوں کو غزہ پر گیارہ روزہ اسرائیلی جارحیت کے دوران ہی ہو گیا تھا۔ یروشلم سے غزہ تک حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں نے رمضان کے آخری دنوں میں جس نئے اعتماد کے ساتھ اسرائیلی تشدد اور جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اس نے دو سطحوں پر اسرائیل کی بساط الٹ دی ہے؛ ایک تو اس نے مسلم ممالک اور دنیا کی بڑی طاقتوں کی بولیاں بدل دی ہیں اور اب وہ ثالثی، مشرق وسطیٰ میں امن، مستقل جنگ بندی، اسٹیٹس کے احترام سے آگے مسئلہ فلسطین کے حتمی حل کی بات کرنے لگے ہیں جس کا آخری نتیجہ فلسطین کی مکمل آزادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دوسرے حماس کے طاقتور راکٹ کی بڑھتی پہنچ اور اس کے جانباز عسکری دستے القسام بریگیڈ کی فوجی صلاحیتوں نے دنیا کے سامنے’’پانچویں سب سے مضبوط عسکری قوت‘‘ والے اسرائیل کا بھرم ختم کرکے، خصوصاً مسلم ملکوں پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل قطعاً ناقابل شکست نہیں ہےنہ ہی اس کی دفاعی ومعاشی ٹکنالوجی ہماری پہنچ سے ماورا ہےجسے ایک مائنڈ گیم کے ذریعہ وہ ہمیں جتالاتا ہے۔ اگر پندرہ سال اسرائیل کی بری بحری اور فضائی ناکہ بندیوں کے ساتھ جی رہے غزہ کے فلسطینی اپنے محدود وسائل کے ساتھ امریکہ کے ایف 16 اور ایف 35 لائٹننگ جیسے جدید ترین اور خطرناک ترین جنگی جہاز رکھنے والے اور اٹلی، فرانس اور انگلینڈ سے درآمد کردہ خطرناک ہتھیاروں سے مسلح اسرائیل کی تمام دفاعی حکمت عملی کو خاک میں ملا کر پوری قوم کو بنکروں میں چھپنے پر مجبور کر سکتے ہیں تو ایک باقاعدہ فوجی قوت کے مقابلے میں وہ کتنی دیر ٹھیر سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہے۔ فی الحال اسرائیل اور اس کے فوجیوں کو ہی نہیں اس کے دائیں بازو کے دہشت گرد عناصر کو سب سے زیادہ ذہنی خلجان اور تشویش میں جو چیز مبتلا کیے ہوئے ہے وہ تازہ کشمکش کا یہی پہلو ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ حماس نے اس بار صرف ان کی دفاعی فصیلوں میں ہی شگاف نہیں ڈالا ہے بلکہ ان کی عظیم عسکری قوت کا بھرم بھی مٹی میں ملا کر ان کے لیے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
اسرائیل کا موجودہ حملہ پسپا کر کے حماس نے ریاست مدینہ میں معاہدہ خیبر کے بطن سے نکلی کامیابیوں جیسی جو تاریخی جیت درج کی ہے اسے دوسرا کوئی سمجھے یا نہ سمجھے لیکن اسرائیل اچھی طرح سمجھ رہا ہے اور اسے معلوم ہے کہ حماس کی قیادت میں فلسطینیوں نے کیا پایا ہے اور اسرائیل نے کیا کھویا ہے۔ غزہ سے جس طرح حماس نے اپنی آواز پر پورے غرب اردن اور یروشلم کے فلسطینیوں کو اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے وہ بھی اس جیت کا ایک بہت بڑا عنصر ہے جس کا ذکر خود حماس رہنما اسمعیل ھنیہ نے21 مئی کی جنگ بندی کے بعد اپنے خطاب میں بھی کیا ہے۔ اسرائیل کے لیے اس میں دوہرا خطرہ ہے اور وہ اس بنا پر کہ نیا فلسطینی اتحاد یا انتفاضہ اس حماس کی زیر قیادت ابھر رہا ہے جو گزشتہ دس سالوں سے فلسطینیوں کی سب مضبوط قوت مزاحمت بنی ہوئی ہے اور اسرائیل اس کے مقابلے میں محمود عباس کی کمزور ولاچار قیادت کو ہزار بار ترجیح دیتا اور در پردہ اسے باقی رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ایل او حماس اتحاد یا حماس کی شرکت کے ساتھ فلسطینی انتخابات کی اس نے ہمیشہ مخالفت کی ہے، یعنی اسے حماس کی قوت اور ایک تحریکِ آزادی کے طور سے اس کے مضبوط عزائم کا بھر پور احساس ہے۔ جب کہ دوسری طرف محمود عباس کی کمزور ’اتھارٹی‘ جسے دنیا ’فلسطینی اتھاریٹی‘ یا فلسطینی انتظامیہ کے نام سے جانتی ہے وہ پی ایل او کی مردہ اور موقع پرست قیادت کے سبب فلسطینی تحریک آزادی کے محاذ سے تقریباً غائب ہو چکی ہے اور کسی بھی پہلو سے قابل ذکر نہیں ہے، اس کا اثر اتنا بھی نہیں ہے جتنا کبھی لال قلعہ تک محدود ہوجانے والی مغل حکومت کا تھا۔ ہم نے اچھی طرح دیکھ لیا کہ اس پورے تصادم میں ان کی انتظامیہ اور ان کی قیادت کا دور دور تک کہیں کوئی رول نظر نہیں آیا۔ جب کہ جنگ بندی کے بعد القدس میں عام فلسطینیوں نے جو جشن فتح منایا اس کی خاص بات یہی تھی کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں فلسطینی جھنڈے کے ساتھ حماس کا جھنڈا بھی لہرا رہا تھا۔ 21 مئی کو مصر کی ثالثی سے عمل میں آنے والی جنگ بندی کے بعد جو پہلا جمعہ القدس میں پڑھا گیا اس میں فلسطینیوں نے ایک بار پھر جم غفیر کی شکل میں نہ صرف فتح کا جشن منایا بلکہ حماس کے ساتھ اپنی یگانگت کا بھی کھلے عام اظہار کیا، حالانکہ عام دنوں میں اسرائیلی افواج اور 84 سالہ محمود عباس کی فلسطینی اتھاریٹی دونوں کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہوتی تھی۔ مگر اس بار حالات بدلے بدلے تھے، اس بیچ مسجد اقصی کے موجودہ امام اور یروشلم کے مفتی اعظم محمد حسین نے جب جنگ بندی کے بعد کے پہلے جمعہ کے خطبے میں خلاف توقع غزہ اور حماس کے ذکر سے گریز کیا تو عام فلسطینیوں نے اس پر اپنا سخت احتجاج درج کرایا، نماز جمعہ کے بعد عام نمازیوں نے انہیں گھیر لیا، ان کے اس نامناسب رویے پر اپنا شدید غصہ ظاہر کیا اور بعض مظاہرین نے تو چیخ کر کہا:’’: جاؤ ابو مآزن (محمود عباس) کے پاس‘‘۔ گویا امام اقصیٰ کے سامنے یروشلم کے فلسطینیوں نے اپنے غصے کا مظاہرہ کر کے جتا دیا کہ وہ پوری طرح حماس کے ساتھ کھڑے ہیں اور غزہ سے فلسطین تک تحریک مزاحمت اب اسی کی آواز پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ حماس ہی اب ان کی اصل تحریک آزادی ہے، وہی ان کی محافظ بھی ہے اور القسام ان کا لشکر ہے اور انہیں ان کے قوت بازو پر پہلے سے بھی زیادہ بھروسہ ہے۔اس طرح موجودہ دور مزاحمت میں حماس ہی ان کی امیدوں کا مرکز اور گہری تاریکی میں صبح نو کی نوید لانے والی روشنی بن کر آئی ہے اور اس کی مضبوط وبے خوف قیادت میں ان کی مزاحمت ’’پتھر انتفاضہ سے راکٹ انتفاضہ‘‘ تک پہنچ گئی ہے۔ ظاہر ہے جو اسرائیل پی ایل او کے محمود عباس کی لولی لنگڑی انتظامیہ کا برسوں سے فائدہ اٹھاتا آ رہا ہو، جو وقت گزرنے کے ساتھ فلسطین کی زمینیں ہڑپتا اور وہاں کے فلسطینیوں کو دباتا آ رہا ہو اس کے لیے فلسطین میں آ رہی یہ دور رس تبدیلیاں کسی بڑی شکست سے کم نہیں ہیں۔ اس بار کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ جن حالات میں حماس کی قوت مزاحمت اور عالمی دباؤ کے آگے مجبور ہو کر اسرائیل کو 21 مئی کو غیر مشروط جنگ بندی پر آمادہ ہونا پڑا اس نے پوری اسرائیلی قوم خصوصاً اس کے انتہا پسند اور ریاستی دہشت گردی کے حامی عناصر کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ اسرائیلی جو اسرائیل کے خود ساختہ یوم آزادی 14 مئی سے پہلے شیخ جراح پر قبضہ کر کے جشن منانے کی تیاری میں تھے اور صہیونیوں کے پیدا کردہ تشدد کی نئی لہر کے سہارے غزہ اور حماس قیادت کی مکمل تباہی کہ توقع لگائے بیٹھے تھے انہیں مایوسی وسراسیمگی کے ایک نئے سائے نے گھیر لیا ہے۔ اب وہاں کا نقشہ اتنا بدل گیا ہے کہ خود اسرائیل میں یہودی قوم کے مظاہرین فلسطین کا پرچم اٹھائے اسرائیل کی نسل پرست پالیسیوں اور فلسطینیوں پر ہورہی زیادتیوں کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں اپنے ملک میں احتجاج کر رہے ہیں اور اسرائیلی نوجوان ’’غزہ پر حملے روکو‘‘ کی تختیوں کے ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا عہد کر کے نازی صفت صہیونیت سے اپنی دست برداری کا اعلان کر رہے ہیں۔ سوچیے اگر اسرائیلی مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی حماس کی تحریک مزاحمت نہ ہوتی تو کیا ایک ’شکست خوردہ‘ فلسطینی قوم کو اس اسرائیل میں کبھی یہ مناظر دیکھنے کو ملتے؟ یاد رہے یہ وہی اسرائیل ہے جہاں غاصب فوجی دستوں کے لیے ایک فلسطینی کی جان کی قیمت جانوروں سے بھی زیادہ کمتر ہے اور جہاں یہودی آباد کار (سٹلر) ہر روز فلسطینیوں کے مکانوں اور زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔
حالات کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ نئے ماحول میں اسرائیلی حکومت کو اپنے ہی شہریوں کو مطمئن کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے، کیونکہ وہ آئرن ڈوم والی صہیونی ریاست اور جدید امریکی ہتھیاروں سے مسلح اسرائیل کو بھی اب اپنے لیے غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور اس صورت حال میں ان کے سامنے دو ہی راستے بچتے ہیں، یا تو ان کی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ہو رہے ظلم وزیادتی اور جبری قبضے کا سلسلہ ختم ہو اور فلسطینیوں کو تمام جائز حقوق ملیں تاکہ دونوں کے لیے پر امن ماحول میں ایک پڑوسی قوم کی طرح زندگی گزارنا ممکن ہو سکے، یا وہ امن کی تلاش میں اپنے ان پرانے ملکوں کی طرف دوبارہ لوٹ جائیں جہاں کی شہریت وہ اسرائیل میں دوہری شہریت کے قانون کے تحت آج بھی بڑی احتیاط سے بچا کر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اسرائیل کے برے دنوں میں وہ ان کے کام آئے۔ اس دوران بہت سے اسرائیلی صنعت کاروں نے ایسا کیا بھی ہے اور بہت سے دوسرے اسرائیلی یہودی موجودہ صورت حال کے دباؤ میں اسرائیل چھوڑنے اور وہاں جانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔اسرائیل کے ایک نمایاں سیاسی رہنما یسرائیل بیتینو نے صہیونیوں کی اسی مجموعی کیفیت کی نمائندگی کرتے ہوئے حماس-اسرائیل تازہ مڈبھیڑ کے حالیہ انجام کو ’’نیتن یاہو کی ایک اور ناکامی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح انتہا پسند گروپ نیو ہوپ پارٹی ( New Hope) کے رہنما گیڈیون سآر اس انجام کو اسرائیلی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’بغیر کسی ایسی شرط کے جو حماس کو مزید طاقتور ہونے سے روکنے والی ہو اور غزہ میں قید بعض اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو واپس لائے بغیر اسرائیلی فوج کی پسپائی ایک سیاسی وقومی ناکامی مانی جائے گی، جس کی قیمت ہمیں مستقبل میں سود سمیت چکانی پڑے گی‘‘۔ دنیا نے مشاہدہ کیا کہ ایک طرف یہ حال ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں حماس کے راکٹوں سے جان بچانے کے لیے پوری یہودی قوم کو جنگ کے دوران بنکروں میں بھاگ بھاگ کر چھپنا پڑا اور آئی ڈی ایف کے ایک آفیشیل ٹویٹس کے مطابق ان کے فوجیوں نے بھی ’’لگاتار کئی راتیں مسلسل بنکروں میں سو کر گزاریں‘‘۔ دوسری طرف جنگ بندی کے بعد ناکامی کا احساس ان کا پیچھا کیے ہوئے ہے اور وہ اس انجام پر برابر اپنے غم اور صدمے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جب ہم حماس کو دیکھتے ہیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کے حوصلے پہلے ہی کی طرح بلند ہیں۔ یہاں تک کہ القدس میں فلسطینیوں کو ہراساں کرنے والی اسرائیل کی حالیہ سرگرمیاں دیکھ کر اس کے قائدین نے ایک بار پھر اسے دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے مسجد اقصیٰ اور شیخ جراح میں فلسطینیوں پر زیادتیاں کرنی بند نہیں کیں اور پچھلی غلطیاں دہرانے کی کوشش کی تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ جہاں تک اسرائیل کے ساتھ حالیہ تصادم میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا معاملہ ہے تو (جیسا کہ اسمٰعیل ھنیہ کے خطاب سے ظاہر ہے) وہ اسے فلسطین کے مستقبل کے لیے ایک ’’فتح مبین‘‘مان رہے ہیں جو اپنے آپ میں آنے والی نئی فتوحات اور کامیابیوں کا پیش خیمہ بنے گی۔ ان شاء اللہ۔ وہ یہیں پر نہیں رکے بلکہ انہوں نے حماس اور فلسطینی عوام کی طرف سے اس عہد کی تجدید بھی کی ہے کہ القدس اور اقصیٰ کے "آزاد” ہونے تک اسرائیل کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اسمعیل ھنیہ نے حماس کی موجودہ کامیابی کو ’عظیم نتائج‘ کی حامل قرادیتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ ہم سے ایک گہرا تجزیہ چاہتا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی شکست اس کے مستقبل کے لیے بڑے خطرناک نتائج کی حامل ہوگی۔ یہ گویا ’عظیم اسرائیل‘ کے ایجنڈے پر عمل پیرا اسرائیلی حکمرانوں کے لیے ایک واضح وارننگ ہے، اس وارننگ کی معنویت کو وہ لوگ زیادہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جن پر یہ حقیقت واضح ہے کہ فلسطین کے موجودہ معرکے میں اب فلسطینیوں کے لیے کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اور اب جسے کچھ کھونا ہے وہ صرف اسرائیل ہے اور وہ بھی جو انسانیت کے خلاف جرائم میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دو اور اہم وجوہ ہیں جن کی بنا پر 2014 کی طرح 2021 کے اسرائیل-فلسطین تصادم کے خاتمے کے بعد قائدین حماس اور دنیا کے بڑے تجزیہ کار اسے فلسطینیوں کی جیت کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ پہلی وجہ سوشل میڈیا کے سبب فلسطین کے حق میں پیدا ہونے والی بے مثال عالمی بیداری ہے جس نے دنیا کے عوام ہی نہیں بلکہ عوامی حکومتوں کے موقف کو بھی متاثر کیا پے۔ اس بیداری نے اس بار اس اسرائیلی پروپیگنڈے کو ناکام بنا دیا جو جھوٹ اور میڈیا کی افترا پردازی کی بنیاد پر ہر طرح کی ظلم و زیادتی کا مرتکب ہونے کے باوجود ہر بار کسی نہ کسی حد تک دنیا کے سامنے ایک اکیلی ’مظلوم‘ ریاست کا سوانگ بھرنے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ اس بار جن چیزوں نے اسرائیل کو کافی پریشان کیا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس عالمی سماجی میڈیا کے سہارے اس کا جھوٹا پروپیگنڈا بری طرح شکست سے دوچار ہوا ہے، یہ وہی میڈیا ہے جس کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ محمود قریشی نے سی این این کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ’گہری جیبوں‘ سے تعلق رکھنے والا عالمی میڈیا کہا اور خاتون نامہ نگار کو یہ بات اتنی بری لگی کہ اس نے اسے سامی مخالف (Anti- Semites) بیان کے طور سے لیا جسے انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ ایک حقیقت ہے اور سی این این کو مشورہ دیا کہ آپ لوگ صرف متوازن صحافت (Balanced Coverage) کے ذریعہ ہی اس تاثر کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ لیکن اس بار سوشل میڈیا کی وسیع ہوتی دنیا میں عام لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ فلسطینیوں کے تئیں اسرائیل کا رویہ ایک استعماری سوچ اور ظالمانہ نسل کشی پر مبنی ہے اور وہ فلسطینیوں کے خلاف آج ’’وہی کچھ کر رہا ہے‘‘ جو ہٹلر نے کبھی ان کے ساتھ کیا تھا‘‘۔ اس بدلتے عوامی رخ کا ہی نتیجہ ہے کہ اپنی حکومتوں کی پالیسی سے قطع نظر امریکہ سے انگلینڈ تک اور اٹلی سے فرانس تک عامۃ الناس کی اکثریت مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے اور اسرائیل کے قریب ترین ممالک امریکہ اور انگلینڈ کے سیاسی ایوانوں میں بھی شدید الفاظ میں اسرائیل کو جارح، بچوں کا قاتل اور "جنگی جرائم” کا مرتکب قرار دیا جارہا ہے۔ خصوصاٌ مذکورہ چار ممالک میں ممبران پارلیمنٹ، حزب مخالف کے رہنماوں اور حقوق انسانی کے محافظین، یہاں تک کہ ورکرز یونینوں کے لیڈر جارح اسرائیل کو فوجی سازو سامان کی فراہمی پر اپنی حکومتوں سے جواب طلب کر رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی حملے کے دوران اٹلی کی ایک بندر گاہ ’’پورٹ آف لیوورنو‘‘ پر کام کر رہے ورکرز کی ایک معروف یونین، یو ایس بی (Unione Sindacale di Base) نے جنگی ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مادوں سے بھرے باکسز کو جہازوں میں لادنے سے صاف منع کر دیا تھا جن کی منزل اسرائیلی بندرگ ود تھی۔ یہ واقعہ 16 مئی 2021 کا ہے جب ’ویپن واچ‘ نام کی ایک این جی او کے ذریعہ یونین کو یہ معلوم ہوا کہ جہاز میں لادے جانے والے ڈبوں میں اسرائیل جانے والے ہتھیار بھرے ہیں جو غزہ پر بھاری بمباری کرکے عام فلسطینی شہریوں کو اس وقت بھی ہلاک کر رہا ہے۔ اپنے اس فیصلے کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ وہ اسرائیلی فوج کے ذریعہ ہو رہے ’’فلسطینی قوم کے قتل عام کا حصہ نہیں بننا چاہتے‘‘ (WAFA: May,16,2021)۔کچھ ایسا ہی منظر برطانیہ میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں جنگ کے دوران اور اس کے بعد اسرائیل اور اس کے قبضے کے خلاف تاریخی مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ وہاں بھی ’’فلسطین ایکشن‘ نامی انگریز عیسائیوں کے ایک گروہ نے 19 مئی کو انگلینڈ کے شہر لیسسٹر کے میریڈیان بزنس پارک میں واقع ایک ڈرون فیکٹری پر قبضہ کر کے فیکٹری میں تالا لگا دیا تھا، الیبٹ (Elbit factory) نام کی یہ ایک اسرائیلی فیکٹری ہے جس میں اسرائیل کے لیے ایسا ڈرون اور اس کا سسٹم تیار کیا جاتا ہے جو خالص جنگی نوعیت کا ہے اور جنہیں فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان مظاہرین کا بھی یہی کہنا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی ہوائی بمباری اس بات کا ثبوت ہے کہ ’’یو کے میں بنے جنگی سامان اور فوجی ٹکنالوجی‘‘ اسرائیل کے ہاتھوں’فلسطین میں جنگی جرائم‘ کا سبب ہیں یا ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ معصوم فلسطینیوں کو ہلاک کرنے والے ہتھیار اپنے ملک میں تیار ہونے کی اجازت
نہیں دیں گے۔ (بی بی سی ڈاٹ کام 9:مئی 2021)
اور تو اور اب تو امریکی سینٹ اور پارلیمنٹ میں اسرائیل کے خلاف شدید آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ فلسطین کے حق میں بیداری کی اس لہر نے ہمیں وہ کچھ دکھایا ہے جو کم سے کم امریکہ میں اسرائیل کے خلاف شاذ ونادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ایک سینئر امریکی سینیٹر برنی سینڈرس کا ایک قانونی اقدام ہے، انہوں نے تو اسرائیل کے ساتھ 735 ملین امریکی ڈالر کے صحیح ترین نشانہ والے ہتھیاروں (Precision Guided Weapons) کی ڈیل کو منسوخ کرنے کے لیے امریکی سینیٹ میں باقاعدہ ایک بل پیش کر دیا ہے۔ یہ بل پاس ہو یا نہ ہو لیکن ان کا یہ قدم بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ کے طور سے ضرور ظاہر ہوا ہے۔اس سوال کا جو بائیڈن کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ ’’آیا امریکہ کی یہ عسکری مدد اسرائیل پہنچ کر امن قائم کرنے کا کام کرے گی یا جنگ کی آگ میں تیل ڈالنے کا؟‘‘۔ ان کا ریزولیوشن امریکی صہیونی لابی کے لیے بھی ایک بہت بڑی ناکامی کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے جو اسرائیل کے ہر ناجائز عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لیے امریکہ میں ہر آن متحرک رہتی ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر ہر ماہ لاکھوں ملین امریکی ڈالر خرچ کیا جاتا ہے۔ سینیٹر برنی نے سینٹ ممبران کو اس کے حق میں ووٹنگ کے لیے جو بیان دیا تھا وہ اس بل سے بھی زیادہ اہم ہے۔
بقول ان کے: ’’ایک ایسے وقت میں جب کہ امریکہ کے بنے بم غزہ کو تباہ کر رہے ہیں اور عورتوں اور بچوں کو ہلاک کر رہے ہیں، ہم کانگریس میں مباحثے کے بغیر ہی ہتھیاروں کے ایک اور بڑے سودے کو یوں ہی آسانی سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے‘‘۔ یہ بھی اس تازہ کشمکش کے نئے اثرات کا ہی نتیجہ ہے کہ انگلینڈ امریکہ اور فرانس میں یہودیوں کی اچھی خاصی تعداد نے فلسطینی پرچم اٹھا کر اسرائیل اور اس کی فلسطین مخالف سرگرمیوں کی مخالفت کی اور اپنی حکومت سے اس کے جرائم میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی ہے۔اس کے علاوہ عین جنگ بندی کے دن امریکہ میں عرب امریکن انسٹیٹیوٹ (AAI)کے ذریعہ کرایا گیا ایک سروے بھی عملا سینیٹر سینڈرس کے بل کے مقاصد کی تائید کرتا ہے۔ اس سروے کا اہم بیان یہ ہے "اسرائیلی حکومت اگر فلسطین کے مغربی کنارہ (مقبوضہ فلسطینی علاقے) میں (یہودی) بستیوں کی تعمیر وتوسیع جاری رکھتی ہے تو امریکہ کو اس کی لا محدود مالی وفوجی مدد نہیں کرنی چاہیے” مجموعی طور سے 51 فیصد امریکی شہریوں نے سوالنامہ کے اس بیان سے پورا اتفاق ظاہر کیا ہے، جب کہ 62 فیصد ڈیموکریٹس اور 75 فیصد لبرل بلاک سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنمائوں اور دانشوروں نے اس کی حمایت میں
رائے دی ہے۔ حالیہ کشمکش میں حماس اور اہل فلسطین کی کامیابی کا تیسرا سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ اس بار قیام امن کے لیے عالمی برادری نے صرف جنگ بندی پر عمل آوری اور ’اسٹیٹس کو‘ پر زور دینے تک خود کو محدود نہیں رکھا ہے بلکہ حماس کی مزاحمت نے بحث کے ان دروازوں کو ایک بار پھر پوری طرح کھول دیا ہے جنہیں اسرائیل اور امریکہ نے اپنے تئیں ٹرمپ کی ’’سنچری ڈیل‘‘ کا قفل لگا کر پوری طرح بند کر دیا تھا اور اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ وہ فلسطین اور فلسطینی ریاست کا وجود مٹا نے میں کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن حماس کی آواز پر وجود میں آنے والے شیخ الجراح انتفاضہ نے ان کے سارے ناپاک منصوبوں کو ایک ہی جھٹکے میں خاک میں ملا دیا۔ اب آو آئی سی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا فلسطین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہنے والے ترکی اور پاکستان جیسے ممالک ہی نہیں، امریکی حکمراں بھی ایک مکمل فلسطینی ریاست کے قیام کی ناگزیریت کو شرق اوسط میں قیام امن کی لازمی شرط ماننے لگے ہیں اور جنگ سے ایک دن قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی میں جنگ بندی اور اسرائیلی حملے کی مذمت میں چل رہے مباحثے میں بہت سے مقررین نے اس بات کو دہرایا کہ یروشلم نہ صرف فلسطین کا حصہ بلکہ اس کا قلب اور اس کا دارالحکومت ہے۔ صرف یہی نہیں کہ بدلتے ہوئے اس ماحول میں اب اسرائیل کے سرپرست ممالک بھی فلسطینی ریاست کی تشکیل، فلسطینی زمین پر یہودی آبادکاری کے سلسلے پر روک اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کی تکمیل جیسے امور کو مسئلہ فلسطین کے حل کا لازمی جز سمجھ رہے ہیں بلکہ عالمی فورموں پر اس کے حق میں کھل کر بولنے بھی لگے ہیں۔ یوں تو اس تعلق سے اسرائیلی تشدد کے دوران اور اس کے بعد بھی عوامی وسیاسی شخصیات کی طرف سے بے شمار بیانات آچکے ہیں جن میں معصوموں کے قتل اور غزہ پر اسرائیلی غارت گری کے سلسلے کو مستقل طور سے ختم کرنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی پیروی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ مسئلے کے حل کی ناگزیریت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اسرائیل کے سب سے بڑے حلیف یا اس کے محافظ امریکہ اور یورپی یونین کے بیانات اور ان میں آئے نئے اتار چڑھاؤ کو دنیا بوجوہ زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے بعد مئی کے آخری ہفتے میں اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران امریکی وزارت خارجہ کے سکریٹری اینتھونی بلینکن نے یروشلم میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران اپنی پریس کانفرنس میں جو باتیں واضح طور سے کہی ہیں وہ یہ کہ ’’جنگ بندی اہم ہونے کے باجود مسئلے کا خاتمہ نہیں ہے‘‘ گویا اسٹیٹس کو اب اصل مقصود نہیں بلکہ اصل مقصد مسئلے کا حتمی اور قابل قبول حل ہے۔ ان کے بیان کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جس میں (دبے لفظوں میں ہی سہی) غزہ سے اسرائیلی محاصرہ کو ختم کرنے کی حمایت کی گئی ہے اور "غزہ کے لوگوں کو مواقع فراہم کرنا مستقبل میں تشدد روکنے کے لیے ضروری” تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر یہ بات عالمی سطح پر آگے بڑھتی ہے تو اسے بھی حماس کی ایک بہت بڑی کامیابی کی صورت میں دیکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس پریس کانفرنس میں امریکی سکریٹری کی طرف سے تین اہم مسئلوں کو کھلے لفظوں میں اٹھایا گیا تھا جو یہ ہیں: (1) فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضہ اور ان پر یہودی کالونیوں کی تعمیر کو روکا جانا (2) فلسطینیوں کو ان کے آبائی گھروں سے جبراً بے دخل کرنے کا غیر قانونی اسرائیلی اقدام (3) ’’دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید مشکل بنانے والے‘‘ اور تصادم بڑھانے والی سرگرمیوں پر بندش لگانا۔انہوں نے اکزیاس کے نمائندے سے جو کچھ کہا اس کے بین السطور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا اسرائیلی رہنماوں کو میں نے امریکہ کی جس تشویش سے آگاہ کیا ہے وہ ہیں ’’ (اسرائیل کے ذریعہ) فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبراً نکالنا جہاں وہ دہائیوں سے اور نسلوں سے رہتے آ رہے ہیں، اسی طرح ان کے گھروں کو منہدم کرنا اور بے شک وہ تمام (غیر پسندیدہ) چیزیں جو مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں رونما ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں‘‘ ( Axios.com/Barak Ravid: May 27, 2021 )
حالات جیسے بھی ہوں فلسطین پر دھیرے دھیرے اپنے قبضے کو وسیع و مستحکم کرتے رہنا اسرائیل کی داخلہ وخارجہ پالیسیوں کی ریڑھ ہے، البتہ الگ الگ حالتوں میں فریب دہی کے مختلف روپ بدلتے ہوئے اپنے گھناؤنے ایجنڈوں کو پورا کرتے رہنا اسرائیل کی عادت ہی نہیں اس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسی حکمت عملی یا استعماری سازش کا ایک پہلو ہے ’اسٹیٹس کو‘ ہر ایسے نازک موقع پر جب اسرائیل کو اپنے کسی نئے جرم پر خلاف توقع بڑے عالمی دباؤ یا فلسطینیوں کی طرف سے کسی طوفانی رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسی جادو کا سہارا لیتا ہے اور اقوام عالم کو یقین دلاتا ہے کہ وہ القدس اور دیگر فلسطینی مقامات پر ’اسٹیٹس کو‘ کا لحاظ رکھے گا یعنی ان کی سابقہ حالت میں کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کرے گا۔ ایسا وہ 1948 سے برابر کہتا آرہا ہے لیکن اس بیچ وہ فلسطینیوں اور اقوام متحدہ کے مستقل اعتراضات کے باوجود فلسطین کی ہزاروں لاکھوں مربع گز زمینیں ہڑپ کر ان پر نئی یہودی بستیاں (New Settlements) تعمیر کر چکا ہے، اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ، دیگر تاریخی مساجد اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات میں اس کی غاصبانہ مداخلت برابر جاری ہے۔ فلسطینیوں کے کھیتوں اور باغوں میں بلڈوزر چلوا کر ان پر قبضہ کرنا، ان کے گھروں کو بلا جواز منہدم کرنا اور مسلم وقف کی زمینوں کو اپنی ملکیت میں لینا اس کا روز کا معمول ہے۔ مسجد اقصیٰ کے نواح میں واقع شیخ الجراح کا مسئلہ اس کی اسی غیر قانونی حرکت کا نتیجہ ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی درجنوں قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے لیکن جس ریاست کی بنیاد ہی غیر قانونی ہو اس سے خیر کی امید کرنا عبث ہے اور اس کا علاج صرف تحریکِ مزاحمت ہی ہے۔ البتہ اب اس کے اسٹیٹس کو والے فریب سے بھی دنیا باہر نکل رہی ہے اور خود یورپی یونین نے اس سے شدید بیزاری کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل (Josep Borrell) نے اردن میں اپنے اردنی ہم منصب سے حالیہ ملاقات کے دوران اس پر فریب ’اسٹیٹس کو‘ کو مسئلہ فلسطین کے حل میں رکاوٹ اور ’ناقابل برداشت‘ کہہ کر یہ بتا دیا ہے کہ اس پر بھروسہ کر کے بیٹھے رہنا کتنا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا واضح لفظوں یہ کہنا ہے کہ فلسطین کے تعلق سے اس ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی بات اب بالکل ’’ناقابل برداشت‘‘ ہے جو غزہ اور فلسطین کو بار بار تباہ کرتا ہو اور ہمیں بار بار ان کی تعمیر نو پر سیکڑوں ملین ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہوں۔ انہوں نے اس بار غزہ کے لیے یورپی یونین کی طرف سے دی گئی 8 ملین یورو ڈالر کی مدد کا معنی خیز انداز میں ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ رقم تباہ حال غزہ کی تعمیر نَو کے لیے کافی ہے؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ نہیں ’’اس کی تعمیر نَو کے لیے سیکڑوں ملین ڈالر کی ضرورت ہے‘‘ لیکن مجھے اس تخمینے سے زیادہ اس بیان کے بعد والے حصے سے دلچسپی ہے جس میں غزہ کی تعمیر نَو کے ساتھ اسٹیٹس کو کے بھرم کو توڑنے کی ضرورت کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ کیا گیا ہے: ’’بے شک ہمیں ان کی مدد کرنی ہے لیکن اسٹیٹس کو اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے‘‘(Anadolu Agency:27, 5, 2021)
ای یو سربراہ کے ان الفاظ میں آزادی فلسطین کی ضرورت کا اعتراف بھی ہے جو ابھی ادھوری ہے۔ اگر اسرائیل اپنی استعماری پالیسی ترک کر کے اصل سرحدوں میں واپس چلا جائے اور اسٹیٹس کو کی یقین دہانیوں کی آڑ میں وہاں قزاقی وغارت گری بند کر دے تو بورل کی طرح ہم بھی یہی کہیں گے کہ ہمیں نہیں چاہیے ’’جنگ بندی، تشدد پھر جنگ بندی، ہمیں دیرپا امن چاہیے جو معجزہ کی بجائے سیاسی مذاکرات سے آتا ہے۔ دو ریاستی حل ہی وہ واحد راستہ ہے جو اسرائیل اور فلسطین دونوں کو تکریم اور آزادی بخشے گا۔‘‘ یہ حل ایک قوم اور ایک آزاد ریاست کی شکل میں فلسطین کے وجود وبقا کی ضمانت چاہتا ہے، یہ مسجد اقصی کے تقدس کی بحالی چاہتا ہے، یہ اسرائیل کے ہاتھوں ہو رہی فلسطینیوں کی نسل کشی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ نہ یہ کہ اسٹیٹس کو کے نام پر فلسطین کو اسرائیل کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے اور گزشتہ ستر سالوں کی طرح مزید اگلے ستر سالوں تک دنیا کے نقشے سے اس کے نابود ہونے کا تماشہ دیکھا جائے۔
امریکہ اور یورپ کی طرح چین اور روس نے بھی اس بار زیادہ دوٹوک الفاظ میں اسرائیل کو اپنی اوقات میں رہنے اور غصب کاری کی راہ ترک کرنے کی بات کی ہے، یہ ان دونوں کا بھی دباؤ تھا جس نے اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کیا اور اب مسئلہ وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اسرائیل کے دوست ممالک کی طرف سے بھی فلسطین کی آزادی کی بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنا نا ممکن کہا جانے لگا ہے اور یہی موجودہ کشمکش یا شیخ الجراح انتفاضہ کا سب سے مثبت پہلو ہے۔مسلم ممالک خصوصاً ترکی اور پاکستان کی سنجیدہ سفارت کاری، اسرائیل کے خلاف او آئی سی کے واضح اور متفقہ قرارداد کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت پر داخلی دباؤ کے نتائج نے مسئلہ فلسطین کو یہ نیا رخ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران ترکی نے پہلی بار یو این او کے اجلاس عام میں فلسطینی قوم کو اسرائیلی زیادتیوں سے محفوظ رکھنے لیے وہاں ایک بین الاقوامی امن بردار فوج اتارنے کی کھل کر بات کہی اور حالات کی دھماکہ خیزی کو دیکھتے ہوئے کسی ملک کو اس کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ترکی نے عربوں اور مسلم ملکوں کو اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی، پاکستان اور ترکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے خلاف قرارداد لانے اور او آئی سی کو فلسطینی کاز کے لیے متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور صدر ترکی رجب طیب اردغان کے دوٹوک موقف اور ان کے وزراء کی سرگرم سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں فلسطین کو اس بار کئی دہائیوں کے بعد ایسی سفارتی کامیابیاں ملی ہیں جس کااثر اوسلو سمجھوتہ سے بھی زیادہ گہرا نظر آ رہا ہے۔ اگر فلسطین کے منظر میں یہ انقلابی تبدیلیاں سامنے نہ آتیں تو اس کے تعلق سے شاید سعودی عرب اور امارات کے زیر اثر مسلم ممالک کی اہم تنظیم او آئی سی کا حالیہ اجلاس بھی اس کے بعض گزشتہ چند اجلاسوں کی طرح رسمی خانہ پری تک محدود رہ جاتا۔ ہم نے مختلف واقعات وبیانات کی روشنی میں فلسطین کے تعلق سے مختلف سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر اتنی تفصیل سے اس لیے کیا ہے تاکہ آپ کو یہ اندازہ ہو سکے کہ اپنی جدوجہد آزادی میں اہل فلسطین کی بے مثال ثابت قدمی اور اسرائیل کے خلاف حماس کی جراتمندانہ مزاحمت رائیگاں نہیں گئی ہے بلکہ دنیا پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ تبدیلیاں اسی جدوجہد کا ثمرہ ہیں۔ چاہے وہ فلسطین کے حق میں عوامی مظاہرے ہوں یا اقوام متحدہ کا اجلاس یا بعض مسلم ملکوں کی سفارتی کاوشیں یا عالمی سربراہوں کے بیانات، یہ سب اس لیے ہیں کیونکہ فلسطینی تحریک مزاحمت زندہ ہے۔ ان تمام مثبت علامتوں کا راز اسرائیل کی حفاظتی دیواریں منہدم کرنے والے اور ان کی ‘دیواروں کے محافظین’ کے حواس گم کرنے والے حالیہ تصادم کے حیرت انگیز اثرات میں مضمر ہے۔ ان اثرات کی وجہ سے ہی امریکی صدر اور ان کے سکریٹری دفاع کو اپنے بیانات کو متوازن کرنا پڑا اور امریکہ کے "حق دفاع” کا دفاع کرنے والوں کو اپنا دباؤ کم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور اسے غزہ پر اپنے حملوں کو غیر مشروط طور سے روکنے کی ہدایت کرنی پڑی۔ وہ امریکہ جو چند ماہ پہلے تک مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی راہ پر چل رہا تھا وہ آج جنگ بندی سے آگے جا کر اس مسئلے کے مستقل طور سے حل کرنے کی باتیں کرنے لگا ہے۔ اگر وہ اپنی باتوں میں مخلص ہے تو جلد ہی مثبت نتائج اس کی تصدیق کردیں گے اور اگر یہ محض وقت کو ٹالنے کی ایک کھوکھلی تدبیر ہے تو اسے ان نقصانات کا بھی جلد ہی احساس ہو جائے گا جس کی زد سے اب امریکہ اور اسرائیل بھی خود زیادہ دنوں تک محفوظ نہیں رہ سکتے۔ عالمی اسٹیج پر ظاہر ہونے والی یہ تبدیلیاں اگرچہ ابھی ظاہری نوعیت کی ہیں پھر بھی یہ اس بات کی ایک بڑی شہادت ہیں کہ اس بار کے واقعات نے اسرائیل کے لیے اس کے جرائم کی محفوظ پناگاہوں کو بھی تنگ بنا دیا ہے۔
جو اس مسئلے کی حقیقت کے تمام پہلووں سے آگاہ ہیں اج انہیں یہ اعتراف ہے کہ حماس اور دیگر تحریکات آزادی کی جراتمندانہ مزاحمت اور فلسطینیوں کی بے مثال استقامت نے 6 مئی کے بعد سفارتی وبین الاقوامی رجحان کو ایک بار پھر فلسطین کے حق میں موڑ دیا ہے اور منظر کو یہاں تک بدل دیا ہے کہ خود امریکہ اور اسرائیل میں اسرائیل کی جارحانہ اور نسل پرست پالیسیوں کے خلاف زوردار آوازیں اٹھنے لگی ہیں اور جو بائیڈن کو اپنا نمائندہ فلسطین بھیجنا پڑا۔ بڑی طاقتیں اپنی پرانی اسرائیل نواز خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں اور ان کے قدیم بیانیے میں واضح فرق دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ دنیا کے بیشتر ممالک بشمول امریکہ مسئلہ فلسطین کو مردہ کیس سمجھنے لگے تھے وہ آج یہ کہنے پر ہی نہیں بلکہ سمجھنے پر بھی مجبور ہو گئے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی مسئلہ فلسطین کا ایسا حل ناگزیر ہے جو فلسطینیوں کے لیے قانونی وجغرافیائی لحاظ سے قابل قبول ہو اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ محاذ جنگ سے میڈیا تک ان تمام کامیابیوں کا سہرا اصلاً حماس کے جری قائدین کو جاتا ہے جنہوں نے شہیدوں کے لہو اور قربانیوں کی تاب سے فلسطینی تحریک آزادی کو زندہ رکھا، دشمن سے ہر مورچے پر ٹکر لی اور القدس کی ہر پکار پر امتحان میں پورے اترے۔
مختصر یہ کہ غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملوں اور یروشلم میں اس کی غاصبانہ سرگرمیوں کے جواب میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی بے خوف قیادت اور فلسطینیوں کی ثابت قدمی سے فلسطینی کاز کے تعلق سے جو مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اس نے ایک آزاد فلسطین کے مستقبل اور القدس کی آزادی کے تعلق سے ہماری امیدوں میں نئی جان ڈال دی ہے اور فلسطینی ریاست کے امکانات کو کئی گنا روشن کر دیا ہے۔ صورت حال کا سادہ بیانیہ یہ ہے کہ اسرائیل کو اپنی دو بڑی بیساکھیوں پر کافی اعتماد تھا، ایک امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی اندھی حمایت اور دوسرے مشرق وسطیٰ میں عسکری طور سے اس کا کوئی مد مقابل نہ ہونا؛ ان دونوں کیفیتوں کے باقی رہنے کی صورت میں اسے اپنے ارادوں کی تکمیل میں کبھی کوئی رکاوٹ محسوس نہیں ہوئی، لیکن اب اسکی یہ دونوں بیساکھیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ فی الحال امریکہ بھی بین الاقوامی دباؤ میں فلسطینیوں کے حقوق کو باکل نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور دوسری طرف تحریک حماس بغیر کسی عرب یا اسلامی ملک کی فوجی مدد کے اکیلے ہی اس کی ننیدیں حرام کرنے کی اہلیت حاصل کر چکی ہے۔ آج پورے ہوش وحواس سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آزاد فلسطین کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس سے بہتر وقت کبھی نہیں آیا تھا۔ لیکن ہم یہ بھی جانتےہیں کہ
اسرائیل بنیادی طور سے ایک سازشی اور شاطر ریاست ہے، ایسے تمام نازک مواقع پر جب وہ خود کو چاروں طرف سے گھرا ہوا محسوس کرتا ہے تو ایسی نئی چالیں چل کر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے جن کا عام انسانوں کو وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ خلیجی جنگیں کروا سکتا ہے، وہ کوئی داعش کھڑی کر کے خطے کو نئی بد امنی میں جھونک سکتا ہے، وہ عرب ایران تصادم کروا سکتا ہے۔ اس شیطانی کھیل میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے، اس عمل میں اس کا سب سے مضبوط ہتھیار مخصوص حادثات و واقعات کی مدد سے عالمی قوتوں کو مختلف بلاکوں میں تقسیم کرنا ہے۔ اس تعلق سے جنہیں سب سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ان میں سب پہلے فلسطین کی مزاحم قوتیں ہیں جن کے درمیان موجود اتحاد ویگانگت اسرائیل کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کے بعد وہ عرب مسلم ممالک ہیں جن سے فلسطین کو سب سے زیادہ امید ہے۔ چنانچہ 20 مئی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین پر چل رہی بحث میں اسرائیلی نمائندے نے تفریق وتقسیم کی اسی اسرائیلی ٹیکٹکس کا برملا اعادہ کیا جب اس نے یہ کہا: ” یہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک جنگ ہے نہ کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان”۔ حالانکہ اس کی اس منطق پر کسی ملک نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسرائیل نے کتنے نپے تلے انداز میں نہ صرف فلسطینیوں بلکہ اقوام عالم کے ذہنوں کو مسموم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے اس جملے کی تہوں میں کتنے سانپ بچھو چھپے ہیں اس کا اندازہ ہر وہ شخص بہتر طور سے کر سکتا ہے جس کی مصر سے سعودی عرب تک عرب امور پر گہری نظر ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ خاص طور سے عرب مسلم ممالک فلسطین کے حوالے اس سنہرے موقع کا فائدہ اسی وقت اٹھا سکیں گے جب وہ اسرائیل کے مکرو فریب کے جال سے خود کو محفوظ رکھ سکیں گے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ حماس کی کامیاب مزاحمت کے سبب اسرائیل اس وقت وہاں یے جہاں وہ اپنی غاصبانہ سرگرمیوں کو مزید جاری رکھتے ہوئے اپنا وجود محفوظ نہیں رہ سکتا اور نہ وہ کسی ہم پلہ قوت کے بالمقابل کسی معرکے میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا حوصلہ دکھا سکتا ہے۔ ان حالات میں فلسطینیوں کو اپنی منزل پانے اور اسرائیل کو دیوار سے لگانے کے لیے اسلامی دنیا سے بہت زیادہ نہیں بلکہ قدیم یروشلم کے ایک 84 سالہ بزرگ اور معروف فلسطینی صحافی عمر برغوتی کے عزیز کے الفاظ میں "تھوڑی، بہت تھوڑی” حمایت کی ضرورت ہے۔ مسجد اقصیٰ وفلسطین کی آزادی اور ایک دہشت گرد ریاست کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے بہادر فلسطینی قوم ہر طرح کی قربانیاں دے کر اپنا تاریخی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس نازک گھڑی میں عالم انسانیت اور عالم اسلام کیا کر رہا ہے اور کیا کر سکتا ہے؟ کیا وہ انہیں یہ "تھوڑی مدد” دینے کی ہمت دکھا سکتا ہے؟ یہ ان کے سوچنے کا کام ہے البتہ یہ کام صرف لفظوں اور رسمی قرادادوں سے نہیں بلکہ بروقت اقدامات سے ہی ممکن ہے۔
***

ترکی نے پہلی بار یو این او کے اجلاس عام میں فلسطینی قوم کو اسرائیلی زیادتیوں سے محفوظ رکھنے لیے وہاں ایک بین الاقوامی امن بردار فوج اتارنے کی کھل کر بات کہی اور حالات کی دھماکہ خیزی کو دیکھتے ہوئے کسی ملک نے اس کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 6 جون تا 12 جون 2021