اردو ادب میں عصری مسائل کی عکاسی

1857 کا غدر ، 1947 کا واقعہ اور 1992 کے دلخراش سانحے پر اردو شعراء کے جذبات

ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی
سابق صدر ادارہ ادب اسلامی ہند

ادب زندگی کا آئینہ ہے، ادب اور زندگی کا چولی دامن کا نہیں بلکہ جسم اور روح کا تعلق ہے۔ ادب زندگی سے پیدا ہوتاہے، زندگی کی ترجمانی کرتاہے اور زندگی ہی کےکام آتاہےاور ہمیشہ زندگی کی تعمیر و ترقی میں مشغول رہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا ادب اپنے وقت کے حالات، واقعات اور گوناگوں مسائل حیات سے متاثر ہوا ہےاور قلم کاروں کی عظیم اکثریت نے اپنی ادبی تخلیقات میں عصری مسائل، جدید حسیت اور حالات حاضرہ کو بڑی دردمندی اور تخلیقی توانائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ شعر و ادب کے سمندر کو اس پہلو سے کھنگالنے اور دل خراش تصویروں کو نکالنے کی ضرورت ہے اور یہ ہماری ادبی تخلیق کا ایک اہم موضوع ہے۔ برصغیر ہند کی تاریخ میں تین ادوار یعنی 1857ء، 1947ء اور 1992ء خاصی اہمیت کے حامل ہیں، کیوں کہ ان سالوں میں ملک کو اور بالخصوص یہاں کی امت مسلمہ کو ابتلاء و آزمائش کے عظیم سمندر اور آگ و خون کے دریا سے گزرنا پڑا۔ سردست مجھے صرف یہ دیکھنا ہے کہ ان تینوں ادوار کے ہنگاموں میں ہمارا شعر و ادب کتنی شدت سے متاثر ہواہے یا ان حالات کی عکاسی میں کیا کچھ حصہ ادا کیا ہے۔
پہلا دور1857
1857 کا واقعہ، جسے تحریک آزادی کی اولین جنگ سے تعبیر کیا جاتاہے، ہماری قومی تاریخ کا ایک بڑا سانحہ ہے اور یہ ناممکن تھا کہ اتنے بڑے قومی سانحے کے بعد شاعر اپنی اور دوسروں کی سرگزشت نہ سنائے، اگرچہ مورخین کا خیال ہے کہ اس کا بیشتر حصہ تلف ہوگیا، تاہم کنہیا لال کپور نے اپنی کتاب ’’محاربہ عظیم‘‘ میں ایک شعری اشتہار کا ذکر کیا ہے، چند اشعار پیش خدمت ہیں:
واسطے دین کے لڑنا نہ پئے طمع بلاد
اہل اسلام اسے شرع میں کہتے ہیں جہاد
حق تعالیٰ کو مجاہد وہ بہت بھاتے ہیں
مثلِ دیوار جو صف باندھ کے جم جاتےہیں
اس دور کے ایک شاعر منیر کو بغاوت کے جرم میں جب کالا پانی میں دس سال قید کی سزا ہوگئی تو یہ شعر کہا؎
نکل کر ہند سے آنا ہوا جب اس جزیرے میں
اسیروں کی سیہ بختی سے کالاہوگیا پانی
اس ہنگامہ شور وشر میں امام بخش صہبائی کے پورے خاندان کا صفایا ہوگیا۔ شیفتہ کی جان پر بن آئی تھی، مگر وہ بچ گئے۔ آزردہ نے کس حسرت سے ان دونوں کا ذکر کیا ہے:
روز وحشت مجھے صحرا کی طرف لاتی ہے
سر ہے اور جوش ِ جنوں، سنگ ہے اور چھاتی ہے
ٹکڑے ہوتاہے جگر جی ہی پہ بن آتی ہے
مصطفیٰ خاں کی ملاقات جو یاد آتی ہے
کیوں نہ آزرؔدہ نکل جائے نہ سودائی ہو
قتل اس طرح سے بےجرم جو صہبائی ہو
مولانا کافی کے بارے میں مشہور ہے کہ جب انہیں قتل گاہ لے جایا جا رہا تھا تو ان کی زبان پر یہ شعر تھا:
ہم صفیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا
امیر مینائی کے دو اشعار دیکھیے، صورت حال کا بھر پور نقشہ ہے:
ہر ایک شہر کا پیر وجوان قتل ہوا
ہر ایک قبیلہ و خاندان قتل ہوا
رہا نہ کوئی جواں اور نہ کوئی پیر امیر
برائے مخبری کے رہ گئے ہیں چند شریر
1857ء میں دہلی کی بربادی پر بلاشبہ سیکڑوں شعراء نے لکھا ہے، شدت تاثر اور درد و الم کی چنگاری اس دورکی تخلیقات میں پوری طرح موجود ہے۔ کلام غالؔب بھی واقعات غدر کی ٹریجڈی سے خالی نہیں ہے:
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتاہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
اسی عہد میں حاؔلی نے سچائی اور حقائق پر شاعری کی بنیاد رکھی تھی۔ شبلؔی نے بھی اپنے عہد کے ملی مسائل اور تاریخ و سیاست کے حقائق کو شاعری کے سانچہ میں ڈھالا۔ مسجد کانپور کے واقعہ پر ان کی نظم کا یہ شعر اب بھی مشہور ہے:
پہنائی جارہی ہیں عالمان دیں کو زنجیریں
یہ زیور سیدِ سجاد عالی کی نشانی ہے
اقباؔل نے 1921ء میں خضرِ راہ لکھی جو بقول ایک ممتاز نقاد ’’عالمِ اسلام کے انتشار اور جنگ عظیم کے تاثرات پر ایک دکھے ہوئے دل کی پکارہے، ایک مفکر شاعر کا عہد نامہ جدید ہے، اس سے پہلے کسی نے اس شدت کے ساتھ جنگ کا اثر محسوس نہیں کیاتھا۔‘‘
اقباؔل نے ہندوستان کے بلکہ ایشیا کے مظلوم انسانوں بالخصوص ملت اسلامیہ کو زوال کی پستیوں میں لے جانے والے اسباب کا حکیمانہ انداز سے اپنی شاعری میں تجزیہ کیا۔ اب اردو شاعری کا یہ مزاج بن گیا کہ وہ عصری مسائل سے گہری دلچسپی لینے لگی اور ہمارے فنکاروں کی انگلیاں اپنے عہد کی نبض پر آگئیں۔ ظفر علی خان اس تیور سے مخاطب ہوئے:
کب دبا سکتی ہے اس نعرہ کو توپوں کی گرج
جو بلند آج مراقش سے تو کل شام سے ہے
دوسرا دور 1947
1947ء میں برصغیر کی افسوس ناک تقسیم اور ہندوستان کی آزادی اپنے دامن میں بے شمار مسائل لے کر آئی۔ حالات نے بے شمار انسانوں کو غم و اندوہ میں مبتلا کردیا، اچھے اچھے چہروں پر انسان دشمنی اور نفرت و انتقام کی سیاہی پھیل گئی۔ اس دور میں جب قتل و غارت گری کی آندھیاں چلیں تو اس صورت حال پر متعدد فنکاروں نے بڑے درد انگیز پیرائے میں اظہار خیال کیا، مثال کے طورپر جگر مرادآبادی کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
وہ انساں جسے سرتاج مخلوقات ہونا تھا
وہی اب سی رہا ہے اپنی عظمت کا کفن ساقی
لباسِ حریت کے اڑرہے ہیں ہر طرف پرزے
بساطِ آدمیت ہے شکن اندر شکن ساقی
کہیں خود حسن ہوجائے نہ قومی ملکیت بن کر
کہیں خود عشق ہوجائے نہ محدودِ وطن ساقی
پھر جگرؔ اپنی ملت کو بیداری اور سرفروشی کا یہ پیام دیتے ہیں:
مطرب وہ کہاں اب بزم طرب تکلیف دہ پرخار اٹھا
ساقی یہ زمانِ عیش نہیں، شیشہ نہ اٹھا تلوار اٹھا
زنداں میں تومجھ کو ڈال دیا ائے حاکمِ زنداں تونے مگر
پرواز جو میری روک سکے، ایسی بھی کوئی دیوار اٹھا
اس زمانے میں بین الاقوامی سطح پر اشتراکیت کے یک گونہ غلبہ سے ہندوستان کے ترقی پسندوں نے بڑی دلچسپی لی اوراپنی شاعری میں مغربی سامراج کے خلاف غیض وغضب کا اظہار کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے جواثرات دنیا پرپڑے تھے اس کو بھی موضوع بنایاگیا۔ فیض، جذبی، مجروح، کیفی، علی سردار جعفری، جاں نثار اختر، مخدوم محی الدین جیسے شعراءنے مظلوم انسانوں کے مسائل کی عکاسی کی۔
یہی وہ دور ہے جب بین الاقوامی سطح پر دوسری جنگ عظیم کے اثرات شدت سے پائے جارہے تھے، ایک تیسری عالم گیر جنگ کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا تھا، عالمی امن، عالمی سطح پر قلم کاروں کی گفتگو کا موضوع بنا ہواتھا۔ اسی زمانہ میں برصغیر میں اشتراکی اور مغربی مادیت کے بالمقابل اسلام کو عالمی امن کا ضامن سمجھنے والے فنکاروں کا ایک وسیع حلقہ بھی موجود تھا۔ مکتبہ میعار میرٹھ نے ’’عالمی امن‘‘کے عنوان سے نظموں کا ایک مجموعہ شائع کیا اور اس طرح اردو کے صاحبِ فکر شعراء کی طرف سے پہلی بار اسلامی نقطۂ نظر کا باضابطہ انعکاس ہوا۔ اس مجموعہ میں شامل شعراء کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ فاروق بانسپاری، ابوالمجاہد زاہد، عرشی بھوپالی، سہیل احمد زیدی، انورصدیقی، عنوان چستی، تنویر علوی، منظر اعظمی اور شبنم سبحانی۔ مثال کے طورپر یہاں صرف سہیل زیدی کی ایک نظم کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
منزلیں بے نشاں، راہ ویران ہے
آج بھی ابن آدم پریشان ہے
کتنے ساحل نشیں، ناخدا بن گئے
کتنے بندے اٹھے اور خدا بن گئے
امن کچھ کارخانوں میں ڈھلتا نہیں
امن ڈالر کے بدلے میں ملتا نہیں
امن عالم پیامِ خدائی میں ہے
آشتی حکمت انبیائی میں ہے
راز جس وقت دنیا یہ پاجائے گی
یہ زمیں اپنے محور پہ آجائے گی
جیسا کہ عرض کیاگیا آزادی ہند کے بعد سے ہی ملک کی فسطائی جماعت ہول ناک فسادات اور نفرت و عداوت کی آندھیوں کا سلسلہ بڑھاتی رہی، جبل پور، جمشید پور، کلکتہ، رورکیلا، رانچی، پھر میرٹھ، ملیانہ، مرادآباد، بھاگل پور، جلگاؤں، بھوپال اور ملک کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے فسادات ہوتے رہے۔ یہ قیامت ملک کے گاؤں گاؤں قریہ قریہ میں مسلسل برپا ہوتی رہی اور صوبہ گجرات کے سانحہ نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ ان تمام حالات سے اردو کے فن کار بے حد متاثر ہوئے اور مختلف اصناف ادب میں اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔
فاروق بانسپاری کہتے ہیں:
خون مظلوم سے آلودہ ہے چپہ چپہ
ہر طرف گنج شہیداں ہے غزل کیا کہیے
غیر تو غیر ہے اس دورِ سیہ بختی میں
اپنا سایہ بھی گریزاں ہے غزل کیا کہیے
انجم عرفانی قتل و غارت گری کے مناظر پر محوحیرت ہیں:
ہم اپنے گھروں میں ہیں کہ مقتل میں کھڑے ہیں
ہوجائیں گے کب قتل پتہ ہی نہیں ہوتا
یہ کیسی عدالت ہے، یہاں کیسے ہیں منصف
قاتل کو جہاں خوفِ سزا ہی نہیں ہوتا
فضا ابن فیضی اپنی ایک نظم ’زخموں کی زبان‘میں یوں نالہ کناں ہیں:
میرے دامن میں تو زخموں کے سوا کچھ بھی نہیں
آنسوؤں، جلتی خراشوں کے سوا کچھ بھی نہیں
اب وہاں سرخ صلیبوں کےسوا کچھ بھی نہیں
خوف میں تیرتے جسموں کے سواکچھ بھی نہیں
خون کے پیاس کو شعلوں سے بجھانے کی ہوس
آدمیت کے تقدس کو کچلنے کی ہوس
اسی دوران 1976ء میں ایمرجنسی کا نفاذ، خوف و جبر کا ایک طویل وہشت ناک سناٹاتھا جس میں حفیظؔ میرٹھی یوں غزل سرا ہوئے:
آباد رہیں گے ویرانے، شاداب رہیں گی زنجیریں
جب تک دیوانے زندہ ہیں، پھولیں گی پھلیں گی زنجیریں
تیسرا دور 1992
ہندوستانی مسلمانوں کا ایک اندوہ ناک واقعہ بابری مسجد کا انہدام تھا، جس کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے حوصلے پست اور جذبات مکمل طورپر مجروح کردیے جائیں۔ چنانچہ بابری مسجد کو ظلم کی علامت قرار دے کر اسے منہدم کرنے اور اس کی جگہ مندر بنانے کی زور و شور سے مہم شروع کی گئی۔ ملک کے اکثر حصوں میں ایک بار پھر فسادات اور ہنگاموں کا طوفان امڈ آیا۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد شعراء نے اس انداز میں اشعار کہے:
اپنے مکاں کو تو ہی بچا صاحبِ مکاں
کعبہ پہ آج یورشِ اصحابِ فیل ہے
(ابوالمجاہد زاہد)
ملبے کا ڈھیر روک نہ لے سیل آرزو
دیوار ودر رہیں نہ رہیں حوصلہ رہے
(سہیل احمد زیدی)
موم کی کشتی میں دریا کا آگ کرلیں گے پار
آکے خلوت میں ہمیں یہ مشورہ دیتا ہے کون
(مہدی پرتاپ گڑھی)
شعلوں کی حکومت ہے، چمن زیر و زبر ہے
موسم ہے بہاروں کا، مگر رقص شرر ہے
(عزیز بگھروی)
لہومیں غرق ہمارے بدن کو سہل نہ جان
یہ آفتاب ہے اور ڈوب کر نکلتاہے
(عرفان صدیقی)
کتنا بے رحم ہے وہ آگ لگاکر اس نے
شرط رکھ دی ہے کوئی گھر سے نہ باہر نکلے
(راشد الہ آبادی)
اس طرح کے سیکڑوں اشعار ہمارے سامنے ہیں، نظم و غزل کے یہ چند اشعار بطور نمونہ پیش کیے گئے۔ اب میں اس موقع پر اردو شاعری کی ایک اہم صنف ’’نعت شریف‘‘ کا بطور خاص ذکر کرنا چاہتاہوں، جہاں یہ موضوع مختلف پیرائے میں اور بڑے مؤثر انداز میں بیان ہوا ہے، مثال کے طورپر سردست صرف کلیم عاجز کی نعتوں کے چند اشعار دیکھیے۔ مراد آباد میں جب عین عید کے دن نماز عید کے قتل کا بازار گرم ہوا تو کلیم عاجز نے بادِ صبا کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا:
مدینہ پہنچ کر سرعام کہیو
صباکملی والے سے پیغام کہیو
یہاں مے کدہ کہتے ہیں قتل گہہ کو
لہو سے بھرے جاتے ہیں جام کہیو
بدلتاہے رنگ آسماں کیسے کیسے
محرم کا اب عید ہے نام کہیو
میرٹھ میں مسلمانوں کا خون بہا کلیم عاجز کا قلم یوں گویا ہوا:
یہ سَر کہ جس کا مول نہ تھا تاج قیصری
ہوتاہے اب فروخت بہت سستے دام پر
اور سستے دام کی بھی ضرورت نہیں رہی
بے دام ہی تراش لیے جاتےہیں یہ سر
گردن بریدہ پیرہن و جسم سوختہ
یوں بھی ہم آئے کوچہ و بازار میں نظر
محفل اجاڑ،شمع فسردہ، فضا خموش
بکھری ہوئی پتنگوں کی لاشیں زمین پر
رب کریم آپ کا اور آپ بھی کریم
اب درمیان دونوں کریموں کے ہے یہ سر
مختصر یہ کہ 1857 کا غدر ہو یا 1947 کا خوں چکاں واقعہ یا 1992 کا دل خراش سانحہ، اردو کے قلم کاروں نے اپنے تخلیقی عمل سے اپنے ماحول، مسائل اور گردوپیش کی خوب خوب عکاسی کی ہے اور پوری دل جمعی کے ساتھ عظمت آدم کی پاسداری کے لیے صدائیں بلند کی ہیں۔ آج ساری دنیا میں حق و صداقت کے خلاف محاذ آرائی ہے، ارض فلسطین کے دشت و دامن پچھتر سال سے لہو لہو ہیں، ادھر تین ماہ سے اسرائیلی جارحیت تمام حدود پار کر چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سرزمین عراق و افغانستان، بوسینیا اور چیچینیا، ہر جگہ جنگ و جدال اور حقوق انسانی کی پامالی ہوتی رہی ہے۔ ان سب کا تذکرہ طوالت کا طالب ہے جس کا ابھی موقع نہیں۔ البتہ فلسطین کے خوں چکاں حالات اور قبلہ اول کی بازیابی کے تعلق سے گزشتہ نصف صدی کے اردو ادب میں جو عظیم شعری ادب وجود پذیر ہوا ہے، اس کی طرف چند اشارے کرنا ضروری ہے جو ان شاءاللہ اگلے شمارے میں پیش کیے جائیں گے ۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 11 فروری تا 17 فروری 2024