ہریانہ پولیس آصف خان کی لنچنگ کے ملزموں کی حمایت کے لیے منعقدہ مہاپنچایت میں کرنی سینا کے چیف کی اشتعال انگیز تقریر کی تحقیقات کرے گی

نئی دہلی، جون 7: این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق ہریانہ پولیس راجپوت کرنی سینا کے سربراہ کنور سورج پال امو کی ایک ویڈیو کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں مبینہ طور پر ریاست میں ایک مسلمان شخص کے قتل کے الزام میں گرفتار افراد کے حق میں اشتعال انگیز تقریر کی گئی ہے۔ ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے۔

امو نے 30 مئی کو اندری گاؤں میں منعقدہ ایک مہاپنچایت میں یہ تبصرے کیے جب ریاست میں کورونا وائرس سے منسلک پابندیاں عائد تھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنماؤں اور کرنی سینا کے ممبران اور بھارت ماتا واہنی نے 50،000 افراد کے ہمراہ اس مہاپنچایت میں شرکت کی تھی۔ ضلعی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر بجارنیہ نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’’ہم نے اس وائرل ویڈیو کا جائزہ لیا ہے اور ہم کارروائی کریں گے۔‘‘

معلوم ہو کہ لنچنگ کیس کے ملزموں کی حمایت اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے ہریانہ کے متعدد دیہاتوں میں مہاپنچایتیں منعقد کی گئیں تھی۔ مسلم رکشا دل نے ان مہاپنچایتوں کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔ بجارنیہ نے کہا ’’ضلع میں منعقدہ کسی بھی مہاپنچایت کو ضلعی انتظامیہ کی پیشگی اجازت حاصل نہیں تھی۔‘‘

واضح رہے کہ ہریانہ کے نوح ضلع کے گاؤں کھیرا خلیل پور کے رہائشی آصف حسین خان کو 16 مئی کو لنچنگ کا شکار بنایا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 27 سالہ خان اپنے گھر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور سوہنا دوائیں لینے گیا ہوا تھا۔ جہاں راستے میں اس کی کار کو ایک ہجوم نے گھیر لیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جس میں آصف کی موت ہوگئی۔

جم ٹرینر آصف کے اہل خانہ میں اس کی بیوی اور تین بچے ہیں۔

اس کے والد ذاکر حسین نے دی کوئنٹ کو بتایا کہ ’’16 مئی کی شام کو میرا بیٹا آصف اپنے بھتیجے رشید (31) کے ساتھ سوہنا کے میڈیکل اسٹور پر دوائیں خریدنے گیا تھا۔ جب وہ واپس آرہے تھے تو ان کا واصف (22) سے رابطہ ہوا، جس کو انھوں نے لفٹ دی۔ اسی وقت تین سے چار کاروں میں ملزموں نے بار بار میرے بیٹے کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور بالآخر انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔

ذاکر حسین نے نیوز لانڈری کو بتایا کہ ’’راشد کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا لیکن آصف کو اغوا کرلیا گیا۔ اسے نانگلی گاؤں کے قریب ایک جگہ لے جایا گیا۔ ان کے پاس بندوقیں، دیسی ریوالور اور لاٹھیاں تھیں۔ ان غنڈوں نے آصف کو بے رحمی سے مارا۔ انھوں نے اس کی ایک آنکھ پر وار کیا اور اس کی ہڈیاں توڑ دیں۔ انھوں نے لوہے کی چھڑی سے اس کے سینے میں وار کیا اور بازو اور ٹانگ میں گولی مار دی۔‘‘

اس معاملے میں بچ جانے والے راشد نے بتایا کہ ملزم نے آصف کو کار سے نکالا اور اسے ہلاک کردیا۔ راشد نے مزید کہا ’’انھوں نے کہا کہ وہ ہم میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے اور یہ بھی کہا کہ وہ ہم سے جے شری رام کا نعرہ لگوائیں گے۔‘‘

اگلے دن خان کے اہل خانہ کے ذریعے پہلی معلوماتی رپورٹ درج کروانے کے بعد چھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ جن سیکشنوں کے تحت چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں تعزیرات ہند کی دفعہ 148 (فسادات)، 149 (غیر قانونی اسمبلی)، 302 (قتل)، 323 (اپنی مرضی سے چوٹ پہنچانا)، 341 (غلط پابندی)، 365 (کسی شخص کا اغوا) شامل ہیں۔

خان کے والد نے 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ وہ دوسرے ملزمان کی تلاش کر رہے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کا کوئی ’’ہندو مسلم‘‘ زاویہ نہیں تھا۔ یہ واقعہ دو گروہوں کے مابین دشمنی کا نتیجہ ہے۔