ہمنتا بسوا سرما نے آسام پولیس سے کہا کہ ’’لو جہاد‘‘ کے معاملات کی تحقیقات کے لیے خصوصی قواعد وضع کریں

نئی دہلی، جولائی 29: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے جمعہ کو ایک تقریب میں کہا کہ آسام پولیس کو ’’لو جہاد‘‘ کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار وضع کرنا چاہیے۔

’’لو جہاد‘‘ ایک ہندوتوا سازشی تھیوری ہے جس کے تحت ہندوتوا شدت پسند الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان مرد ہندو خواتین کو اسلام قبول کروانے کے لیے انھیں رومانوی رشتوں کا لالچ دیتے ہیں۔

مرکزی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ہندوستانی قانون میں ’’لو جہاد‘‘ کی تعریف کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تاہم کئی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں نے اس خیال کو مذہبی تبدیلی کے خلاف قوانین بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ کئی ریاستوں میں ہندوتوا گروپ ’’لو جہاد‘‘ کی مخالفت کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں۔

جمعہ کے روز سرما نے دعویٰ کیا کہ زبردستی مذہبی تبدیلیوں کی بڑی وجہ ’’لو جہاد‘‘ ہے۔ سرما بونگائی گاؤں میں ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جس میں ریاست بھر کے پولیس سپرنٹنڈنٹس نے شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ یہ قدم کم عمری کی شادی کے خلاف حکومت کی مہم اور تعدد ازدواج کو غیر قانونی قرار دینے کی کوشش کے مطابق ہوگا۔

اس ماہ کے شروع میں سرما نے کہا تھا کہ آسام تعدد ازدواج پر پابندی لگانے کے لیے ایک بل پیش کرے گا۔ دریں اثنا رواں سال فروری سے کم عمری کی شادی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

جمعہ کو سرما نے کہا کہ ستمبر میں کم عمری کی شادی کے خلاف ایک اور آپریشن شروع کیا جائے گا۔