چارہ گھوٹالہ: دمکا ٹریژری کیس میں لالو یادو کی ضمانت منظور

بہار، اپریل 17: جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے چارہ گھوٹالے سے متعلق دمکا ٹریژری کیس میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کی ہفتے کو ضمانت منظور کرلی۔ ان کی پارٹی نے ہفتہ کی سہ پہر ٹویٹ کرکے یہ خبر دی۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ یادو اب جیل سے باہر ہوں گے کیوں کہ انھیں پہلے ہی چائباسا ٹریژری کیس اور دیوگھر ٹریژری کیس سمیت دیگر چارے گھوٹالے کے مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔ فی الحال بہار کے سابق وزیر اعلی علاج کے لیے دہلی کے ایمس میں ہیں۔

ہندی روزنامہ ہندوستان کے مطابق عدالت نے یادو کو 1 لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ بطور ضمانت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ضمانت کی شرائط کے مطابق آر جے ڈی کے سینئر رہنما کو اپنا پاسپورٹ عدالت میں پیش کرنا پڑے گا اور انھیں اپنا موبائل نمبر اور رہائشی پتے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

معلوم ہو کہ لالو یادو چارہ گھوٹالہ سے متعلق متعدد مقدمات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد دسمبر 2017 سے جیل میں تھے، جس میں جعلی ادویہ کی خریداری اور مویشیوں کے لیے چارے کے سرکاری خزانے سے لگ بھگ ایک ہزار کروڑ روپے کے غبن کے الزامات ہیں۔

جب یہ گھوٹالہ ہوا اس وقت وہ ریاست کے وزیر اعلی تھے۔ جس کیس کے لیے آج انھیں ضمانت ملی ہے اس میں یادو کے دور اقتدار میں 1991 سے 1996 کے درمیان بہار کے محکمہ برائے جانوروں کے عہدیداروں نے دمکا ٹریژری سے ساڑھے مبینہ طور پر 3 کروڑ روپیے کا غبن کیا تھا۔

فروری میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے دمکا ٹریژری معاملے میں یادو کے ذریعہ دائر کی گئی پچھلی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔