او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر فحش زبان کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی، مارچ 7: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو کہا کہ اوور دی ٹاپ (OTT) پلیٹ فارمز پر فحش زبان والے مواد کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

جسٹس سَوَرنا کانتا شرما نے او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’دی وائرل فیور‘ کے ذریعے بنائے گئے ایک شو ’کالج رومانس‘ سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔

عدالت نے کہا کہ شو میں استعمال کی گئی زبان فحش اور بےہودہ ہے اور اس کے لیے پلیٹ فارم، شو کے ڈائریکٹر سمر پریت سنگھ اور اداکار اپوروا اروڑہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق جسٹس شرما نے کہا ’’عدالت کو شو کے ایپی سوڈز کو چیمبر میں ائرفون کی مدد سے دیکھنا پڑا۔ استعمال شدہ زبان اس حد تک فحش تھی کہ اسے آس پاس کے لوگوں کو چونکائے یا خوف زدہ کیے بغیر سنا نہیں جا سکتا تھا…‘‘

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ایک ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی ہدایت پر 2019 میں اس شو کے خلاف پہلی معلوماتی رپورٹ درج کی گئی تھی۔ نومبر 2020 میں ایک ایڈیشنل سیشن جج نے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایف آئی آر صرف آئی ٹی ایکٹ کے تحت درج کی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد دی وائرل فیور نے اس حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

پیر کے حکم میں جسٹس شرما نے کہا کہ اخلاقیات کا تصور ہر ملک میں مختلف ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا ’’ہندوستانی معاشرے میں آج بھی، بزرگوں کی موجودگی میں، مذہبی مقامات پر، یا خواتین یا بچوں کے سامنے فحش الفاظ نہیں بولے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس طرح کی ویب سیریز معاشرے کے ایک مخصوص حصے کی تصویر کشی کر سکتی ہیں، لیکن اس ملک کی مقبول ثقافت اب بھی مہذب زبان کے نقطۂ نظر کی شناخت کرتی ہے اور اسے اپناتی ہے۔‘‘

عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی فحش الفاظ اور گندی زبان کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں ہر چیز کو تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا۔

تاہم اپنے فیصلے میں جسٹس شرما نے واضح کیا کہ ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت میں کیس میں کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کی ہدایت شامل نہیں ہے۔