ریاست کیرلا میں رمضان کے مناظر

عبادات سے لے کر کھان پان تک کئی ہیں دلچسپ روایات

ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن مدنی ،کیرلا

 

کیرلا جنوبی ہند میں بحر عرب کے ساحل پر واقع ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل ریاست ہے جو اپنے محل وقوع، آب وہوا، کھان پان، زبان وتہذیب، سماجی وسیاسی روایات اور معاشی خوش حالی کے اعتبار سے ہندوستان کے دیگر خطوں سے اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔ ملیالم یہاں کے سارے مذاہب کے لوگوں کی مادری زبان ہے۔ لسانی تعصب نام کی کوئی چیز یہاں نہیں پائی جاتی چنانچہ انگریزی، عربی، اردو، ہندی اور سنسکرت کے لیے بھی لوگوں کے دلوں کے دروازے کھلے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں ملیالم زبان تو اختیاری ہےلیکن ہندی دسویں جماعت تک لازمی زبان کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ فٹ بال آج بھی یہاں کا سب سے مقبول کھیل ہے۔ اونم سب سے بڑا سماجی و ثقافتی تہوار ہے۔ سیاست دو محاذوں (LDF&UDF) کے درمیان گردش کرتی رہتی ہے۔ مسلمانوں کی مضبوط سیاسی جماعت (مسلم لیگ) کانگریس کے ساتھ UDF کا حصہ ہے۔ امن وامان، سماجی میل ملاپ اور ہم آہنگی کی بنا پر نفرت اور فرقہ پرستی کی کاشت کے لیے ہزار کوششوں کے باوجود آج بھی یہ زمین کسی سنگلاخ سے کم نہیں ہے۔ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 26 فیصد ہے۔ کیرلا کا ہر مسلمان یہاں کی مقامی تنظیمی اکائی (محل) سے لازمی طور پر جڑا ہوتا ہے۔ ہر محل میں کم ازکم ایک جامع مسجد، ایک قبرستان اور ایک دینی مدرسہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ محل کی ایک کمیٹی اور اس کا ایک قاضی ہوتا ہے۔ شانتا پورم جماعت اسلامی کا سب سے بڑا اور مثالی محل ہے جس کے قاضی امیر حلقہ ایم آئی عبد العزیز صاحب ہیں۔ رمضان سے متعلق امور میں بھی اس کی الگ پہچان ہے جس کا بیان ذیلی عناوین کے تحت اجمالاً پیش خدمت ہے:
٭ استقبال رمضان: ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح کیرلا کی تمام مساجد میں شعبان کے آخری جمعہ میں رمضان کی فضیلت اور اہمیت بیان کی جاتی ہے اور مختلف قسم کے پروگراموں اور تحریروں کے توسط سے رمضان کے لیے ماحول تیار کیا جاتا ہے البتہ ایک رواج جو کیرلا میں بطور خاص پایا جاتا ہے وہ گھروں، مسجدوں یہاں تک کہ عوامی بیت الخلاؤں کی بھر پور صفائی ستھرائی کا اہتمام ہے جو کم وبیش کیرلا کے ہر خطے میں پایا جاتا ہے۔ خاص طور سے شوافع کے یہاں اس کا اہتمام بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ البتہ اس سال کورونا کے بڑھتے معاملات کی وجہ سے روایتی جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا۔
٭ ہلال رمضان وعید: رمضان کے آغاز اور اختتام کے سلسلے میں مسلمان بلا کسی جھگڑا فساد کے تین فقہی آراء پر عمل پیرا ہیں:
ایک گروہ رویت ہلال کے بجائے حساب فلکی کا قائل ہے اور معروف صوفی سائنسدان علی مینک فین کے دائمی کلینڈر پر عمل پیرا ہے۔ یہ لوگ سعودی عرب سے بھی ایک دن پہلے رمضان کا آغاز واختتام کرتے ہیں۔ ان کی تعداد بہت کم ہے۔ دوسرا گروہ رویت ہلال کا قائل تو ہے لیکن اختلاف مطالع کو نہیں مانتا ۔یہ لوگ ام القریٰ (مکہ مکرمہ) کی رویت کو ساری دنیا کے لیے معیار مانتے ہیں۔ سلفیوں کا ایک گروہ اس پر عمل پیرا ہے۔ تیسرا گروہ (جو سب سے بڑا گروہ ہے) جس پر شوافع اور احناف دونوں کی غالب اکثریت عمل پیرا ہے جماعت اسلامی ہند بھی عملی طور پر اسی کے ساتھ ہے اور سرکار ی سطح پر بھی اسی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ رویت ہلال اور اختلاف مطالع کا قائل ہے۔ چونکہ حجاز اور کیرلا کا مطلع ایک ہی ہے اس لیے عام طور پر مکہ کے ساتھ کیرلا میں بھی اسی دن ہلال نظر آجاتا ہے اور اہل کیرلا اہلِ حجاز (مکہ مکرمہ) کے ساتھ رمضان شروع اور ختم کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مطلع ابر آلود ہونے کی صورت میں تیس کی تعداد مکمل کی جاتی ہے۔ اس وقت اہل کیرلا شمالی ہند کے ساتھ مل جاتے ہیں۔
٭ افطار وسحری: کیرلا کے ساحلی علاقوں میں کچھ درویش صفت لوگ دف بجاتے ہوئے مسلم محلوں سے گزرتے ہیں اور اجتماعی طور پر کچھ نغمات ان کی زبان پر رواں ہوتے ہیں۔ اس سے ان لوگوں کو بیدار ہونے میں مدد ملتی ہے جو کسی وجہ سے خود سے بیدار نہیں ہو پاتے۔ کبھی کبھی تمل ناڈ وسے اس کام کے لیے درویشوں کے وفود آتے ہیں۔ شب قدر میں بستی کے لوگ ان کو ہدایا اور نقود سے نوازتے ہیں۔ دیہات کی مسجدوں میں افطار کا کچھ زیادہ اہتمام نہیں ہوتا مگر شہروں میں اس کا اہتمام بہت ہوتا ہے اور روزہ داروں کے لیے بریانی وغیرہ کا بھی اہتما م کیا جاتا ہے۔ تریشور کی ایک مسجد میں ہر روز ایک ہزار لوگوں کے لیے افطار کا نظم کیا جاتا ہے۔ ہوٹلوں میں سموسوں اور دیگر مخصوص پکوانوں کی بہار سی آجاتی ہے۔ کیرلا میں عام طور پر کھجور اور شربت وغیرہ سے روزہ کھول کر نماز پڑھتے ہیں اور نماز کے بعد فوراً کھانا کھاتے ہیں جس کو افطاری کا نام دیا جاتا ہے۔ کیرلا اور کیرلا سے باہر جہاں بھی ملیالی لوگ رہتے ہیں رمضان کے مہینے میں ایک خاص پکوان پتری (چاول کی روٹی) اور گوشت کا اہتمام ان کے دسترخوان کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں تراویح کی نماز کے بعد کنّی وِلّم (چاول پانی) پینے کا رواج ہے۔ اور شمالی کیرلا میں سحری کے وقت باضابطہ کھانا کھایا جاتا ہے۔ جبکہ جنوب میں ناشتہ کا رواج زیادہ ہے۔ ساحلی علاقوں میں افطار کے کھانے میں خشک مچھلی اور چاول بہت اہتمام سے کھاتے ہیں۔ کیرلا میں ایک رواج یہ بھی ہے کہ نئی شادی کے بعد جو نئے رشتہ دار بنتے ہیں ان کو پہلے عشرے میں کھانے پر بلایا جاتا ہے اور آخری عشرے میں کپڑے وغیرہ ہدیتاً پیش کیے جاتے ہیں۔
٭ نماز تراویح اور عید : کیرلا میں احناف اور شوافع دونوں کے یہاں بیس رکعت تراویح کا اہتمام ہوتا ہے لیکن شوافع کے یہاں ختم قرآن کا کوئی اہتمام نہیں ہے۔ ان کی مسجد کا امام ہی چھوٹی چھوٹی سورتیں روانی سے پڑھ کر رکعتیں پوری کر دیتا ہے۔ احناف کے یہاں البتہ شمالی ہند کی طرح ختم قرآن کا اہتمام پایا جا ہے اسی لیے تحفیظ کے مدارس بھی زیادہ تر یہی لوگ چلاتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اور مجاہد (سلفی) کی مساجد میں صرف آٹھ رکعت تراویح کا اہتمام ہوتا ہے اور عام نمازوں کی طرح ہی امام قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ اس کے لیے ترتیب کے ساتھ پڑھنا بھی شرط نہیں ہے۔ درمیان میں چار رکعت کے بعد تذکیر ہوتی ہے اور وتر کی نماز میں طویل دعا کا اہتمام ہوتا ہے۔ اس طرح آٹھ رکعت تراویح میں بھی اچھا خاصا وقت لگ جاتا ہے۔
احناف اور شوافع کی مسجدوں کے برعکس جماعت اسلامی ہند اور مجاہد (سلفی) حضرات کی مسجدوں میں جمعہ اور عیدین کی طرح تراویح کی نماز میں خواتین بھی بڑے ذوق اور شوق سے شریک ہوتی ہیں۔
عید کی نماز شوافع مسجدوں میں ہی ادا کرتے ہیں۔ احناف، مجاہدین (سلفی) اور جماعت اسلامی ہند سے وابستہ لوگ موسم سازگار ہونے کی صورت میں عیدگاہوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی طرح کیرلا میں عید گاہ کے نام سے کوئی رجسٹرڈ قطعہ اراضی نہیں پایا جاتا ہے۔ یہاں کسی کالج کے میدان، اسٹیڈیم، ساحل سمندر وغیرہ کو نماز عید کے لیے مخصوص کر لیا جاتا ہے۔ اسی کو عید گاہ کا نام دیا جاتا ہے۔ احناف اور شوافع کے یہاں صرف مرد حضرات ہی عیدگاہ کا رخ کرتے ہیں جبکہ جماعت اسلامی ہند اور مجاہد (سلفی) حضرات کی عیدگاہوں میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہیں۔ عیدگاہ کے ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین کی صفیں ہوتی ہیں درمیان میں ایک پردہ حائل ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ کیرلا میں سب سے زیادہ مساجد شوافع کے زیر انتظام ہیں جو سنی کے نام سے خود کو موسوم کرتے ہیں۔ ان کے علماء اور ائمہ سفید قمیص، سفید لنگی اور سفید پگڑی میں ملبوس ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اور سلفیوں کی مساجد بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔احناف کی مساجد کی تعداد سب سے کم ہے۔ احناف کا رجحان تبلیغی جماعت اور مسلک دیوبند کی طرف ہے۔
٭ زکوٰۃ وصدقات: رمضان میں لوگ زکوٰۃ وصدقات کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ غرباء ومساکین کے علاوہ دینی اداروں اور جماعتوں کو بھی دل کھول کر دیتے ہیں۔ لیکن زکوٰۃ اور صدقہ فطر کی وصولی اور تقسیم کا اجتماعی نظم صرف جماعت اسلامی ہند اور کسی حد تک سلفی لوگ کرتے ہیں۔ شوافع کے یہاں شب قدر (ستائیسویں شب) میں انفرادی طور پر زکوٰۃ وصدقات کی تقسیم کا بہت اہتمام کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے اماموں کو بھی دعوت کر کے خوب نوازتے ہیں۔
(مضمون نگار جامعہ اسلامیہ شانتا پورم کیرلا میں صدر شعبہ اردو ہیں)
ziaurahmanmadani@gmail.com
***

کیرلا اور کیرلا سے باہر جہاں بھی ملیالی لوگ رہتے ہیں رمضان کے مہینے میں ایک خاص پکوان پتری (چاول کی روٹی) اور گوشت کا اہتمام ان کے دسترخوان کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں تراویح کی نماز کے بعد کنّی وِلّم (چاول پانی) پینے کا رواج ہے۔ اور شمالی کیرلا میں سحری کے وقت باضابطہ کھانا کھایا جاتا ہے۔ جبکہ جنوب میں ناشتہ کا رواج زیادہ ہے۔ ساحلی علاقوں میں افطار کے کھانے میں خشک مچھلی اور چاول بہت اہتمام سے کھاتے ہیں۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 18 تا 24 اپریل 2021