نوموفوبیا ایک نفسیاتی مسئلہ

اسمارٹ فون نے جہاں ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے منفی اثرات نے مشکلیں بھی کھڑی کی ہیں۔ اس کے منفی اثرات اتنی خاموشی سے ہماری زندگیوں میں سرایت کر گئے ہیں کہ ہمیں ان کا ادراک ہی نہیں ہے

از: زعیم الدین احمد حیدرآباد

ٹکنالوجی کا استعمال جہاں انسانوں کو سہولیات و آسانیاں فراہم کرتا ہے وہیں کچھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ ٹکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے میں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا جہاں ٹکنالوجی کا استعمال نہ ہوتا ہو، یہاں تک کہ آج بات مصنوعی ذہانت تک آ پہنچی ہے۔ اسمارٹ فون آج زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے، اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں، اسمارٹ فون نے جہاں ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے منفی اثرات نے مشکلیں بھی کھڑی کی ہیں۔ اس کے منفی اثرات اتنی خاموشی سے ہماری زندگیوں میں سرایت کر گئے ہیں کہ ہمیں ان کا ادراک ہی نہیں ہے۔ اسمارٹ فون کے بہت سے مسائل ہیں، ان میں ایک مسئلہ اس کی بیٹری کا جلد ختم ہو جانا ہے۔ پرانے وقتوں میں نوکیا، موٹورولا وغیرہ موبائل فون ہوا کرتے تھے جن کی بیٹریاں کئی دنوں تک چلتی تھیں، لیکن نئے اسمارٹ فونوں کی بیٹریاں چند ہی گھنٹوں میں ختم ہوجاتی ہیں، آئی فون کا معاملہ ذرا مختلف ہے، اس کی بیٹری سب سے کم خرچ ہوتی ہے۔
اسمارٹ فونوں میں بیٹری ختم ہو جانے کی وجہ سے ان کا استعمال کرنے والوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس بابت ایک تحقیق سامنے آئی ہے۔ یہ تحقیق کونٹر پوائنٹ ادارے نے اوپو کے اشتراک سے کی ہے، اس تحقیق کا عنوان ’’لوبیٹری اینگزائیٹی امانگ اسمارٹ فون یوزرز‘‘ ہے۔ بیٹری جیسے جیسے کم ہوتی جاتی ہے فون کا استعمال کرنے والوں کو یہ ڈر لاحق ہوتا جاتا ہے کہ کہیں فون بند نہ ہو جائے، بیٹری کم ہونے سے ان کے اندر جو اضطرابی و ہیجانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اسی کو نوموفوبیا یعنی نوموبائل فوبیا کہا جاتا ہے۔
یہ تحقیق ہمارے ملک میں اوپو فون صارفین کے علاوہ دیگر فون کمپنیوں کے صارفین جیسے سیمسنگ، یم آئی وغیرہ پر بھی کی گئی تھی، مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ ملک بھر میں 65 فیصد افراد اپنے اسمارٹ فون کی بیٹری ختم ہو جانے پر جذباتیت کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ جذباتی طور پر مجروح ہوجاتے ہیں ان کے اندر غصہ اور چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے، بے چینی بے قراری پیدا ہو جاتی ہے۔ 72 فیصد افراد اپنے اسمارٹ فون کی بیٹری 20 کی سطح پر پہنچ جانے پر پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں، انہیں بیٹری ختم ہوجانے کا ڈر ستانے لگتا ہے، وہ جتنی جلدی ہو سکے فون کو چارج کر لینا ضروری سمجھتے ہیں، پریشانی کے عالم میں بڑی بے صبری سے چارجر ڈھونڈنے لگتے ہیں، وہ اس وقت تک بے چین و پریشان رہتے ہیں جب تک انہیں اپنے فون کا چارجر نہیں مل جاتا، اس پریشانی کے اصطلاحی معنی "لو بیٹری اینگزائٹی” ہیں۔ اس پریشانی میں 72 فیصد افراد مبتلا ہیں، جن میں اکثر 30 سے 40 سال کی عمر والے ہیں، دوسرے درجے پر 25 سے 30 سال کی عمر والے ہیں، یعنی اس کا مطلب یہ ہے اس کیفیت میں نوجوان طبقہ زیادہ مبتلا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسمارٹ فون آج نہ صرف بات چیت کرنے کا آلہ ہے بلکہ وہ سینما دیکھنے والوں کے لیے ٹی وی، گیمز کھیلنے والوں کے کھیل کا میدان، طلباء کے لیے لاکھوں کتابوں پر مشتمل لائبریری، خبریں جاننے والوں کے لیے تازہ ترین خبروں کا چینل، موسیقاروں کے لیے موسیقی کا آلہ اور کاروباری افراد کے لیے تجارتی مرکز بنا ہوا ہے، لین دین کا کام بھی اسی سے ہو رہا ہے۔ آدمی چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، اس کے لیے یہ محض فون نہیں بلکہ جادو کی چھڑی ہے۔
ہم میں زیادہ تر لوگ موبائل فون کو سوشل میڈیا، جیسے واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب وغیرہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر شخص ان میں سے کسی نہ کسی سے وابستہ رہتا ہے۔ آپ یوٹیوب پر کوئی اپنا من پسند پروگرام دیکھ رہے ہوں، یا شارٹس دیکھ رہے ہوں، ایسے میں اگر آپ کے فون کی بیٹری 20 فیصد باقی رہ جائے تو آپ نہ صرف پریشان ہوجائیں گے بلکہ آپ نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔
آج کل تو اہم ترین کام بھی اسی اسمارٹ فونوں پر ہونے لگے ہیں، بینکوں کے کام بھی اسی اسمارٹ فونوں پر ہو رہے ہیں، تجارتی مقاصد کے لیے بھی انہی کا استعمال کیا جانے لگا ہے، ای کامرس کی تجارت بھی 95 فیصد اسی اسمارٹ فون سے ہونے لگی ہے، گھر بیٹھے ضرورت کا سامان اسی کے ذریعہ سے منگوایا جا رہا ہے۔ اگر اس دوران آپ کے فون بیٹری ختم ہو جائے تو آپ کی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ تو پریشانی کا شکار ہو جائیں گے اور ذہن میں خدشات پیدا ہوجائیں گے کہ کہیں رقم تو نہیں چلی گئی۔
اس طرح لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں، فون کی بیٹری ختم ہونے سے کاموں میں خلل پیدا ہو رہا ہے، تجارت متاثر ہو رہی ہے، سماجی رابطے میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ ان جیسی کئی ایک وجوہات سے نوموفوبیا سے پریشان ہیں۔ اس نوموفوبیا سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس سلسلے میں ہمیں تھوڑی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے، مثلا ہم کھانا کھا رہے ہوں یا حوائج ضروریہ سے فارغ ہو رہے ہوں تو اس وقت فون چارج کر لیا جا سکتا ہے، یا پھر سوتے وقت بھی چارج کیا جاسکتا ہے، لیکن یہاں بھی ایک خوف لاحق رہ سکتا ہے کہ رات بھر اوور چارجنگ ہونے کی وجہ سے کہیں بیٹری نہ پھٹ جائے۔ اس کے لیے آپ ایک مخصوص وقت طے کر سکتے ہیں، مثلا نہانے کے دوران فون چارج کیا جاسکتا ہے۔ کچھ لوگ فون بند کرکے چارج کرتے ہیں تاکہ جلد چارج ہو جائے، کوئی کار میں چارج کرتا ہے تو کوئی اسکوٹر میں اور کوئی بیٹری بیک ایپ سے چارج کر رہا ہے۔ ان تدابیر کو اختیار کر کے اس مصیبت سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ موبائل کمپنیاں بھی اس کا حل تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہیں، زیادہ وقت تک چلنے والی بیٹری تیار کرنے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ ہر مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے، اس مسئلے کا حل بھی بہت جلد سامنے آئے گا۔ لیکن اصل مسئلہ پھر بھی برقرار رہے گا اور وہ ہے زندگی کے قیمتی لمحات کا اسمارٹ فونوں کی نذر ہوجانا ۔ ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اگر ہماری زندگی کا ایک مقصد متعین ہے تو ہمارا کتنا وقت حصول مقصد میں صرف ہورہا ہے اور جانے انجانے میں ہم کتنا وقت اسکرین پر یوں ہی ضائع کردیتے ہیں ۔ یہ دور حاضر کا ایک اہم مسئلہ ہے جس پر ہمیں نہایت سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے ساتھ ہماری نسلیں بھی اس لت کا شکار ہوکر مقصدیت سے عاری ہوجائیں گی۔

 

***

 اس مسئلے کا حل بھی بہت جلد سامنے آئے گا۔ لیکن اصل مسئلہ پھر بھی برقرار رہے گا اور وہ ہے زندگی کے قیمتی لمحات کا اسمارٹ فونوں کی نذر ہوجانا ۔ ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اگر ہماری زندگی کا ایک مقصد متعین ہے تو ہمارا کتنا وقت حصول مقصد میں صرف ہورہا ہے اور جانے انجانے میں ہم کتنا وقت اسکرین پر یوں ہی ضائع کردیتے ہیں ۔ یہ دور حاضر کا ایک اہم مسئلہ ہے جس پر ہمیں نہایت سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے ساتھ ہماری نسلیں بھی اس لت کا شکار ہوکر مقصدیت سے عاری ہوجائیں گی۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 28 مئی تا 03 جون 2023