میں نے وزیر اعظم مودی سے سیکھا ہے کہ کس طرح بغیر کسی سوال کا جواب دیے گھنٹوں بات کی جائے: ایم کے اسٹالن

نئی دہلی، فروری 14: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے منگل کو کہا کہ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اڈانی گروپ کے تئیں مرکز کی مبینہ جانبداری کے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق اسٹالن نے کہا کہ ’’میں نے مودی سے گھنٹوں بولنے اور پھر بھی کسی کے سوالوں کا جواب نہ دینے کا فن سیکھا ہے۔‘‘

اسٹالن گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی تقاریر کا حوالہ دے رہے تھے۔

پچھلے دو ہفتوں میں اپوزیشن ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یا سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر کردہ پینل کے ذریعے امریکہ میں قائم فرم ہنڈنبرگ ریسرچ کے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ اڈانی گروپ نے بڑے پیمانے پر کارپوریٹ فراڈ کیا ہے۔

اسٹالن نے منگل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کے مطالبے کو دہرایا۔ اسٹالن نے کہا کہ ہندڈنبرگ ریسرچ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا براہ راست تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکزی حکومت سے ہے۔

اسٹالن نے کہا ’’یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں CJI پر مشتمل بنچ بھی اس کیس کی سنجیدگی سے سماعت کر رہی ہے۔ اس لیے پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔‘‘

اسٹالن نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس معاملے میں جو سوالات اٹھائے ہیں وہ حقیقی اور درست ہیں۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق انھوں نے کہا ’’وزیراعظم اور بی جے پی حکومت کے خلاف کئی الزامات ہیں، لیکن انھوں نے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کا اعتماد ان کی حفاظتی ڈھال ہے۔ لیکن لوگ ایسا نہیں سوچتے۔‘‘

اسٹالن نے کہا کہ مودی کی تقریر ’’جملوں سے بھری ہوئی‘‘ تھی لیکن اس میں اڈانی گروپ کی سرپرستی کے الزامات یا وزیر اعظم پر بی بی سی کی دستاویزی فلم کو روکنے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں تھی۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے یہ بھی سوال کیا کہ اڈانی گروپ تنازعہ سے متعلق گاندھی اور کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کے تبصروں کو پارلیمانی ریکارڈ سے کیوں نکال دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اسٹالن نے کہا ’’ہاؤس کے ریکارڈ سے نکالنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کے ذہنوں سے انھیں نکال سکتے ہیں۔‘‘

اسٹالن نے مودی کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ملک میں اپوزیشن کو متحد کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلی بار کسی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں قبول کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف انتقامی سیاست کرتا ہے۔ ’’یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘‘